بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

اخوت ویلفیئر سے قرضہ لینا


سوال

اخوت ایک ویلفئیر ادارہ ہے، جو تیس ہزار قرضہ دیتا ہے، جس کی واپسی تیس ہزار ہی کرنا ہوتی ہے، لیکن 500 روہے ایڈوانس بھی لیتا ہے،  جس میں سے 150 روپے کاغذات کی فیس کے لیے  اور باقی ڈیتھ انشورنس ہے کہ اگر کوئی مر جائے تو اس کا قرضہ معاف ہوگا، ییہی ڈیتھ انشورنس والی رقم وہ قرضہ قسط ختم ہونے کے بعد بھی واپس نہیں دیتے، کیا یہ سود ہے؟

جواب

مذکورہ ادارہ کے قواعد وضوابط کی مکمل تفصیل بتا دیتے تو اس کی مکمل تفصیلات کے دیکھنے کے بعد اس کا حتمی جواب دیا جاتا۔ تاہم جو تفصیل آپ نے ذکر کی ہے  اس کے مطابق مذکورہ ادارہ سے قرضہ لینا شرعاً جائز نہیں ہے ،اس میں انشورنس کی مد میں جو رقم کاٹی جاتی ہے شرعاً یہ سود اور جوئے کا مجموعہ ہے جو حرام اور ناجائز ہے۔ اور ناجائز شروط سے مشروط ہونے کی وجہ سے یہ قرضہ لینا بھی ناجائز ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909202301

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں