بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 16 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

اسلامی بینکوں میں ملازمت کرنے کا حکم


سوال

اسلامک بینکوں میں جاب کر سکتے ہیں یا نہیں? جیسے (١) میزان بینک۔ (٢) بینک اسلامی۔ (٣) دبئی اسلامک بینک۔ براہِ مہربانی راہ نمائی فرمادیں!

جواب

مروجہ اسلامی بینکوں کے معاملات ملک کے مقتدر اہلِ فتویٰ کی تحقیق کے مطابق اسلامی اور غیرسودی نہیں ہیں ، اس لیے روایتی بینکوں کی طرح مروجہ اسلامی بینکوں میں بھی ملازمت کرنا جائز نہیں۔

"عن جابرؓ قال: لعن رسول اﷲ صلی اﷲ علیه وسلم آکل الربا، وموکله، وکاتبه، وشاهدیه، وقال: هم سواء." (الصحيح لمسلم، با ب لعن آکل الربا، ومؤکله، النسخة الهندیة، ۲/۲۷)

ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ عنہ  روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، سودی معاملہ لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی ہے، اور ارشاد فرمایا: یہ سب (سود کے گناہ میں) برابر ہیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200086

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے