بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 16 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

ابان نام رکھنے کا حکم


سوال

 لڑکے کا نام ’’ابان‘‘  رکھنا درست ہے یا آبان؟

جواب

"اَبان"  نام رکھنا درست ہے، اس کا معنی  صاف اور  واضح چیز  کے ہیں،  کئی صحابہ  کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا نام تھا، یہ  حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے  صاحب زادےکا نام تھا اور ایک  صحابی حضرت ابان بن سعید بن العاص رضی اللہ عنہ بھی ہیں جن کا سلسلہ نسب پانچویں پشت میں عبد مناف پر آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جاتا ہے، سابقین اولین میں سے اور بڑی فضیلت والے صحابی ہیں ۔ 

الإصابة في تمييز الصحابة (4/ 37):
"مات سنة ثمانين عام الجحاف، وهو سيل كان ببطن مكة جحف الحاجّ، وذهب بالإبل، وعليها الحمولة، وصلى عليه أبان بن عثمان وهو أمير المدينة حينئذٍ لعبد الملك بن مروان، هذا هو المشهور".

الإصابة في تمييز الصحابة (1/ 168):
"أبان بن سعيد بن العاص [ (3) ] بن أمية بن عبد مناف القرشي الأموي. قال البخاريّ، وأبو حاتم الرّازيّ، وابن حبّان: له صحبة، وكان أبوه من أكابر قريش، وله أولاد نجباء، أسلم منهم قديماً خالد، وعمرو".
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200335

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے