بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 محرم 1440ھ- 20 ستمبر 2018 ء

بصائروعبر (اداریے)

کرپشن اور منشیات کا بڑھتا رُجحان! اور سدِ باب کی ضرورت


کرپشن اور منشیات کا بڑھتا رُجحان!
اور سدِ باب کی ضرورت

 

الحمد للّٰہ وسلامٌ علٰی عبادہٖ الذین اصطفٰی

 

آج کل دنیا بھر میں عموماً اور ہمارے ملک پاکستان میں خصوصاً دو چیزوں پر بہت زیادہ گفت وشنید، لے دے اور پکڑدھکڑ ہورہی ہے: ۱:- کرپشن، ۲:- عصری اداروں میں منشیات کے استعمال کا رجحان۔
ایک دَہائی سے یہ بات پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور عدالتوں میں بڑی شدومد سے ہورہی ہے کہ فلاں وزیر اعظم، فلاں وزیر، فلاں سیکرٹری ، فلاں افسر اور فلاں سیاست دان نے اتنا کرپشن کی، اس کی روک تھام کے لیے ’’نیب ‘‘کا ادارہ بھی ہمارے ملک میں کام کررہا ہے۔ کسی کے خلاف ریفرنس دائر ہوا ہے، کسی کے خلاف انکوائری ہورہی ہے، کسی سے اتنا مال کی برآمدگی ہوئی ہے، کسی سے مال کی واپسی کے لیے مشروط ڈیل ہورہی ہے۔ یہ آئے دن کی باتیں اور خبریں ہر ایک کو پڑھنے اور سننے کو ملتی ہیں۔اسی طرح اخبارات میں یہ بھی آیا ہے کہ: 
۱:…’’اسلام آباد پولیس نے مختلف یونیورسٹیوں اور اطراف سے تین طلبہ سمیت چار مبینہ منشیات فروش گرفتار کر لیے ہیں۔ اسلام آباد پولیس کے مطابق وفاقی دارالحکومت کی مختلف سرکاری و نجی یونیورسٹیوں اور اطراف میں منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی کی گئی تھی۔ کارروائی میں تین طلبہ سمیت چار مبینہ منشیات فروشوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کے مطابق طالب علم ولید شمیم سے سینکڑوں نشہ آور گولیاں اور دو سو گرام چرس برآمد ہوئی ہے۔ ایک اور یونیورسٹی میں منشیات کے مبینہ سپلائر طالب عالم زمد الناس اور منشیات کے اسمگلر مطیع اللہ کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔‘‘ (روزنامہ جنگ، ۹؍فروری، ۲۰۱۷ء)
اسی طرح ایک مہینہ کے بعد اخبارات میں یہ خبر بھی آئی کہ:
’’ملتان کی بہاء الدین زکریا یونیورسٹی میں منشیات بیچنے والا شخص گرفتار ہوگیا، چرس اور شراب برآمد ہوئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ہاسٹل میں مقیم طالبہ بھی منشیات سپلائی میں ملوث ہے۔ یونیورسٹی میں سیکورٹی گارڈ نے منشیات سپلائی کرنے والے ایک شخص کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا، جس سے شراب اور چرس برآمد ہوئی ہے۔ پولیس اور سیکورٹی اہلکاروں کی تفتیش پر ملزم نے گرلز ہاسٹل میں مقیم ایک طالبہ کا نام بھی لیا اور بتایا کہ منشیات سپلائی میں وہ بھی ملوث ہے ۔ پولیس نے طالبہ سے بھی تفتیش شروع کردی ہے۔ گرفتار شخص طلحہ اور طالبہ نے شیرازنامی شخص کا نام لیا ہے، جو اُن سے منشیات سپلائی کراتا ہے ۔ دوسری جانب یونیورسٹی ترجمان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ بھی منشیات سپلائی کرنے والے گروہ کا کا پتہ لگانے میں مصروف ہے۔‘‘ (روزنامہ جنگ، ۲۹؍مارچ ۲۰۱۷ء)
اسی طرح سات ماہ بعد یہ خبر بھی اخبارات کی زینت بنی کہ:
’’جنوبی پنجاب کی سب سے بڑی ملتان کی بہاء الدین زکریا یونیورسٹی میں منشیات فروشی کا انکشاف ہوا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کا موقف ہے کہ منشیات فروشی میں سیکورٹی گارڈ ، طلبہ، اور دیگر عملہ ملوث ہے۔ رپورٹ کے مطابق ریزیڈنٹ آفیسر راؤ مقرب کے مطابق رپورٹ موصول ہونے پر تمام ڈیٹا انتظامیہ کو فراہم کر دیا گیا تھا، جب کہ یونیورسٹی حکام اپنے طور پر بھی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے کر کام کر رہے ہیں۔ دوسری جانب یونیورسٹی میں منشیات فروشی کے انکشاف کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور اگر کوئی بھی ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔‘‘ (روزنامہ جنگ، ۲۵؍اکتوبر ۲۰۱۷ء)
ظاہر ہے کہ کرپشن ہو یا عصری اداروں میں منشیات کا استعمال، جس معاشرے میں یہ دونوں چیزیں پنپ اور پرورش پارہی ہوں، وہ معاشرہ کسی بھی اعتبار سے صحت مند اور مثالی معاشرہ نہیں کہلاسکتا، بلکہ ایسا معاشرہ جان بلب اور تباہی کے دَہانے کھڑا متصور ہوگا۔ یہ دونوں بیماریاں ہمارے ملک اور ہمارے مستقبل کے معماروں کو اندر سے کھوکھلا کیے ہوئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے ملک اور عصری اداروں میں یہ دونوں بیماریاں کیوں درآئیں؟ اور اس کا ذمہ دار کون ہے؟ 
حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو اس کا ذمہ دار ہمارا نظامِ تعلیم اور اربابِ اقتدار ہیں۔ نظامِ تعلیم پر اس لیے ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم نے عصری اداروں میں وہ نظامِ تعلیم رائج کیا ہوا ہے جو اسلامی تعلیمات سے یکسر خالی ہے، جس میں عقائد، عبادات، معاملات، معاشرت اور اخلاق جیسی ضروری اور بنیادی باتیں بالکل معدوم ہیں۔ اس کے ساتھ یہ تصور کہ اللہ تعالیٰ ہمارا خالق، ہمارا مالک، ہمارا رازق اور ہمارا پالنہار ہے، اس نے چند روزہ زندگی، آخرت بنانے کے لیے دی ہے۔ یہ دنیا اور اس کی ہر چیز فانی ہے، دنیا میں کیے گئے ہر ہر عمل اور ہر ہر کام کا آخرت میں مجھے حساب دینا ہے۔ ان بنیادی چیزوں پر نظامِ تعلیم کا استوار ہونا تو دور کی بات ہے، اس کا تذکرہ تک نہیں کیا جاتا، حالانکہ خوفِ خدا اور فکرِ آخرت دو ایسی بنیادیں ہیں، اگر ان کو نظامِ تعلیم کا حصہ بنایا جاتا تو آج ہمارا معاشرہ مثالی معاشرہ ہوتا۔
اس لیے کہ جب تک دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف، آخرت کی فکر اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کا احساس نہیںہوگا، اس وقت تک جھوٹ، فریب، رشوت، چوری، ڈکیتی، خود غرضی، مفاد پرستی، اقربا پروری اور اختیارات کا بے جا استعمال جیسی موذی اور مہلک آفتوں سے نہیں بچا جاسکتا۔ چنانچہ آج دیکھ لیں جرائم کو روکنے کے لیے پولیس کے اوپر پولیس، ایک محکمہ کے اوپر دوسرا محکمہ، ایک قانون کے اوپر دوسرا قانون بنایا جارہا ہے ، لیکن ان پولیس والوں، محکموں اور ان قوانین کا کیا حشر ہورہا ہے! حالانکہ عدالتیں اپنی جگہ کام کررہی ہیں، پولیس اپنی جگہ کام کررہی ہے، انسدادِ رشوت ستانی اور ’’نیب‘‘ جیسے ادارے موجود ہیں،جن پر کروڑوں اور اربوں روپے کے مصارف لگ رہے ہیں۔
ہمارے ملک اور معاشرے میں مادی اعتبار سے کسی چیز کی کمی نہیں، اگر کچھ کمی اور قلت ہے تو ان اسلامی تعلیمات اور اسلامی اقدار کی پاسداری کی ہے، جن کو ہمارے نظام تعلیم میں اپنایا نہیں گیا، جس کا ثمرہ ہے کہ آج تک ہمارا پورا نظام زندگی تلپٹ ہوچکا ہے اور سارا معاشرہ بگاڑ اور ناہمواری کا شکار ہے۔
جن تعلیمی اداروں میں تعلیم پانے والوں کے دل ودماغ اور ذہنوں میں ’’مادیت‘‘ عہدہ، منصب اور معیارِ زندگی کو بلند سے بلند تر کرنے کی افادیت اور اہمیت بٹھائی گئی ہو، تو وہاں دورانِ تعلیم ہی بعض طلبہ جھنجھلاہٹ اور ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں اور سکون پانے کے لیے وہ ان نشہ آور چیزوں کی طرف لپکتے ہیں اور دوسری طرف دنیا کے پجاری اور دولت کے رسیا ہماری اس نوجوان نسل کی جانوں سے کھلواڑ کرکے اپنی ہوس کو پورا کرتے ہیں۔ اگر ان کے نصابِ تعلیم میں قرآن کریم اور سنت نبویہ (علی صاحبہا الصلوۃ والسلام کی نصوص، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مثالی زندگی اور اولیائے کرامؒ کی قناعت والی زندگی کے واقعات شامل ہوتے تو یہ کبھی ڈپریشن اور جھنجھلاہٹ کا شکار نہ ہوتے، اور نہ ہی منشیات کی طرف ان کا رُجحان ہوتا۔
اور دوسری طرف صاحبانِ اقتدار اور ملکی اداروں کی بڑی بڑی پوسٹوں پر براجمان ہونے والے افسران صاحبان ہیں، جنہوں نے اقتدار کے حصول اور اعلیٰ پوسٹوں پر فائز ہونے کے لیے کثیر سرمایہ خرچ کیا ہوا ہوتا ہے، تو اقتدار اور اعلیٰ پوسٹ کے ملتے ہی وہ قومی خزانہ سے لوٹ کھسوٹ ، عوامی طبقہ سے رشوت، اور ناجائز ذرائع سے دولت کا حصول اپنے لیے نہ صرف جائز سمجھتے ہیں، بلکہ اس کو اپنا پیدائشی حق بھی تصور کرتے ہیں۔
حالانکہ ان اللہ کے بندوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ قومی خزانے کی چوری اور خیانت کسی کی ذاتی جائیداد اور مال ومتاع کی چوری سے زیادہ خطرناک ہے، اس لیے کہ کسی خاص شخص سے اس کی شخصی ملکیت میں بے جا تصرف سے تو معافی یا اُن کے حقوق کی واپسی سے معاملہ صاف ہوسکتا ہے، لیکن قومی خزانے اور اجتماعی اموال کی چوری اور خیانت میں معافی یا حقوق کی واپسی ایک دشوار امر ہے، اسی لیے اس کی سنگینی کو ظاہر کرنے کے لیے چند احادیث نقل کی جاتی ہیں، تاکہ ایسے حضرات کو احساس ہو کہ ہم کتنا بڑا جرم اور اپنے لیے کتنا بڑا خسارے کا سودا کررہے ہیں۔ قومی خزانے میں لوٹ مار اور خیانت کرنے والوں کی فریاد قیامت کے دن بے اثر ہوگی، جیساکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں وارد ہے:
’’عن أبی ہریرۃ قال: قام فینا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ذات یوم ، فذکر الغلول فعظمہٗ وعظم أمرہٗ ، ثم قال: لا ألفین أحدکم یجیء یوم القیامۃ علٰی رقبتہٖ بعیر لہٗ رغاء یقول: یا رسول اللّٰہ ! أغثنی ، فأقول: لا أملک لک شیئًا قد أبلغتک۔ لا ألفین أحدکم یجیء یوم القیامۃ علی رقبتہٖ فرس لہٗ حمحمۃ ، فیقول: یا رسول اللّٰہ ! أغثنی ، فأقول: لا أملک لک شیئًا قد أبلغتُک ۔ لاألفین أحدکم یجیء یوم القیامۃ علٰی رقبتہٖ شاۃ لہا ثغاء یقول: یا رسول اللّٰہ ! أغثنی ، فأقول: لا أملک لک شیئًا قد أبلغتک ۔ لا ألفین أحدکم یجیء یوم القیامۃ علی رقبتہٖ نفس لہا صیاح ، فیقول: یا رسول اللّٰہ ! أغثنی ، فأقول: لاأملک لک شیئًا قد أبلغتک ۔ لا ألفین أحدکم یجیء یوم القیامۃ علٰی رقبتہٖ رقاع تخفق ، فیقول: یا رسول اللّٰہ ! أغثنی فأقول: لا أملک لک شیئًا قد أبلغتک لا ألفین أحدکم یجیء یوم القیامۃ علی رقبتہ صامت فیقول: یا رسول اللّٰہ! أغثنی فأقول: لا أملک لک شیئًا قد أبلغتک ۔‘‘ 
 (صحیح مسلم،ج:۳، ص: ۱۴۶۱، باب غلظ تحریم الغلول، ط: داراحیاء التراث العربی، بیروت)
 ’’ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ہمارے سامنے خطبہ ارشاد فرمایا اور (اس خطبہ کے دوران ) مالِ غنیمت میں خیانت کا ذکر فرمایا ،چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بہت بڑا گناہ بتایا اور بڑی اہمیت کے ساتھ اس کو بیان کیا اور پھر فرمایا کہ: ’’خبردار!‘‘ میں تم میں سے کسی کو قیامت کے دن اس حال میں نہ دیکھوں کہ وہ اپنی گردن پر بلبلاتے ہوئے اونٹ کو لادے ہوئے (میدانِ حشر میں) آئے (یعنی جو شخص مالِ غنیمت میں سے مثلاً: اونٹ کی خیانت کرے گا وہ شخص میدانِ حشر میں اس حالت میں آئے گا کہ اس کی گردن پر وہی اونٹ سوار ہوگا اور بلبلا رہا ہوگا) اور پھر مجھ سے یہ کہے کہ: یا رسول اللہ! میری فریادرسی (شفاعت)کیجئے اور میں اس کے جواب میں یہ کہہ دوں کہ میں (اب) تمہاری کسی چیز کا ذمہ دار نہیں ہوں، کیونکہ میں نے تمہیں (شریعت کے احکام) پہنچادئیے تھے (یعنی تمہیں پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا کہ مالِ غنیمت میں خیانت یا کسی چیز میں ناحق تصرف بہت بڑا گناہ ہے ) (اور خبردار!) میں تم میں سے کسی کو قیامت کے دن اس حال میں نہ دیکھوں کہ وہ اپنی گردن پر ممیاتی ہوئی بکری لادے ہوئے آئے اور پھر مجھ سے یہ کہے کہ یا رسول اللہ ! میری فریا درسی کیجئے اور میں اس کے جو اب میں یہ کہہ دوں کہ: میں (اب )تمہاری کسی چیز کا ذمہ دار نہیں ہوں، کیونکہ میں نے تمہیں (شریعت کے احکام) پہنچا دئیے تھے ۔ (اور خبردار !)میں تم میں سے کسی کو قیامت کے دن اس حال میں نہ دیکھوں کہ وہ اپنی گردن پر کسی چلاتے ہوئے آدمی کو (یعنی اس غلام یا باندی کو جو اس نے غنیمت کے قیدیوں میں سے خیانت کر کے لیے ہوں )لادے ہوئے آئے اور پھر مجھ سے یہ کہے کہ: یا رسول اللہ! میری فریاد رسی کیجئے اور میں اس کے جواب میں یہ کہہ دوں کہ: میں (اب )تمہاری کسی چیز کا ذمہ دار نہیں ہوں، کیونکہ میں نے تمہیں (شریعت کے احکام) پہنچا دئیے تھے ۔ (اور خبردار! میں تم میں سے کسی کو قیامت کے دن اس حال میں نہ دیکھوں کہ وہ اپنی گردن پر لہراتے ہوئے کپڑے رکھے ہوئے آئے اور پھر مجھ سے یہ کہے کہ: یا رسول اللہ!میری فریاد رسی کیجئے اور میں اس کے جواب میں یہ کہہ دوں کہ میں (اب) تمہاری کسی چیز کا ذمہ دار نہیں ہوں، کیونکہ میں نے تمہیں شریعت کے احکام پہنچا دئیے تھے۔ (خبر دار!) میں تم میں سے کسی کو قیامت کے دن اس حال میں نہ دیکھوں کہ وہ اپنی گردن پر سونا چاندی لادے ہوئے آئے اور پھر مجھ سے یہ کہے کہ: یا رسول اللہ! میری فریاد رسی کیجئے اور میں اس کے جواب میں یہ کہہ دوں کہ: میں (اب)تمہاری کسی چیز کا ذمہ دار نہیں ہوں، کیونکہ میں نے تمہیں شریعت کے احکام پہنچا دئیے تھے۔‘‘
اسی طرح قومی خزانے میں چوری اور خیانت کرنے والوں کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنم کی وعید سنائی ہے، جیسا کہ ایک حدیث میں وارد ہے:
’’عن أبی ہریرۃ، قال:خرجنا مع رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یوم خیبر، فلم نغنم ذہباً ولا فضّۃً ، إلا الأموال والثیاب والمتاع، فأہدٰی رجل من بنی الضبیب - یقال لہٗ رفاعۃ بن زید - لرسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم غلاما، یقال لہٗ مدعم، فَو)جَّہَ رسولُ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم إلٰی وادی القری، حتّٰی إذا کان بوادی القری، بینما مدعم یحطّ رحلا لرسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، إذا سہم عائر فقتلہٗ ، فقال الناس: ہنیئًا لہ الجنۃ ، فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: کلاَّ، والذی نفسی بیدہٖ ، إن الشملۃ التی أخذہا یوم خیبر من المغانم، لم تصبہا المقاسم ، لتشتعل علیہ نارا فلما سمع ذلک الناس جاء رجل بشراک -أو شراکین - إلی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم، فقال:’’شراک من نار -أو- شراکان من نارٍ ۔‘‘ (صحیح البخاری،ج:۸، ص: ۱۴۳، باب:ہل یدخل فی الأیمان والنذور الأرض والغنم والزروع والأمتعۃ، ط: دارطوق النجاۃ، بیروت)
 ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کے سال نکلے، تو ہمیں غنیمت میں نہ سونا ہاتھ آیا نہ چاندی، البتہ کپڑے اور مال و اسباب ملے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وادی القریٰ کی جانب چلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کالا غلام ہدیہ میں دیا گیا تھا، جس کا نام مدعم تھا، جب لوگ وادی القریٰ میں پہنچے تو مدعم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ کا پالان اُتار رہا تھا، اتنے میں اس کو ایک تیر آ لگا اور وہ مر گیا، لوگوں نے کہا: اس کے لیے جنت کی مبارک بادی ہو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہرگز نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!وہ چادر جو اس نے خیبر کی لڑائی میں غنیمت کے مال میں سے تقسیم سے قبل لی تھی، اس پر آگ بن کر بھڑک رہی ہے۔ جب لوگوں نے یہ سنا تو ایک شخص ایک یا دو تسمے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یہ آگ کا ایک تسمہ ہے یا فرمایا: آگ کے دو تسمے ہیں۔‘‘
ایک صحابی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو غنیمت کے موقع پر جمع شدہ مال دیر سے جمع کرایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لینے سے انکار کردیا اور فرمایا: قیامت کے دن خود ہی اس کا حساب اللہ تعالیٰ کو دینا، جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی حدیث میں آیا ہے:
’’عن عبد اللّٰہ بن عمرو قال: کان رسول اللّٰہ -صلی اللّٰہ علیہ وسلم- إذا أصاب غنیمۃ أمر بلالا فنادی فی الناس فیجیئون بغنائمہم فیخمسہٗ ویقسمہٗ فجاء رجل بعد ذلک بزمام من شعر ، فقال: یا رسول اللّٰہ ! ہذا فیما کنا أصبناہ من الغنیمۃ۔ فقال : أسمعت بلالا ینادی ثلاثا؟ قال: نعم ، قال : فما منعک أن تجیء بہٖ ، فاعتذر إلیہ ، فقال : کن أنت تجیء بہ یوم القیامۃ فلن أقبلہ عنک۔‘‘ (سنن ابی داؤد،ج:۳، ص: ۲۱، باب فی الغلول إذا کان یسیرا یترکہ الإمام ولا یحرق رحلہ، ط:دارالکتاب العربی، بیروت)
 ’’حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مالِ غنیمت کو جمع کرا کر تقسیم کرنے کا ارادہ فرماتے تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو (اعلان کرنے کا )حکم دیتے، چنانچہ وہ لوگوں کے درمیان اعلان کر دیتے اور (اس اعلان کو سنتے ہی )لوگ اپنی اپنی غنیمت لے آتے (یعنی جس کے پاس ہوتا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مالِ غنیمت کو تقسیم فرما دیتے ۔ (ایک دفعہ ایک شخص (مالِ غنیمت میں سے خمس نکالنے اور اس کو مجاہدین کے درمیان تقسیم کرنے کے) ایک دن بعد بالوں کی بنی ہوئی ایک مہار لے کر آیا اور عرض کیا کہ:’’یا رسول اللہ !جو مالِ غنیمت ہمارے ہاتھ لگا تھا اس میں یہ مہار بھی تھی۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’بلال نے تین بار جو اعلان کیا تھا اس کو تم نے سنا تھا؟اس نے کہا کہ:’’ہاں! میں نے سنا تھا۔‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’پھر اس کو (اسی وقت )لانے سے تمہیں کس چیز نے روکا تھا؟‘‘ اس نے (اس تاخیر کے لیے )کوئی عذر بیان کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بس(اب )یوں ہی رہو(یعنی اس کو اپنے پاس ہی رکھو ، اب تو )کل قیامت کے دن ہی اس کو لے کر آنا(اور تب اللہ کو اس کا جواب دینا )میں (اب )اس کو تم سے ہرگز نہ لوں گا ۔‘‘
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے اپنے ادوار میں مالِ غنیمت میں خیانت سے جمع شدہ مال بطور سزا جلوادیا،جیسا کہ ایک حدیث میں ہے:
’’ عن عمرو بن شعیب عن أبیہ عن جدہٖ أن رسول اللّٰہ - صلی اللّٰہ علیہ وسلم- وأبا بکر وعمر حرّقوا متاعَ الغالّ وضربوہ۔‘‘ (سنن ابی داؤد،ج:۳، ص: ۲۲، باب فی عقوبۃ الغال،ط: دارالکتاب العربی، بیروت)
 ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مالِ غنیمت میں خیانت کرنے والے کا سامان واسباب جلا دیا اور اس کی پٹائی بھی کی۔‘‘
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: خائن کی خیانت پر پردہ ڈالنا بھی خیانت کے زمرہ میں آتا ہے، جیسا کہ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے: 
’’عن سمرۃ بن جندب قال: أمّا بعد ! وکان رسول اللّٰہ -صلی اللّٰہ علیہ وسلم- یقول : من کتم غالاّ فإنہٗ مثلہٗ۔‘‘  (سنن ابی داؤد،ج:۳، ص: ۲۲، باب النہی عن الستر علی من غل، ط: دارالکتاب العربی، بیروت)
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: جس شخص نے مالِ غنیمت میں خیانت کرنے والے کی خیانت کو چھپایا تو گناہ گار ہونے کے اعتبار سے وہ بھی خیانت کرنے والے کی طرح ہے۔‘‘
آج کل اداروں میں بااثر اور من پسند لوگوں کو بچانے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس طرح اس کا کیس بنایا جاتا ہے کہ آگے چل کر وہ معصوم اور پاک وصاف بن کر قوم کے سامنے آتا ہے، ایسے لوگوں کو یہ حدیث اپنے پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ ایسے لوگ بھی مشترکہ دولت میں خیانت کرنے والوں کی طرح مجرم ہیں، کیونکہ جس قوم میں رشوت کا لینا دینا بڑھ جاتا ہے، وہ قوم ، ملک اور معاشرہ اندر سے کھوکھلا اور بزدل بن جاتا ہے، جیسا کہ ایک حدیث میں وارد ہے:
 ’’عن عمرو بن العاص قال: سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول: ما من قوم یظہر فیہم الزنا إلا أخذوا بالسنۃ وما من قوم یظہر فیہم الرشا إلا أخذوا بالرعب۔‘‘ (مشکوٰۃ،ص:۳۱۳، ط: قدیمی)
’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: جس قوم میں زنا عام ہوجائے تو ان کو قحط سالی کے ذریعہ سزادی جاتی ہے اور جس قوم میں رشوت عام ہوجائے تو ان کو (دشمن کے)رعب کی سزا دی جاتی ہے۔‘‘
 آخر میں شیخ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہٗ کا ایک ارشاد نقل کیا جاتا ہے، آپؒ کا ارشاد ہے کہ: ’’اہل ایمان کی خواہ بدکار ہی ہوں‘ عزت کرو اور ان کو نیک کاموں کا حکم اور برے کاموں سے منع کرتے رہو۔ اور بدکار لوگوں کی صحبت سے بچو، لیکن ان کو حقیر اور اپنے کو بڑا سمجھتے ہوئے نہیں۔‘‘ آگے فرمایا کہ: ’’ایمان اصل ہے، باقی سب اس کی فروع ہیں۔ ایمان کی فکر کی جائے۔ بظاہر ایمان اور اس کا باقی رہنا آسان نظر آتا ہے، لیکن واقعہ میں بہت مشکل ہے، بجز فضلِ خداوندی اس کی کوئی صورت نہیں، اس لیے تو شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہٗ نے فرمایا:

ایماں چوں سلامت بلب گور بریم

احسنت زہے چستی و چالاکی

 

ترجمہ: ’’ جب ہم لبِ گور تک ایمان سلامت لے جائیں تو آفریں، پھر ہماری چستی اور چالاکی صد مبارک باد ہے۔‘‘
ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حق بات کہنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے ، مستقبل کے معماروں، ہمارے ملک اور ملکی اداروں کی حفاظت فرمائے اور ہم سب کو اعمالِ صالحہ کرنے کی توفیق اور اعمالِ سیئہ سے بچنے کی استطاعت نصیب فرمائے، آمین۔
 

وصلٰی اللّٰہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ سیدنا محمد وعلٰی آلہٖ وصحبہٖ أجمعین