بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 رمضان 1439ھ- 28 مئی 2018 ء

بصائروعبر (اداریے)

الیکشن ایکٹ۲۰۱۷ء اورختمِ نبوت 

الیکشن ایکٹ۲۰۱۷ء اورختمِ نبوت 

اسلام آباد ہائی کورٹ کا جرأت مندانہ فیصلہ!

 

الحمد للّٰہ وسلامٌ علٰی عبادہٖ الذین اصطفٰی

۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کو طویل جدوجہد، بڑے صبر آزما مراحل اور بے شمار قربانیوں کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے منصبِ ختمِ نبوت پر حملہ آور قادیانیوں اور لاہوریوں کو پاکستان کی پارلیمنٹ میں آئینی طور پر غیرمسلم اقلیت قراردینے کا فیصلہ ہوا، لیکن حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم  کے ان باغی گروہوں نے کبھی بھی اپنے آپ کو غیرمسلم اقلیت تسلیم نہیں کیا، بلکہ بیرونِ ملک ہر فورم پر آئینِ پاکستان، علماء اور پاکستانی قوم کو بدنام کرنے اور برا بھلا کہنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ پاکستان کے آئین کے باغی اور منکر ہیں اور بین الاقوامی قانون کے مطابق کسی ملک کے دستور اور آئین کے باغیوں کے لیے اس ملک میں کوئی حقوق نہیں ہوسکتے۔لیکن پاکستان ہی بے چارہ ایک ایسا لاوارث ملک ہے کہ جس میں اس کے آئین کے باغیوں کو نہ صرف کلیدی عہدوں سے نوازا جاتا ہے، بلکہ ان کی آشیرباد اور خوشنودی حاصل کرنے اور ان کو نوازنے کے لیے حکومتِ وقت اپنے آئین اور قانون کے حلیہ کو بگاڑنے کے لیے ہمہ وقت مستعد اور تیار رہتی ہے۔ا س لیے کبھی پنجاب کا وزیرقانون نعوذباللہ! اُنہیں مسلمان باور کرانے کی کوشش کرتا ہے، تو کبھی وفاقی وزیرِقانون اُنہیں ریلیف اور رعایت دینے کے لیے مذموم اورگھناؤنی کوششیں کرتا ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک فیصلہ کے نتیجے میں میاں محمد نواز شریف صاحب وزارتِ عظمیٰ سے محروم اور سیاست کے لیے نااہل قرار پائے تو ان کی پارٹی پاکستان مسلم لیگ (ن) نے بڑی تگ و دو کے بعد ایک ووٹ کی برتری سے سینیٹ سے یہ قانون منظور کرالیا کہ عدالت سے نااہل کردہ شخص پارٹی سربراہ بن سکتا ہے اور اس کی آڑ میں الیکشن اصلاحات ۲۰۱۷ء میں قادیانیوں اور لاہوریوں کو فائدہ پہنچانے اور اپنے آپ کو بلکہ تمام ایوانوں کے اراکین کو سیکولرز ثابت کرنے کے لیے حکومتی حلقوں کے کچھ ذمہ داروں نے ایسی باریک بینی سے ڈنڈی ماری کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے بڑے بڑوں کو اس کی ہوا تک نہ لگنے دی، جیسا کہ گزشتہ اداریہ میں تفصیل سے لکھا گیا تھا کہ اراکینِ اسمبلی کے نامزدگی فارم میں ’’حلف نامہ‘‘ کو ’’اقرار نامہ‘‘ میں تبدیل کیا گیا اور ۲۰۱۷ء کے الیکشن اصلاحات کی دفعہ ۲۴۱ کے ذریعہ ۷- بی اور ۷- سی کو بھی ختم کیا گیا۔ جب اس پر احتجاج ہوا اور عوامی ردِ عمل سامنے آیا تو حکومت نے بڑی عجلت میں اور ایک ہی دن کے وقفے کے بعد نامزدگی فارم کو پرانے انداز میں بحال کیا اور ۷- بی اور ۷-سی کو بھی دفعہ ۲۴۱ سے مستثنیٰ قرار دیا گیا۔ بڑا شور مچایا گیا اور عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ ایسا لاشعوری طور پر ہوا ہے اور کہا گیا کہ تلاش کرو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ اُسے برطرف کیا جائے۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے بھی مطالبہ کیا، اس پر تین رکنی کمیٹی بنائی گئی، اس کی رپورٹ میاں محمد نواز شریف صاحب کو دی گئی، لیکن کمیٹی کی رپورٹ ابھی تک منظر عام پر نہیں لائی گئی، بلکہ اب تو ببانگ دھل اور بڑی جرأت کے ساتھ کہا جارہا ہے کہ اس کمیٹی کی رپورٹ کو منظر عام پر نہیں لایا جائے گا اور نہ ہی اس میں ملوث افراد کو بے نقاب کیا جائے گا۔ باشعور عوام یہ جانتی ہے اور سمجھتی ہے کہ یہ سب کچھ سوچ سمجھ کر کیا گیا اور عوام کو بے وقوف بنانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ہے۔

کمیٹی کے سربراہ اب یہ کہہ رہے ہیں کہ اس قانون کو کافی حد تک ٹھیک کردیا گیا ہے، کچھ کام باقی ہے اور اس کو قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں حل کرلیا جائے گا۔ راجہ ظفر الحق نے کہا کہ انتخابی قوانین میں ختمِ نبوت کے بارے میں حلف میں تبدیلی کی ترمیم ایک چال تھی، جسے حکومت نے بہت زیادہ تو حل کرلیا ہے، باقی آنے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں حل کرلیا جائے گا۔ انہیں دنوں امریکہ کے سینیٹروں نے پاکستانی وزارتِ خارجہ کو خط لکھا ہے کہ پاکستان قادیانیوں کے لیے تشویش ناک ہے، اس موقع پر پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمن صاحب حفظہٗ اللہ نے کہا ہے کہ قادیانیوں کے حق میں پاکستانی وزارتِ خارجہ کو امریکی سینیٹرز کو بھیجا جانے والا مشترکہ خط دراصل پاکستان پر ایک دبائو ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان قادیانیوں کے لیے تشویش ناک ملک ہے۔ پاکستان پر کبھی ختمِ نبوت اور کبھی توہینِ رسالت جیسے حساس اُمور پر بیرونی دبائو ڈالا جاتا رہا ہے، لیکن تازہ اطلاعات کے مطابق اب کئی امریکی سینیٹرز نے مل کر پاکستان کی وزارتِ خارجہ کو جو خط بھیجا ہے، اس پر پوری قوم ورطۂ حیرت میں ہے۔                 (روزنامہ نوائے وقت کراچی ،۳۰؍ اکتوبر ۲۰۱۷ء)

ختمِ نبوت قانون کے متعلق جو گڑبڑ کی گئی اور جسے جلد از جلد درست کرنا بہت ہی ضروری ہے، وہ یہ کہ الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء کی دفعہ ۲۴۱ کے مطابق الیکشن کے متعلق پہلے سے ملک میں رائج ۸؍قوانین کو کالعدم قرار دیا گیا ہے، اس کی زد میں قادیانیوں سے متعلق مذکورہ بالا دفعات والا قانون  "Conduct of Generصلی اللہ علیہ وسلم l Election order 2002" بھی آگیا ہے، لہٰذا مذکورہ دفعات ۷-بی اور ۷- سی کالعدم ہوچکے تھے، لیکن دینی جماعتوں اور عوام کے دبائو پر جب الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء میں حالیہ ترامیم کی گئیں تو اس کے نتیجے میں پرانی دفعات ۷ -بی اور ۷- سی کو الیکشن ایکٹ کا باقاعدہ حصہ بناکر نئی دفعات کے طور پر شامل نہیں کیا گیا اور نہ ہی نئے دفعات نمبر اُن کے لیے مختص کیے گئے، البتہ مذکورہ آخری دفعہ ۲۴۱ کی ذیلی دفعہ (F) کے آخر میں اضافہ کیا گیا کہ سارا قانون کالعدم قرار پائے گا، سوائے دفعات ۷-بی اور ۷-سی کے، لیکن ان دفعات کا متن وہاں لکھا ہوا نہیں ہے۔ اس طرح ان دونوں دفعات کا متن الیکشن ایکٹ میں شامل نہیں ہوگا، لہٰذا متن کی عدم موجودگی کی وجہ سے الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء کی کتاب جب شائع ہوگی یا کوئی نیٹ پر اس اصلاحاتی بل کو دیکھے گا تو اس میں ۷- بی اور ۷- سی کی دفعات شامل نہیں ہوں گی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ الیکشن ایکٹ میں جب یہ دفعات نہیں ملیں گی تو اس کی تنفیذ اور ان پر عمل درآمد مشکل ہوجائے گا۔ جب کہ صورتحال یہ ہے کہ الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء میں ووٹر لسٹ سے متعلق تین درجن سے زائد دفعات موجود ہیں، لیکن عقیدئہ ختم نبوت کے متعلق ان دونوں دفعات کا متبادل موجود نہیں ہے، اس طرح ووٹر لسٹوں میں قادیانیوں کے راستے کی تمام رُکاوٹیں ختم کردی گئی ہیں اور اب وہ قادیانی آسانی سے مسلمانوں کی ووٹر لسٹ میں اپنے نام لکھواسکتے ہیں اور نام نکلوانے کی کوئی دفعہ موجود نہیں ہے۔

لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ پرانی دفعات ۷-بی اور ۷- سی کو الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء میں باقاعدہ علیٰ الترتیب نئی دفعات ۳۷-اے اور ۳۷-بی کے طور پر شامل کیا جائے اور پوری عبارت جو پہلے قانون میں موجود تھی، اسے من و عن لکھ دیا جائے، نیز اس کے لیے مطلوبہ Form وغیرہ کو بھی بحال رکھا جائے۔ 

کیا وجہ ہے کہ جب ایک ملک نظریۂ اسلام کی بنیاد پر بنا اور ہر رکن اسمبلی اپنے کاغذاتِ نامزدگی میں یہ حلفیہ اقرار کرتا ہے کہ میں بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے کیے ہوئے اس اعلان کا وفادار رہوں گا کہ پاکستان معاشرتی انصاف کے اسلامی اصولوں پر مبنی ایک جمہوری مملکت ہوگی، میں صدقِ دل سے پاکستان کا حامی اور وفادار رہوں گا اور پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت کا تحفظ اور دفاع کروں گااور یہ کہ میں اسلامی نظریہ کو برقرار رکھنے میں کوشاں رہوں گا جو قیام پاکستان کی بنیاد ہے۔ اس کے باوجود وہ رکنِ اسمبلی اور وزیر بنتے ہی اس حلف کے ایک ایک جملہ اور ہر ہر حرف کی نہ صرف یہ کہ مخالفت کرتا ہے، بلکہ وہ اس کو اپنا حق سمجھتا ہے، کیا کہا جائے کہ ایسا شخص بانیِ پاکستان کے اعلان کی پاسداری کررہا ہے یا پاکستان کی سالمیت اور تحفظ کی بنیادیں کھوکھلی کررہاہے۔ یہی تو وجہ ہے کہ الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء کا مسودہ قانون ساز اداروں میں بعد میں پیش کیا جاتا ہے اور اپنے آقاؤں کے پاس منظوری کے لیے اُسے پہلے بھیجاجاتا ہے۔

کسی بھی باشعور اور سلیم الفطرت انسان سے پوچھا جائے کہ یہ عمل پاکستان اور بانیِ پاکستان سے وفاداری کا ثبوت ہے یا بے وفائی کا؟ اور جو گروہ دستوری اور آئینی طور پر غیرمسلم اقلیت قراردیا گیا ہو، اسے مسلمان کہنا یا آئین کے باغیوں کو خوش کرنے کے لیے اُنہیں مراعات دینا اسلامی نظریہ کو دفن کرنے اور آئین ودستور سے غداری نہیں تواور کیا ہے؟!کیا یہ وزراء اس بات کے مستحق نہیں کہ اُنہیں وزارت سے برطرف کرکے آئین وقانون سے بغاوت اور غداری کے جرم میں ان پر مقدمہ چلایاجائے؟!۔

عدالت نے نوازشریف کو نااہل قراردیا تو عدالت کے مدمقابل اس کو اہلیت دلانے کے لیے حکومت نے ایسی پھرتی دکھائی کہ ہفتہ کے اندر اندر اس کے لیے قانون پاس کرالیا کہ عدالت سے نااہل قرارپانے والا شخص پارٹی سربراہ بن سکتا ہے، لیکن تقریباً دو مہینوں سے پوری قوم سراپا احتجاج ہے کہ عقیدۂ ختمِ نبوت کے متعلق الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء میں جو سقم جان بوجھ کر چھوڑا گیا ہے، اسے جلدی ٹھیک کیا جائے، اس کی شنوائی ہی نہیں، کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ جان بوجھ کر پوری پارلیمنٹ اور پاکستانی قوم کو گمراہ کیا گیا ہے؟یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ وفاقی وزیرِقانون نے جس این۔ جی۔ اوز کے کہنے پر بیرونی آقاؤں کی آشیرباد سے یہ کھیل کھیلا وہ بلاوجہ نہیں، اس کے پس منظر میں کئی خوفناک ارادے اور سازشیں کارفرماہیں۔

بصائروعبریہاں تک لکھا ہی تھا کہ میڈیا کے ذریعے یہ خبر آگئی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کی مدعیت میں کیس سنتے ہوئے الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء کی دفعہ ۲۴۱ سے منسوخ شدہ تمام قوانین بحال کردیئے ہیں اور وفاقی حکومت کو ۲۹؍نومبرتک جواب داخل کرنے کا حکم دے دیا ہے، یہ خبر آپ بھی ملاحظہ فرمائیں:

’’اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء میں ختمِ نبوت سے متعلق ختم کیے گئے ۸؍قوانین بحال کردیئے، نئے ایکٹ کی شق ۲۴۱ کو معطل کرکے وفاق کو نوٹس جاری کردیا، جبکہ راجا ظفر الحق تحقیقاتی کمیٹی کی سربمہر رپورٹ بھی طلب کرلی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، متحدہ تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی سمیت تمام دینی جماعتوں نے عدالتِ عالیہ اسلام آباد کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے خلاف مولانا اللہ وسایا کی درخواست پر سماعت کی۔ حافظ عرفات ایڈووکیٹ اور طارق اسد ایڈووکیٹ درخواست گزار کی طرف سے پیش ہوئے، جنہوں نے دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء کی شق ۲۴۱ کے تحت ملک میں رائج ۸ ؍اِنتخابی قوانین منسوخ کیے گئے ہیں۔ اس طرح سابقہ قوانین میں سے ختمِ نبوت سے متعلق شقیں بھی منسوخ ہوگئی ہیں۔ یہ اقدام آئین پاکستان سے متصادم ہے، کیونکہ آئینِ پاکستان بنیادی انسانی حقوق اور اسلامی تعلیمات کے خلاف کسی کو بھی قانون سازی کی اجازت نہیں دیتا، لہٰذا الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء کو کالعدم قراردیا جائے۔ وفاق کی جانب سے ڈپٹی اَٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے موقف اختیار کیا کہ حکومت انتخابی اصلاحات بل کے ذریعے الیکشن کی طرف جارہی ہے، اس لیے عدالت وفاقی حکومت کو سنے بغیر انتخابی اصلاحات بل کو معطل نہ کرے، کیونکہ اگر الیکشن ایکٹ کو معطل کیا گیا تو اس سے ملک میں افراتفری مچ جائے گی۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیے کہ چاہے آسمان بھی گرجائے کوئی پروا نہیں۔ فاضل عدالت نے الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء کے سیکشن ۲۴۱ کے تحت ختم کیے گئے ۸؍ سابقہ اِنتخابی قوانین کو بحال کردیا۔ عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں واضح کیا کہ نئے ایکٹ کے سیکشن ۲۴۱ کے تحت پورے کے پورے قوانین ختم کرنا آئین سے متصادم ہوگا، اس لیے الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء میں ختمِ نبوت سے متعلق پرانی شقیں بحال کی جارہی ہیں۔ الیکشن ایکٹ کی باقی شقوں پر اس حکم نامے کا اطلاق نہیں ہوگا۔ واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ختمِ نبوت کے جن ۸؍ قوانین کو بحال کیا ہے، ان میں الیکٹورل رولز ایکٹ ۱۹۷۴ء ، حلقہ بندی ایکٹ ۱۹۷۴ئ، سینیٹ الیکشن ایکٹ ۱۹۷۵ء ، عوامی نمائندگی ایکٹ ۱۹۷۶ء ، الیکشن کمیشن آرڈر ۲۰۰۲ء ، پولیٹیکل پارٹیز آرڈر ۲۰۰۲ء اور انتخابی نشانات الاٹ کرنے کا آرڈر ۲۰۰۲ء شامل ہیں۔ الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء کی باقی شقوں پر حکم نامے کا اطلاق نہیں ہوگا۔ درخواست گزار نے سرکاری محکموں میں کام کرنے والے قادیانیوں کے اعداد وشمار سے متعلق رپورٹ بھی پیش کرنے کی درخواست کی تھی، جس پر عدالت نے وفاق سے ۱۴ دن میں رپورٹ طلب کرلی۔ دریں اثناء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، نائب امیر مولانا عزیز احمد، مولانا حافظ ناصر الدین خاکوانی، ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا محمد اعجاز مصطفی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا قاضی احسان احمد اور دیگر نے اپنے مشترکہ بیان میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو جرأت مندانہ قرار دیتے ہوئے خیرمقدم کیا اور کہا کہ پورے ملک میں تمام دینی جماعتیں الیکشن ایکٹ کے خلاف صدائے احتجاج بلند کررہی ہیں، انہوں نے کہا کہ حکومت کو مسئلے کی نزاکت کا ادراک کرنا چاہیے اور اس گھناؤنی سازش کے ذمہ داروں کا تعین کرکے قرارِ واقعی سزا دینی چاہیے۔ حکومت تاحال ختمِ نبوت کے مسئلہ سے بے اعتنائی وبے وفائی کی روش اپنائے ہوئے ہے۔ عدالتی فیصلہ آنے کے بعد حکومت راہِ فرار اختیار کرنے کی بجائے مسلمانانِ پاکستان کے جذبات کے احترام میں اس معاملہ کو فوری حل کرے، جبکہ متحدہ تحریکِ ختمِ نبوت رابطہ کمیٹی نے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی حلف نامے سے عقیدۂ ختمِ نبوت کا حصہ حذف کرنے سے متعلق طویل دورانیے والی جو خطرناک سازش شروع ہوئی تھی، اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے سے اس سازش کے توڑ کا آغاز ہوگیا ہے۔ ختمِ نبوت رابطہ کمیٹی کے کنوینر اور مجلس احرارِ اسلام کے سیکرٹری جنرل عبداللطیف  خالد چیمہ نے اس عبوری عدالتی کارروائی کو نیک شگون قراردیتے ہوئے اُسے تحریکِ ختم نبوت کی کامیابی سے تعبیر کیا ہے اور کہا ہے کہ عقیدۂ ختمِ نبوت پر وار کرکے قادیانیوں کے لیے چور دروازہ کھولنے والے لیگی حکمران اور اس جرم کے مرتکبین پہلے کی طرح اب بھی ناکام ونامراد ہوں گے۔‘‘      (روزنامہ اسلام ، کراچی، ۱۶؍ نومبر۲۰۱۷ء مطابق۲۵؍ صفر۱۴۳۹ھ)

عدالت کے اس تاریخی فیصلے کے بعد قومی اسمبلی نے جمعیت علمائے اسلام کی طرف سے تیار کردہ بل (جس میں ۷-بی اور ۷- سی کو شامل کیا گیا) منظور کرلیا ہے اور سینیٹ سے بھی وہ پاس ہوگیا ہے۔ امید ہے صدرِ پاکستان بھی جلد اس پر دستخط کرکے اس کو قانون کا حصہ بنادیں گے۔ افادۂ عام کی غرض سے اس بل کا اصل مسودہ اور اس کا اُردو ترجمہ نذرِ قارئین ہے:

(AS PASSED BY THE NATIONAL ASSEMBLY)

A

BILL

to amend the Elections Act, 2017

WHEREAS it is expedient to amend the Elections Act, 2017  (XXXIII of 2017) for purposes hereinafter appearing;  it is hereby  enacted as follows:-

1.Short title and commencernent.

        (1) This Act may be called the Elections (Amendment) Act, 2017 .

         (2) It shall come into force at once.

2.Insertion of section 48A in Act XXXIII of 2017.-

 In the Elections  act, 2017 (XXXlll of 2017), hereinafter referred to as the 'said Act', after section 48, the following section 48A shall be inserted:

"48A. Status of Ahmadis etc. to remain unchanged.- 

(1)   Notwithstanding anything contained in this Act or any other law for the time being in force including Rules or forms prescribed thereunder, the status of Quadiani Group or the Lahori Group (who call themselves 'Ahmadis' ,or by any other name) or a person who does not believe in the absolute and unqualified finality of the Prophethood of Muhammad (peace be upon him), the last of the prophets or claimed or claims to be a Prophet, in any sense of the word or of any description whatsoever, after Muhammad (peace be upon him) or recognizes such a claimant as a Prophet or religious reformer shall remain the same as provided in the Constitution of the Islamic Republic of  Pakistan,1973.

(2)         If a person has got himself enrolled as voter and objection is filed before the Revising Authority notified under this Act that such a voter is not a muslim, the Revising Authority shall issue a notice to him to appear before it within fifteen days and require him to sign a declaration reproduced below regarding his belief about the absolute and unqualified finality of the Prophethood of Muhammad (Peace be upon him) In case he refuses to sign the declaration as aforesaid, he shall be deemed to be a Non-Muslim and his name shall be deleted from the joint electoral rolls and added to a supplementary list of voters in the same electoral area as Non- Muslim. In case the voter does not turn up in spite of service of notice, an ex-parte order may be passed against him.

Declaration and oath:

1.________________(name of the voter), do solemnly swear that I  believ in the absolute and unqualified finality of the Prophethood of Muhammad (Peace be upon him), the last of the prophets and that I am not the follower of anyone who  claims to be a Prophet in any sense of the word or of any description whatsoever after prophet Muhammad (Peace be upon him), and that I do not recognize such a claimant to be prophet or a religious reformer, nor do I belong to the Qadiani group or the Lahori group or call myself an Ahmadi.

(Name and Signature of Voter)

میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (ووٹر کا نام) حلفیہ اقرار کرتا / کرتی ہوں کہ میں خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر مکمل اور غیرمشروط طور پر ایمان رکھتا / رکھتی ہوں اور یہ کہ میں کسی ایسے شخص کا / کی پیروکار نہیں ہوں جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس لفظ کے کسی بھی مفہوم یا کسی بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعوے دار ہو اور نہ ہی میں ایسے دعوے دار کو پیغمبر یا مذہبی مصلح مانتا / مانتی ہوں اور نہ ہی میں قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ سے تعلق رکھتا/ رکھتی ہوں یا خود کو احمدی کہتا/ کہتی ہوں۔

                                                                   (ووٹر کا نام ودستخط)

3.      Amendment of section 241 in Act XXXIII of 2017.

In the said Act, in section 24l,in clause (f), before the semicolon, the expression "except Articles 1, 7B and 7C" shall be omitted.

STATEMENT OF OBJECTS AND REASONS

The Bill seeks to incorporate and reaffirm the provisions of Articles 7B and 7C of the Conduct of General Elections Order, 2002 (Chief Excutive's Order No.7 of 2002) through addition of a new section 48A in the Elections Act, 2017. This Bill is in accordance with the suggestion earlier made by the Government in this regard. Hence, this Bill.

                                                            ZAHID HAMID

                                            MINISTER FOR LAW & JUSTICE

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

{الیکشن ایکٹ 2017ء میں ترمیم}

 

یہ کہ درج ذیل مقاصد کے لیے الیکشن ایکٹ 2017 ئ(XXX111-2017) ضروری ہے

قانون سازی درج ذیل ہے:

1۔ مختصر سرورق اور آغاز 

[۱]  یہ ایکٹ الیکشن ترمیم 2017ئہے۔

[۲] اس کا اطلاق فوری ہوگا۔

2۔ ایکٹ  XXX-111-2017  میں سیکشن 48-A کا داخلہ 

الیکشن ایکٹ 2017 (XXX-111-2017) میں 48-A  اندراج کیا جائے گا۔

48-A   احمدیوں کی حیثیت غیرتبدیل شدہ 

1- باوجود یہ کہ وقتی طور پر اس ایکٹ میں یا دیگر قانون نافذ کردہ بشمول اس میں شامل قوانین یا فارمز کے تحت قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ وہ جنہیں احمدیوں یا دیگر نام کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں یا وہ شخص جو کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری رسول ماننے پر ایمان نہ رکھتے ہوں یا اس لفظ کے کسی بھی مفہوم یا کسی بھی تشریح میں اپنے آپ کو رسول ہونے کا دعویٰ کریں ، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اپنے آپ کو بطور رسول یا مذہبی مجدد کہلائے، جیسا کہ اسلامی جمہوری پاکستان کے آئین 1973ء میں فراہم کیا گیا ہے۔

2-اگر کوئی شخص اپنے آپ کو بطور ووٹر اندراج کرائے اور اس ایکٹ کے تحت مستند اَتھارٹی کو اعتراض اندراج کراتا ہے کہ مذکورہ ووٹر مسلمان نہیں ہے تو متعلقہ اتھارٹی کو نوٹس جاری کرے گا کہ وہ 15دن کے اندر ان کے سامنے پیش ہو اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری رسول ہونے پر ایمان رکھنے کا درج ذیل اقرار نامہ پر دستخط کرے ، اگر وہ اس اقرار نامہ پر دستخط کرنے سے انکار کرے تو وہ غیر مسلم تصور کیا جائے گا تو اس کا نام مشترکہ الیکٹرول رولز میں سے خارج کردیا جائے گا اور غیر مسلم کی حیثیت سے اس کا نام الیکٹروایریا میں ووٹرز کی ضمنی لسٹ میں شامل کیا جائے گا۔ نوٹس کی سروس کے باوجود ووٹر حاضر نہ ہو تو اس کے خلاف یکطرفہ آرڈر پاس کیا جائے گا۔

 

{حلف نامہ / اقرار نامہ}

 

میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (ووٹر کا نام) حلفیہ اقرار کرتا / کرتی ہوں کہ میں خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر مکمل اور غیرمشروط طور پر ایمان رکھتا / رکھتی ہوں اور یہ کہ میں کسی ایسے شخص کا / کی پیروکار نہیں ہوں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس لفظ کے کسی بھی مفہوم یا کسی بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعوے دار ہو اور نہ ہی میں ایسے دعوے دار کو پیغمبر یا مذہبی مصلح مانتا / مانتی ہوں اور نہ ہی میں قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ سے تعلق رکھتا/ رکھتی ہوں یا خود کو احمدی کہتا/ کہتی ہوں۔

                                                               (ووٹر کا نام ودستخط)

3۔ ایکٹ (XXX-111-2017) میں سیکشن 241 میں ترمیم مذکورہ ایکٹ میں سیکشن 241 میں سیمی کالم سے پہلے کلاذ (F) ماسوائے آرٹیکلز 7-B  اور  7-C  حذف کیا جائے گا۔

 

{مقاصد اور اسباب کا بیان}

 

بل کے تحت جنرل الیکشن آرڈر 2002کے آرٹیکلز 7-B  اور  7-C  کے قانون کو متحد اور دوبارہ توثیق (چیف ایگزیکٹو آرڈر نمبر 7|2002) نئے سیکشن 48-A  کا اضافہ الیکشن ایکٹ 2017 میں درکار ہے۔ یہ بل حکومت کی جانب سے بھی پیش کیاگیا ہے۔‘‘

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

اللہ تبارک و تعالیٰ جمعیت علمائے اسلام اور پارلیمنٹ کے تمام اراکینِ اسمبلی اور اس بل میں جن جن حضرات نے اجتماعی یا انفرادی طور پر کوششیں جدو جہد اور کاوشیں کی ہیں، اللہ تعالیٰ ان سب کی مساعیِ جمیلہ کو قبول ومنظور فرمائے اور آخرت میں حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم  کی شفاعت نصیب فرمائے اور ہمارے ملک پاکستان کی ہرقسم کے فتنوں سے حفاظت فرمائے اور اس کے دشمنوں کو ناکام ونامراد بنائے، آمین بجاہ سید المرسلینصلی اللہ علیہ وسلم 

 

وصلٰی اللّٰہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ سیدنا محمد وعلٰی آلہٖ وصحبہٖ أجمعین