بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

انبیاء سے متعلق سوال


سوال

1. نبی اور رسول میں کیا فرق ہے؟

2. رسول کتنے گزرے ہیں؟

3. پہلا رسول  کون ہے؟

4. مختون کا کیا معنیٰ ہے؟

5. کون سے انبیاء مختون تھے اور کون سے نہیں؟

جواب

1. 'نبی' اور'رسول' کی وضاحت میں اہل علم کے متعدد اقوال پائے جاتے ہیں،زیادہ راجح یہ ہے کہ 'رسول'اسے کہتے ہیں جو نئی شریعت لے کر آیاہو،اوراس کی دوصورتیں ہیں، ایک تویہ یہ کہ وہ شریعت بالکل ہی نئی ہو،جسے کسی نبی نے ان سے پہلے پیش نہ کیاہو۔دوسری یہ کہ  اس سے پہلے وہ شریعت آچکی ہو لیکن قوم کے لیے وہ نئی ہو،جیسے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی شریعت ان کے والدحضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہی کی شریعت تھی،لیکن قوم 'جرہم'کوحضرت اسماعیل علیہ السلام کے ذریعہ ہی اس کا علم ہوا،گویایہ شریعت اس قوم کے لیے نئی تھی۔

اور'نبی'اسے کہتے ہیں جس پر وحی آتی ہو ،خواہ وہ نئی شریعت لے کرآیاہو یاکسی قدیم شریعت ہی کامبلغ ہو جیسے اکثر انبیاء بنی اسرائیل حضرت موسی علیہ السلام ہی کی شریعت کی تبلیغ کرتے تھے۔

شیخ الاسلام علامہ شبیراحمدعثمانی رحمہ اللہ 'نبی اور'رسول'کافرق کرتے ہوئے'تفسیرعثمانی'میں لکھتے ہیں:

'جس آدمی کواللہ کی طرف سے وحی آئے وہ 'نبی'ہے ،انبیاء میں سے جن کو خصوصی امتیازحاصل ہو، یعنی مکذبین کے مقابلہ پر جداگانہ امت کی طرف مبعوث ہوں یانئی کتاب اورمستقل شریعت رکھتے ہوں،وہ'رسول نبی'یانبی رسول'کہلاتے ہیں ۔شرعیات میں جزئی تصرف مثلاً کسی عام کی تخصیص یامطلق کی تقییدوغیرہ رسول کے ساتھ خاص نہیں ،عام انبیاء بھی کرسکتے ہیں ۔باقی غیرانبیاء پررسول یامرسل کااطلاق جیساکہ قرآن کے بعض مواضع میں پایاجاتاہے  وہ اس معنی مصطلح کے اعتبارسے نہیں ۔وہاں دوسری حیثیات معتبرہیں۔(تفسیرعثمانی،2/491۔ معارف القرآن،6/42)

2. دنیا میں کم وبیش ایک لاکھ ۲۴/ ہزار انبیائے کرام تشریف لائے، جن میں رسولوں کی تعداد تقریبا ۳۱۵/ تھی۔

مشكاة المصابيح (3/ 1599)
وعن أبي ذر قال: قلت: يا رسول الله أي الأنبياء كان أول؟ قال: «آدم» . قلت: يا رسول الله ونبي كان؟ قال: «نعم نبي مكلم» . قلت: يا رسول الله كم المرسلون؟ قال: «ثلاثمائة وبضع عشر جما غفيرا»
وفي رواية عن أبي أمامة قال أبو ذر: قلت يا رسول الله كم وفاء عدة الأنبياء؟ قال: «مائة ألف وأربعة وعشرون ألفا الرسل من ذلك ثلاثمائة وخمسة عشر جما غفيرا»

3. پہلے رسول حضرت نوح علیہ الصلاۃ والسلام ہوئے جیسا کہ حدیثِ شفاعت میں مصرح ہے۔

سنن الترمذي (4/ 622)
فيأتون نوحا فيقولون يا نوح أنت أول الرسل إلى أهل الأرض وقد سماك الله عبدا شكورا اشفع لنا إلى ربك ألا ترى ما نحن فيه ؟

4.مختون کا معنیٰ جس کی ختنہ کی گئی ہو، یعنی مرد کی شرمگاہ کے اوپر کی زائد کھال کو کاٹ دیا گیا ہو۔

5. اس کی صراحت تو نہ مل سکی البتہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ ختنہ فطری اعمال میں سے ہے۔

مستخرج أبي عوانة (1/ 162)
عن أبي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: " الفطرة خمس: الاختتان والاستحداد، وقص الشارب، وتقليم الأظفار، ونتف الإبط ".
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144007200272

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے