بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1440ھ- 19 اگست 2019 ء

دارالافتاء

 

اسٹیشنری کی دکان پر تصویر والی اشیاء فروخت کرنا / تصویر والی اشیاء کی فوٹوکاپی


سوال

 میری دکان ہے سٹیشنری کی جس میں آج کل سٹکر ، پاؤچ اور بستے کارٹون یا کھلاڑی کی تصویر کے ساتھ آتے ہیں، میں بہت کوشش کرتا ہوں کہ پھولوں کی یا سادہ بغیر جاندار کی تصویر کے ملے، مگر پھر بھی تصویر والے آتے ہیں۔

اور میرے پاس فوٹو سٹیٹ مشین ہے اکثر کتابیں اور شناختی کارڈ کاپی کرتا ہوں ان میں بھی تصویر ہوتی ہے اور سکول والے اکثر کھیل کی تصویر یا تفریح کی تصویر مانگتے ہیں تو انٹر نیٹ سے ڈاؤنلوڈ کر کے ٘پرنٹ نکال کے دیتا ہوں ان کی کمائی جائز ہے کہ نہیں؟ اور جو کمائی ہوئی اس کا حکم عنایت فرمائیں!

جواب

اسلام میں جاندار کی  تصویر سازی کی سخت مذمت وارد ہوئی ہے، اور تصویر سازی حرام ہے ، اس لیے جان دار کی  تصویر  فروخت کرنا جائز نہیں ہے، لہذا آپ کے پاس جو  چیزیں ایسی ہوں کہ جن سے مقصود ہی تصویر کی خرید وفروخت ہے مثلًاجان دار کی  تصویر والے اسٹیکر، کھلاڑیوں وغیرہ کی تصویریں  تو ایسی چیزیں فروخت کرنا جائز نہیں ہے،  اور جن چیزوں میں مقصود تصویر نہ ہو  بلکہ تصویر اس میں تابع ہو جیسے بستہ، پاؤچ وغیرہ تو ایسی چیزوں کو فروخت کرنا ناجائز نہیں ہے اور اس کی آمدنی بھی حرام نہیں ہے، البتہ احتیاط اس میں بھی یہ ہے کہ تصویر والی چیز بالکل فروخت نہ کی جائے۔

فوٹو اسٹیٹ کی مشین لگانا اور اس سے فوٹو کاپی کرنا جائز ہے، اور جن چیزوں کی تصویریں قانونی مجبوری کی طور پر بنائی جاتی ہیں مثلاً پاسپورٹ، شناختی کارڈ، (چوں کہ یہ  شاختی کارڈ اور پاسپورٹ وغیرہ بنانے والے کے حق میں گناہ  نہیں تو ) اس کی فوٹو کاپی کرنے کی گنجائش ہے، اور  جان دار کی تصویر والی جو چیزیں  ایسی نہیں ہیں ان کی فوٹو کاپی کرنا بھی درست نہیں ہے، اسی طرح  انٹرنیٹ سے تصویر نکال کر پرنٹ دینا بھی جائز نہیں ہےاور جن صورتوں میں آمدنی جائز نہیں ہے، اگر وہ کام کرلیا ہو تو اس قدر آمدنی صدقہ کردی جائے، اور توبہ واستغفار بھی کیا جائے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها".  (1/647، کتاب الصلوٰۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، ط؛سعید)

الأشباه والنظائر لابن نجيم (ص: 23):
"القاعدة الثانية: الأمور بمقاصدها  كما علمت في التروك. وذكر قاضي خان في فتاواه: إن بيع العصير ممن يتخذه خمراً إن قصد به التجارة فلايحرم، وإن قصد به لأجل التخمير حرم، وكذا غرس الكرم على هذا (انتهى) . وعلى هذا عصير العنب بقصد الخلية أو الخمرية"
.فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201037

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے