بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

امورِ خانہ داری کی ذمہ داری


سوال

کیا خاوند بیوی کو کھانا بنانے،  کپڑے استری کرنے اور گھر کے دیگر کام کرنے کا حکم دے سکتا ہے؟ بیوی کے لیے ایسا حکم ماننا ضروری ہوگا یا نہیں؟ بالخصوص جب خاوند کی والدہ بھی گھر کے کام کرتی ہوں!

جواب

بیوی اگر ایسے گھرانے سے ہے جہاں عورتیں خود کھانا بنانا اور گھر کے دیگر کام کاج نہیں کرتیں تو بیوی کے ذمہ یہ  امور نہیں ہیں  اور اگر ایسے گھرانے سے نہیں تو اسے کھانابنانا  اور دیگر امور خانہ داری کرنے چاہییں۔

 الدرالمختار (۵۷۹/۳):

"( امتنعت المرأة ) من الطحن والخبز ( إن كانت ممن لا تخدم ) أو كان بها علة ( فعليه أن يأتيها بطعام مهيأ وإلا ) بأن كانت ممن تخدم نفسها وتقدر على ذلك (لا ) يجب عليه، ولا يجوز لها أخذ الاجرة على ذلك؛ لوجوبه عليها ديانةً ولو شريفةً؛ لأنه عليه الصلاة والسلام قسم الأعمال بين علي وفاطمة، فجعل أعمال الخارج على علي رضي الله تعالى عنه، والداخل على فاطمة رضي الله تعالى عنها مع أنها سيدة نساء العالمين، بحر" ۔
وفی الردّتحتہ:

(قوله: فعليه أن يأتيهابطعام مهيأ) أويأتيها بمن يكفيها عمل الطبخ والخبز، هندية"۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200441

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں