بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 رجب 1440ھ- 26 مارچ 2019 ء

دارالافتاء

 

امام نے ظہر کی نماز میں جہراً قرات کرلی تو کیا حکم ہے؟


سوال

اگر امام نے ظہر کی نماز میں بلند آواز سے  تلاوت کی اور سجدہ سہو نہیں ادا کیا تو کیا نماز ہو جائے گی یا دوبارہ نماز ادا کرنا ہو گی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر امام نے ظہر کی  نماز میں اتنی قراءت بلند آواز میں کرلی   جس مقدار سے نماز صحیح ہوجاتی ہے (یعنی تین مختصر آیتوں یا ایک لمبی آیت کے بقدر) تو اس صورت میں سجدہ سہو ہ کرنا لازم ہوگیا تھا،سجدہ سہو نہ کرنے کی صورت میں وقت کے اندر اندر اس نماز کا اعادہ کرنا واجب تھا، اگرنماز کے وقت کے اندر اعادہ نہیں کیا تھا تو اب اعادہ لازم تو نہیں ہے، البتہ اعادہ کرلینا بہتر ہے۔اور اگر مذکورہ مقدار سے کم بلند  آواز میں قراء ت کی تو نماز ادا ہوگئی اور  سجدہ سہو  بھی لازم نہیں ہوا۔

تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:

"(وَالْجَهْرِ فِيمَا يُخَافِتُ فِيهِ) لِلْإِمَامِ (وَعَكْسُهُ) لِكُلِّ مُصَلٍّ فِي الْأَصَحِّ، وَالْأَصَحُّ تَقْدِيرُهُ (بِقَدْرِ مَا تَجُوزُ بِهِ الصَّلَاةُ فِي الْفَصْلَيْنِ". (كتاب الصلاة، باب سجود السهو، ٢/ ٨١،ط: سعيد)

مراقی الفلاح شرح نور الایضاح میں ہے:

"و اختلف في قدر الموجب للسهو، و الأصح أنه قدر ما تجوز به الصلاة في الفصلين؛ لأن اليسير من الجهر و الإخفاء لا يمكن الاحتراز عنه". ( ٢/ ٢٥١، قديمي) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201443


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں