بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

امتحان میں نقل کرنا


سوال

 بورڈ کے امتحان میں کاپی (نقل) کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں، آیا کرسکتے ہیں؟

جواب

امتحانات میں نقل کرنا شرعاً ناجائز ہے، یہ کئی گناہوں کا مجموعہ ہے، اس میں  دھوکا دیناپایا جاتا  ہے جب کہ مشہور حدیث ہے کہ جس نے دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں ، اور نقل کرناوعدہ خلافی  بھی ہے  جو کہ اہلِ ایمان کا شیوہ نہیں ، نیز قانون شکنی بھی ہے؛ کیوں کہ حکومتی قوانین کے علاوہ ہر ادارے کے قوانین میں بھی نقل ممنوع ہوتی ہے، لہذا یہ عمل ناجائز ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201582

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے