بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 رجب 1440ھ- 26 مارچ 2019 ء

دارالافتاء

 

’’ارحم‘‘ نام کا مطلب اور رکھنے کا حکم


سوال

’’ارحم ‘‘ نام کا مطلب کیا ہے؟ اور یہ نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

’’ارحم‘‘ کا معنی ہے: زیادہ رحم دل، ایک حدیث میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ’’ارحم امتی‘‘ یعنی امت کا سب سے زیادہ رحیم شخص کہا گیا ہے،  اور ایک اور حدیث میں ہے حضرت انسں بن مالک فرماتے ہیں کہ میں نے  آپ ﷺ سے زیادہ کسی اور کو اپنے اہل وعیال پر رحم کرنے والا نہیں دیکھا، یہاں آپ ﷺ کے لیے بھی ’’ارحم‘‘ کا لفظ استعمال کیا  گیاہے،  اس لیے ’’ ارحم‘‘ نام رکھنا جائز ہے اور اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے۔

اگر کسی کو یہ شبہ ہو کہ "ارحم" نام رکھنا اس لیے مناسب نہیں کیونکہ "اَرحم" زیادہ رحم کرنے والے کو کہتے ہیں، اور وہ ذات اللہ رب العزت کی ہے، تو یہ شبہ درست نہیں ہے ؛ اس لیے کہ "ارحم" اسم تفضیل کا صیغہ ہے اور یہ  مشترکہ اسماء میں سے ہے، اور اللہ کے علاوہ اور مخلوق کے لیے بھی اس کا  استعمال کیا گیا ہے، نیز عام طور پر اللہ کے لیے یہ لفظ جب استعمال ہوتا ہے تو  "ارحم الراحمین"  استعمال ہوتا ہے۔ ملاحظہ ہو:
{وَأَيُّوْبَ إِذْ نَادٰى رَبَّه ٓأَنِّيْ مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِيْنَ} [الأنبياء: 83]

{لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ، يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ} [يوسف: 92

مصنف ابن أبي شيبة (7/ 512):
’’عبد الله بن نمير قال: حدثنا سفيان، قال: حدثنا سلمة بن كهيل، عن أبي الزعراء، عن عبد الله ... قال: ثم يقول: أنا أرحم الراحمين، قال: فيخرج من النار أكثر مماأخرج من جميع الخلق برحمته حتى ما يترك فيها أحداً فيه خير‘‘. 

 الأدب المفرد بالتعليقات (ص: 195):
’’عن أبى هريرة رضي الله عنه قَالَ: أَتى النَّبيَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجلٌ ومعهُ صَبي، فَجعلَ يَضُمه إِليه، فَقال النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (أَترحَمهُ؟) قَالَ: نَعم. قَالَ: (فَاللَّهُ أَرحَمُ بِك، مِنكَ بِه وهُو أرحَم الرَّاحمين)‘‘. صحيح الإسناد

السنة لابن أبي عاصم (1/ 232):
’’عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَشْفَعُ النَّبِيُّونَ، وَالْمَلَائِكَةُ، وَيَشْفَعُ الْمُؤْمِنُونَ، وَيَبْقَى أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ»‘‘.

شرح مشكل الآثار (2/ 27):
’’عن أبي بكر الصديق رضي الله عنه قال: أصبح رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم، فذكر حديثاً طويلاً من حديث يوم القيامة، ثم ذكر فيه شفاعة الشهداء قال: " ثم يقول الله: أنا أرحم الراحمين‘‘.

سنن الترمذي ت شاكر (5/ 664):
’’عن أنس بن مالك، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أرحم أمتي بأمتي أبو بكر‘‘. 

صحيح مسلم (4/ 1808):
’’عن أنس بن مالك، قال: «ما رأيت أحداً كان أرحم بالعيال من رسول الله صلى الله عليه وسلم»‘‘.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 417):

وجاز التسمية بعلي ورشيد من الأسماء المشتركة ويراد في حقنا غير ما يراد في حق الله تعالى. 

 (قوله: وجاز التسمية بعلي إلخ) الذي في التتارخانية عن السراجية التسمية باسم يوجد في كتاب الله تعالى كالعلي والكبير والرشيد والبديع جائزة إلخ، ومثله في المنح عنها وظاهره الجواز ولو معرفاً بأل.فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201594


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں