بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1440ھ- 19 اگست 2019 ء

دارالافتاء

 

اذان کے دوران تلاوت کرنا


سوال

اذان کے وقت تلاوت کرسکتے ہیں؟ 

جواب

تلاوت جاری ہو اور اذان ہونے لگے تو دونوں صورتیں جائز ہیں، چاہے تلاوت جاری رکھے چاہے بند کر کے اذان کا جواب دے، تلاوت جاری رکھتے ہوئے زبان سے اذان کا جواب نہ دینے میں بھی کوئی گناہ نہیں ہے، اور تلاوت بند کر کے اذان کا جواب دینے میں بھی کوئی کراہت نہیں ہے، البتہ افضل اور مستحب یہی ہے کہ تلاوت بند کرکے اذان کا جواب دے؛ اس لیے کہ تلاوت بعد میں دوبارہ ہوسکتی ہے، مگر اذان کے جواب  کا موقع پھر نہیں ملے گا۔

اور اگر پہلے سے تلاوت شروع نہ کی ہو اور اذان شروع ہوجائے تو اذان کا جواب دینا چاہیے، اذان مکمل ہونے کے بعد تلاوت شروع کی جائے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908201011

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے