بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

'' ارحاء '' نام رکھنا


سوال

" ارحاء "  نام رکھنا کیساہے؟  کیامعنی ہے؟

جواب

" أَرْحَاءُ "  یہ عربی زبان کا لفظ ہے، اور جمع کے طور پر مستعمل ہے۔اس کی واحد  " رَحیٰ" ہے، جس کے معنی چکی اور داڑھ کے ہیں۔

اس نام کے بجائے انبیاءِ کرام علیہم الصلاۃ والسلام اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے ناموں میں سے کوئی نام منتخب کرکے رکھ لیں، ہماری ویب سائٹ پر اسلامی ناموں کی فہرست اور تلاش کی سہولت بھی موجود ہے ،وہاں سے بھی انتخاب کرسکتے ہیں۔        المغرب فی ترتیب المعرب میں ہے :

"رحي"

 الرَّحى مؤنث وتثنيتُها رحَيان والجمع أرحاءُ وأَرْحٍ وأنكر أبو حاتم الأَرْحِية. وقوله: ما خلا الرَحَى أي وَضْعَ الرحى وتستعار، الأرحاء للأضراس وهي اثنا عشَر". (1/325)

مصباح اللغات ،ص:285،ط:قدیمی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201472

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں