بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 ربیع الاول 1440ھ- 15 نومبر 2018 ء

مقالات

ہندوستان میں خطابت کے ائمہ اربعہ اور امیرِ شریعت  مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقام


ہندوستان میں خطابت کے ائمہ اربعہ اور امیرِ شریعت 
مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقام

ہندوستان کی اِس سرزمین میں ایک ہی عصر میں ا یسے چار خطیب جمع ہوگئے تھے جن میں سے ایک کی بھی نظیر عالمِ اسلام میں نہیں تھی اور ظاہر ہے کہ جب عالمِ اسلام میں نظیر نہ تھی تو غیر اسلامی دنیامیں کہاں سے نظیر ملے گی؟ جو ہرِ خطابت جس انشراحِ صدر کامحتاج ہے ،اللہ تعالیٰ نے یہ حصہ غیر مسلموں کو نصیب ہی نہیں فرمایا۔ مسلمان کے سینہ میں جو فیضانِ الٰہی ہوتا ہے کافر کے سینہ میں اس کی گنجائش نہیں۔ مسلمان کا دل و دماغ جس جذبے سے سرشار ہوتاہے کافر اس نعمت سے محروم ہے۔ مسلمان کے دل میں عواطف و جذبات کاجو سمندر متلاطم ہوتا ہے غیر اسلامی دل اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اسلامی روح جس منبعِ قدس سے سیرابی حاصل کرتی ہے کافر کی روح کی تشنہ لبی کو اس سے کیانسبت!
پہلے خطیب مولانا ابوالکلام آزاد، دوسرے خطیب مولانااحمد سعیددہلوی،تیسر ے خطیب مولانا شبیر احمد عثمانی اور چوتھے خطیب مولانا سید عطاء اللہ شا ہ بخاری تھے۔ میرے خیال میں یہ ایک عصر کی خطابت کے ائمہ اربعہ تھے۔ ایک دفعہ ضلع سورت کے ایک گائوں میں حضرت مولانا العارف حسین احمد کے ساتھ رفاقت کی سعادت نصیب ہوئی ،تنہائی میں اس موضوع کا ذکر آگیا، اتفاق کی بات ہے جو میرا خیال تھا حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے بعینہٖ اسی طرح فرمایا، بہرحال مجھے اپنی اصابتِ رائے پر خوشی ہوئی، پھر فرمایا کہ اب مولانا حفظ الرحمن صاحب بھی قریب قریب ان کے ہورہے ہیں، اب میں مزید اضافہ کرنا چاہتا ہوں کہ حضرت مولانا قاری طیب صاحب بھی اس صف کے قریب آرہے ہیں۔ میرے ذہن میں ان چاروں خطیبوں کی خطابت کی خصوصیات ہیں جونہایت دلچسپ ہیں اور دقیق بھی ہیں، افسوس کہ اس وقت ان کی تفصیلات کی نہ ہمت ہے نہ وقت، لطف تو اس وقت آتاکہ پوراموازنہ ومقارنۂ واقعات ہوسکتا۔ اب تو چند نامعلوم اشارے شاہ جیؒ سے متعلق عرض کرتاہوں ۔
خطابت اور خصوصاً عوام کو مسحور کرنے کا جہاں تک تعلق ہے، اس موضوع کی جتنی صلاحیتیں ہوسکتی ہیں قدرت نے بڑی فیاضی کے ساتھ حضرت شاہ جیؒ کو عطا فرمائی تھیں۔ قدوقامت، شکل و صورت ، قوت و طاقت، شجاعت و جرأت، فراست و تدبر، غیرت و حمیت، ذکات و شدتِ احساس ، رقتِ عواطف و جذبات کا تلاطم، بلندیِ آواز و خوش گلوئی، قرآن کریم کے ساتھ قلبی تعلق اور استحضار، منتخب ترین فارسی، اردو اشعار و ہر موضوع پر عمدہ ذخیرہ کا استحضار، دردناک اور فلک شگاف آواز کے ساتھ قرآن کریم کا پڑھنا، مخالفین کے مجمع پر قبضہ کرنا، عالم و جاہل، مرد و عورت، مخالف وموافق، سب کا یکساں طور پر متاثر ہونا، یہ ان کی وہ خصوصیات ہیں کہ ان میں کوئی ہمسری نہیںکرسکتا۔ 
مجمع کو رُلانا، تڑپانا، ہنسانا ان کی خطابت کا ادنیٰ کرشمہ تھا، مجمع سے اپنی بات منوانا، نناوے فیصد مخالفوں کو اپنا ہم خیال بنانا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ بعض اوقات تو بولنے سے پہلے ساحرانہ نگاہ ہی سے مجمع کو مسخر کرلیتے تھے۔ نگاہ کیا تھی غضب کی نگاہ تھی، آواز تھی یا بجلی کوندتی تھی۔ اتناکامیاب ترین خطیب کسی نے سنا ہوگا نہ دیکھا ہوگا۔ عقلی و فکری خصوصیات کی کامیاب ترین تمثیل اور اپنے موضوع و اطوار سے وہ نقشہ کھینچتے تھے کہ دنیا کا کوئی خطیب ان کی نقالی نہیں کرسکتا تھا۔ ہندوستان کی سرزمین میں یہ وہ واحد خطیب تھے جس نے اپنی خداداد ساحرانہ قوتِ خطابت سے دنیا و سیاست کی وہ خدمت کی جو ایک پوری قوم نہیں کرسکتی۔ تنہا ان کی شخصیت نے وہ کام کیا جو ایک صدی میں ایک ادارے کو کرنا چاہیے تھا۔ یہ شخص کسی اور قوم میں ہوتا تو نہ معلوم اس کی کیا یادگاریں قائم ہوتیں، لیکن مسلمان قوم اپنی زندگی ختم کرچکی ہے۔ اس ختم شدہ دور میں یہ حیرت انگیز خطیب آئے، ورنہ تاریخ کے کسی بہترین دور میں پیدا ہوتے تو نقشہ ہی کچھ اور ہوتا۔

مولانا انور شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ امیر شریعت رحمۃ اللہ علیہ کی نظر میں 

قدرت نے فوق العادت زبان کی شیرینی، بیان کی روانی اور فوق العادت مؤثر تعبیر کی قوت عطافرمائی، بعض اوقات ایک جملہ میں پوری پوری داستان ختم کردیتے تھے، ایک دفعہ جامع ڈابھیل تشریف لائے، اساتذۂ جامعہ مروتی اسٹیشن پر استقبال کے لیے گئے، لاری میں آرہے تھے، میں نے کہا: شاہ جی! آج تو حضرت شیخ پر ایک تقریر کردیجئے (یعنی حضرت مولانا انور شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ پر) فوراً فرمایا: ’’بھائی یوسف! کیا کہوں! صحابہ کا قافلہ جارہا تھا، انور شاہ صاحبؒ پیچھے رہ گئے۔‘‘ بے اختیار میں نے کہا:’’حسبک اللّٰہ یاعطاء اللّٰہ! ‘‘ا ور رفقاء نے جملہ نہیں سنا تھا، جب سنایا سب تڑپ گئے۔

غیر مسلموں کو تبلیغِ اسلام 

ایک دفعہ تو ساری ضلع سورت میں سکھوں اور ہندوؤں کی ایک دعوت پر ایک تقریر منظور فرمائی۔ ایک تھیڑ ہال کاانتخاب ہوا، جامع ڈابھیل کے اساتذ ہ اور طلبہ بھی شریک تھے۔ حضرت مولاناشبیراحمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ بھی تشریف رکھتے تھے، اس تقریر کی تاثیر و حلاوت، فوق العادت خطابت کاکمال آج بھی آنکھوں کے سامنے ہے، اس کی شیرینی کام ودہن میں ہے، ہندوؤں اور سکھوں سے ’’اللّٰہ أکبر ‘‘ کے نعرے بلند کروائے تھے۔ سلام کی حقانیت ،اللہ کی عظمت اور توحید، گوشت خوری کے منافع ،بت پرستی کی قباحت پر حیرت انگیز بیان تھا۔ حضرت شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ زاروقطار رو رہے تھے۔ میں نے کبھی ان کو اتنا روتے ہوئے نہیں دیکھا۔ تقریر کے بعد میں نے سنا،فرماتے تھے: میں نے بیسیوں تقریر یں مولاناعطاء اللہ شاہ بخاری کی سنی ہیں، لیکن اتنی مؤثر تقریر آج تک نہیں سنی اور فرمایا کہ: آج عطاء اللہ شاہ نے حق تبلیغ ادا کردیا ہے، اپنے وقت کے سب سے بڑے عالم، متکلّم، خطیب کی یہ داد کتنی قیمتی ہے۔ 

شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ مولانا انور شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی نظر میں 

امام العصرحضرت مولاناانور شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو آپ سے بے انتہامحبت تھی اور دعا کیا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ ایسا خطیب کبھی نہیں دیکھا جو روتوں کو ہنساتا ہے اور ہنستوں کو رُلاتا ہے اور فرماتے تھے کہ: مرزا غلام قادیانی کے خلاف ان کی ایک تقریر وہ کام کرتی ہے جو ہماری پوری تصنیف نہیں کرسکتی۔ کسی مجلس میں اُنہیں دیکھتے تو باوجود اس کے متانت ووقار کا پہاڑ تھا، محظوظ ہوتے جس کی انتہانہیں ۔

لاہور کا تاریخی اجلاس جس میں آپ امیرِ شریعت بنائے گئے 

مئی ۱۹۳۰ء کا جو تاریخی اجلاس ’’انجمن خدام الدین لاہور‘‘ کا ہورہا تھا، جس کا سماں آج بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے، اس وقت امام شیخ رحمۃ اللہ علیہ کا اسم گرامی مولانا ظفر علی خاں نے امارت کے لیے پیش کیا۔ حضرت شیخ نے کھڑے ہوکر تقریر فرمائی اور اپنی کمزوری کی وجہ سے معذرت پیش کی اور سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی امارت کی نہ صرف تجویز کی بلکہ امیر بناکر فرمایا: میں بھی اس مقصد کے لیے ان کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں، آپ حضرات بھی ان سے بیعت کریں اور اپنے د ونوں ہاتھ مبارک سید بخاری کے ہاتھ میں دے دیئے۔ 
وہ منظر بھی عجیب تھا کہ مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری رورہے تھے اور کہتے ہیں کہ خداکے لیے مجھے معاف فرمائیں، میں اس کا اہل نہیں اور حضر ت شیخ اصرار فرمارہے ہیں۔ اس وقت سب سے پہلے مولانا عبد العزیز گوجرانوالہ نے پہلی بیعت فرمائی، پھر مولانا ظفر علی خاں مرحوم نے بیعت کی، راقم الحروف بھی اسی مجمع میں شریک تھا اور غالباً تیسرا نمبر بیعت کرنے والوں میں میرا تھا، اس وقت شاہ جیؒ ’’امیر شریعت‘‘ بنائے گئے اور ان کی شخصیت میں مقبولیت اور جاذبیت کا دور شروع ہوا، جو اس سے پہلے کبھی نہ تھا اور اس کے بعد اخلاص کے ساتھ خدمت کی توفیق ان کو ملی، وہ ان کی زندگی کاتاریخی دور ہے۔
    میں سمجھتا ہوں کہ حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی یہ عام مقبولیت اور مجاہدانہ سرگرمیاں، منصفانہ خدمات اور حیرت انگیز تاثیر اور بے پناہ محبوبیت حضرت مولانا انور شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی کرامت تھی۔ اپنے ہاتھ مبارک جو اُن کے ہاتھوں میں رکھ دئیے تھے اس کی وجہ تھی اور حضرت مولانا انور شاہ صاحبؒ کو جو قادیانی فرقہ سے بغض و عناد تھااس نے عطاء اللہ کی صورت اختیار کرلی تھی۔ دراصل شاہ جیؒ کا وجود حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کی کرامت تھا ، جس کی وجہ سے علمائ، صلحائ،عرفاء و اتقیائ، وقت کے بڑے بڑے اہلِ فضل وکمال مولانا عطاء اللہؒ کے جاں نثار، محب، والہانہ معتقد بن گئے تھے: ’’ذٰلَکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَائُ وَاللّٰہُ ذُوْالْفَضْلِ الْعَظِیْمُ۔‘‘

 (بشکریہ ماہنامہ نقیب ختم نبوت،امیرشریعت نمبر ،ص:۳۳۰-۳۳۲)