بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 23 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

اجنبیہ کے ذریعہ سے بچہ کی پیدائش


سوال

اگر کو ئی عورت قدرتی طور سے حاملہ نہیں ہوتی تو خصوصاً بیرون ممالک میں ( کراۓ کی کوکھ ) کا انحصار کیا جاتا ہے. اس عمل میں مرد کے سپرم میڈیکل سائنس کے ذریعے کسی دورسری عورت میں رکھے جاتے ہیں ، کیا اسلام (کراۓ کے کوکھ ) کی اجازت دیتا ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ خالقِ کائنات نے تخلیقِ انسانی سے لے کر تاقیامت نسلِ انسانی کی بقا کے لیے  تمام مذاہب میں نکاح کا طریقہ رکھا ہے اور نکاح کے علاوہ حصولِ اولاد کے باقی تمام ذرائع ممنوع قرار دیے ہیں اور ساری انسانیت کو پابند کیا گیا ہے کہ خالقِ کائنات کی جانب سے متعین کردہ حدود میں رہتے ہوئے حصولِ اولاد کی کوشش کرے اور ان کی خلاف ورزی کی ہرگز کوشش نہ کرے. ارشاد باری تعالی ہے:يَأيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ بَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيْرًا وَ نِسَاءً. (النساء ١) ترجمہ: اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جاندار سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا بنایا پھر ان دونوں سے کثرت سے مرد و عورت پیدا کرکے روئے زمین پر پھیلا دیے. نیز جس طرح اناج و غلہ کے حصول کے لیے  زمین پر زراعت کی جاتی ہے اولاد کے حصول کے لیے  باری تعالی نے بیویوں کو بمنزلہ کھیت قرار دیا ہے، ارشاد باری تعالی ہے:نِسَاؤكمْ حَرْثٌ لًَكُمْ فَأْتُوْا حَرْثَكُمْ أَنّٰى شِئْتُمْ.( البقرة: ٢٢٣)ترجمہ:تمہاری عورتیں تمہاری کھیتی ہیں جس طرح چاہو ان کے پاس جاؤ. پس جس طرح دوسرے کی زمین پر کھیتی کرنا ناجائز ہے، بالکل اسی طرح اپنی منکوحہ یا مملوکہ کے علاوہ کسی اور خاتون کے رحم کو سیراب کرنا (مادہ منویہ اجنبی خاتون کی بچہ دانی میں ڈالنا خواہ فطری طریقہ سے ہو یا غیر فطری طریقہ سے ہو) بھی ناجائز ہے، جیساکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: لا يحل لامرئ يؤمن بالله و اليوم الاخر ان يسقي ماء ه زرع غيره. (مشكوة ص ٢٩٠) ترجمہ: جو شخص اللہ پر اور روزِ آخرت پر یقین رکھتا ہے اس کے لیے حلال نہیں ہے کہ اپنا پانی (مادہ منویہ) دوسرے کے کھیت (اجنبی خاتون) میں ڈالے. پس نسلِ انسانی کی بقا اور حصولِ اولاد کا فطری طریقہ از روئے شرع نکاح ہے اور اپنی منکوحہ یا مملوکہ کے علاوہ کسی اور خاتون کے ذریعہ اولاد کے حصول کی کوشش کرنا چاہے فطری طریقہ سے ہو یا غیر فطری طریقہ سے ہو بمنزلہ زنا ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں حصولِ اولاد کے لیے  اجرت پر کسی خاتون کے رحم کو استعمال کرنا چاہے ہمبستری کے نتیجہ میں بیوی کے حمل ٹھہرنے کے بعد نطفہ کو اس کے رحم سے اجنبی خاتون کے رحم میں منتقل کردیا جائے یا غیر فطری طریقہ سے میاں بیوی کے مادہ منویہ لے کر اجنبی خاتون کے رحم میں ڈالا جائے، سب صورتیں درج ذیل وجوہات کی بنا پر ناجائز و حرام ہیں:

پہلی وجہ یہ ہے کہ جس اجنبی خاتون کی خدمات حاصل کی جائیں  گی وہ اس شخص کی منکوحہ نہیں ہوگی جب کہ اپنی منکوحہ یا مملوکہ کے علاوہ کسی اجنیہ سے حصولِ اولاد کی کوشش کرنا شرعاً ممنوع ہے.

دوسری وجہ یہ ہے کہ حصولِ اولاد کے لیے کسی عورت کے رحم کو کرایہ پر لینے یا دینے کا طریقہ شریعت کے پاکیزہ مزاج، عفت وحیا اور اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے، اسلام میں شرم گاہ کے ذریعہ کمائی کرنے سے بھی منع فرمایا ہے اور ایسی کمائی کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے ارشاد ہے: ان رسول الله صلي الله عليه وسلم نهي عن ثمن الكلب و كسب البغي و حلوان الكاهن. (مشكوة ص ٢٤١).

ناجائز ہونے کی تیسری اور سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ مذکورہ طریقہ میں اختلاطِ نسب ہوتا ہے اور زنا کے حرام ہونے کی بھی ایک اہم وجہ اختلاط نسب ہے اور شریعتِ مطہرہ نے حفاظتِ نسب کےلیے  اور نسب کے اشتباہ سے بچنے کےلیے  ایک مرد کی زوجیت سے نکلنے کے بعد دوسرے مرد سے نکاح سے پہلے عدت کا مرحلہ رکھا ہے اور عدت کی تکمیل سے پہلے دوسرا نکاح ناجائز قرار دیا ہے. حجة الله البالغةمیں ہے: منها: معرفة براءةرحمها من ماءه لئلا تختلط الانساب فان النسب احد ما يتشاح به و يطلبه العقلاء وهو من خواص نوع الانسان و مما امتاز به من سائر الحيوان.(٢/١٠٦)ثبوتِ نسب کے  لیے  چوں کہ عورت کا مرد کے نکاح میں ہونا شرعاًضروری ہوتا ہے؛ لہذا مذکورہ طریقہ سے پیدا ہونے والے بچہ/بچی کا نسب اس مرد سے شرعاً ثابت نہیں ہوگا جس کا مادہ منویہ اجنبی خاتون کے رحم میں ڈالا گیا تھا، پس اگر وہ اجنبی خاتون پہلے سے کسی کے نکاح میں ہو تو اس طریقہ سے پیدا ہونے والے بچہ/ بچی کا نسب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: "الولد للفراش و للعاهر الحجر" (مشكوة ص ٢٨٧) کی وجہ سے اس عورت کے  شوہر سے ثابت ہوگا جس کی کوکھ کرایہ پر لی گئی ہو، اور اگر اجنبی خاتون پہلے سے کسی کے نکاح میں نہ ہو تو اس صورت میں بھی اس بچہ/بچی کی اصل ماں وہی خاتون قرار دی جائے گی جس نے اس کو جنا ہوگا اور دیگر شرعی احکامات جیسے ثبوتِ نسب میراث  سے محرم ہونا وغیرہ سب کا تعلق اسی خاتون سے ہوگا، ارشاد باری تعالی ہے: إنْ أُمَّهٰتُهُمْ إلّا الّٰئِي وَلَدْنَهُمْ. (المجادلة ٢) ترجمہ: ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے.

اس کے بر خلاف حصولِ اولاد کے لیے  حلال و پاکیزہ راستہ شریعت مطہرہ نے رکھا ہے اور وہ راستہ ہے دوسرا نکاح،  لہٰذا  اگر پہلی بیوی سے اولاد کا حصول ممکن نہ ہو اور مرد میں ایک سے زائد بیویوں کے درمیان عدل (برابری) کرنے کی اہلیت ہو تو ایسے شخص کے لیے  دوسرے نکاح کی شرعاً اجازت ہے اور اس کو معاشرہ میں معیوب سمجھنا بجائے خود معیوب ہے ، پس حلال راستہ ہونےکے باوجود ناجائز طریقہ اختیار کرنا انتہائی قبیح عمل ہے .فقط و اللہ اعلم


فتوی نمبر : 143904200044

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں