بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 شوال 1445ھ 20 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

اسکول میں چھٹی کرنے پر جرمانہ لینا


سوال

اسکول میں بچوں سے سے چھٹی پر فائن جرمانہ لینا کیسا ہے؟ اور کہاں استعمال کریں؟

جواب

غیر حاضر طلبہ  سے  جرمانہ وصول کرنا  جائز نہیں ہے، جن سے جرمانے کی رقم وصول کی گئی ہے ان ہی کو مذکورہ رقم واپس کرنا لازم ہے۔ اگر کسی ادارے میں مالی جرمانہ وصول کرنے کا معمول ہو تو اسے فوراً ختم کردینا چاہیے.  جو چیز شرعاً جائز نہ ہو، اس سے حاصل شدہ آمدن میں کبھی برکت نہیں ہوسکتی۔ اس کے بجائے کوئی ایسی جائز صورت اختیار کی جائے جس سے بچے پابندی سے حاضری دیں۔ 

اگر لاعلمی یا دینی ماحول نہ ہونے کی وجہ سے کسی ادارے میں جرمانے کی رقم جمع ہوگئی ہو  تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر اس کے مالکان معلوم ومتعین ہوں تو  انہیں واپس کردی جائے، پھر  وہ جہاں چاہیں صرف کردیں، ان پر کسی قسم کا اخلاقی دباؤ یا جبر نہ ہو، پھر اگر رقم کا مالک بالغ طالبِ علم ہو یا نابالغ طالبِ علم کا سرپرست ہو اور وہ طیبِ نفس کے ساتھ یہ رقم ادارے کے اخراجات میں دے دے تو  اس کے استعمال کی اجازت ہوگی۔

اور اگر کسی طریقے سے بھی اصل حق دار معلوم نہ ہو تو  یہ رقم اسکول میں لگانےکے بجائے ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کرنا ضروری ہوگا۔

  • "ولایکون التعزیر بأخذ المال من الجاني في المذهب". (مجمع الأنهر، کتاب الحدود / باب التعزیر ۱؍۶۰۹ بیروت)
  • "وفي شرح الآثار: التعزیر بأخذ المال کانت في ابتداء الإسلام ثم نسخ". (البحر الرائق /باب التعزیر41/5 )
  • "والحاصل أن المذهب عدم التعزیر بأخذ المال". (شامي، باب التعزیر، مطلب في التعزیر بأخذ المال،ج: ۴، ص: ۶۱)
  • "لایجوز لأحد من المسلمین أخذ مال أحد بغیر سبب شرعي".  (شامي، باب التعزیر، مطلب في التعزیر بأخذ المال،ج: ۴، ص: ۶۱)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200688

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں