بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 جولائی 2019 ء

دارالافتاء

 

الفا ایپ (alfa app) سے مفت بیلنس حاصل کرنا ناجائز ہے


سوال

میں نے بینک الفلاح کی ایک ایپ جو کہ الفا(alfa) کے نام سے ہے اس میں اکاؤنٹ بنایا ہے، مگر زیر استعمال نہیں ۔ الفا کی طرف سے لاگ ان (login)کی صورت میں موبائل بیلنس ملتا ہے۔ کیا یہ بیلنس حاصل کرنا درست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ حرام آمدنی والا اگر حرام آمدنی سے ہدیہ دے تو اس کا ہدیہ قبول کرنا اور استعمال کرنا ناجائز ہے۔ بینک الفلاح یا کسی بھی بینک کی آمدنی سود پر مشتمل ہونے کی وجہ سے حرام ہے اور  بینک الفلاح کی  الفا ایپ(alfa app) پر اکاؤنٹ بنا کر اس میں لاگ اِن(login) ہونے کی صورت میں جو موبائل بیلنس ملتا ہے وہ  بینک کی طرف سے ان کی ایپ استعمال کرنے والے کو ہدیہ ہوتا ہے؛ لہذا بینک الفلاح کی ایپ میں لاگ اِن(login) ہوکر مفت بیلنس حاصل کرنا اور اسے استعمال کرنا ناجائز ہے۔

"وفي «عيون المسائل» : رجل أهدى إلى إنسان أو أضافه إن كان غالب ماله من حرام لاينبغي أن يقبل ويأكل من طعامه ما لم يخبر أن ذلك المال حلال استقرضه أو ورثه، وإن كان غالب ماله من حلال فلا بأس بأن يقبل ما لم يتبين له أن ذلك من الحرام؛ وهذا لأن أموال الناس لاتخلو عن قليل حرام وتخلو عن كثيره، فيعتبر الغالب ويبنى الحكم عليه".(المحيط البرهاني ،5 / 367، ط: دارالکتب العلمیة)

"أهدى إلى رجل شيئاً أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام، فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لا يقبل الهدية، ولا يأكل الطعام إلا أن يخبره بأنه حلال ورثته أو استقرضته من رجل، كذا في الينابيع".(فتاوی عالمگیری ،۵/۳۴۲، ط: رشیدیة)

"آكل الربا وكاسب الحرام أهدى إليه أو أضافه وغالب ماله حرام لا يقبل، ولا يأكل ما لم يخبره أن ذلك المال أصله حلال ورثه أو استقرضه، وإن كان غالب ماله حلالاً لا بأس بقبول هديته والأكل منها، كذا في الملتقط"(فتاوى عالمگیری، ۵/۳۴۳، رشیدیة) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200696

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے