بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 شعبان 1440ھ- 21 اپریل 2019 ء

دارالافتاء

 

ادائیگی زکات کے وکیل کا خود زکات استعمال کرنے کا حکم


سوال

زکات  کا وکیل اگر خود مستحقِ زکات ہوجائے اور قرض زیادہ ہو تو کیاوہ زکات  کی رقم استعمال کرسکتا ہے ؟ استعمال کی شرائط کیا ہوسکتی ہیں؟

جواب

اگر موکل نے وکیل کو زکات  کی رقم دیتے ہوئے یہ کہا ہو کہ جہاں چاہیں خرچ کر دیں تو ایسی صورت میں اگر وکیل زکات کا مستحق ہو تو خود بھی زکات  کی رقم استعمال کر سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر خود استعمال نہیں کرسکتا۔  اور اگر موکل نے زکات کی رقم کسی خاص فقیر کو دینے کا کہا ہو تو اُسی فقیر کو دینا لازم ہو گا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 269):
"وللوكيل أن يدفع لولده الفقير وزوجته لا لنفسه إلا إذا قال: ربها ضعها حيث شئت". 
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200069

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں