بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1440ھ- 19 اگست 2019 ء

دارالافتاء

 

اذان میں محمد رسول اللہ کےجواب میں کیا کہے؟


سوال

 اذان اور اقامت میں جب مؤذن "محمد رسول اللہ"  کہتا ہے تو جواب میں کیا کہنا چاہیے؟ محمد رسول اللہ یا صلی اللہ علیہ وسلم؟  اکثر لوگوں کو صلی اللہ علیہ وسلم اونچی آواز میں پڑھتے  دیکھاہے۔  صلی اللہ علیہ وسلم پڑھنا کیسا ہے؟

جواب

اذان میں ’’اشہد ان محمدا رسول اللہ‘‘ کے جواب میں درود شریف پڑھنا مسنون نہیں ہے؛  بلکہ صرف اسی کلمہ کو دہرانا مسنون ہے؛ البتہ پوری اذان ختم ہونے کے بعد دعاءِ وسیلہ  کی تاکید  اور درود شریف کی فضیلت وارد ہے۔

اس  لیے   شہادتین کے وقت درود شریف پڑھنے کے بجائے اذان کے ختم ہونے کے بعد درود شریف پڑھنے کا اہتمام کریں۔

"وعن عمر بن الخطاب رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: إذا قال المؤذن : ’’اللّٰہ أکبر‘‘ فقال أحدکم: اللّٰہ أکبر اللّٰہ أکبر، ثم قال: ’أشہد أن لا إلٰہ إلا اللّٰہ‘‘ قال: أشہد أن لا إلٰہ إلا اللّٰہ، ثم قال: ’’أشہد أن محمد رسول اللّٰہ‘‘ قال: ’’أشہد أن محمدا رسول اللّٰہ‘‘ ثم قال: ’’حي علی الصلاۃ‘‘ قال: لاحول ولا قوۃ إلا باللّٰہ، ثم قال: ’’حي علی الفلاح‘‘ قال: لا حول ولا قوۃ إلا باللّٰہ، ثم قال: ’’اللّٰہ أکبر اللّٰہ أکبر‘‘ قال: اللّٰہ أکبر اللّٰہ أکبر، ثم قال: ’’لا إلٰہ إلا اللّٰہ‘‘ قال: لا إلٰہ إلا اللّٰہ من قلبہ دخل الجنۃ"۔ (صحیح مسلم ۱؍۱۶۷، السنن الکبریٰ ۱؍۶۰۲ رقم: ۱۹۲۶)
"عن عبد اللّٰہ بن عمرو بن العاص رضي اللّٰہ عنہ أنہ سمع النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول: إذا سمعتم المؤذن فقولوا مثل ما یقول، ثم صلوا علي، فإنہ من صلی علي صلاۃً صلی اللّٰہ علیہ بہا عشراً، ثم سلوا اللّٰہ لي الوسیلۃ، فإنہا منزلۃ في الجنۃ لا ینبغی إلا لعبد من عباد اللّٰہ، وأرجو أن أکون أنا ہو، فمن سأل اللّٰہ لي الوسیلۃ حلت علیہ الشفاعۃ"۔ (سنن أبي داؤد ۱؍۷۷-۷۸)
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201964

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے