بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 23 جولائی 2019 ء

دارالافتاء

 

'' ام ذر '' نام رکھنا


سوال

'ام ذر'نام رکھنا کیساہے ؟میں نے اپنی بیٹی کا یہ نام رکھا ہے۔

جواب

' ام ذر' اصلاً کنیت ہے، اہلِ عرب عموماً اپنی اولاد کے نام پر اپنی کنیت رکھاکرتے تھے،'ام ذر'حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی اہلیہ محترمہ کی کنیت تھی۔ کنیت کو بطورِ نام استعمال کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے ، خصوصاً صحابہ کرام یا صحابیات رضی اللہ عنہم اجمعین کی نسبت سے ان کی کنیت پر نام رکھا جاسکتاہے۔ لہٰذا "ام ذر" نام رکھنا درست ہے۔ "معرفۃ الصحابہ" میں ہے:

'أم ذر امرأة أبي ذر لها ذكر في وفاة أبي ذر ، ذكرها المتأخر ، ولم يزد عليه حدثناه أبو عمرو بن حمدان ، ثنا الحسن بن سفيان ، ثنا عباس بن الوليد ، ثنا يحيى بن سليم ، ثنا عبد الله بن عثمان بن خثيم ، عن مجاهد ، عن إبراهيم بن الأشتر ، عن أبيه ، عن أم ذر ، قالت : لما حضرت أبا ذر الوفاة، فذكره بطوله'۔(24/170)

"فتاوی شامی" میں ہے:

" وأما الكلام في الكنية، فكان عادة العرب أنه إذا ولد لأحدهم ولد كان يكنى به، وامرأته كانت تكنى به أيضاً، يقال للزوج: أب فلان، ولامرأته: أم فلان، كما قيل: أبو سلمة، وامرأته أم سلمة، وأبو الدرداء، وامرأته أم الدرداء، وأبو ذر، وامرأته أم ذر، وكان الرجل لا يكنى له ما لم يولد له، ولو كنى ابنه الصغير بأبي بكر، أو غيره كره بعضهم، إذ ليس لهذا الابن ابن اسمه بكر؛ ليكون هو أب بكر، وعامتهم على أنه لا يكره؛ لأن الناس يريدون بهذا التعالي أنه سيصير في ثاني الحال، لا التحقيق في الحال"۔(5/255)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909202217

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے