بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 19 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

احتلام کے بعد غسل میں تاخیر


سوال

 کیا احتلام ہونے کی صورت میں سحری کے بعد دیر تک نہ نہانے سے گُناہ ہو گا یا تھوڑی دیر تک نہ نہانے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں؟

جواب

احتلام ہونے کے بعد غسل کرنا فی الفور ضروری نہیں، تاخیر کی گنجائش ہے ، البتہ اتنی تاخیر کرنا کہ جس سے نماز کا وقت نکل جائے باعثِ گناہ ہے۔ اور بہتر یہی ہے کہ احتلام کے بعد جلدی غسل کرلیا جائے۔ البتہ اگر کلی وغیرہ کرکے سحری کرلے، اس کے بعد غسل کرکے فجر کی نماز باجماعت ادا کرے تو اس سے گناہ گار نہیں ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

" الجنب إذا أخر الاغتسال إلى وقت الصلاة لايأثم، كذا في المحيط ." (1/209)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201482

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے