جامعہ علوم اسلامیہ
urdu arabic english

حضرت بنوری رحمہ اللہ

میں نے اپنی پوری زندگی دینی اداروں کے زیر سایہ یاتو بحیثیت طالب علم، علم کے حصول میں گزاری یا بحیثیت مدرس اور استاذ درس وتدریس میں۔ میری جوانی علماء کرام سے استفادہ میں گزری، خواہ وہ مسجدوں میں درس کی شکل میں ہو یا علمی اور دینی مدرسوں اور اداروں کی صورت میں، نیز مختلف علمی مراحل میں تعلیم کے فرائض انجام دیتا رہا اور مختلف دینی مناصب پر بھی فائز رہا، عقل کی پختگی اور تجربے کے بعد دینی مدارس میں تدریس کے دوران ان اداروں کی تعلیمی حالت پر غور وفکر کرتے ہوئے مجھے یہ خیال ہوتا تھا کہ اگر مستقبل میں مجھے کوئی دینی مدرسہ یا علمی ادارہ قائم کرنے کی توفیق ملی تو میں اس میں مندرجہ ذیل امور کا اہتمام کروں گا:

(۱) موجودہ رائج الوقت نصاب اور نظام تعلیم میں ایسی مناسب تبدیلیاں لانا جن سے ایسے علماء پیدا ہوں جو عصر حاضر میں اسلام کی صحیح خدمت کرسکیں۔

(۲) طلبہ کی ایسی دینی اور اخلاقی نگرانی ہو جس طرح اسباق اور نظام تعلیم میں ان کی نگرانی کی جاتی ہے۔

(۳) طلبہ کے افکار کی اصلاح کی جائے اور انہیں یہ باور کرایا جائے کہ دینی تعلیم حاصل کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ سند حاصل کرکے سرکاری یا غیر سرکاری منصب حاصل کرلیا جائے، خواہ وہ تدریس کی صورت میں ہو یا خطابت اور تصنیف وتالیف کی شکل میں، بلکہ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ دینی علوم میں کمال اور مہارت پیدا کی جائے تاکہ دین کی صحیح خدمت ہوسکے اور اپنے آپ کو دین کی خدمت کے لئے وقف کرسکے اور دین اورحق کی سربلندی کے لئے جان بھی قربان کردے تاکہ علوم نبوت اور میراث نبوی ا سے کچھ حصہ مل جائے، مال وجاہ، شہرت ومنصب، لوگوں کی تعریف اور ثنا مقصود نہ ہو بلکہ ان تمام مادی چیزوں سے برتر و بالا ہوتا کہ ان تمام انعامات کا مستحق بن سکے جن کا ذکر احادیث نبویہ میں وارد ہوا ہے، مثلاً: آخرت میں بلند درجات کا ملنا، اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہونا، فرشتوں ، سمندر کی مچھلیوں اور ہرچیز کا اس کے لئے دعا کرنا وغیرہ۔

(۴) خدمت دین کی غرض سے طلبہ میں موجودہ دور کے مطابق لکھنے اور بولنے کی ایسی مہارت پیدا کی جائے جس سے سننے والوں کے دل میں ان کی بات کی قدر ومنزلت ہو۔

(۵) فصیح وبلیغ عربی زبان کے لکھنے اور بولنے کا ملکہ پیدا کیا جائے اس کے لئے ایسی کتابوں کا مطالعہ کرایا جائے جو اس سلسلہ میں معاون ثابت ہوں، اور بولنے اور تلفظ کی ایسی مشق کرائی جائے جس سے زبان کی کمزوریاں دور ہوں۔

(۶) طالبعلم کا تاریخ سے بھی لگاؤ ہو ،خاص کر اسلامی علمی تاریخ سے،اس کے لئے اچھی کتابوں کا مطالعہ کرایا جائے،جیسے ابن قتیبہ کی "المعارف"، ابن سید الناس کی "عیون الشمائل" اور "السیر"، ابن جوزی کی "تلقیح فہوم الأثر"، "مقدمة تاریخ ابن خلدون" اور سخاوی کی "الإعلان بالتوبیخ" اور ان جیسی دوسری کتابیں۔

(۷) نصاب تعلیم میں ہرجماعت کے لئے تاریخ کی ایک مناسب کتاب رکھی جائے چاہے اسے پڑھایاجائے یا اس کا مطالعہ کرایاجائے لیکن اس میں امتحان ضرور لیا جائے۔

(۸) منطق اور فلسفہ کے بجائے نقلی علوم کا اہتمام زیادہ ہو، جیسے علوم قرآن، علوم حدیث، اصول حدیث، فقہ اور اصول فقہ۔

(۹) مروّجہ نصاب کے بعد مختلف علوم میں تخصّص کے درجات کھولے جائیں، جیسے "التخصّص فی الحدیث، التخصّص فی الفقہ الاسلامی، التخصّص فی الدعوة والارشاد" وغیرہ تاکہ ہرطالب علم اپنے ذوق کے مطابق ان میں سے کسی تخصّص میں داخلہ لے سکے، اس لئے کہ ہمتیں پست اور استعداد اتنی کمزور ہوچکی ہے کہ تمام علوم کا احاطہ کرنا مشکل ہے، اور علوم بھی کافی پھیل چکے ہیں، اس لئے تمام علوم میں مہارت حاصل کرنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں۔

(۱۰) ایسے نیک صالح علماء، اساتذہ اور مدرسین کا انتخاب کیا جائے جو اخلاص کے ساتھ تقویٰ سے بھی آراستہ ہوں اور کمال علمی کے ساتھ ان میں محنت، مشقت اور طلبہ کو فائدہ پہنچانے کا جذبہ بھی پایا جاتاہو اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہو۔

اس قسم کے عظیم علمی کاموں کووہی لوگ سرانجام دے سکتے ہیں جو خود بھی عظیم اور بلند شخصیت کے مالک ہوں، جن کے دل اخلاص اور یقین صادق سے معمور ہوں،جن کو علوم ومعارف میں مہارت کے ساتھ ساتھ اہل دل کی طویل صحبت نصیب ہوئی ہو اور ان کا رنگ ان پر چڑھ چکاہو،استقامت اور عمل پیہم ان کی فطرت بن چکاہو، تنگی، گھبراہٹ اور تھکن سے نا آشنا ہوں، حق کے لئے فنا ہوں، اپنے اوقات کی ہرقسم کی قربانی دینے کے لئے تیارہوں اور انکا مقصد نئی نسل کی ایسی تعلیم وتربیت ہو جس سے وہ عالم ربانی بن کرپورے عالم میں منارہٴ ہدایت بن کر پھیل جائیں اور اللہ جل شانہ کی توفیق اور مدد سے ہر پیاسے کے لئے سیرابی اور ہربیمار کے لئے شفا بن جائیں، یہ وہ خصوصیات ہیں جن کا مجھ جیسا شخص کیسے اہل ہو سکتا تھا،چنانچہ برسوں اس سلسلہ میں غور وفکر کرتا رہا، اسی دوران ذو الحجہ ۱۳۶۹ھ کے اواخر میں حج سے فراغت کے بعد میری رفیقہٴ حیات نے مکہ مکرمہ میں ایک خواب دیکھا، جس کی تعبیر میں یہ سمجھا کہ عنقریب مجھے اس کام کے کرنے کی توفیق نصیب ہوگی جس کا میں آرزومند تھا۔

چنانچہ اس کام کو شروع کرنے سے پہلے میں نے مناسب سمجھا کہ اللہ تعالیٰ سے آہ وزاری کے ساتھ دعائیں اور ماثور استخارے کروں، اس مقصد کے لئے میں نے حج بیت اللہ کا ارادہ کیا تاکہ اس کی برکت سے مجھے توفیق نصیب ہو، الحمد للہ ! اللہ تعالیٰ نے تمام مقامات مقدسہ اور مشاعر حج میں مجھے آہ وزاری اور دعا کی توفیق عطا فرمائی، پھر حرم نبوی میں حاضری ہوئی اور ایک ماہ سے زیادہ مدینہ منورہ میں قیام کیا، رو رو کر دعائیں کرتا رہا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرے دل کو اس کام کے لئے مطمئن کردیا، حج سے وطن واپس لوٹا، میرے سامنے کام کرنے کا راستہ نہایت مبہم اور غیر واضح تھا، مادی وسائل مفقود تھے، میں برابر سوچتا اور غور وفکر کرتا رہا، آخر کار ایک ایسے خطہٴ زمین میں کام شروع کردیا جہاں نہ کوئی مکین تھا نہ مکان کہ جس میں بارش یا دھوپ کی تمازت سے بچنے کے لئے پناہ لے سکوں، نہ ضروریات پوری کرنے کی کوئی جگہ تھی ،نہ راحت وآرام کی، اس سے قبل میں نے اخبارات میں ان فضلاء کے لئے جو درس نظامی سے فارغ ہوچکے ہوں، "تکمیل" کا درجہ کھولنے کا اعلان کیا تھا جس میں قرآن کریم، سنت نبویہ، فقہ اسلامی اور عربی ادب جیسے علوم کی خصوصی تعلیم دینا مقصود تھا، میرے اس اعلان پر دس فضلاء نے لبیک کہی، چنانچہ ان دس فضلاء سے میں نے کام شروع کیا، میں اس تفصیل میں جانا نہیں چاہتا کہ اس سلسلہ میں ہمیں کن پریشانیوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور اللہ تعالیٰ نے کس طرح ہمیں صبر واستقامت کی دولت سے نوازا۔

بہرحال ہمارے اس کام کی ابتداء نہایت سادگی اور معمولی حیثیت سے ہوئی لیکن اللہ تعالیٰ نے تھوڑے ہی عرصہ میں اسے ترقی عنایت فرمائی اور سال بسال ہم تعلیمی اور تعمیری، دونوں میدانوں میں آگے بڑھتے رہے، جو محض اللہ تعالیٰ ہی کا فضل وکرم تھا۔

یہاں ایک قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ علمی ادارہ اپنے خصائص کے اعتبار سے اگرچہ ایک علمی یونیورسٹی کی حیثیت رکھتاہے لیکن میں نے پروپیگنڈے اور شہرت سے دور رہنے کے لئے تواضعاً ابتداء میں اس کا نام " المدرسة العربیة" رکھا، اگر بغیر نام کے کام کرنا ممکن ہوتا تو میں یہ نام بھی نہ رکھتا، بعد میں معلوم ہوا کہ کراچی میں اس نام سے ایک اور مدرسہ بھی ہے جسے کویت کی حکومت چلا رہی ہے جس کی وجہ سے ڈاک وغیرہ میں خلل پڑتا تھا، اس لئے میں نے اس کے ساتھ "الاسلامیة" کا لفظ بڑھایا اور اس کا نام "المدرسة العربیة الاسلامیة" ہوگیا۔ میری خواہش یہ تھی کہ یہ نام باقی رہے، اس میں تواضع بھی ہے اور اپنی قدیم تاریخ سے تعلق بھی، کیونکہ اسلامی تاریخ مدرسہ اور مدارس کی اصطلاحات سے بھری پڑی ہے،میں نئے ناموں اور نئی اصطلاحات سے بچنا چاہتا تھا، جو زیادہ ترمغرب کی اجنبی زبانوں سے لی گئی ہیں، چنانچہ بیس سال سے زیادہ اس ادارے کا یہی نام باقی رہا،لیکن ملکی اور غیر ملکی کچھ ایسے عوامل پیش آئے جن سے مجبور ہوکر اس کا نام بدلنا پڑا اور اس کا نیا نام "جامعة العلوم الاسلامیة" رکھا گیا

محمد یوسف بنوری