بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 24 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

کیا انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے پاس علم غیب تھا؟


سوال

کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غیب کا کچھ علم تھا؟ کیا انبیاءِ کرام کو علم غیب کا کچھ حصہ عطا کیا جاتا ہے؟

جواب

اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے محبوب، سرورِ کونین سیدنا ومولانا حضرت محمد ﷺ کو تمام جہانوں سے بڑھ کر علم عطا فرمایا، تمام کائنات مل کر بھی رسول اللہ ﷺ کے علم کا تصور نہیں کرسکتی، اسی طرح ہر نبی کو اللہ تعالیٰ نے اتنا وسیع علم عطا فرمایا کہ انبیاءِ کرام علیہم السلام کے علاوہ تمام مخلوقات مل کر اس مقام تک نہیں پہنچ سکتیں، اور پھر رسول اللہ ﷺ کو تمام انبیاءِ کرام علیہم السلام پر فضیلت بخشی، لیکن اللہ تبارک وتعالی کے "علم" (اللہ تعالیٰ کی ذاتی صفت) میں اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں ہے، جو کسی کا عطا کیا ہوا نہیں ہے، جو اللہ تعالیٰ کو ہمیشہ ہمیشہ سے اور ہمیشہ ہمیشہ تک ہر چیز کے بارے میں حاصل ہے، اس علم کے حصول میں کسی بھی قسم کا واسطہ نہیں ہے، جس کی خبر اللہ تعالیٰ کو کسی نے نہیں دی۔ شریعت کے عرف میں "علمِ غیب"  سے یہی مراد ہوتا ہے  اور اُس پر غیب کا اطلاق بندوں کی نسبت سے ہوتا ہے ۔  ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذاتی علم جو بلاواسطہ، کسی کے بتائے بغیر ہمیشہ سے ہمیشہ تک کے لیے حاصل ہے، اس میں کوئی بھی شریک نہیں ہوسکتا۔

البتہ اللہ تعالیٰ نے انبیاءِ کرام علیہم السلام کو اور ان کے واسطے امتوں کو جنت، جہنم اور قبرکے احوال نیز بہت سی وہ باتیں بتائی ہیں جو پردہ غیب میں ہیں۔ جنہیں "اَخبارِ غیب" ، "انباء الغیب" یا "اطلاع علی بعض المغیبات" کہا جاتاہے، اور اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ انبیاءِ کرام علیہم السلام کو جتنا چاہتے ہیں اَخبارِ غیب کا علم عطا فرماتے ہیں، لیکن غیب کی خبر کو غیب کا علم نہیں کہا جاتا؛ کیوں کہ یہ علم اللہ تعالیٰ کے بتانے سے حاصل ہوتاہے، اور بسا اوقات جبریل امین کا بھی درمیان میں واسطہ آجاتاہے، لہٰذا ان اخبارِ غیب کو علمِ غیب نہیں کہا جاسکتا۔

اسے (بلاتشبیہ) ایک مثال کے ذریعے سمجھیے،  ایک وہ شخص ہے جو کوئی چیز ایجاد کرے یا کوئی سائنسی تجربہ کرکے جدید ٹیکنالوجی حاصل کرے، اور دوسرا شخص وہ ہے جو پہلے شخص سے ٹیکنالوجی حاصل کرکے وہی چیز بنائے، یا دنیا میں سب سے پہلے اس ٹیکنالوجی کی خبر دے اور اس کی تشہیر کرے۔ ظاہر ہے کہ دنیاوی نظم کے تحت ایجاد موجد کی ہی کہلائے گی، اور خبر دینے والے یا  اس ایجاد کو نقل کرکے اشیاء بنانے والے کو موجد نہیں کہا جائے گا۔ اسی طرح بلاتشبیہ سمجھ لیجیے کہ ایک غیب کا براہِ راست بلاواسطہ علم ہے، اوردوسرا انہی مغیبات میں سے بعض اشیاء کے بارے میں خبر دینا ہے۔ 

"علمِ غیب" اور "اَخبارِ غیب" کا یہ فرق قرآنِ مجید نے بھی واضح کیا ہے، ذیل میں دونوں طرح کی آیات ذکر کی جاتی ہیں، مذکورہ تشریح کی روشنی میں دونوں آیات اپنی جگہ واضح ہیں۔

ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: 

قُل لَّا أَقُولُ لَكُمْ عِندِي خَزَائِنُ اللَّـهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكٌ (الأنعام : 50)
ترجمہ: ”آپ کہہ دیجیے  کہ میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں، نہ میں غیب جانتا ہوں، نہ ہی میں تمہیں یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔“ 

سیدنا نوح علیہ السلام کا اپنی قوم سے خطاب اللہ تعالیٰ نے یوں نقل فرمایا ہے :
وَلَا أَقُولُ لَكُمْ عِندِي خَزَائِنُ اللَّـهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ إِنِّي مَلَكٌ (هود : 31)
ترجمہ:”میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں، نہ میں غیب جانتا ہوں، نہ ہی میں فرشتہ ہوں۔“ 

سورہ النمل میں ہے:

قل لا یعلم من فی السمٰوٰت والارض الغیب الا الله (النمل:65) 

ترجمہ: آپ کہہ دیجیے کہ آسمانوں اور زمین میں کوئی بھی غیب نہیں جانتا سوائے اللہ کے۔

سورہ اعراف میں ہے:

قل لا املک لنفسی نفعاً ولا ضراً الا ماشاء الله ولوکنت اعلم الغیب لاستکثرت من الخیر وما مسنی السوء ان انا الا نذیر وبشیر لقوم یؤمنون (الأعراف:188) 

ترجمہ: آپ کہہ دیجیے کہ میں اپنے لیے نہ تو نفع کا مالک ہوں، اور نہ ہی نقصان کا، مگر جو اللہ چاہے، اور اگر میں غیب جانتا تو میں بہت زیادہ خیر حاصل کرتا، اور مجھے برائی چھوتی ہی نہیں، میں تو ڈرانے والا اور خوش خبری دینے والا ہوں ایمان والوں کو۔

یہ بات تواتر سے ثابت ہے کہ بہت سے مواقع پر رسول اللہ ﷺ کو تکلیف پہنچائی گئی۔ مثلاً: آپ ﷺ کے پاس کچھ لوگ آئے اور انہوں نے خود کو مسلمان ظاہر کیا، اور کہا کہ قوم میں تبلیغِ دین اور قرآن کریم سکھانے کی ضرورت ہے، آپ ﷺ قراء وعلماء صحابہ کرام کو ساتھ بھیج دیں، اس طرح کے دو واقعے پیش آئے جن میں آپ ﷺ کے صحابہ کرام کو راستے میں دھوکے سے شہید کردیا گیا۔ ظاہر بات ہے کہ رسول اللہ ﷺ دشمن کی سازش کو جانتے ہوئے اپنی امت کے ان منتخب لوگوں کو ہرگز ان کے حوالے نہ فرماتے۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ کو گوشت میں زہر دیا گیا اور آپ ﷺ نے ایک لقمہ منہ میں لیا بھی، جسے تھوک دیا اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے اس گوشت نے خبردی کہ اس میں زہر ملا ہوا ہے، اور مرضِ وفات میں آپ ﷺ نے اشارہ فرمایا کہ مجھے خیبر کے زہر کا اثر محسوس ہورہاہے۔ ظاہر ہے کہ پہلے سے علم ہوتا تو حضور ﷺ ہرگز زہر آلود گوشت تناول نہ فرماتے۔ 

جب کہ دوسری طرف بے شمار مواقع پر قبل از وقوعِ واقعہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بذریعہ وحی اطلاع دے دی، اور آپ ﷺ نے قیامت تک پیش آنے والے بے شمار احوال کی امت کو خبر دے دی، بلکہ جنت و جہنم میں داخلے تک کے تمام مراحل کی بے شمار غیبی خبریں پہنچادیں، غزوۂ تبوک کے موقع پر فرمایا : 
"أَمَا إِنَّهَا سَتَهُبُّ اللَّيْلَةَ رِيحٌ شَدِيدَةٌ فَلَا يَقُومَنَّ أَحَدٌ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ بَعِيرٌ فَلْيَعْقِلْهُ".(صحيح البخاري : 1481، صحيح مسلم : 1392)
ترجمہ: ”خبردار ! آج رات سخت آندھی چلے گی، لہٰذا کوئی بھی کھڑا نہ ہو اور جس کے پاس اونٹ ہو، اسے باندھ لے۔“ 

اور پھر اسی طرح ہوا۔ اسی طرح غزوہ بدر کے موقع پر آپ ﷺ نے کفار کے سرداروں کے قتل کی جگہیں متعین فرمادیں، چناں چہ وہ اپنے مقتل سے ایک سوت اِدھر اُدھر نہ ہوپائے۔ آپ ﷺ نے ایک موقع پر طویل خطبہ ارشاد فرمایا جس میں قیامت تک آنے والی ہر قابلِ ذکر جماعت اور گروپ کا ذکر فرمایا اور اس کے امیر(لیڈر) کا نام بھی بتایا، اور ایک موقع پر آپ ﷺ گھر سے باہر تشریف لائے تو دونوں ہاتھوں میں دو رجسٹر تھے، دائیں ہاتھ والے کی بابت فرمایا کہ اس میں اہلِ جنت کے نام ہیں، جب کہ بائیں ہاتھ والے کی بابت فرمایا کہ اس میں اہلِ جہنم کے نام ہیں، پھر ان دونوں رجسٹروں کو اشارہ سے چھوڑ دیا اور وہ غائب ہوگئے۔ اور آپ ﷺ نے دجال کے آنے سے پہلے قسطنطینیہ کی فتح کی بشارت دی، اور مغرب کی فتح کے بعد جب دجال کے ظہور کی باطل خبر دنیا میں پھیلے گی اس وقت مسلمانوں کی فاتح فوج جن افراد کو دجال کی خبر کی تحقیق کے لیے روانہ کرے گی، حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا میں ان کو ان کے ناموں سے جانتاہوں۔ اس طرح کی بے شمار خبریں اور آپ ﷺ کے معجزات ہیں۔ چناں چہ اللہ جل وعلا سورہ آلِ عمران آیت نمبر 44 اور سورہ یوسف آیت نمبر  102 میں فرماتے ہیں:

ذلک من انباء الغیب نوحیه الیک

ترجمہ: یہ غیب کی خبروں میں سے ہے جسے ہم آپ (ﷺ) کی طرف وحی کرتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر میں ہے:

أما الغیب فما غاب عن العباد من أمر الجنة وأمر النار وما ذکر في القرآن ج۱ص۴۰

یعنی غیب وہ ہے کہ جو بندوں سے پوشیدہ ہوجیسے جنت وجہنم کے حالات ومعاملات اور جو کچھ کہ قرآن شریف میں بیان کیا گیا ہے (ابن کثیر)

 علامہ قرطبی رحمہ فرماتے ہیں:
وَلا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزائِنُ اللَّهِ وَلا أَعْلَمُ الْغَيْبَ (أَخْبَرَ بِتَذَلُّلِهِ وَتَوَاضُعِهِ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَنَّهُ لَا يَدَّعِي مَا لَيْسَ لَهُ مِنْ خَزَائِنِ اللَّهِ، وهي إنعامه على من يشاء مِنْ عِبَادِهِ، وَأَنَّهُ لَا يَعْلَمُ الْغَيْبَ، لِأَنَّ الْغَيْبَ لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ) .

وَلا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزائِنُ اللَّهِ وَلا أَعْلَمُ الْغَيْبَ ”ميں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں، نہ ہی میں غیب جانتا ہوں۔“ یہ فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی عاجزی اور بے بسی کا تذکرہ کیا ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ کے خزانے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا دعویٰ بھی نہیں کرتے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا انعام ہوتا ہے، جس بندے پر چاہے کرے۔ یہ بھی بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غیب نہیں جانتے، کیونکہ غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔“ (الجامع لأحکام القرآن : 27، 26/9) 

خلاصہ یہ ہے کہ "علمِ غیب" باری تعالیٰ کا خاصہ ہے، جو اللہ کے علاوہ کسی کو حاصل نہیں ہے، البتہ انبیاءِ کرام علیہم السلام خصوصاً رسول اللہ ﷺ کو بے شمار اَخبارِ غیب عطا دی گئی ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے ایسے علوم عطا فرمائے ہیں کہ تمام مخلوق مل کر بھی کسی نبی کے علم کی ہم سری کرنا تو درکنار پاسنگ تک بھی نہیں پہنچ سکتی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201615

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں