بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1440ھ- 19 اگست 2019 ء

دارالافتاء

 

اسپرم بینک کا قیام اور مادہ منویہ فروخت کرنا


سوال

مرد کا اپنے سسپرم(مادہ منویہ) فروخت(بیچنا) کرنا یا بلا معاوضہ سپرم بینک کو دینا کیسا ہے؟ جائز ہے یا ناجائز ہے یا کس حد تک گنجائش موجود ہے وغیرہ؟

جواب

''اسپرم بینک'' کا قیام ہی اسلامی تعلیمات ، تہذیب وثقافت کے منافی ہے، اسلامی پاکیزہ تعلیمات میں مرد کا نطفہ اپنی بیوی یا باندی کے علاوہ  کہیں اور استعمال کرنا ناجائز اور حرام ہے، اسپرم بینک کے قیام کا مقصد یہ ہے کہ   ''مصنوعی تلقیح'' کے ذریعہ اپنے من پسند شخص کا نطفہ حاصل کرکے بچہ حاصل کیا جائے ،  یہ سراسر جاہلی طریقہ ہے،جسے اسلام نے حرام قرار دیا ہے۔ حضرت عروہ بن زبیررحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ عہدِ جاہلیت میں نکاح (مردوعورت کے درمیان جنسی تعلق) کے چار طریقے رائج تھے۔ان میں سے ایک طریقہ یہ تھا: عورت جب حیض سے پاک ہوتی تو اس کا شوہر اس سے کہتا تھا:تم فلاں شخص کے پاس جاؤ اور اس سے جنسی تعلق قائم کرو۔اس کے بعد وہ اپنی بیوی سے الگ تھلگ رہتا اور اسے اس وقت تک ہاتھ نہ لگاتا تھا،جب تک اس مرد سے تعلق کے نتیجہ میں اس کا حمل ظاہر نہ ہوجاتا ۔ حمل ظاہر ہو جانے کے بعد وہ حسبِ خواہش اس سے جماع کرتا تھا ۔ایسا اچھی نسل سے اولاد حاصل کرنے کے لیے کیا جاتا تھا۔اسے ’نکاح الاستبضاع ‘  کہا جاتا تھا۔

اسلام نے نسلِ انسانی کے تسلسل کا واحد جائز ذریعہ نکاح کو قرار دیا ہے، اس کے نزدیک صرف نکاح کے بعد ہی مرد ا ور عورت کے درمیان جنسی تعلق کو قانونی حیثیت حاصل ہوسکتی ہے، ماورائے نکاح جنسی تعلق کو وہ زنا قرار دیتا ہے اور اسے انتہائی گھناؤنا عمل قرار دیتے ہوئے اس سے بچنے کی تاکید کرتا ہے۔قرآن کریم میں ہے کہ: زنا کے قریب نہ پھٹکو، وہ بہت برا فعل ہے اور بڑا ہی برا راستہ۔(الاسرا: 32)  حدیث مبارک میں  ہے کہ : شرک کرنے کے بعد اللہ کے نزدیک کوئی گناہ اس نطفہ سے بڑا نہیں جس کو آدمی اُس شرم گاہ میں رکھتا ہے جو اس کے لیے حلال نہیں ہے۔ (کنز العمال (5/ 314، رقم الحدیث 12994۔ الباب  الثانی فی انواع الحدود ، ط: موسسہ الرسالۃ)

    اسلامی تعلیمات کی رو سے جس طرح نکاح کے بغیر مرد اور عورت کا جنسی تعلق حرام ہے،اسی طرح شوہر کے علاوہ کسی دوسرے مرد کے نطفے سے عورت کے بیضے کی مصنوعی تلقیح بھی حرام ہے، لہذا ''اسپرم بینک'' کا قیام ناجائز ہے ۔

نیز اسپرم  (مادہ منویہ ) کی بیع بھی شرعاً باطل ہے، اس کو فروخت کرنا یا بغیر عوض کے اسپرم بینک کو دینا ہر صورت میں ناجائز اور حرام ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201013

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے