جامعہ علوم اسلامیہ
urdu arabic english

دارالافتاء

دار الافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کا باضابطہ قیام ۱۳۸۱ھ مطابق ۱۹۶۱ءمحدث العصر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمہ الله نے کیا ،اور حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی رحمہ الله (سابق مفتی اعظم پاکستان)کو اس کا رئیس مقرر کیا ۔اس سے قبل خود حضرت بنوری رحمہ اللہ جامعہ میں عوام الناس کی شرعی مسائل میں راہنمائی کا فرائض انجام دیتے تھے ،تدریس کے ساتھ ساتھ خود فتاوی بھی تحریر فرماتے تھے ۔

یہ جامعہ کا وہ شعبہ ہے جس پر مسلمانوں کو اپنے شرعی مسائل کے حل کے لیے مکمل اطمینان واعتماد ہے،مفتیان کرام شرعی فتاوی صادر فرماکرعوام کے انفرادی اور اجتماعی مسائل کاجواب تحریری صورت میں دیتے ہیں ،اسی طرح یومیہ کثیر تعداد میں لوگ خود حاضر ہوکر اور بذریعہ فون بھی مسائل دریافت کرتے ہیں، اس کے علاوہ ملک وبیرون ملک سے ڈاک کے ذریعہ آنے والے سوالات کے جوابات بھی ارسال کیے جاتے ہیں،نیز مسلمان ذاتی ، خانگی اور اجتماعی معاملات کے سلسلے دارالافتا سے تحکیم کرواتے ہیں ۔

دار الافتاء سے سالانہ ہزاروں فتاویٰ جاری ہوچکے ہیں اورجن کا باقاعدہ ریکارڈ رکھاگیاہے، اس وقت تک تقریباً تین لاکھ سے زائد فتاویٰ جاری ہوچکے ہیں۔

جو غیرمسلم برضا ورغبت اسلام قبول کرنا چاہتے ہیں انہیں دار الافتاء میں کلمہ کی تلقین کی جاتی ہے اور"سنداسلام" بھی جاری کی جاتی ہے، اب تک تقریباً ساڑھے چھ ہزار غیر مسلم دار الافتاء آکر اسلام قبول کرچکے ہیں۔

اب جامعہ کے دار الافتا ءنے عوام کی سہولت کے لیے ویب سائٹ اور ای میل کے ذریعے بھی شرعی مسائل کے جواب دینا کا اہتمام کیا ہے تاکہ اندرون ملک اور بیرون ملک مسلمانوں کو اپنے شرعی مسائل کے حل میں قرآن وسنت کی راہنمائی حاصل کرنے میں سہولت اور آسانی رہے ۔