بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

اللہ تعالیٰ سے وعدہ کرکے توڑنے کا حکم


سوال

اللہ سے بار بار وعدہ کیا اور بار بار وعدہ توڑا کیا اس کا کوئی کفارہ ہے؟ کیا یہ وعدہ خلافی اللہ معاف کر دے گا؟ اس وعدہ خلافی کی اللہ کیا سزا دے گا؟

جواب

وعدہ کی پاسداری ایمان کے کمال کی نشانی ہے، اور وعدہ خلافی کی عادت منافقوں کا شیوہ ہے۔ ( مشکاۃ المصابیح ، ص: 15)اس لیے جب وعدہ کیا جائے، خواہ انسان سے ہو خواہ اللہ جل شانہ سے تو حتی الامکان اسے پورا کرنے کی کوشش کی جائے، کبھی وعدہ خلافی ہوجائے تو اس کا کفارہ تو نہٰیں، البتہ توبہ استغفار کا اہتمام کیا جائے۔ فقط واللہ اعلم

 


فتوی نمبر : 143804200024

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے