بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1440ھ- 19 اگست 2019 ء

دارالافتاء

 

الٹرا ساؤنڈ کے ذریعہ پیٹ میں موجود بچہ کی جنس معلوم کروانے کا حکم


سوال

الٹرا ساؤنڈ کے ذریعہ یہ بات معلوم کروانا کہ لڑکا ہے یا لڑکی، جائز ہے یا نہیں؟

جواب

اگر کسی طبی ضرورت کے لیے  الٹرا ساؤنڈ کرایا گیا ہو اور اسی کے دوران بچہ کی جنس بھی معلوم کرلی جائے تو اس میں حرج نہیں، بشرطیکہ الٹرا ساؤنڈ کرنے والی عورت ہو۔

لیکن صرف بچے کی جنس معلوم کرنے کے لیے الٹرا ساؤنڈ کرانا ایک غیر ضروری و نا پسندیدہ عمل ہے، بچہ کی جو بھی جنس ہو وہ دنیا میں آکر ہی رہے گا پہلے سے جنس معلوم کرنے کے باوجود اس کی تخلیق میں کسی قسم کی تبدیلی ممکن ہے، اس عبث و بے کار عمل سے اجتناب کرنا چاہیے، اس کے ساتھ ساتھ الٹرا ساؤنڈ کرانے کے لیے خاتون کو اپنا ستر کھولنا پڑتا ہے، اور ضرورتِ شدیدہ کے بغیر کسی کے سامنے ستر کھولنا از روئے شرع جائز نہیں ہے، لہذا بچہ کی جنس معلوم کرنے کے لیے خاص طور پر الٹرا ساؤنڈ کرانے کی اجازت نہیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200663

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے