بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 محرم 1440ھ- 20 ستمبر 2018 ء

مقالات

’’فقہ‘‘ حدیث کی نظر میں اور مذہبِ ’’ظاہریّہ‘‘ پر ایک نظر!

’’فقہ‘‘ حدیث کی نظر میں اور مذہبِ ’’ظاہریّہ‘‘ پر ایک نظر!

محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ نے تقسیم ہند سے قبل جامعہ اسلامیہ ڈابھیل (گجرات، ہندوستان) کے زمانۂ تدریس میں ایک وقیع علمی وتحقیقی تحریر لکھی تھی ، جو اُسی زمانے میں دارالعلوم دیوبند کے ترجمان رسالہ ’’ماہنامہ دارالعلوم‘‘ کے کسی شمارے میں شائع ہوئی تھی۔ تحریر کی افادیت کے پیش نظر ماہنامہ ’’بینات‘‘میں اِفادۂ عام کے لیے پیش خدمت ہے۔

عقل اور اس کا منصب 

’’عقل وادراک ‘‘ حق جل ذکرہٗ کا وہ ربانی عطیہ ہے جو علمی وعملی ’’کمالات ‘‘ اور فطری وکسبی ’’ملکات ‘‘ کے لیے بنیاد ہے، بلکہ علمی وروحانی منازل طے کرنے کے لیے سرچشمہ ہے۔ نظام عالم کی اصلاح کے لیے جو نوامیسِ الٰہیہ آئے ہیں، ان کا بڑی حد تک اسی پر مدار ہے۔ تہذیبِ نفوس وتزکیۂ اخلاق کا بھی یہی دارومدار ہے۔ انسان کے روحانی کمالات کا انتہائی عروج جسے ہم نبوت یا رسالت سے تعبیر کرتے ہیں، جن نفوسِ قدسیہ کو نصیب ہوا ہے، اس کے لیے سب سے پہلے عقل وادراک کے انتہائی کمال کی ضرورت ہے۔تشریعی قوانین اور تکلیفی احکام جس کے ذریعہ سے انسان ابدی نعیم کا مستحق ہوتا ہے‘ عقل وادراک اس کے لیے شرطِ اول ہے۔ غرض اس نعمت ِ عظمیٰ کی عظمت سے کوئی عاقل انکار نہیں کرسکتا ہے۔ کائناتِ عالم کی مادی وروحانی حیرت انگیز ترقیات سب اس کے کمال کی دلیل ہیں: ’’آفتاب آمد دلیلِ آفتاب‘‘ لیکن ہر چیز کے لیے خالقِ برحق اور قادرِ مطلق نے ایک حد مقرر کردی ہے، اس قانونِ قدرت کے مطابق عقل وادراک کے لیے بھی ایک منصب منتخب کردیا گیا ہے، اس کی حدود متعین ہوگئی ہیں۔ دیکھیے! یہ ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ انسان کے حواس اسی حد تک اپنا وظیفۂ منصبی بجالاسکتے ہیں جس حد تک خالقِ حواس نے ان میں صلاحیت رکھی ہے۔ ’’حاسۂ بصر‘‘ ایک محدود دائرہ میں اِبصار ورؤیت کا وظیفہ ادا کرسکتا ہے، آپ اگر چاہیں کہ آنکھ ایک ٹھوس پتھر کے اندر کی کائنات کا مشاہدہ کرسکے تو یہ ناممکن ہے، آپ اگر چاہیں کہ چند میل کے فاصلہ سے کسی چیز کو دیکھنا چاہیے تو یہ مشکل ہے، اسی طرح سمع وغیرہ حواس کا بھی یہی حال ہے۔ ’’معجزات وخوارقِ عادات‘‘ کی بحث کو جانے دیجیے، وہ ایک مخصوص قانونِ قدرت کا مخفی نظام ہے، مقصود تو عام قانونِ قدرت ہے، نظام عالم کی عام فطرت کو بتلانا منظور ہے۔ اسی طرح عقل کا بھی اپنا منصب ہے، اس منصب کی حدود کے اندر اندر وہ اپنا وظیفہ پورا کرسکتی ہے۔ اگر اس میں بھی ذرا بھی غلو وافراط سے کام لیا گیا تو یہ اس کا ناجائز استعمال ہوگا، جس میں اس کی ناکامی وخسران یقینی ہے۔ اسی طرح اگر اس میں تفریط کی گئی اور اپنی حدود میں اس کے اختیارات کو مسدود کردیا جائے تو یہ تعطل اس کے حق میں ظلم ہوگا، تعدی ہوگی، کفرانِ نعمت ہوگا۔  بابل ونینویٰ وحران کے صائبہ کو جانے دیجیے، ایران کے مجوس ومزدکیہ کا ذکردفتر پارینہ ہوگیا ہے، ارضِ شام وفلسطین کے یہود کے ذکر کو چھوڑیئے، یعقوبیہ ونسطوریہ وملکانیہ وغیرہ وغیرہ نصاریٰ کی داستان پرانی ہوچکی ہے، عہدِ اسلام سے پہلے کے افسانے بہت طویل ہیں، خود عہدِ اسلام کی حالت دیکھیے! خیرالامم کی حالت دیکھیے! کہ منصبِ عقل کی تفریط وافراط ، شیطانی وساوس کا جال کتنا پھیل گیا، ’’ملل ونحل‘‘ کی کتابوں میں ’’فرقوں‘‘ کے نام گنتے گنتے خود عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ امام ابوالحسین الملطی رحمۃ اللہ علیہ المتوفی ۳۷۷ھ کی کتاب ’’ردالأہواء والبدع‘‘ ،امام ابومنصور عبدالقاہر بغدادی رحمۃ اللہ علیہ المتوفی ۴۲۹ھ کی تالیف ’’الفرق بین الفرق‘‘ ، امام ابوالمظفر اسفرائینی رحمۃ اللہ علیہ المتوفی ۴۷۱ھ کی کتاب ’’التبصیر فی الدین وتمییز الفرقۃ الناجیۃ من الہالکین‘‘، امام ابومحمد بن حزم ظاہری رحمۃ اللہ علیہ المتوفی ۴۵۶ھ کی کتاب ’’الفصل فی الملل والنحل‘‘ امام عبدالکریم شہرستانی رحمۃ اللہ علیہ المتوفی ۵۴۸ھ کی ’’کتاب الملل والنحل ‘‘ یہ سب نادر روزگار تالیفات اسی سلسلہ کی کڑیاں ہیں۔ اسلام کے عہد عروج ہی کو لیجیے کہ بعض مدعیانِ عقل نے عقل کے دائرہ کو وسیع کرکے حق تعالیٰ کی ذات وصفات جل ذکرہ میں عقل کو دخل دیا، جس کا نتیجہ دنیا نے جہمیّہ اور معطّلہ کی شکل میں دیکھ لیا۔ بعض نے دائرہ اتنا تنگ کردیا کہ عقل کو بے کار بناکر حق تعالیٰ شانہٗ کی ذات وصفات کو بھی مخلوق کے مشابہ بتلادیا، جس کا نتیجہ دنیا میں مشبّہہ، مجسمہ اور حشویّہ کے رنگ میں ظاہر ہوا۔ خیر! یہ تو عقائد واصولِ دین کی بحث تھی جس کا تعلق ہمارے موضوعِ بحث سے نہیں۔

فروعِ دین میں عقل کا درجہ یا شرعی نظام میں ’’فقہ ‘‘ کا مرتبہ

اسلام کے شرعی نظام میں جو مسائل اور فروعی احکام صاف وصریح طور پر ’’کتاب وسنت‘‘ میں موجود نہیں ہیں یا صحابہ رضی اللہ عنہم وتابعین کے عہد میں ’’اجماعِ اُمت‘‘ ان کے لیے دلیلِ راہ نہ بن سکی، ’’کتاب وسنت‘‘ میں غور کرنے سے صحابہؓ وفقہاء امت نے جن احکام کو سمجھا ہے، کتاب وسنت کی روشنی میں جن غامض ودقیق مسائل کا انکشاف واستنباط کیا ہے، نئے نئے حوادث عالم میں عقل وادراک نے کتاب وسنت واجماع سے جن مسائل کا ایک مکمل نظام مرتب کیا ہے، طویل وعمیق تفکیر واجتہاد سے جو ایک نیا خاکہ اُمت کے سامنے پیش کیا ہے، اس کا نام ’’فقہ‘‘ یا قیاس ہے۔ عقل وادراک کا یہ منصب اہلِ حق کو ہمیشہ تسلیم رہا ہے۔ فقہاء امت وصحابہؓ وتابعین رحمۃ اللہ علیہ سے لے کر آخر تک ان کا یہی دستور العمل رہا کہ جو احکامِ دین کتاب وسنت میں بیان ہوچکے تھے، وہاں سے لیے اور جو وہاں نہ ملے‘ ان میں اجماعِ امت سے استفادہ کیا اور بدرجۂ مجبوری انہی سرچشموں سے سیرابی کی شاہراہیں نکالیں۔ یہ خیال کہ ’’قیاس وفقہ‘‘ بے کار چیز ہے یا ’’تفقہ واستنباط‘‘ غیرضروری امر ہے، اس ترقی کے زمانہ میں ایک مضحکہ انگیز خیال ہے، بلکہ مجنون کی بڑ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ عصر حاضرمیں مادی وسائل کی حیرت انگیز ترقی نے نئے نئے مسائل پیدا کردیئے ہیں۔ ریڈیو، لاؤڈ اسپیکر، ٹیلیگراف، وائرلیس وغیرہ نے رؤیت ہلال وغیرہ کے لیے خبررسانی کے نئے ذرائع زیرِبحث کردیئے۔ علم المعیشت والاقتصاد کی تدوین نے عقود ومعاملات کے بارے میں نئے عقدے ظاہر کردیئے ہیں۔ اشتراکیت وفسطائیت کی لعنتوں نے اسلامی نظام کے اجراء میں روڑے اَٹکادیئے ہیں، خالص اسلامی نظام کے فقدان نے ان مشکلات کو اور بڑھادیا ہے جن کے حل کرنے کے لیے فقہائِ اُمت کے وہ علمی ذخائر جو ہزاروں مجلدات کی شکل میں سامنے موجود ہیں‘ ناکافی تصور کیے جاتے ہیں۔ کیا ایسی حالت میں یہ کہنا کہ استنباطِ جدید یاتفقہ جو فقہاء امت کرچکے ہیں‘ فضول ہے اور یہ کہ اس تفقہ نے اختلافات پیدا کردیئے ہیں، ’’تفریق کلمہ‘‘ کردی ہے، یہ کہنا حقائق وواقعات سے افسوسناک جہالت ہی نہیں، بلکہ مجرمانہ غفلت ہے۔ لیکن ’’منکرینِ قیاس‘‘ کا اب بھی ایک گروہ موجود ہے اور یہ گروہ فقہاء اُمت سے ہمیشہ برسرِپیکار رہا ہے۔ ’’انکارِ قیاس‘‘ و ’’عدم تقلید‘‘ غور کرنے سے دونوں میں قدرِ مشترک ایک نکلتا ہے اور یہ دونوں اگر سگے بھائی نہیں تو علاتی بھائی (باپ شریک) تو ضرور ہیں۔ غیرمقلدین کا ایک گروہ ہندوستان میں بھی موجود ہے، جس کا اصلی مرکز کسی زمانہ میں بعض بلادِ عراق، بلادِ شام، پھر اندلس اور پھر یمن رہا۔

منکرینِ قیاس اور ظاہری مذہب پر ایک نظر

سب سے پہلے جس نے ابطالِ قیاس وابطالِ اجماع کے لیے کمر باندھی‘ وہ ابواسحاق ابراہیم بن سیارنام نظام لقب معتزلی متوفی تقریباً ۲۲۶ھ (۱)، ان کے بعد داؤد بن علی الاصبہانی المتوفی ۲۷۰ھ آئے، جو داؤد ظاہری کے نام سے مشہور ہیں۔ ابتداء میں امام خراسان شیخ اسحاق بن راہویہ اور امام ابوثور سے فقہ حاصل کیا، بعد میں قیاس سے منکر ہوئے، واسع الاطلاع محدث ہیں، لیکن اصول وفروع دونوں میں ان کے ایسے تفردات بھی ہیں جو انتہائی مضحکہ انگیز ہیں۔ حافظِ حدیث شیخ اسماعیل القاضی المالکی اور ابوبکر رازی الحنفی المتوفی ۳۱۵ھ، شیخ ابواسحاق اسفرائینی، امام ابوالمعالی، امام الحرمین شافعی، قاضی ابوبکر ابن عربی مالکی ان کے انتہائی مخالف ہیں۔(۲) بہرحال داؤد ظاہری کے اتباع کا ایک مستقل مذہب تیار ہوگیا، جس کی بنیاد ابطالِ قیاس ورائے پر رکھی گئی۔ ابراہیم بن جابر بغدادی، عبداللہ بن احمد المغنس، ابوالحسین محمد بصری، ابوالقاسم عبیداللہ کوفی، ابوبکر محمد نہروانی، محمد بن اسحاق کاشانی وغیرہ وغیرہ اس مذہب کے مشہور علمبردار ہیں اور آخر میں اندلس میں ابن حزم ۴۵۶ھ سب سے بڑے علمبردار ہوئے۔ گواندلس میں ا س مذہب کے لیے زمین بقی مخلد وابن وضاح وقاسم بن اصبغ وغیرہ نے تیار کی تھی، تاہم باقاعدہ مذہب بنانے میں ابن حزم کو بہت کچھ دخل ہے۔ اصولِ فقہ میں ’’کتاب الأحکام‘‘ اور ’’النبذ‘‘ لکھی۔ فروعِ دین اور اصولِ دین میں مشہور کتاب ’’المحلی‘‘ لکھی اور خوب زوروشور سے ابطالِ قیاس کیا، سارے فقہاء امت خصوصاً مالکیہ وحنفیہ کے خلاف پورا زور صرف کیا اور سچ تو یہ ہے کہ ظاہری مذہب میں اگر کچھ روح ہے تو وہ ابن حزم ہی کے طفیل سے ہے۔ اگرچہ اصولِ دین میں وہ داؤد ظاہری کے مخالف ہیں، بلکہ ایک حد تک خصم مقابل ہیں، لیکن ’’فروع‘‘ میں ان کے ہم نوا ہیں۔ بایں ہمہ کوشش ’’ظاہری مذہب‘‘ کو وہ فروغ حاصل نہ ہوسکا جو فقہاء امت کے مذاہبِ اربعہ کو حاصل ہوا، جس کا اصلی سبب یہ ہے کہ اجتہاد وتفقہ کی جو روح ہے، غامض ودقیق فروع کے لیے جس سرمایہ کی ضرورت ہے، یہ مذہب اس سے خالی ہے، پھر اس پر مستزاد یہ کہ ابن حزم نے فقہاء امت کی تجہیل وتحمیق کا ایسا لہجہ اختیار کیا جو ناقابل برداشت تھا، یہاں تک مشہور ہوا کہ ’’سیف الحجاج وقلم ابن حزم تَوْأَمَانِ‘‘ کہ ’’حجاج بن یوسف کی تلوار اور ابن حزم کا قلم دونوں توأم ہیں۔‘‘ نتیجہ یہ نکلا کہ ابن حزم کی کتابوں سے اور اس مذہب سے بے التفاتی اور بڑھ گئی، خیر کچھ بھی ہو، لیکن اس مذہب کے مؤیدین یا مقلدین مصر، شام، قدس، دمشق، ہند اور اب حجاز میں بکثرت پائے جاتے ہیں۔ ابن حزم کی ’’محلی‘‘، ’’کتاب الاحکام‘‘، ’’النبذ‘‘ یہ سب چھپ گئی ہیں اور ان میں اس فتنہ کا کافی سامان موجود ہے۔

مذہبِ ظاہریہ کے چند مسائل

 

بطور نمونہ ذیل میں ہم چند مسائل ’’ظاہریہ‘‘ کے پیش کرتے ہیں، تاکہ ناظرین یہ فیصلہ کرسکیں کہ ظاہریت پر جمود کرنا اور مدارکِ استنباط واجتہاد سے استغناء کرنا کس حد تک صحیح ہوسکتا ہے؟ بلکہ یہ مسلک جن قبائح کا باعث ہوگا، وہ بآسانی معلوم ہوسکیں گے۔ صحیح بخاری، صحیح مسلم وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے حدیث ہے: ’’لایبولنّ أحدکم فی الماء الدائم ثم یغتسل فیہ۔‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ:’’ غیرجاری پانی میں پیشاب نہ کیا جائے، خصوصاً جب اس میں غسل کرنا بھی ہو۔‘‘ مطلب ظاہر ہے کہ غیرجاری پانی نجاست وغیرہ پڑنے سے ناپاک ہوجاتا ہے، ہاں! اگر پانی جاری ہو یا کوئی بڑا حوض ہو جو جاری کے حکم میں ہو وہ اس وقت تک پاک رہے گا جب تک مزہ، بو اور رنگ میں تغیر نہ آئے، اب اس حدیث کے بارے میں ظاہریہ کے مسائل ملاحظہ ہوں:(۳) ۱:… اگر کسی نے برتن وغیرہ میںپیشاب کرکے پانی میںڈال دیا تو پانی پاک ہے۔ ۲:… اگر پانی سے باہر پیشاب کردیا اور وہ بہ کر پانی میں پہنچ گیا تو پانی پاک ہے۔ ۳:… اگر ایک شخص نے پانی میں پیشاب کردیا اور دوسرا آکر اس میں وضو کرے یا غسل کرے تو جائز ہے۔ ۴:… اگر کوئی شخص پانی میں پیشاب نہ کرے ، صرف پائخانہ کرے تو اس سے وضو وغیرہ جائز ہے۔ ان سب کی دلیل یہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمادیا کہ جو آدمی خود پیشاب کرے‘ وہ وضو وغیرہ نہ کرے۔ اس سے منع نہیں فرمایا کہ: اگر دوسرا پیشاب کردے تب بھی اس سے وضو نہ کرے یا پیالہ وغیرہ سے ڈال دے تو نہ کرے، نیز پیشاب سے منع فرمایا، پائخانہ وغیرہ سے منع نہیں فرمایا ہے اور یہی مذہب ابن حزم کا بھی ہے۔(۴) امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ صاحب المفہم فی شرح مسلم فرماتے ہیں:  ’’ومن التزم ہذہ الفضائح وجمد ہذا الجمود فحقیق بأن لایعد من العلماء بل ولا فی الوجود الخ۔‘‘  یعنی ’’جو شخص ان فضائح کا التزام کرے اور جمود اس درجہ تک پہنچ جائے تو چاہیے کہ اُسے علماء کے زمرہ میں شمار نہ کیا جائے، بلکہ اس کو دنیا کے صفحۂ ہستی سے معدوم قرار دیاجائے۔‘‘ بہرحال آپ اس سے اندازہ لگائیں کہ ظاہریت پر جمود کرنے والے اور شرعی قیاس سے انکار کرنے والے کس قسم کے رکیک احکام پر اُتر آئے، اسی قسم کے اُمور کو دیکھ کر حافظ حدیث قاضی ابوبکر بن عربی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ ’’عارضۃ الأحوذی‘‘ میں فرماتے ہیں کہ: چاہیے کہ ’’ظاہریہ‘‘ کو فرقِ باطلہ میں شمار کیا جائے اور کچھ قبائح بیان کرنے کے بعد ایک فصیح وبلیغ قصیدے میں دل کی بھڑاس نکالتے ہیں، چند شعر ملاحظہ ہوں:

قالو: الظواہر أصل لایجوز لنا

عنہا العدول إلٰی رأی ولانظرٖ قلت: اخسأوا فمقام الدین لیس لکم

ہذی العظائم فاستخفوا من الوترٖ إن الظواہر معدود مواقعہا

فکیف تحصی بیان الحکم فی البشرٖ فالظاہریّۃ فی بطلان قولہم

کالباطنیّۃ غیر الفرق فی الصورٖ کلاہما ہادم للدین من جہۃ

والمقطع العدل موقوف علی النظرٖ ہذی الصحابۃ تستری خواطرہا

ولاتخاف علیہا غرّۃ الخطرٖ وتعمل الرأی مضبوطا مأخذہٗ

وتخرج الحق محفوظاً من الأثرٖ بینوا عن الخلق لستم منہم أبدا 

ماللأنام ومعلوف من البقرٖ

خلاصۂ مطلب یہ ہے کہ: ’’ظاہریہ‘‘ کہتے ہیں کہ ظاہر احادیث ہی اصل شریعت ہے، رائے ونظر کی حاجت نہیں۔ میں کہتا ہوں: جاؤ!ذلیل ہو، تمہیں یہ کہنے کا حق حاصل نہیں۔ ظاہر نصوصِ شرعیہ تو معدود احکام میں منحصر ہیں، آخر قیامت تک کے حوادث کا حکم کیونکر محض ظاہر سے معلوم ہوگا؟! ظاہریہ کی مثال باطنیہ جیسی ہے ، دونوں باطل ہیں، دونوں دین کو منہدم کرتے ہیں، صرف صورتوں کا فرق ہے، کیا یہ صحابہ کرامؓ ہمیشہ اپنے دماغوں سے سوچ کر مسائل نہیں بیان کرتے تھے؟! جاؤ! تمہیں انسانوں سے کوئی واسطہ نہیں، آدمی اور بیل دونوں جمع نہیں ہوسکتے۔‘‘

قرآن وحدیث میں استنباط واجتہاد اور تفقہ ونظر کے لیے کافی ذخیرہ موجود ہے، اس وقت اس موضوع پر کتاب وسنت سے دلائل پیش کرنے کا ارادہ نہیں، اس بارے میں حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی صرف ایک حدیث پیش کرنی ہے جو اس موضوع میں بہت صاف وصریح دلیل ہے۔ ’’ابن حزم‘‘ نے ’’کتاب الأحکام‘‘ اور ’’کتاب النبذ‘‘ میں اس کی تضعیف کی پوری کوشش کی ہے، بلکہ ’’کتاب النبذ‘‘ میں تو صاف کہہ دیا کہ بالکل باطل حدیث ہے اور بعض ان کے اعتراضات سے متأثر ہوکر ان کے ہم خیال بن گئے ہیں، ہم اس فرصت میں اس حدیث کی توثیق وتصحیح کے وہ وجوہ بیان کریں گے جو اکابر امت کی تحقیقات سے ہم سمجھ سکتے ہیں ، چونکہ مسئلہ ’’فقہ اسلامی‘‘ دین کا اہم ترین موضوع ہے، اس لیے توجہ کا محتاج ہے۔ واللہ الموفق 

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی حدیث اور اس کی محدثانہ تحقیق

مسنددارمی، سنن ابی داؤد اور جامع ترمذی میں حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی مذکورہ حدیث مختلف لفظوں سے روایت کی گئی ہے، سنن ابی داؤد (۵) کی روایت ملاحظہ ہو: ’’حدثنا حفص بن عمر عن شعبۃ عن أبی عون عن الحارث بن عمرو ابن أخی المغیرۃ بن شعبۃ عن أناس من أہل حمص من أصحاب معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ : أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لما أراد أن یبعث معاذا إلٰی الیمن قال: کیف تقضی إذا عرض لک قضائ؟ قال: أقضی بکتاب اللّٰہ ، قال: فإن لم تجد فی کتاب اللّٰہ؟ قال: فبسنۃ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ، قال: فإن لم تجد فی سنۃ رسول اللّٰہ (صلی اللّٰہ علیہ وسلم) ولافی کتاب اللّٰہ؟ قال: أجتہد برأیی ولاآلو، فضرب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علہ وسلم صدرَہٗ ، فقال: الحمد للّٰہ الذی وفق رسولَ رسولِ اللّٰہ (صلی اللّٰہ علیہ وسلم) لمایرضی رسول اللّٰہ۔‘‘ حدیث شریف کا حاصل یہ ہے کہ:’’ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کا قاضی وحاکم مقرر کرنا چاہا تو فرمانے لگے: کس طرح فیصلے کیا کروگے؟ عرض کیا کہ: کتاب اللہ سے حکم کروں گا اور اگر کتاب اللہ میں نہ ملے تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے حکم کروں گا، اور اگر دونوں میں نہ ملے تو (کتاب وسنت کی روشنی میں) اپنے اجتہاد وقیاس سے فیصلہ کروں گا۔حضرت رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم معاذ رضی اللہ عنہ کے صحیح جواب سے بہت مسرور ہوئے اور ان کے سینہ پر ہاتھ پھیر کر ارشاد فرمایا کہ: خدا کا شکر ہے کہ اس نے رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے رسول کو ایسی بات کی توفیق عطا فرمائی، جس سے خدا کے رسول خوش ہوگئے۔ ‘‘ حدیث مذکور ’’استدلال بالقیاس‘‘ میں صاف وصریح حجت ہے اور عہد اسلام میں صحابہؓ وتابعین وفقہاء امت کا یہی نظامِ عمل اور دستورِ عمل رہا کہ کتاب وسنت میں کوئی حکم صاف نہ ملا تو انہی چشموں سے سیرابی کی نہریں جاری کیں اور مختلف جہات سے غوروخوض کے بعد انہی کی روشنی میں جو سمجھ میں آیا‘ فیصلہ کیا، یہاں تک کہ نظام معتزلی آیا اور ابطالِ قیاس کیا اور ان کے بعد بعض مبتدعین نے ان کا اقتدا کیا، جس کی تفصیل گزرگئی۔

حدیثِ مذکور پر اعتراضات

منکرینِ قیاس نے حدیثِ مذکور پر حسب ذیل اعتراضات کیے : ۱:… ابوعون محمد بن عبداللہ الثقفی المتوفی ۱۱۶ھ راوی حدیث حارث بن عمرو سے روایت کرنے میں متفرد ہے۔ ۲:… حارث بن عمرو اس حدیث کا راوی مجہول الحال ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ محدثین فرماتے ہیں کہ:’’ اس روایت کے سوا ان کی کوئی دوسری روایت نہیں ملتی۔‘‘ ۳:… حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے نقل کرنے والے ان کے اصحاب نہ معلوم کون ہیں، ان کے نام مذکور نہیں۔

اعتراضاتِ مذکورہ کا جواب

۱:… ابوعون ثقفی صحیح بخاری ومسلم کا راوی ہے۔ امام اعمش، امام ابوحنیفہ، سفیان ثوری، مسعر بن کدام، شعبہ بن الحجاج، ابواسحاق شیبانی (w)وغیرہ وغیرہ اکابرِ امت واساطینِ حدیث ان سے روایت کرتے ہیں۔ غرض یہ کہ ابوعون سب ائمہ رجال کے نزدیک باتفاق ثقہ ہیں۔ کسی راوی کے تفرد سے بشرطیکہ ثقہ ہو‘ صحتِ حدیث میں خلل نہیں آتا۔ بخاری ومسلم کی کتابوں میں کثرت سے ایسی احادیث موجود ہیں جن کے رواۃ روایت میں متفرد ہیں، دوسرا متابع موجود نہیں، تاہم علماء رجال کے نزدیک سب قابل استدلال اور صحیح ہیں۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ راوی متفرد سے کوئی دوسرا راوی زیادہ ثقہ مخالف موجود نہ ہو اور یہاں کوئی دوسرا ثقہ ان کے مخالف روایت کرنے والا نہیں، اوثق تو درکنار۔ تو یہ تفرد محدثین اُمت کے اُصول کے مطابق ضعف یا سقوطِ حدیث کی دلیل نہیں بن سکتا، پھر اس حدیث کو ابوعون سے جن محدثین نے روایت کیا ہے، وہ حسبِ ذیل ہیں: ابواسحاق شیبانی رحمۃ اللہ علیہ اور شعبہ بن الحجاج رحمۃ اللہ علیہ : شعبہ بن الحجاج رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق محدثین میں مسلم ہے کہ وہ رجال میں بہت متشدد ہیں اور جس حدیث کو وہ روایت کریں، یہ اس حدیث کی توثیق کے لیے کافی ہے، تو اب صرف شعبہ کی روایت کرنا اس کا کفیل ہے کہ اس حدیث کے سارے رواۃ قابل احتجاج ہیں، ورنہ شعبہ اس کی روایت نہ کرتے، پھر شعبہ سے جومحدثین اس کی روایت کرتے ہیں، وہ حسب ذیل ہیں: یحییٰ بن سعید القطانی ، عبداللہ بن المبارک، ابوداؤد طیالسی، عثمان بن عمر العبدی، علی بن الجعد، محمد بن جعفر، عبدالرحمن بن مہدی وغیرہ وغیرہ اور ابواسحاق شیبانی سے ابومعاویہ بن خازم روایت کرتے ہیں اور ان سے سعید بن منصور، ابوبکر ابن ابی شیبہ۔ ۲:… حارث بن عمرو بن ثقفی کبار تابعین میں سے ہیں، ان کے بارے میں محدثین سے کوئی جرح مفسر موجود نہیں، صرف اتنا کہتے ہیں کہ غیر معروف ہیں اور سوائے ابوعون ثقفی ان سے کوئی دوسرا راوی نہیں۔ کسی تابعی کا مجہول الحال اور مستور ہونا ابن حبان اور بعض محدثین کے ہاں توثیق کے لیے کافی ہے، کیونکہ جب کبار تابعین میں سے ہیں اور قرون مشہود لہا بالخیر میں ہیں اور کوئی جرح مفسر جو اُن کے حق میں مؤثر ہو‘ منقول نہیں، ان کی عدالت وتوثیق کے لیے کافی وشافی ہے، نیز حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی رضی اللہ عنہ کا بھتیجا ہونا اس کی تعیین کے لیے کافی ہے، اگر کوئی راوی مجہول الحال اور کبارِ تابعین میں سے نہ بھی ہو، مگر دو ثقات ان سے روایت کریںتو یہ ان کی توثیق وتعدیل سمجھی جائے گی، بلکہ حافظ ابن القیم وغیرہ بعض محدثین نے تو یہاں تک لکھ دیا: ’’وروایۃ العدل من غیر تعدیل لہ مالم یعلم فیہ جرح‘‘ کہ ایک ثقہ کی روایت بھی ان سے اس کی دلیل ہے کہ وہ راوی ان کے نزدیک ثقہ ہے، اب حسبِ ذیل نتائج پر غور کیجیے: الف: حارث بن عمرو ، مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا بھتیجا ہے۔ ب: کبار تابعین میں سے ہے۔ ج: ابوعون ثقفی جیسے مسلَّم جلیل القدر محدث ان سے روایت کرتے ہیں۔ د: ابوعون سے شعبہ اور ابن المبارک جیسے کبار محدثین اس کو نقل کرتے ہیں۔ ہ: ابن حبان نے حارث بن عمرو مذکور کو کتاب الثقات میں ذکر کیا اور ابن حبان رجال میں متشدد ومتعنّت مشہور ہیں، جیسا کہ حافظ شمس الدین ذہبی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ نے تصریح کی ہے۔ پس ان اُمور کے پیش نظر حارث بن عمرو کی توثیق وتعدیل میںکسی منصف کو مجالِ کلام نہیں۔ ۳:… اصحابِ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے اسماء گرامی معلوم نہ ہونا ضعفِ حدیث کی دلیل نہیں بن سکتا۔ قاضی ابوبکر ابن العربی رحمۃ اللہ علیہ شرح ترمذی میں فرماتے ہیں:

’’ولاأحد من أصحاب معاذ رضی اللہ عنہ مجہولاً ویجوز أن یکون فی الخبر إسقاط الأسماء عن جماعۃ ولایدخلہ ذٰلک فی حیز الجہالۃ وإنما یدخل فی المجہولات إذا کان واحدا ، فیقال: حدثنی رجل أو حدثنی إنسان ولایکون الرجل للرجل صاحبًا حتی یکون لہ بہ اختصاص، فکیف؟ وقد زید تعریفًا بہم أن أضیفوا إلٰی بلد، وقد خرج البخاری الذی شرط الصحۃ فی حدیث عروۃ البارقی ولم یکن ذٰلک الحدیث فی جملۃ المجہولات وقال مالک رحمۃ اللہ علیہ فی القسامۃ: ’’أخبرنی رجال من کبراء قومہ‘‘ وفی الصحیح عن الزہری ’’حدثنی رجال عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ : من صلی جنازۃ فلہٗ قیراط۔‘‘

’’ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے اصحاب وتلامذہ میں سے کوئی مجہول نہیں اور یہ ہوتا ہے کہ کسی حدیث کے اسناد میں اگر کئی نام ایک جگہ میں ہوں نام حذف کردیئے جائیں اور باوجود اس کے وہ اسناد مجہول نہیں ہو گی، مجہول تو اس وقت ہوگی کہ کسی جگہ ایک راوی ہو اور اس کا نام ساقط کیا جائے، جیسا ’’حدثنی رجل‘‘ وغیرہ اور کسی تلمیذ کو صاحب اس وقت کہاجاتا ہے جب اس کو اپنے شیخ کے ساتھ کوئی خصوصیت ہو، پھر اس سے بڑھ کر شہر کی طرف ان کی نسبت کرنا مزید تعریف ہے۔ صحیح بخاری جن کی شرط صحت ہے، حدیث عروہ بارقی میں فرماتے ہیں: ’’سمعت الحی الخ‘‘ یعنی ’’ایک قبیلہ والے عروہ سے بیان کرتے ہیں۔‘‘ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ مؤطا میں فرماتے ہیں: ’’أخبرنی رجال من کبراء قومہ ‘‘نیز صحیح بخاری میں ہے: ’’حدثنی رجال عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ ‘‘چند آدمیوں نے مجھ سے نقل کیا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے۔‘‘ حافظ حدیث ابوبکر خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ تاریخ بغداد کے مصنف کتاب ’’الفقیہ والمتفقہ‘‘ (غیرمطبوع)(۶) میں فرماتے ہیں: ’’وقول الحارث بن عمرو (عن أناس من أصحاب معاذ رضی اللہ عنہ ) یدل علٰی شہرۃ الحدیث وکثرۃ روایۃ وقد عرف فضل معاذ رضی اللہ عنہ وزہدہٗ والظاہر من حال أصحابہ الدین والتفقہ والزہد والصلاح، وقد قیل: إن عبادۃ بن نسی رواہ عن عبد الرحمٰن بن غنم عن معاذ رضی اللہ عنہ ، وہذا إسناد متصل ورجالہٗ معروفون بالثقۃ، علٰی أن أہل العلم قد تقبلوہ واحتجوا بہ فوقفنا بذٰلک علی صحتہٖ عندہم۔‘‘ ’’حارث بن عمرو کا یہ کہنا کہ اصحاب معاذ رضی اللہ عنہ کے چند اشخاص سے روایت ہے ، یہ شہرتِ حدیث پر دلالت کرتا ہے اور کثرتِ رواۃ پر حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا زہد تو معلوم ہے اور بظاہر اصحابِ معاذ رضی اللہ عنہ کی حالت بھی تدین، ثقاہت، زہد وصلاح ہوگی، نیز اس حدیث کی ایک دوسری اسناد بھی ہے، جو متصل صحیح ہے، اس کے علاوہ علماء امت نے اس کو قبول کیا، یہ خود اس کی دلیل ہے کہ ان کے نزدیک حدیث صحیح ہے۔‘‘ امام ابوبکر رازی رحمۃ اللہ علیہ ’’کتاب الفصول فی الأصول‘‘ (مخطوط) میں فرماتے ہیں: ’’فإن قیل: إنما رواہ عن قومہٖ مجہولین من أصحاب معاذ رضی اللہ عنہ ، قیل لہ: لایضرہٗ ذٰلک لأن الإضافۃ ذٰلک إلٰی رجال من أصحاب معاذ رضی اللہ عنہ توجب تأکیدہ ، لأنّہم لایُنسبون إلیہ بأَنَّہم من أصحابہٖ إلّا وہم ثقات مقبولو الرّوایۃ عنہ . ومن جہۃ أخرٰی إنّ ہذا الخبر قد تلقّاہ النّاس بالقبول ، واستفاض ، واشتہر عندہم من غیر نکیر من أحد منہم علی رواتہٖ ، ولا ردّ لہٗ . وأیضا: فإنّ أکثر أحوالہٖ أن یصیر مرسلاً ، والمرسل عندنا مقبول۔‘‘ ’’اصحابِ معاذ رضی اللہ عنہ کا مجہول ہونا صحت حدیث کے لیے مضر نہیں، کیونکہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ہونا ان کے ثقہ ہونے کے لیے کافی ہے، ان کے اصحاب تو انہی کو کہاجائے گا جو ثقہ مقبول الروایۃ ہوں۔ دوسری بات یہ ہے کہ اُمت نے اس کو قبول کرلیا ہے اور درجۂ استفاضہ وشہرت کو پہنچ گئی ہے اور سلف میں سے کسی سے انکار ورد منقول نہیں، نیز زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ حدیث مرسل ہوجائے گی اور مرسل ہمارے یہاں حجت ہے۔‘‘ اب انہی حقائق کی بناپر امام حدیث قاضی ابوبکر بن العربی رحمۃ اللہ علیہ شرح ترمذی میں فرماتے ہیں: ’’الذی أدین بہ القول بصحتہٖ فإنہٗ حدیث مشہور یرویہ شعبۃ بن الحجاج رواہ عنہ جماعۃ من الفقہاء والأئمۃ۔‘‘ ’’میرا عقیدہ تو یہی ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے، کیونکہ یہ حدیث مشہور ہے۔ شعبہ جیسے محدث اس کو روایت کرتے ہیں اور ان سے فقہاء ائمہ پھر روایت کرتے ہیں۔‘‘ ابوبکر رازی ، ابوبکر بن خطیب بغدادی ، ابوبکر بن العربی ان سب اکابر نے توثیق حدیث کے لیے ایک بڑی وجہ یہ بیان کی کہ فقہاء امت اور ائمہ دین نے اس کو تسلیم کرلیا، حافظ ابوعمر بن عبدالبر وغیرہ محدثین نے تصریح کردی ہے کہ کسی حدیث کے صحیح ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ علماء امت اس کو تسلیم کرلیں، اگرچہ اسناد میں کلام ہو، جیسا کہ ’’تدریب الراوی‘‘ وغیرہ میں مذکور ہے۔ ’’تاریخ ابن ابی خیثمہ‘‘ (مخطوط) و’’جامع بیان العلم‘‘ میں علی بن الجعد کی روایت میں یوں ہے:  ’’عن شعبۃ عن أبی عون قال: سمعت الحارث بن عمرو ابن أخی المغیرۃ بن شعبۃ رضی اللہ عنہ یحدث عن أصحاب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم عن معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ الخ۔‘‘ لیجیے! اصحابِ معاذ رضی اللہ عنہ کے مجہول ہونے میں جو کچھ شبہ تھا وہ بھی جاتا رہا اور اس روایت نے بتلادیا کہ اصحابِ معاذ سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے اصحاب رضی اللہ عنہ ہیں جو اس حدیث کو معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں۔ صحابہs تو اہل سنت کے نزدیک سب عدول ہیں، ان کے اسماء گرامی معلوم نہ ہونا کسی کے نزدیک ضعفِ حدیث کا باعث نہیں بن سکتا۔ اب حدیثِ مذکور کے صحیح وقابل حجت ہونے میں کونسا شبہ باقی رہا۔ خلاصۂ بحث اب یہ نکلا کہ حدیث مذکور کی اگر ایک ہی اسناد ہو تو جب بھی صحت کے لیے کافی ہے: الف:… کل فقہاء امت محمدیہ نے بغیر چون وچرا کے حدیث مذکور کو قبول کرلیا ہے۔ ب:… اسناد میں کوئی مجروح راوی موجود نہیں، حارث بن عمرو اگرچہ مستور الحال ہیں، لیکن کبار تابعین میں سے ہیں۔ ابوعون ثقفی جیسے محدث ان سے روایت کرتے ہیں، یہ ان کی توثیق کے لیے دلیل ہے۔ ج:… شعبہ بن الحجاج جیسے متشدد محدث اس کے راوی ہیں، اگر اس حدیث میں کوئی ضعف ہوتا تو شعبہ اس کی روایت ہرگز نہیں کرتے اور پھر شعبہ سے جلیل القدر ائمہ حدیث مثل عبداللہ بن المبارک، عبدالرحمن بن مہدی ، یحییٰ بن سعید القطان وغیرہ وغیرہ ہرگزروایت نہ کرتے، ان اساطین حدیث کا روایت کرنا اور اس پر کوئی جرح وقدح نہ کرنا یہ صحتِ حدیث کی دلیل ہے۔ د:…امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی روایت کرنے کے بعد کوئی کلام نہیں کیا اور سکوت فرمایا۔ سب محدثین کے ہاں مسلم ہے کہ ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ کا کلام نہ کرنا اور روایت کرلینا اس کی دلیل ہے کہ ان کے نزدیک حدیث قابل احتجاج ہے اور صالح للعمل ہے۔ ہ:… اصحابِ معاذ رضی اللہ عنہ کے نام معلوم نہ ہونا ضعفِ حدیث کا باعث نہیں، کیونکہ اصحابِ معاذ رضی اللہ عنہ کا زہد وتقویٰ بھی مسلم ہے اور وہ مجہول بھی نہیں ہیں اور بسااوقات کثرت کے باعث نام ساقط کردیئے جاتے ہیں جو بجائے ضعف کے مزید قوت وشہرت کی دلیل ہے۔ و:… اور اگر اصحاب معاذ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ ہیں، جیسا کہ ’’جامع بیان العلم‘‘ کی روایت میں ہے تو وہ باتفاقِ اہل سنت عدول وثقات ہیں، حدیث اب نہایت ہی قوی ہوجائے گی۔ ز:… اس اسناد کے علاوہ اس حدیث کی دوسری اسناد بھی موجود ہے، وہ بلاشک صحیح ومتصل ہے، جیسا کہ خطیب بغدادی کی کتاب ’’الفقیہ والمتفقہ‘‘ میں تصریح ہے۔ ان وجوہ کی بناپر اب ہم علی رؤوس الاشہاد یہ اعلان کرتے ہیں کہ ابن حزم یا کوئی دوسرا جو بھی اس حدیث کی تضعیف یا اسقاط کے درپے ہے وہ اپنے علم وتحقیق پر بدنما داغ لگارہا ہے۔ ہم نے بقصدِ اختصار اہل علم کے لیے بعض اشارات پر اکتفاء کیا ہے اور ان کی تفصیل کے لیے ایک مستقل تالیف کی ضرورت ہے۔ تاہم توقع ہے کہ یہ اشارات اہل علم حضرات کے لیے کافی ثابت ہوں گے۔ تنبیہ:۔۔۔۔۔ ابن حزم اور ان کے اتباع ’’رائے وقیاس‘‘ کی مذمت میں کچھ روایات وآثار پیش کرکے ابطالِ قیاس کے لیے راستہ صاف کیا کرتے ہیں۔ ’’جامع بیان العلم‘‘ وغیرہ میں اس کا ایک کافی ذخیرہ موجود ہے، اس پر مستزاد یہ کہ عہد سلف میں سے بعض علماء نے ’’اصحاب الرأی‘‘ و ’’اصحاب الحدیث‘‘دو فرقے بنادیئے اور متعصبین نے جب اس پر حاشیہ آرائی شروع کی تو امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے اصحاب واتباع کو ’’اصحاب الرأی‘‘ میں شمار کیا اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ کو ’’اصحاب الحدیث‘‘ میں شمار کیا، یہ موضوع تو مستقل مقالہ کا محتاج ہے، اس وقت صرف چند اشارے عرض کیے جاتے ہیں: استنباط، تفقہ اور اجتہاد کی اہمیت کے لیے قرآن کریم کی آیات بینات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرامی ارشادات، عہدِ خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کے کارنامے، فقہاء صحابہ رضی اللہ عنہ کے قضایا وفتاویٰ کافی شواہد وبینات ہیں۔ مکہ معظمہ میں ابن جریج، عطاء بن ابی رباح وغیرہ مدینہ منورہ میں، فقہاء سبعہ کوفہ میں ، علقمہ واسود، سعید بن جبیر پھر ابراہیم نخعی پھر حماد بن ابی سلیمان بصرہ میں، حسن بصری، ابن سیرین وغیرہ مصر میں، یزید بن ابی حبیب، پھر لیث بن سعد شام میں، مکحول پھر اوزاعی ، فقہاء اجلاء میں سے ابوحنیفہ، سفیان ثوری، ابن ابی لیلیٰ ، ربیعۃ الرأی، مالک، شافعی، احمد بن حنبل، عبداللہ بن المبارک، اسحاق بن راہویہ وغیرہ وغیرہ‘ دین کے امام، اُمت محمدیہ کے اساطین ان سب اکابر کی زندگی کے کل لمحات اس کی اہمیت کے براہین ودلائل ہیں۔ جن آثار میں ’’رائے‘‘ کی مذمت آئی، اس سے مراد ہویٰ ونفسانی خواہشات ہیں اور ’’اصحابُ الرائے‘‘ سے اہل اہواء مراد ہیں، جنہوںنے اصولِ دین میں اپنی رائے کو دخل دیا، جس کا نتیجہ معتزلہ، مرجئہ، قدریہ، جبریہ، جہمیہ وغیرہ کی شکل میں دنیا نے دیکھ لیا، چنانچہ عبداللہ بن المبارک رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا کہ ایک حدیث میں آیا ہے: ’’أصحاب الرأی أعداء السنۃ‘‘ یعنی ’’رائے والے سنت کے دشمن ہیں‘‘ کیا اس سے ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے امثال مراد ہیں؟ فرمایا: ’’سبحان اللّٰہ ! أبوحنیفۃ یجہد جہدہٗ أن یکون عملہ علی السنۃ فلایفارقہا فی شیء منہ فکیف یکون من أعادی السنۃ ؟ إنما ہم أہل الہواء والخصومات الذین یترکون الکتاب والسنۃ ویتبعون أہواء ہم۔‘‘(۷) ’’سبحان اللہ! ابوحنیفہ تو انتہائی کوشش کرتے ہیں کہ پورا عمل سنت پر کریں اور ذرہ برابر اس سے جدا نہ ہوں، تو وہ کیونکر دشمنانِ سنت سے ہوں گے، ان سے مراد وہ اہل اہواء ہیں جو کتاب وسنت پر عمل نہیں کرتے اور اہواء کا اتباع کرتے ہیں۔‘‘ ’’رائے‘‘ کے یہ معنی کہ جو حوادث وواقعات کتاب اللہ وسنت میں مذکور نہیں، ان میں غوروخوض کرکے ان قواعد واحکام کے مناسب مسائل واحکام کا استخراج کرنا یہ رائے سراسر محمود ہے، اس میں مذمت کا کوئی پہلو نہیں، دین کا کوئی امام اس رائے سے مستغنی نہیں ہوسکتا، جنہوں نے اس سے استغناء کیا، گزشتہ بیان میں کچھ نمونہ ان کا ملاحظہ کیا ہوگا۔ امام محمد بن الحسن رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’لایستقیم الحدیث إلا بالرأی ولایستقیم الرأی إلا بالحدیث۔‘‘(۸) ’’حدیث بغیر رائے کے درست نہیں اور رائے بغیر حدیث کے درست نہیں۔‘‘ مقصد یہ ہے کہ احادیث کے لیے رائے کی ضرورت ہے کہ ان کے معانی ومقاصد پر غور کیا جائے اور صحیح نتائج اَخذ کیے جائیں اور صرف رائے پر بھی عمل کرنا ٹھیک نہیں، جب تک احادیثِ نبویہ سے اس کی تائید نہ ہو۔ سلف میں ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے اصحاب کا نام جو ’’اصحاب الرائے‘‘ پڑھا گیا تھا، اس کی وجہ یہ ہے کہ حدیث وروایت کا فن سب کا مشترکہ فن تھا، تفقہ و دقتِ رائے میں وہ ممتاز تھے اور یہ ان کا خصوصی فن تھا، اس لیے اس لقب سے پکارے گئے، یہ تو انتہائی منقبت کی چیز تھی، جسے یاروں نے مذمت کا لقب سمجھا۔ گویا ’’رائے‘‘ کے معنی ٹھیک وہی تھے جس کو آج کل کے عرف میں ’’رائے‘‘ کہتے اور ’’اصحابُ الرائے‘‘ کے معنی جسے آج کل ’’ذی رائے‘‘ کہا کرتے ہیں۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ایک دفعہ ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے ملاقات رہی اور کئی مسائل میں علمی گفتگو رہی اور کئی مجلسیں ایسی ہوئیں: ’’فما رأیت رجلاً أفقہ منہ ولا أغوص منہ فی معنی وحجۃ ۔‘‘  پس میں نے ان سے زیادہ افقہ اور معانی ودلائل میں ان سے زیادہ کھبنے والا نہیں دیکھا۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا مقولہ تو مشہور ہے: ’’من أراد أن یتبحر فی الفقہ فہو عیال علٰی أبی حنیفۃ رحمۃ اللہ علیہ ۔‘‘ ۔۔۔۔۔ ’’جس کو فقہ میں تبحر کا ارادہ ہو تو وہ ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا محتاج ہوگا۔‘‘ امام ابوعبید بن القاسم بن سلام سے منقول ہے کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’من أراد الفقہ فلیلزم أصحاب أبی حنیفۃ رحمۃ اللہ علیہ ‘‘ ۔۔۔۔۔’’جس کو فقہ حاصل کرنے کا ارادہ ہو تو ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے تلامذہ کی صحبت اختیار کرے۔‘‘  فقہ اسلامی کی تاریخ تو ان جواہرات سے بھری پڑی ہے، تفصیل مقصود نہیں، غرض صرف اتنی تھی کہ ’’اصحابُ الرائے‘‘ و ’’اصحاب الحدیث‘‘ کی تفریق مشہور معنی سے بالکل غلط ہے، حقیقت یہ ہے جو عرض کی گئی۔ واللّٰہ الموفق

حواشی وحوالہ جات

 ۱:… ’’التبصیر فی الدین‘‘ لابی المظفر الاسفرائینی، ص: ۴۷پر ان کا ترجمہ ملاحظہ ہو، للشیخ محمد زاہد الکوثری۔ 

۲:…ملاحظہ ہو: النبذ لابن حزم کا مقدمہ۔  

۳:… ماخوذ از ’’طرح التثریب فی شرح التقریب‘‘ للشیخ زین الدین عبدالرحیم العراقی المتوفی ۸۰۶ھ، مطبوعہ مصر۔ تنبیہ: ’’ان سب صورتوں میں پانی وہی مراد ہے جو غیر جاری ہو چاہے قلیل ہو یا کثیر، نیز یہ اس وقت تک ہے جب تک کہ پانی کے اوصافِ ثلاثہ میں تغیر نہ ہو۔‘‘

۴:… دیکھو: شرح التقریب، ص:۳۰، و ص:۳۶، ج:۲۔

۵:… باب اجتہاد الرأی فی القضائ، ص:۵۰۵، ج:۲، مطبوعہ: کانپور، طبع قدیم۔

۶:… ماخوذ از حواشی ’’النبذ‘‘للشیخ الکوثری رحمۃ اللہ علیہ ۔          

۷:… کشف الاسرار شرح اصول البزدوی، ص:۱۷، ج:۱۔

۸:… اُصول فخر الاسلام بزدوی۔