بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 18 جولائی 2019 ء

دارالافتاء

 

انسان کے ساتھ بیک وقت کتنے فرشتے ہوتے ہیں؟


سوال

بیک وقت انسان کے ساتھ کتنے فرشتے ہوتے ہیں؟

جواب

ماں کے پیٹ میں ابنِ آدم کی تخلیق سے لے کر  موت کے دن جسم سے  روح کے نکلنے تک مختلف مراحل میں مختلف تعداد میں  فرشتے انسان کے ساتھ رہتے ہیں۔اس سلسلے میں احادیث درج ذیل ہیں:

 بَابٌ في الْقَدَرِ: بخاری 6595:

" عن أنس بن مالك رضي الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال:" وكل الله بالرحم ملكاً، فيقول: أي رب نطفة، أي رب علقة، أي رب مضغة، فإذا أراد الله أن يقضي خلقها، قال: أي رب أ ذكر أم أنثى؟ أ شقي أم سعيد؟ فما الرزق؟ فما الأجل؟ فيكتب كذلك في بطن أمه".

ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے رحم مادر پر ایک فرشتہ مقرر کر دیا ہے اور وہ کہتا رہتا ہے کہ اے رب! یہ «نطفة» قرار پایا ہے۔ اے رب! اب «علقة» یعنی جما ہوا خون بن گیا ہے۔ اے رب! اب «مضغة‏‏»(گوشت کا لوتھڑا) بن گیا ہے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس کی پیدائش پوری کرے تو وہ پوچھتا ہے اے رب لڑکا ہے یا لڑکی؟ نیک ہے یا برا؟ اس کی روزی کیا ہو گی؟ اس کی موت کب ہو گی؟ اسی طرح یہ سب باتیں ماں کے پیٹ ہی میں لکھ دی جاتی ہیں، دنیا میں اسی کے مطابق ظاہر ہوتا ہے۔

کئی فرشتے حفاظت کے لیے ہوتے ہیں:

[سورة الرعد: الآيات 10- 11]

{سَواءٌ مِنْكُمْ مَنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِاللَّيْلِ وَسارِبٌ بِالنَّهارِ (10) لَهُ مُعَقِّباتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ}

ترجمہ: تم میں سے جو شخص کوئی بات چپکے سے کہے یا پکار کر کہے اور جو شخص رات میں کہیں چھپ جائے یا دن میں چلے پھرے یہ سب برابر ہیں۔ہر شخص کی حفاظت کے لیے کچھ فرشتے ہیں اس کے آگے اور پیچھے اللہ کے حکم سے اس کی نگہبانی کرتے ہیں۔

[سورة الأنعام (6): الآيات 61 الى 62]
{وَهُوَ الْقاهِرُ فَوْقَ عِبادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّى إِذا جاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ (61) ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ أَلا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحاسِبِينَ (62)}
"قَوْلُهُ تَعَالَى: (وَهُوَ الْقاهِرُ فَوْقَ عِبادِهِ) يَعْنِي فَوْقِيَّةَ الْمَكَانَةِ وَالرُّتْبَةِ لَا فَوْقِيَّةَ الْمَكَانِ وَالْجِهَةِ عَلَى مَا تَقَدَّمَ بَيَانُهُ أَوَّلَ السُّورَةِ. (وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً) أَيْ مِنَ الْمَلَائِكَةِ. وَالْإِرْسَالُ حَقِيقَتُهُ إِطْلَاقُ الشَّيْءِ بِمَا حُمِلَ مِنَ الرِّسَالَةِ، فَإِرْسَالُ الْمَلَائِكَةِ بِمَا حَمَلُوا مِنَ الْحِفْظِ الَّذِي أُمِرُوا بِهِ، كَمَا قَالَ:" وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحافِظِينَ" «1» أَيْ مَلَائِكَةً تَحْفَظُ أَعْمَالَ الْعِبَادِ وَتَحْفَظُهُمْ مِنَ الْآفَاتِ. وَالْحَفَظَةُ جَمْعُ حَافِظٍ، مِثْلُ الْكَتَبَةِ وَالْكَاتِبِ. وَيُقَالُ: إِنَّهُمَا مَلَكَانِ بِاللَّيْلِ وَمَلَكَانِ بِالنَّهَارِ، يَكْتُبُ أحدهما الخير والآخر الشر، وإذا مَشَى الْإِنْسَانُ يَكُونُ أَحَدُهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَالْآخَرُ وَرَاءَهُ، وَإِذَا جَلَسَ يَكُونُ أَحَدُهُمَا عَنْ يَمِينِهِ وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ، لِقَوْلِهِ تَعَالَى:" عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمالِ قَعِيدٌ" «2» (الآية) «3» وَيُقَالُ: لِكُلِّ إِنْسَانٍ خَمْسَةٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ: اثْنَانِ بِاللَّيْلِ، وَاثْنَانِ بِالنَّهَارِ، وَالْخَامِسُ لَا يُفَارِقُهُ لَيْلًا وَلَا نَهَارًا. وَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ (رَضِيَ اللَّهُ «4» عَنْهُ):
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَعِيشُ «5» شَقِيًّا ... جَاهِلَ الْقَلْبِ غَافِلَ الْيَقَظَهْ
فَإِذَا كَانَ ذَا وَفَاءٍ وَرَأْيٍ ... حَذِرَ الْمَوْتَ وَاتَّقَى الْحَفَظَهْ
إِنَّمَا النَّاسُ رَاحِلٌ وَمُقِيمٌ ... فَالَّذِي بَانَ للمقيم عظه". (تفسير القرطبي (7/ 6)

نیز  کچھ وہ فرشتے جو کہ نیکیاں اور برائیاں لکھتے ہیں ۔

لوگوں میں سے کوئی بھی ایسا شخص نہیں ہے جس کے ساتھ اس کے چھوٹے بڑے اور برے اعمال کو لکھنے کے لیے دو فرشتے نہ ہوں ۔

فرمان باری تعالی ہے :

{وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَافِظِينَ (10)كِرَامًا كَاتِبِينَ (11)يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ (12)}

( یقینا تم پر حفاظت کرنے والے عزت دار لکھنے والے مقرر ہیں جو کچھ تم کرتے ہو وہ جانتے ہیں ) الانفطار / 10- 12

"قَالَ اِبْن أَبِي حَاتِم: حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَلِيّ بْن مُحَمَّد الطَّنَافِسِيّ حَدَّثَنَا وَكِيع حَدَّثَنَا سُفْيَان وَمِسْعَر عَنْ عَلْقَمَة بْن مَرْثَد عَنْ مُجَاهِد قَالَ : قَالَ رَسُول اللَّه صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَكْرِمُوا الْكِرَام الْكَاتِبِينَ الَّذِينَ لَايُفَارِقُونَكُمْ إِلَّا عِنْد إِحْدَى حَالَتَيْنِ الْجَنَابَة وَالْغَائِط فَإِذَا اِغْتَسَلَ أَحَدكُمْ فَلْيَسْتَتِرْ بِجِرْمِ حَائِط أَوْ بِبَعِيرِهِ أَوْ لِيَسْتُرهُ أَخُوهُ". وَقَدْ رَوَاهُ الْحَافِظ أَبُو بَكْر الْبَزَّار فَوَصَلَهُ بِلَفْظٍ آخَر فَقَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّد بْن عَفَّان بْن كَرَامَة حَدَّثَنَا عُبَيْد اللَّه بْن مُوسَى عَنْ حَفْص بْن سُلَيْمَان عَنْ عَلْقَمَة بْن مَرْثَد عَنْ مُجَاهِد عَنْ اِبْن عَبَّاس قَالَ : قَالَ رَسُول اللَّه صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ اللَّه يَنْهَاكُمْ عَنْ التَّعَرِّي فَاسْتَحْيُوا مِنْ مَلَائِكَة اللَّه الَّذِينَ مَعَكُمْ الْكِرَام الْكَاتِبِينَ الَّذِينَ لَا يُفَارِقُونَكُمْ إِلَّا عِنْد إِحْدَى ثَلَاث حَالَات : الْغَائِط وَالْجَنَابَة وَالْغُسْل فَإِذَا اِغْتَسَلَ أَحَدكُمْ بِالْعَرَاءِ فَلْيَسْتَتِرْ بِثَوْبِهِ أَوْ بِجِرْمِ حَائِط أَوْ بِبَعِيرِهِ ". ثُمَّ قَالَ: حَفْص بْن سُلَيْمَان لَيِّن الْحَدِيث، وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ وَاحْتَمَلَ حَدِيثه . وَقَالَ الْحَافِظ أَبُو بَكْر الْبَزَّار: حَدَّثَنَا زِيَاد بْن أَيُّوب حَدَّثَنَا مَيْسَرَة بْن إِسْمَاعِيل الْحَلَبِيّ حَدَّثَنَا تَمَّام بْن نَجِيح عَنْ الْحَسَن يَعْنِي الْبَصْرِيّ عَنْ أَنَس قَالَ : قَالَ رَسُول اللَّه صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا مِنْ حَافِظَيْنِ يَرْفَعَانِ إِلَى اللَّه عَزَّ وَجَلَّ مَا حَفِظَا فِي يَوْم فَيَرَى فِي أَوَّل الصَّحِيفَة وَفِي آخِرهَا اِسْتِغْفَارًا إِلَّا قَالَ اللَّه تَعَالَى: قَدْ غَفَرْت لِعَبْدِي مَا بَيْن طَرَفَيْ الصَّحِيفَة". ثُمَّ قَالَ: تَفَرَّدَ بِهِ تَمَّام بْن نَجِيح وَهُوَ صَالِح الْحَدِيث". قُلْت: "وَثَّقَهُ اِبْن مَعِين، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيّ وَأَبُو زُرْعَة وَابْن أَبِي حَاتِم وَالنَّسَائِيّ وَابْن عَدِيّ، وَرَمَاهُ اِبْن حِبَّان بِالْوَضْعِ، وَقَالَ الْإِمَام أَحْمَد: لَا أَعْرِف حَقِيقَة أَمْره".

اور سورہ ق میں ارشاد باری تعالی ہے :

ترجمہ:  ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور ہم اس کے دل میں جو خیالات اٹھتے ہیں ان سے واقف ہیں، اور ہم اس کی رگ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں، جس وقت دو لینے والے جا لیتے ہیں ایک دائیں اور ایک بائیں طرف بیٹھا ہوا ہے، انسان منہ سے کوئی لفظ نہیں پاتا مگر کہ اس کے پاس نگہبان تیار رہتا ہے۔  (ق / 16- 18)

تو دائیں طرف والا نیکیاں ‌اور بائیں طرف والا برائیاں لکھتا ہے ۔

بہر حال مختلف حالات میں مختلف امور پر مقرر فرشتے انسان کے ساتھ ہوتے ہیں، نیک وبد اعمال لکھنے والے دو فرشتوں کا ساتھ ہونا تو کئی نصوص میں وارد ہے، اس کے علاوہ متعینہ طور پر فرشتوں کی تعداد کا قطعی علم نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200064

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے