بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

احادیث میں علم کے مصداق کی تعیین


سوال

میں پنجاب یونیورسٹی کا طالب علم ہوں اور دین کی کچھ سوجھ بوجھ بھی رکھتا ہوں، لیکن کچھ دنوں سے ایک مسلۂ میں تشویش کا شکار ہوں. ہمارے یہاں اکثریت اس بات کی قائل ہے کہ عصری علوم کے متعلمین اور فضلاء پر بھی وہی سارے فضائل کا اطلاق ہوتا ہے جو دین کے طلباء اور علماء پر ہوتا ہے، مثلاً: دیگر مخلوقات کا ان کے لیے دعائے استغفار کرنا وغیرہ. اب میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا واقعی ان عصری علوم کے متعلمین پر بھی ان فضائل کا اطلاق ہوگا کہ نہیں؟ 

جواب

احادیثِ مبارکہ میں جہاں علم کے فضائل کا ذکر ہے اس سے کون سا علم مراد ہے اس کی وضاحت خود ایک حدیث سے ہوتی ہے، حدیث شریف میں آتا ہے:

مشكاة المصابيح (1/ 83):

"عن الحسن مرسلاً قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من جاءه الموت وهو يطلب العلم ليحيي به الإسلام فبينه وبين النبيين درجة واحدة في الجنة» . رواه الدارمي".

یعنی جس شخص کو اس حال میں موت آئی کہ وہ علم حاصل کر رہا تھا؛ تا کہ اس کے ذریعہ دینِ اسلام کو زندہ کرے تو اس کے اور انبیاء کے درمیان جنت میں صرف ایک درجہ کا فرق ہو گا۔

اس حدیث میں علم حاصل کرنے کا مقصد دینِ اسلام کا اِحیا بتایا گیا ہے۔  اور یہ بات کسی ذی شعور سے مخفی نہیں کہ جس علم سے دینِ اسلام کا اِحیا ہوتا ہے وہ علمِ دین ہے، نہ کہ وہ علم جس کو دنیا کمانے  کے لیے حاصل کیا جاتا ہے۔

نیز اس حدیث کی تشریح میں ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں  یعنی جو دین مٹ گیا ہے اس کو زندہ  کرنے کے لیےعلم  حاصل کرے، نہ کہ دنیا کمانے کی غرض سے۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (1/ 323):

"«قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من جاءه الموت وهو يطلب العلم» ) : الجملة الاسمية من المفعول في " جاءه "، أي: من أدركه الموت في حال استمراره في طلب العلم ونشره ودعوة الناس إلى الصراط المستقيم؛ (ليحيي به الإسلام) أي: لإحياء الدين عما اندرس قواعده وأحكامه ببنائها، لا لغرض فاسد من المال والجاه".

اسی طرح ایک حدیث میں جہاں علم کی فضیلت کا ذکر آیا تو وہاں بھی ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے علم کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ  "وأي علم كان من علوم الدين" یعنی دین کے علوم میں سے کوئی بھی علم ہو، اس سے بھی پتا چلا کہ احادیث میں جس علم کا ذکر ہے اس سے مراد دین کا علم ہے۔

مشكاة المصابيح (1/ 74):

"عن كثير بن قيس قال: كنت جالساً مع أبي الدرداء في مسجد دمشق فجاءه رجل فقال: يا أبا الدرداء إني جئتك من مدينة الرسول صلى الله عليه وسلم، ما جئت لحاجة، قال: فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من سلك طريقاً يطلب فيه علماً سلك الله به طريقاً من طرق الجنة، وإن الملائكة لتضع أجنحتها رضاً لطالب العلم".

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (1/ 295):

"وأي علم كان من علوم الدين قليلاً أو كثيراً رفيعاً أو غير رفيع".

لیکن اس کے ساتھ یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ دنیاوی علوم حاصل کرنا شرعاً  ناجائز نہیں، بلکہ ان کے بغیر چوں کہ دنیا کا نظام چلانا مشکل ہے؛ اس لیے جائز دنیاوی علوم کا حاصل کرنا بھی فقہاء نے فرض کفایہ لکھا ہے کہ ہر دور میں کچھ ایسے لوگوں کا ہونا ضروری ہے جو ان علوم پر محنت کریں ؛ تا کہ دنیا کا نظام بھی اچھے طریقے پر چل سکے۔

خلاصہ یہ کہ جہاں تک طلبِ علم کے فضائل کے اطلاق کا سوال ہے تو  حدیث میں جہاں علم کے فضائل کا ذکر ہے وہاں علم سے دین ہی کا علم مراد ہے، دنیاوی علم مراد نہیں، اس لیے ان فضائل کا اطلاق بھی دین ہی کے طلبہ پر ہو گا، لیکن اس کے ساتھ دنیاوی علوم اپنی جگہ اہمیت کے حامل ہیں کہ وہ دنیا کے نظام کی بقا کے لیے ناگزیر ہیں۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 42):
"وأما فرض الكفاية من العلم، فهو كل علم لا يستغنى عنه في قوام أمور الدنيا كالطب والحساب والنحو واللغة والكلام والقراءات وأسانيد الحديث وقسمة الوصايا والمواريث والكتابة والمعاني والبديع والبيان والأصول ومعرفة الناسخ والمنسوخ والعام والخاص والنص والظاهر، وكل هذه آلة لعلم التفسير والحديث، وكذا علم الآثار والأخبار والعلم بالرجال وأساميهم وأسامي الصحابة وصفاتهم، والعلم بالعدالة في الرواية، والعلم بأحوالهم لتمييز الضعيف من القوي، والعلم بأعمارهم وأصول الصناعات والفلاحة كالحياكة والسياسة والحجامة". اهـ.
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909200483

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں