بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 16 جولائی 2018 ء

بصائروعبر (اداریے)

ختمِ نبوت اور نظریۂ پاکستان پر خوفناک حملہ!


ختمِ نبوت اور نظریۂ پاکستان پر خوفناک حملہ!


الحمد للّٰہ وسلامٌ علٰی عبادہٖ الذین اصطفٰی

ہمارا ملک پاکستان ایک نظریہ کی بنیاد پر بنا، اس نظریہ کو سامنے رکھ کر قراردادِ مقاصد مرتب ہوئی، جس کی روشنی میں اسلام اور کتاب وسنت پر اس مملکتِ خداداد کی بنیاد قائم ہوئی۔قیامِ پاکستان کے کافی عرصہ بعد پاکستان کا دستور بنا اور کتاب وسنت پر اس کی بنیادوں کو اُستوار کیا گیا۔
۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کی طرف سے نشتر کالج ملتان کے مسلمان طلبہ پر حملے کے نتیجے میں پورے ملک میں تحریکِ ختم نبوت چلی، اور پھر قومی اسمبلی میں بڑی بحث وتمحیص اور قادیانیوں اور لاہوریوں کے پیشواؤں کے بیانات سننے کے بعد پوری قومی اسمبلی نے ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کو متفقہ طور پر قادیانیوں اور لاہوریوں کو غیر مسلم اقلیت قراردیا۔ اس کے بعد خاص مقاصد کے تحت قادیانیوں نے اسلامی شعائر کا استعمال خصوصاً کلمہ طیبہ کے بیج لگانا، اپنی عبادت گاہوں اور گھروں پر کلمہ طیبہ لکھنا وغیرہ شروع کردیا، جس کی روک تھام کے لیے ۱۹۸۴ء میں امتناعِ قادیانیت آرڈی نینس جاری ہوا، جس میں یہ کہا گیا کہ قادیانی گروپ ہو یا لاہوری گروپ ہو، وہ اسلامی شعائر کا استعمال نہیں کرسکتے۔
اس وقت عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت کے امیرمرکزیہ محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری قدس سرہٗ اس تحریکِ ختمِ نبوت کے قائدتھے، اس تحریک کی کامیابی کے بعد رمضان وشوال ۱۳۹۴ھ مطابق اکتوبر ۱۹۷۴ء ماہنامہ’’ بینات‘‘ کے اداریہ میں لکھا کہ:
’’  مر زائیوں کی حیثیت قبل ازیں کفار محاربین کی تھی اور قومی اسمبلی کے فیصلہ کے بعد ان کی حیثیت پاکستان کے غیر مسلم شہریوں کی ہے جن کو ذمی کہا جاتا ہے (بشر طیکہ وہ بھی پاکستان میں بحیثیت غیر مسلم کے رہنا قبول کرلیں، اس لیے کہ عقدِ ذمہ دو طرفہ معاہدہ ہے) اور کسی ذمی کے جان ومال پر ہاتھ ڈالنا اتنا سنگین جرم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن بارگاہِ الٰہی میں ایسے شخص کے خلاف نالش کر یں گے۔ اس بنا پر تمام مسلمانوں کا فرض ہے کہ ان کی جان ومال کی حفاظت کریں۔ مجلسِ عمل نے مر زائیوں سے سوشکل بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تھا جو مسلمانوں کے دائرہ اختیار کی چیز تھی، لیکن جن مر زائیوں نے قومی اسمبلی کا فیصلہ تسلیم کر کے اپنے غیر مسلم شہری ہونے کا اقرار کر لیا ہو، اب ان سے سوشل بائیکاٹ نہیں ہو گا۔ اور جو مرزائی اس فیصلہ کو قبول نہ کررہے ہوں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ مسلمانوں سے ترکِ محاربت پر آمادہ نہیں۔ مرزائیوں کو آئینی حیثیت سے غیر مسلم تسلیم کرنے کے بعد کچھ انتظامی اقدامات ہیں جو حکومتِ پاکستان سے متعلق ہیں۔ ہم تو قع رکھتے ہیں کہ حکومت اس بات میں تغافل سے کام نہیں لے گی۔ اس سلسلہ میں زیادہ اہم یہ امر ہے کہ خفیہ ریشہ دوانیوں پر کڑی نظر رکھی جائے اور کسی نئی سازش بر پا کرنے کے امکانات کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ حکومت اور عام مسلمانوں سے متعلق جو چیز ہے، وہ یہ ہے کہ مر زائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر ہمارا مشن پورا نہیں ہوجاتا، بلکہ یہ تو اس کا نقطۂ آغاز ہے، اصل کام جو ہمارے کرنے کا ہے، وہ یہ ہے کہ: جو لوگ کسی مادی غرض یا کسی غلط فہمی کی بنا پر اس مرزائیت سے وابستہ ہوئے‘ انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دامنِ ختم نبوت میں لانے کے لیے محنت کی جائے ،ان کے کچھ شبہات ہوں تو ان کو زائل کیا جائے، ان کی کچھ مجبور یاں ہوں تو اُن کو رفع کیا جائے۔ مرزائیوں نے عام طور پر مسلمانوں ہی کو شکار کیا ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کو پوری ہمدردی اور خیر خواہی کے ساتھ جہنم سے نکالنے کی فکر کی جائے۔ پاکستان کے اندر اور باہر جس قدر لوگ مر تد ہوئے ہیں‘ اُنہیں پھر سے اسلام کی دعوت دی جائے۔ غرض مر زائیوں کو خارج ازاسلام قرار دینا اصل مقصد نہیں تھا، بلکہ انہیں داخل در اسلام کرنا اصل مقصد ہے۔‘‘       (بصائرو عبر، ج:۲،ص:۱۹۱، ط: مکتبہ بینات، کراچی)
قادیانیوں اور لاہوریوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دیئے جانے کے بعد اُن کا الگ تشخص قائم رکھنے اور مسلمان اکثریت کے ساتھ خلط ملط ہونے سے بچانے کے لیے ایک حلف نامہ مرتب کیا گیا، اور کہا گیا کہ ہرمسلمان رکنِ اسمبلی خواہ قومی ہو یا صوبائی یا سینیٹ کارکن‘ وہ نامزد گی فارم میں یہ حلف نامہ پر کرے گا۔ اس حلف نامہ کی عبارت درج ذیل ہے:

نامزد شخص کی طرف سے اقرارنامے اور بیانِ حلفی

۱-    میں مذکورہ بالا امیدوار حلفاً اقرار کرتا/ کرتی ہوں کہ:
(اول)    میں نے مذکورہ بالا نامزدگی پر اپنی رضامندی ظاہر کی ہے اور یہ کہ میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کے آرٹیکل ۶۲ میں مصرحہ اہلیت پوری کرتا / کرتی ہوں اور یہ کہ قومی اسمبلی / صوبائی اسمبلی/ کی رکن منتخب ہونے کے لیے دستور کے آرٹیکل ۶۳ یا فی الوقت نافذ العمل کسی دیگر قانون میں مصرحہ نااہلیتوں میں سے کسی کی زد میں نہیں آتا/آتی ہوں۔
(٭دوم)    میراتعلق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سے ہے اور مذکورہ سیاسی جماعت کی طرف سے جاری کردہ 
                           (سیاسی جماعت کا نام)
سرٹیفکیٹ جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ میں مذکورہ بالا حلقۂ انتخاب سے جماعتی امیدوار ہوں منسلک ہے۔
یا    میرا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں۔
۲-    میں مذکورہ بالا امیدوار حلفاً اقرار کرتا/ کرتی ہوں کہ:
(٭٭اول)    میں خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر قطعی اور غیرمشروط طور پر ایمان رکھتا/ رکھتی ہوں اور یہ کہ میں کسی ایسے شخص کا / کی پیروکار نہیں ہوں جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس لفظ کے کسی بھی مفہوم یا کسی بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعویدار ہو اور یہ کہ میں کسی ایسے دعویدار کو پیغمبر یا مذہبی مصلح نہیں مانتا/ مانتی ہوں اور نہ ہی قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ سے تعلق رکھتا / رکھتی ہوں یا خود کو احمدی کہتا / کہتی ہوں۔
(دوم)    میں بانی پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کے کیے ہوئے اس اعلان کا وفادار رہوں گا/ گی کہ پاکستان معاشرتی انصاف کے اسلامی اصولوں پر مبنی ایک جمہوری مملکت ہوگی۔ میں صدقِ دل سے پاکستان کا حامی اور وفادار رہوں گا/ گی اور پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت کا تحفظ اور دفاع کروں گا/ گی اور یہ کہ میں اسلامی نظریہ کو برقرار رکھنے کے لیے کوشاں رہوں گا/ گی جو قیام پاکستان کی بنیاد ہے۔
۳-    میں اپنے علم اور یقین سے حلفاً یہ اقرار صالح کرتا/ کرتی ہوں کہ:
(اول)    کسی بنک، مالیاتی ادارے ، کوآپریٹو سوسائٹی یا ہیئت اجتماعیہ کی طرف سے میرے اپنے نام سے یا میری بیوی / شوہر یا میرے کسی زیرکفالت اشخاص میں سے کسی کے نام سے یا کاروباری ادارہ کے نام سے بیشتر میری یا مذکورہ بالا کی ملکیت دو ملین روپے یا اس سے زائد قرضہ کی رقم مقررہ تاریخ سے ایک سال سے زائد مدت کے لیے واجب الاداء نہیں ہے یا مذکورہ قرضہ معاف نہیں کروایا گیا ہے، اور 
(دوم)    میں، میری بیوی /شوہر یا زیرکفالت اشخاص میں کوئی یا کاروباری ادارہ جو بیشتر میری مذکورہ بالا کی ملکیت ہو، حکومت کے واجبات ، یوٹیلٹی چارجز، بشمول ٹیلی فون، بجلی،گیس اور پانی کے واجبات کی رقم جو کہ ۱۰ہزار روپے سے زائد ہوگی ادائیگی میں ، کاغذ نامزدگی پر کرتے وقت چھ ماہ سے زائد عرصہ کے لیے نادھندہ نہیں ہیں:
۴:-    میں حلفاً یہ اقرار صالح کرتا / کرتی ہوں کہ:
(اول)    میرے / میری شریک حیات اور زیرکفالت اشخاص کے ناموں کی فہرست درست ہے اور کوئی نام رہ نہیں گیا (فہرست منسلک ہے)۔
(دوم)    نہ ہی میری ملکیت میں اور نہ ہی میرے/ میری شریک حیات یا میرے زیرِکفالت اشخاص کی ملکیت میں کوئی کمپنی ہے ماسوائے درج ذیل کے:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

٭:۔۔۔۔۔۔     غیرمتعلقہ الفاظ قلم زَد کردیئے جائیں گے۔       ٭٭:۔۔۔۔۔۔  صرف مسلمان امیدواروں کے لیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حالیہ پاس ہونے والے انتخابی اصلاحاتی بل ۲۰۱۷ء میںغیرمحسوس طریقے پر کئی تبدیلیاں کی گئیں: 
۱:     اس فارم کے عنوان: ’’نامزد شخص کی طرف سے اقرار نامہ اور بیانِ حلفی‘‘ کو صرف ’’نامزد شخص کی طرف سے اقرارنامہ‘‘ میں بدل دیا گیا۔ 
۲:    مذکورہ فارم کے نمبر:۱ میں لکھا ہے کہ : ’’میں مذکورہ بالا اُمیدوار حلفاً اقرار کرتا/ کرتی ہوں‘‘ اس پوری عبارت کو اُڑا دیا گیا۔
۳:    مذکورہ بالا فارم کے نمبر:۲ میں لکھا ہے کہ: ’’میں مذکورہ بالا اُمیدوار حلفاً اقرار کرتا/ کرتی ہوں‘‘ اُسے بھی حذف کردیا گیا ۔
۴:    مذکورہ بالا فارم کے نمبر:۳ میں لکھا ہے کہ: ’’میں اپنے علم اور یقین سے حلفاً یہ اقرارِ صالح کرتا/کرتی ہوں‘‘ اُسے بھی صاف کردیا گیا۔
۵:    ایک خطرناک تبدیلی جو کی گئی وہ یہ تھی کہ نئے قانون کی دفعہ ۲۴۱ کے ذریعہ کئی پچھلے قوانین کو منسوخ کردیا گیا۔ ان قوانین میں ایک قانون جنرل پرویز مشرف کا جاری کردہ وہ صدارتی آرڈر ہے‘ جس کے ذریعہ ۲۰۰۲ء کے الیکشن کے لیے قواعد وضوابط متعین کیے گئے تھے۔ ان میں دفعہ ۷ب اور دفعہ ۷ج بھی تھی، وہ اس نئے قانون کی دفعہ ۲۴۱ سے منسوخ ہوگئی۔
دفعہ ۷ب میںیہ قراردیا گیا تھا کہ: ’’ مخلوط طرزِ انتخاب کے باوجود قادیانیوں اور لاہوریوں کی قانونی حیثیت غیرمسلم ہی کی رہے گی، جیسا کہ دستورِ پاکستان میں یہ طے پایا ہے۔‘‘
دفعہ۷ج میں یہ قراردیا گیا کہ: ’’اگر کسی ووٹر پر کسی کو اعتراض ہو کہ اسے مسلمان ظاہر کیا گیا ہے، جب کہ درحقیقت وہ قادیانی یالاہوری گروپ سے تعلق رکھتا ہے تو اُس ووٹر پر لازم ہوگا کہ وہ مجاز اتھارٹی کے سامنے ختم نبوت پر ایمان کے متعلق اس طرح کا بیانِ حلفی جمع کرائے، جیسے مسلمان کرتے ہیں۔ مزید یہ قراردیا گیا کہ: ایسا بیانِ حلفی جمع کرانے سے انکار کی صورت میں اُسے غیرمسلم متصور کیا جائے گا اور اس کا نام مسلمانوں کی ووٹر لسٹ سے نکال دیا جائے گا۔ یہ بھی قراردیا گیا کہ: اگر ایسا ووٹر مجاز اَتھارٹی کے سامنے پیش ہی نہ ہو، باوجود اس کے کہ اُسے باقاعدہ نوٹس مل چکا ہو تو ایسی صورت میں اس کے خلاف قضاء علی الغائب (Ex Parte Decision) کے اُصول پر فیصلہ کیا جائے گا۔‘‘
یعنی ’’ترمیم سے پہلے امیدوار فارم پر ختم نبوت کا اقرار یہ کہہ کر کرتا تھا کہ: ’’میں مذکورہ بالا امیدوار حلفاً اقرار کرتا ہوں‘‘ جبکہ ترمیم کے بعداس کے الفاظ یہ ہو گئے ہیں کہ’’میں اقرار کرتا ہوں‘‘یعنی فرق ’’قسمOath ‘‘ اور ‘‘اقرارAffirmation ‘‘کا ہے۔ اگر یہ دونوں لفظ ہم معنی ہیں تو پھر تبدیلی کی ضرورت کیوں اور کس لیے پیش آئی؟فارم پر جہاں امیدوار دستخط کرتا ہے، وہاں بھی اسی سے منسلک تبدیلی کر کے اب Statement of Oath کی جگہ Solemn Affirmation لکھ دیا گیا ہے۔اور نئے انتخابی اصلاحاتی بل دفعہ ۲۴۱ کے تحت جہاں اور قوانین منسوخ ہوئے‘ وہاں دفعہ ۷ب اور ۷ ج بھی منسوخ ہوگئی۔ خلاصہ یہ کہ بڑی باریک بینی اور غیرمحسوس انداز سے یہ تبدیلیاں کی گئیں کہ بڑے بڑوں کو اس کی ہوا تک نہ لگی۔ اس پر پروفیسر ڈاکٹر جناب محمد مشتاق (لاء ڈِپارٹمنٹ، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، اسلام آباد) لکھتے ہیںکہ:
’’یہ تعبیرِ قانون کا بنیادی اصول ہے، قانون میں کوئی لفظ کیوں شامل کیا گیا؟ کیوں نکالا گیا؟ کیوں تبدیل کیا گیا؟ کچھ بھی بغیر کسی مقصد کے نہیں ہوتا۔ جب بھی عدالت کسی قانون کی تعبیر کی ذمہ داری ادا کرنے بیٹھتی ہے ، یہ اس کے سامنے بنیادی مفروضہ ہوتا ہے۔ اس لیے اگر پہلے سے موجود قانون میں کسی لفظ کی تبدیلی کی جائے تو عدالت لازماً یہ دیکھتی ہے کہ اس تبدیلی کا مقصد کیا تھا؟ تاکہ قانون کی ایسی تعبیر اختیار کی جائے جو اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مناسب ہو۔ یاد رکھئے: تعبیرِ قانون کے معاملے میں عدالت کی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ مقننہ کا ارادہ( intention of the legislature) معلوم کرکے اس کی روشنی میں قانون کا مفہوم متعین کرے۔ اس اُصول کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ قانون میں کسی لفظ، کسی حرف، بلکہ کسی شوشے کی تبدیلی کو بھی لغو، لایعنی ، بغیر کسی مقصد کے ، نہ قرار دیا جائے۔ ‘‘
 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انتخابی اصلاحاتی بل۲۰۱۷ء پر عملی کام ۲۰۱۴ء سے شروع ہوا اور اسمبلی میں موجود تمام پارلیمانی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل ۳۴؍ رکنی کمیٹی وفاقی وزیرخزانہ جناب اسحاق ڈار کی صدارت میں قائم کی گئی۔
پارلیمانی انتخابی اصلاحاتی کمیٹی نے ایک سب کمیٹی بنائی جس نے وسیع ترمشاورت کے بعد سینکڑوں صفحات پرمشتمل ڈرافٹ تیارکرکے مرکزی کمیٹی کوبھیجا، انتخابی اصلاحاتی کمیٹی نے تین سال کے دوران۱۲۶ ؍دن اس ڈرافٹ پر کام کیا اور ایک حتمی ڈرافٹ تیار کیا، اس حتمی ڈرافٹ کی رپورٹ ۷؍اگست ۲۰۱۷ء کو قومی اسمبلی میں پیش کی گئی اور ۷؍اگست سے۲۲؍اگست ۲۰۱۷ء تک یہ ڈرافٹ ارکان کے پاس رہا اور ۲۲؍اگست ۲۰۱۷ء کو اس ڈرافٹ کوبل کی شکل میں قومی اسمبلی نے منظور کیا ۔
قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد یہ انتخابی اصلاحاتی بل سینیٹ میں پیش کیا گیا، اس سے قبل یہ بل سینیٹ کی مجلسِ قائمہ کے حوالہ کیاگیا جس نے جائزہ لیا اور پھر ۲۲؍ستمبر۲۰۱۷ء کو سینیٹ آف پاکستان نے کثرتِ رائے سے یہ بل منظور کیا۔
جب یہ بل سینیٹ میں منظوری کے لیے پیش ہوا تواس وقت جمعیت علماء اسلام کے سینیٹر مولانا حافظ حمداللہ صاحب نے ایوان کی توجہ اس حساس مسئلے کی طرف مبذول کرائی کہ کاغذاتِ نامزدگی میں موجود حلف نامے کو اقرار نامے میں تبدیل کردیا گیا ہے، 7B ، 7C کی دفعات کوبھی سرے سے ہی نکال دیا گیا ہے۔
حافظ حمداللہ نے اس کے متعلق اپنی ترامیم پیش کیں اور حذف شدہ الفاظ کو شامل کرنے کے لیے تحریک پیش کی جس پر ووٹنگ ہوئی اور حافظ حمداللہ کی ترامیم ۳۸/۳۶کے تناسب یعنی دو ووٹوں کے فرق سے مستردکردی گئیں، پیپلزپارٹی جن کی سینیٹ میں اکثریت ہے، پاکستان تحریک انصاف، ایم کیوایم ،اے این پی نے حافظ حمداللہ کی ترامیم کی مخالفت کی، جبکہ جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق اس دن سینیٹ اجلاس میں شریک ہی نہیں ہوئے۔
ایوان سے نکلی سب سے پہلی آواز جو باہر قوم تک پہنچی، وہ محترم جناب شیخ رشید صاحب کی آواز تھی۔ انہوں نے قومی اسمبلی میں اس بل کے پاس ہونے کے بعد تقریر کرتے ہوئے کہا: کہاں ہے مولانا فضل الرحمن؟ اور کہاں ہیں سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے نام لیوا؟ آج ختم نبوت کا مسئلہ قانون سے نکال دیا گیا ہے۔ اس آواز کے گونجتے ہی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اکابرین کو سخت تشویش ہوئی، وکلاء سے رابطہ کیا گیا، نئے قانون کا مسودہ منگواکر پرانے مسودہ سے اسے ملایا گیا۔ اس نئے مسودہ میں وہ تبدیلیاں نظر آئیں جن کی نشان دہی اوپر کردی گئی ہے، حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب نے حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب سے رابطہ کیا، جو عمرہ پر تشریف لے گئے تھے، ان کو صحیح صورت حال بتائی گئی اور اخبارات کو درج ذیل بیان جاری کیا گیا:
کراچی (پ ر) الیکشن ریفارمز بل میں عبارت کی تبدیلی اور ترمیم ناقابل قبول ہے۔ تحفظ ختم نبوت سے متعلق قوانین اور الفاظ تک کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے گا۔ حکومت قادیانیت نوازی سے باز رہے۔ ان خیالات کا اظہار عالمی مجلس تحفظِ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مولانا خواجہ عزیز احمد، مولانا ناصر الدین خاکوانی، مولانا عزیزالرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اعجاز مصطفی، مولانا قاضی احسان احمد و دیگر علماء کرام نے اپنے احتجاجی بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی اصلاحات بل کی آڑ میں ’’حلف نامہ‘‘ کے الفاظ اور دوسری عبارت کا اخراج کسی طرح برداشت نہیں کیا جائے گا۔ حکومت قادیانیوں کو ریلیف دینے کی مذموم کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صاحبِ اقتدار طبقے کے اس اقدام سے دینی جماعتوں اور مذہبی حلقوں میں انتہائی تشویش پائی جاتی ہے۔ ملک و قوم اس وقت جس بحرانی کیفیت سے گزر رہے ہیں اس میں کوئی نیا محاذ کھولنا قرینِ مصلحت نہیں۔ علماء کرام نے سابق وزیر اعظم کی قادیانیت نوازی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موصوف نے اپنے دورِ اقتدار میں آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ازلی و ابدی دشمنوں اور منکرینِ ختم نبوت کو ’’بھائی‘‘ کہا۔ پاکستان کی سرزمین کو لعنتی قرار دینے والے ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے نام قائدِ اعظم یونیورسٹی کے شعبہ فزکس کو منسوب کیا۔ انہوں نے کہا کہ لگتا ہے کہ سابق وزیر اعظم صاحب نے موجودہ حالات سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ قادیانیت نوازی کی نحوست نے ان کو دیدئہ عبرت بناکر چھوڑنا ہے۔
حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب نے ایک طرف نواز شریف صاحب سے رابطہ کیا۔ دوسری طرف اپنے اراکینِ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے حضرات کو اس بات کا پابند کیا کہ وہ اس قانون کے مسودہ کو بغور جانچیں اور جہاں جہاں تبدیلی کی گئی ہے، اس کی نشان دہی کریں۔
 خلاصہ یہ کہ حکومت پر جب ہر طرف سے عوامی دباؤ بڑھا تو کہنے لگے کہ: ہم نے صرف ’’حلف‘‘ کے لفظ کو ’’اقرار‘‘ سے بدلا ہے، مطلب دونوں کا ایک ہے۔ حالانکہ دونوں میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔اور ساتھ ہی کہنے لگے کہ: ختم نبوت پر مشتمل پورا پیرا موجود ہے، اس میں ایک لفظ کی بھی تبدیلی نہیں کی گئی، حالانکہ پہلے واضح کیا کہ اس پیرا کے اوپر ’’میں حلفیہ اقرار کرتا/ کرتی ہوں‘‘ کی عبارت کو سرے سے ہی حذف کردیا گیا تھا، جس سے نچلا مضمون موجود ہونے کے باوجود بغیر حلف کے رہ گیا۔ 
بہرحال قوم کے زبردست احتجاج اور سخت عوامی ردِ عمل کے سامنے حکومت نے گھٹنے ٹیک دیئے۔ میاں نواز شریف صاحب نے بھی اپنی پارٹی اور جناب اسپیکر ایاز صادق صاحب کو ہدایت کی کہ ختم نبوت کے مسئلہ کو سابقہ حالت پر بحال کیا جائے۔ جناب اسپیکر صاحب نے تمام پارلیمانی جماعتوں کے نمائندوں کو بلایا اور اس قانون کو سابقہ حالت پر بحال کرانے پر اُنہیں راضی کیا۔ سب نے قومی اسمبلی میں اس قانون کو سابقہ حالت پر بحال کرنے کا بل اتفاقِ رائے سے پاس کردیا اور چند دن بعد سینیٹ سے بھی یہ بل پاس ہو کر قانون کا حصہ بن گیا ہے۔ اس نئے بل کا متن حسب ذیل ہے:

[قومی اسمبلی میں پیش کرنے کے لیے]
انتخابات ایکٹ، ۲۰۱۷ء میں ترمیم کرنے کا بل

ہرگاہ کہ یہ قرین مصلحت ہے کہ بعد ازیں رونما ہونے والی اغراض کے لیے انتخابات ایکٹ، ۲۰۱۷ء (نمبر:۳۳ بابت ۲۰۱۷ئ) میں ترمیم کی جائے۔
بذریعہ ہذا حسب ذیل قانون وضع کیا جاتا ہے:
۱- مختصر عنوان اور آغازِ نفوذ:     (۱)    یہ ایکٹ انتخابات (ترمیمی) ایکٹ ۲۰۱۷ء کے نام سے موسوم ہوگا۔
(۲)    یہ فی الفور نافذ العمل ہوگا۔
۲-    ایکٹ نمبر۳۳ بابت ۲۰۱۷ء کی دفعہ ۲۴۱ میں ترمیم:    انتخابات ایکٹ ۲۰۱۷ء (نمبر۳۳ بابت ۲۰۱۷ئ) بعد ازیں جس کا حوالہ مذکورہ ایکٹ کے طور پر دیا گیا ہے، دفعہ ۲۴۱ میں شق (و) میں ، نیم وقفہ سے قبل، عبارت ’’ماسوائے آرٹیکلز ۷ب اور ۷ ج‘‘ کو شامل کردیاجائے گا۔
۳-    ایکٹ نمبر ۳۳ بابت ۲۰۱۷ء کے فارم الف میں ترمیم:    مذکورہ ایکٹ میں، فارم الف میں، امیدوار کی جانب سے اقرار نامہ میں:
(۱)    عنوان ’’امیدوار کی جانب سے اقرار نامہ‘‘ کو ’’نامزد شخص کی طرف سے اقرار نامہ اور بیان حلفی ‘‘ سے تبدیل کردیا جائے گا۔
(۲)    مذکورہ بالا تبدیل شدہ عنوان کے تحت ، پیر۱ ۱ کے ذیلی پیروں (اول)، (دوم)، (سوم)، (چہارم) اور (پنجم) کو، حسب ذیل سے تبدیل کردیا جائے گا۔
’’۱- میں مذکورہ بالا امیدوار حلفاً اقرار کرتا / کرتی ہوں کہ:
(اول)    میں نے مذکورہ بالا نامزدگی پر اپنی رضامندی ظاہر کی ہے اور یہ کہ میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کے آرٹیکل ۶۲ میں مصرحہ اہلیت پوری کرتا / کرتی ہوں اور یہ کہ سینیٹ/ قومی اسمبلی/ صوبائی اسمبلی کا/ کی رکن منتخب ہونے کے لیے دستور کے آرٹیکل ۶۳ یا فی الوقت نافذ العمل کسی دیگر قانون میں مصرحہ نااہلیتوں میں سے کسی کی زد میں نہیں آتا / آتی ہوں۔ 
(٭دوم)    میراتعلق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سے ہے اور مذکورہ سیاسی جماعت کی طرف سے جاری کردہ 
                           (سیاسی جماعت کا نام)
سرٹیفکیٹ جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ میں مذکورہ بالا حلقۂ انتخاب سے جماعتی امیدوار ہوں، منسلک ہے۔
یا
میرا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں۔
۲-    میں مذکورہ بالاامیدوار حلفاً اقرار کرتا/ کرتی ہوں کہ:
(٭٭ اول)    میں خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر قطعی اور غیرمشروط طور پر ایمان رکھتا / رکھتی ہوں اور یہ کہ میں کسی ایسے شخص کا/ کی پیروکار نہیں ہوں جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس لفظ کے کسی مفہوم یا کسی بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعویدار ہو اور یہ کہ میں کسی ایسے دعویدار کو پیغمبر یا مذہبی مصلح نہیں مانتا / مانتی ہوں اور نہ ہی قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ سے تعلق رکھتا / رکھتی ہوں یا خود کو احمدی کہتا / کہتی ہوں۔
(دوم)        میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے کیے ہوئے اس اعلان کا وفادار رہوں گا/ گی کہ پاکستان معاشرتی انصاف کے اسلامی اصولوں پر مبنی ایک جمہوری مملکت ہوگی۔ میں صدق دل سے پاکستان کا حامی اور وفادار رہوں گا/ گی اور پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت کا تحفظ اور دفاع کروں گا/ گی اور یہ کہ میں اسلامی نظریہ کو برقرار رکھنے کے لیے کوشاں رہوں گا/ گی جو قیام پاکستان کی بنیاد ہے۔
۳-    میں متذکرہ بالا امیدوار یہ اقرار کرتا ہوں کہ میں نے خصوصی اکاؤنٹ نمبر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (جدولی بنک کا نام اور برانچ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کے پاس انتخابی اخراجات کی غرض کے لیے کھولا ہے۔‘‘
(۳)    باقی ماندہ پیروں ۲، ۳، ۴ اور ۵ کو بطور ۴، ۵، ۶ اور ۷ دوبارہ نمبرز لگائے جائیں گے اور 
(۴)    صفحہ کے آخر میں ، حسب ذیل عبارت شامل کردی جائے گی۔

بیانِ اغراض ووجوہ

انتخابات ایکٹ، ۲۰۱۷ء (نمبر ۳۳ بابت ۲۰۱۷ئ) کے وضع کیے جانے کے واقعہ کے بعد نامزدگی فارم (فارم الف) جو کہ ایکٹ کے تحت منسلک ہے کے بارے میں قومی اسمبلی میں اور میڈیا میں بھی امیدوار کی جانب سے اقرارنامے کے الفاظ کی نسبت بدگمانی کا اظہار کیا گیا ہے۔
۲- مزید تنازعہ سے بچنے کے لیے قومی اسمبلی کی تمام سیاسی جماعتوں کا اس پر اتفاق ہے کہ نامزد شخص کی طرف سے اقرار نامہ اور بیان حلفی کے اصل متن جو کہ اصل فارم-۱  الف میں شامل ہے کو اصل حالت میں بحال کیا جانا چاہیے۔
۳- عام انتخابات کے انعقاد کے فرمان ۲۰۰۲ء (چیف ایگزیکٹو فرمان نمبر۷ بابت ۲۰۰۲ئ) کی منسوخی کے نتیجے میں آرٹیکلز ۷ ب اور ۷ ج کے حذف کی نسبت بھی بدگمانی کا اظہار کیا گیا ہے۔ مزید تنازع سے بچنے کی خاطر تمام سیاسی جماعتوں میں اس بات پر اتفاق ہے کہ آرٹیکلز ۷ ب اور ۷ ج کے احکامات کو انتخابات ایکٹ ۲۰۱۷ء کی دفعہ ۲۴۱ میں ترمیم کے ذریعہ ایضاً برقرار رکھا جائے، لہٰذا یہ بل وضع کیا گیا۔

                                                                                               زاہد حامد 
                                                                                       وزیربرائے قانون وانصاف
                                                                                             وزیرانچارج

٭:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔     غیرمتعلقہ الفاظ قلم زَد کردیئے جائیں گے۔
٭٭:۔۔۔۔۔۔۔    صرف مسلمان امیدواروں کے لیے۔

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید یہ کہ اقرار اور حلف میں فرق ہے یا نہیں؟ آخر یہ Oath اور Affirmation کا معمہ ہے کیا؟ اس گتھی کو سلجھانے کے لیے کسی قدر حک واضافہ کے بعد جناب تابش قیوم صاحب کا ایک مضمون نقل کیا جاتا ہے، موصوف لکھتے ہیں:
’’آپ حیران ہوں گے کہ جس مسئلہ کو ہمارے بعض علماء اور وزراء معمولی سمجھ کر کہہ رہے ہیں کہ یہ ایک ہی چیز ہے، اس کی جڑیں۳۰۵سال پرانی ہیں جب ایک Quakers نامی عیسائی فرقہ نے حلف لینے سے انکار کیا اور کہا کہ ہم صرف اقرار کریں گے، کیونکہ کے ان کے نزدیک خدا ہر انسان میں ہے اور اُسے علیحدہ سے قسم کھانے کی ضرورت نہیں اور اسی طرح کے دیگر عقائد کی بنیاد پر انہوں نے Oath کے بجائے Affirmation کا سہارا لیا اور ۱۶۹۵ء میں Quakers act 1695 منظور کروایا۔ اس قانون میں بھی وہی الفاظ درج ہیں جو موجودہ ترمیم میں شامل کیے گئے ہیں:
Quakers Act 1695 (An Act that the Solemne Affirmation & Declaration of the People called Quakers shall be accepted  was passed . (instead of an Oath in the usual Forme; 7 & 8 Will 3 c. 34)
بات صرف یہاں ختم نہیں ہوتی بلکہ۲۰۰سال قبل اسکاٹ لینڈکے ملحدین نے بھی حلف کی مخالفت یہ کہتے ہوئے کردی کہ ہم تو خدا کو مانتے ہی نہیں تو پھر قسم کیوں کھائیں؟! اور اس طرح انہوں نے بھی قانون سازی کرواکے یہ شرط ختم کروادی۔ یہ سارا کھیل دراصل اس تاریخ کا حصہ ہے جب مغرب نے چرچ اور مذہب سے اپنا رشتہ توڑ کر لادینیت اور سیکولرازم کی بنیاد رکھی۔ چارلز براڈلاف نامی ایک شخص جس نے قومی سیکولر سوسائٹی کی بنیاد رکھی تھی اسی نے Affirmation Law  یا Solemn Affirmation کی بھی بنیاد رکھی۔
وہ ۱۸۸۰ء میں برطانیہ میں الیکشن جیت کر منتخب ہوا، مگر اس کو حلف دینے سے روک دیا گیا، کیونکہ وہ ملحد یعنی لادین تھا اور عیسائیت پر یقین نہیں رکھتا تھا۔ اس نے حلف کے بجائے اقرار کی استدعا کی جو مسترد کردی گئی اور اس سے سیٹ چھین لی گئی، تاہم بعد میں ضمنی انتخابات کروائے گئے، جس پر وہ ایک مرتبہ پھر جیت گیا اور پھر سے حلف سے انکار کیا، جس پر اُسے گرفتار کرلیا گیا، بالآخر یہ سلسلہ جاری رہا اور ایک تحریک کی شکل اختیار کرگیا۔ پانچویں دفعہ جاکر وہ ۱۸۸۶ء میں حلف لینے پر راضی ہوا، جس کے الفاظ میں اپنی مرضی کی ترمیم کی اور پھر اس نے۱۸۸۸ء میں Oath Act پیش کیا جس کے ذریعہ لادین لوگوں اور ملحدین کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ حلف کی بجائے فقط اختیار پر گزارا کریں۔ 
یہ قانون ایک طویل جدوجہد کے بعد عمل میں آیا، جس میں کلیدی کردار چارلس براڈلاف ہی کا تھا جو مغرب میں سیکولر قانون سازی کی بنیاد بنا۔ چارلس کی بیٹی بھی ملحد اور فری تھنکر تھی، جسے عیسائیوں نے قتل کردیا تھا۔ یہاں یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ سیکولرازم کے علمبردار ملحد چارلس کی موت ۱۸۹۱ء میں واقع ہوئی اور اس کے جنازے میں۲۱سالہ ایک نوجوان موجود تھا جس کانام موہن داس گاندھی تھا، جس نے آگے چل کر بھارتی سیکولر آئین کی بنیاد رکھی۔ 
دیکھنے میں آیا ہے کہ مغرب میں آج بھی ایسے واقعات ہوئے ہیں کہ اپنا عقیدہ چھپا کر محض اقرار کا سہارا لے کر کئی ملحد عیسائی بن کر پارلیمنٹ کے ممبر بنے، جن کی اصلیت بعد میں سامنے آئی۔ان دونوں الفاظ کے قانونی اثرات کیا ہیں؟ یہ ثانوی بات ہے۔پہلا سوال یہ ہے کہ ن لیگ کو آخر ۹۹% مسلمان آبادی والے ملک میں حلف کو اقرار میں بدلنے کی کیا ضرورت پیش آئی؟
 یہ مسئلہ تو مغرب کی ان ریاستوں میں پیش آیا یا آتا رہا ہے جو مکمل سیکولر اور لادین ہیں، کیونکہ وہاں بہت بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جو کسی بھی مذہب کو نہیں مانتے اور کسی ایسی ہستی پر یقین نہیں رکھتے، جسے وہ خدا یا اس کے برابر سمجھتے ہوں اور اس کی قسم کھانے کے لیے تیار ہوں، جبکہ ایک اسلامی ملک میں جس کے آئین میں بالادستی قرآن و سنت کی ہو اور حلف اور قسم کی بے انتہا اہمیت ہو، وہاں اس قسم کی خوفناک تبدیلی محض دفتری غلطی نہیں، بلکہ ایک گہرا وار ہے جو باقاعدہ سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت کیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حکمران جماعت واضح طور پر ملک کی نظریاتی اَساس پر حملہ آور ہو کر اس کو لبرل ازم کی راہ پر گامزن کرنا چاہتی ہے، تاکہ عالمی طاقتوں کی مکمل سپورٹ حاصل کر کے اپنا اقتدار مستحکم کیا جاسکے اور سیکولرازم کی بنیادوں کو پاکستان کے آئین میں مضبوط کیا جاسکے۔
اب یہ بات تو واضح ہوگئی کہ یہ باقاعدہ سیکولرازم کا شب خون پاکستان کے آئین پر مارا گیا ہے، مگر اس کا ختم نبوت سے کیا تعلق ہے؟ اس کے لیے ہمیں چند ایک باتوں کی طرف غور کرنا ہو گا۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کوعدالت میں جھوٹ بولنے کی بنیادپر نااہل قرار دیا گیا، جبکہ اب انتخابی اصلاحات بل کے نام پر جو ترمیم شدہ قانون قومی اسمبلی میں منظور کیاگیا ہے، اس کے مطابق آئندہ جھوٹ بولنے والے کو نااہل قرار نہیں دیا جاسکے گا۔
 اراکینِ اسمبلی کے حلف نامہ میں ختمِ نبوت کی شق سے متعلق دعویٰ کیا جارہا ہے کہ اس کی عبارت جوں کی توں ہے، لیکن اس میں ڈیکلریشن پلس اوتھ کی جگہ صرف ڈیکلریشن/ایفرمیشن لکھ کر اوتھ کا لفظ ختم کر دیا گیا ہے، یعنی قسم اور حلفاً اقرار کے الفاظ کلی طور پر حذف کر دیے گئے ہیں۔ ہم اگر ان باتوں کی جانب تھوڑا غور کریں تو اس کے خوفناک نتائج واضح طور پر سمجھ میں آتے ہیں اور صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ سب کچھ گہری سازش کے تحت کیا گیا ہے۔
اس لیے کہ ختمِ نبوت کے حوالہ سے اس تبدیلی کے بعد اب اگر کوئی مرزائی ختمِ نبوت کا جھوٹا اقرار کر کے اسمبلی پہنچ جائے اور بعد میں اس امر کا پتہ چلے کہ یہ تو مسلمان نہیں بلکہ قادیانی ہے تو حالیہ ترمیم کی وجہ سے صرف جھوٹ بولنے کی بنیاد پر اُسے نااہل قرار نہیں دیا جاسکے گا، کیونکہ حلف کے الفاظ تو پہلے ہی حذف کر دیے گئے ہیں، یعنی اس انداز میں قانونی تبدیلی کی گئی ہے اور تھوڑا جھول رہ جائے اور آئندہ ملحد قسم کے لوگوں اور ختم نبوت کو تسلیم نہ کرنے والے قادیانیوں کو فائدہ پہنچایا جاسکے۔
 ڈاکٹر محمد مشتاق، ڈین فیکلٹی آف شریعہ اینڈ لاء اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد نے اس موضوع سے متعلق ایک اور اہم نقطہ کی طرف اشارہ کیا ہے‘ اسے بھی سمجھنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نئے قانون کی سب سے خطرناک ترین حقیقت یہ ہے کہ ۲۰۰۲ء کے قانون کی دفعہ ۷ (ذیلی دفعہ سی) کی منسوخی کے بعد اب قادیانی یا لاہوری گروپ کے کسی ووٹر کو مسلمانوں کی ووٹر لسٹ سے نکالنے کا کوئی قانونی طریقہ باقی نہیں رہا۔ اس سے یہ بات قطعی طور پر معلوم ہوجاتی ہے کہ یہ تبدیلیاں کس کے کہنے پر اور کس کو خوش کرنے کے لیے کی گئی ہیں۔
سوال ہے کہ یہ تمام حقائق واضح ہونے کے بعد کیا اب بھی کسی ثبوت کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے ؟ عقیدۂ ختمِ نبوت اور پاکستان کے نظریاتی تشخص کو پامال کرنے کی اس ناپاک جسارت کی بلا تفریق مذمت کرنی چاہیے، بلکہ اس سازش کے پیچھے کارفرما عناصر کے اصل عزائم کو قوم کے سامنے لاکر قانونی کارروائی کرنی چاہیے، تاکہ آئندہ چور راستوں سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے متفقہ آئین اور نظریہ کے خلاف ہونے والی سازشوں کو روکا جاسکے۔‘‘

وصلی اللّٰہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ محمد وعلٰی آلہٖ وصحبہٖ أجمعین