بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ربیع الثانی 1440ھ- 13 دسمبر 2018 ء

دارالافتاء

 

استخارہ کا مقصد / پریشانیوں کا حل


سوال

بیٹا ایک سال سے بہت تکلیف میں ہے، اس کا استخارہ کروانا ہے۔

جواب

کسی جائزمعاملہ میں جب تردد ہو تواس کی بہتری والی جہت معلوم کرنےکےلیےاستخارہ کیا جاتا ہے، اور یہ مسنون عمل ہے،حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے اس کی ترغیب ملتی ہے، آپ کا بیٹا کس قسم کی تکلیف میں مبتلا ہے اس کا ذکر آپ نے نہیں کیا ہے!! نیز جس بابت آپ نے سوال کیا ہے، اس عمل کو شرعی اصطلاح میں استخارہ نہیں کہا جاتا۔

اگر بیماری ہے تو مستند معالج سے علاج کروائیے۔ باقی  پریشانیوں اورمصائب کا حل رجوع الی اللہ ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونا۔ اور پنج وقتہ نمازوں کا اہتمام کیاجائے،اپنے آپ کو گناہوں سے محفوظ رکھاجائے اورمندرجہ ذیل تسبیح صبح اورشام سات سات مرتبہ پڑھیں اگر بیٹا پڑھ سکتا ہے تو اس سے کہیں کہ اس کا اہتمام کرے۔

’’حَسْبِىَ اللَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ‘‘.

حدیث شریف میں ہے جوآدمی صبح اورشام سات سات مرتبہ یہ دعا پڑھے گااللہ تعالیٰ اس کی تمام مشکلات کو حل فرمائیں گے۔(سنن ابی داود)

اسی طرح اگر کوئی شخص کسی مصیبت یا پریشانی میں پڑگیا ہے اور کسی طرح وہ مصیبت دور ہی نہیں ہوتی تو اس کے لیے ایک مجرب عمل یہ ہے کہ:

 نماز فجر پڑھ کر قرآن کریم کی تلاوت اور  ذکر میں مشغول رہیے، یہاں تک کہ آفتاب بلند ہوجائے پھر دو رکعت نفل  اشراق پڑھ کر اس کے بعد سورہ توبہ کی آخری دو آیتیں گیارہ بار پڑھیے: "لَقَد جَآءکم رَسُول مِّن اَنفُسِکُم عَزِیز عَلَیه مَاعَنِتُّم حَرِیص عَلَیکُم بِالمُومِنِینَ رَءوف رَّحِیم o فَاِن تَوَلَّوا فَقُل حَسبِیَ اللّٰه لَآ اِله اِلَّا هو عَلَیه تَوَکَّلتُ وَهو رَبُّ العَرشِ العَظِیمِ"  پھر سر بسجود ہو کر حق تعالیٰ سے امن و عافیت طلب کیجیے، ان شاء اللہ  چند روز میں آپ کی مصیبت،پریشانی دور ہوجائے گی اور دل کو اطمینان حاصل ہوگا، اور حاجت براری بھی نصیب ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144003200241


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں