بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

ادارے کی جانب سے حج پر بھیجنا


سوال

۱۔اگر کوئی شخص صاحبِ استطاعت نہ ہو اور اسے گورنمنٹ کی طرف سے یا کسی اور ذرائع کی طرف سے حج پر جانے کی پیشکش ہو تو کیا ایسے شخص کا حج فرضی ہو گا یا نفلی؟ نیز اگر یہ شخس بعد ازاں صاحبِ استطاعت ہو جائے تو کیا پھر اس کے لیے دوبارہ بھی حج پہ جانا لازم ہے؟

جواب

مذکورہ صورت میں اس کا حج فرض ہی ادا ہوگا، اور آئندہ یہ صاحبِ استطاعت بن جائے تو اس  پرفر ض حج دوبارہ کرنا فرض نہیں ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 604):
" أن الفقير الآفاقي إذا وصل إلى ميقات فهو كالمكي في أنه إن قدر على المشي لزمه الحج ولا ينوي النفل على زعم أنه فقير؛ لأنه ما كان واجباً عليه وهو آفاقي، فلما صار كالمكي وجب عليه؛ حتى لو نواه نفلاً لزمه الحج ثانياً اهـ لكن هذا لا يدل على أن ضرورة الفقير كذلك؛ لأن قدرته بقدرة غيره كما قلنا وهي غير معتبرة".
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909202039

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں