بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1440ھ- 19 اگست 2019 ء

دارالافتاء

 

امام کے پیچھے قراءت کرنا


سوال

کیا ظہر اور عصر کی نماز میں امام کے پیچھے قراء ت پڑھنا چاہیے یا خاموش رہنا چاہیے؟

جواب

امام کی اقتدا میں نماز پڑھتے ہوئے قراءت کرنا مکروہِ تحریمی ہے،سری اور جہری نماز دونوں کا یہی حکم ہے،لہذا امام کے پیچھے خاموش رہنا چاہیے۔جیسا کہ حدیث مبارک میں ہے:

'' عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ، قَالَ : كُلُّ مَنْ كَانَ لَهُ إمَامٌ ، فَقِرَاءَتُهُ لَهُ قِرَاءَةٌ ''.(مصنف ابن أبي شيبة ، کتاب الصلاة، من کره القراءة خلف الإمام:1 / 377،رقم الحدیث:۳۸۲۳،ط:دارالسلفیة الهندیة)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909200784

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے