بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

امام مسجد کا مسجد یا استنجاخانے کی بلامعاوضہ یا بامعاوضہ صفائی کرنا


سوال

درج ذیل مسئلے کا کیا حکم ہے:

امامِ مسجد کا مسجد  کی صفائی کرنا اور استنجا خانہ دھو نا اپنی مرضی سے یا معاوضہ کےلیے ؟

جواب

1- امامِ مسجد کے لیے مسجد کی صفائی کرنے میں تو کوئی حرج نہیں خواہ معاوضہ کے لیے ہو۔البتہ نماز کے وقت لباس صاف اور شائستہ ہو اور وضع قطع صلحاء کی ہو۔

2- استنجاخانہ کی صفائی معاوضۃً  کرنامنصبِ امامت کے شایانِ شان نہیں ہے۔ اور بلامعاوضہ کرنے کی صورت میں نمازوں کے اوقات میں لباس کی طہارت و صفائی کا مکمل اہتمام کرنا اور صلحاء کی وضع اختیار کرنا ضروری ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200239

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے