بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1440ھ- 19 اگست 2019 ء

دارالافتاء

 

آبائی گاؤں اور رہائشی گاؤں میں سے کس کی مسجد میں ماہانہ رقم دینی چاہیے؟


سوال

ایک شخص کا آبائی وطن کسی دوسرے گاؤں میں ہے، اور بود و باش دوسرے گاؤں میں تو ایسی صورت میں وہ مسجد کا ڈالا یعنی مسجد کی ماہانہ رقم کس گاؤں میں دے گا ؟ پہلے گاؤں میں جہاں آبائی وطن تھا یا دوسرے گاؤں میں جہاں ابھی مقیم ہے جب کہ زمین جائے داد دونوں جگہ ہے؟

جواب

مسجد میں ماہانہ رقم دینا بہت بڑی نیکی کا کام ہے، لیکن یہ ایک تبرع کا کام ہے، لازم نہیں ہے، اس لیے مذکورہ شخص کی مرضی ہے جہاں اس کا دل چاہے یا جہاں وہ زیادہ ضرورت محسوس کرے اس مسجد میں وہ ماہانہ رقم دیا کرے، البتہ جس گاؤں میں اس کی رہائش ہے   چوں کہ اسی گاؤں کی مسجد میں وہ نماز پڑھنے کے لیے جاتا ہوگا، اس لیے اس گاؤں کی مسجد میں ماہانہ رقم دینا زیادہ بہتر ہے، اِلا یہ کہ آبائی گاؤں کی مسجد میں زیادہ ضرورت ہو، اگر دونوں جگہ آدھی آدھی رقم دے تو یہ بھی درست ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144003200140

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے