بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

آن لائن ٹکٹ بکنگ پر کمیشن لینا


سوال

آن لائن ٹکٹ خرید کر کسی کو دینا اور اس پر منافع لینا کیسا ہے؟ مثلاً ایک آدمی مجھے فون کر کے کہتا ہے کہ میرے لیے جہاز کی ٹکٹ بک کروا دو اور میں اسے کہتا ہوں کہ ٹھیک ہے میں اس پر کچھ معاوضہ لوں گا یعنی اگر 100 روپے کا ٹکٹ ہے تو میں اس سے 130 روپے لیتا ہوں، کیا یہ کاروبار ٹھیک ہے؟ اور موبائل پر ایک ایپ ہے جسے موبائل وائپ کہتے اس پر بیلنس ڈالروں میں استعمال ہوتا ہے، نیٹ کے ذریعے اس میں بیلنس ڈالنا ہوتا ہے جو کہ ہر کارڈ سے نہیں ڈلتا، اس کے لیے  کچھ خاص کارڈ ہوتے ہیں تو کیا کسی کے پاس ایسا کارڈ ہو اور وہ اس کے ذریعے لوگوں کو بیلنس ڈال کر دے اور اس پر منافع لے تو کیا یہ جائز ہے، جب کہ بیلنس اسی کرنسی میں نہیں آتا بلکہ ڈالروں میں آتا ہے، مثلاً 10 ڈالر کا بیلنس 100 روپے کا ہو اور میں اس سے 120 روپے لوں. 

جواب

صورتِ  مسئولہ میں سائل  ٹکٹ بک کرانے کے حوالہ سے جو  خدمات فراہم کرتا ہے ، اگر اس پر پہلے سے ہی اپنا  حق الخدمت طے کر لیتا ہے اور یہ بات مشتہر بھی کر دیتا ہے تو اس صورت میں سائل کے لیے طے  شدہ حق الخدمت وصول کرنا شرعاً جائز ہوگا. اور یہی حکم  مذکورہ ایپلیکیشن کے ذریعہ بیلنس ٹرانسفر کرنے کا ہے ۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908200016

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے