حضرت عباس اور حضرت علی مرتضی کے بارے میں چند شبہات کا ازالہ (مطبوعہ)
حضرت عباس اور حضرت علی مرتضی کے بارے میں چند شبہات کا ازالہ (مطبوعہ)
محترم مفتی صاحب
! السلام علیکم ورحمةالله وبرکاتہ
قاضی ابوبکر ابن العربی ۴۶۸ھ تا ۵۴۳ھ اپنی کتاب ”العواصم من القواصم“ کے ایک باب میں رقم طرازہیں۔
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ایک کمر توڑ حادثہ تھا۔ اور عمر بھر کی مصیبت۔ کیونکہ حضرت علی حضرت فاطمہ کے گھر میں چھپ کر بیٹھ گئے“،
”اور حضرت علی اور حضرت عباس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے دوران اپنی الجھن میں پڑگئے۔ حضرت عباس نے حضرت علی سے کہا کہ موت کے وقت بنی عبد المطلب کے چہروں کی جو کیفیت ہوتی ہے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کی دیکھ رہا ہوں۔ سو آؤ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لیں اور معاملہ ہمارے سپرد ہوتو ہمیں معلوم ہوجائے گا“۔
”پھراس کے بعد حضرت عباس اور حضرت علی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ترکہ میں اُلجھ گئے وہ فدک، بنی نضیر اورخیبر کے ترکہ میں میراث چاہتے تھے“۔
ائمہ حدیث کی روایت کے مطابق حضرت عباس رضی الله عنہ نے حضرت علی(رضی الله عنہ)کے متعلق کہا تھا کہ جب حضرت عباس رضی الله عنہ اور علی رضی الله عنہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوقاف کے بارے میں حضرت عمررضی الله عنہ کے پاس اپنا جھگڑا لے کر آئے تو حضرت عباس رضی الله عنہ نے حضرت عمر رضی الله عنہ سے کہا: ”اے امیر المومنین میرے اور اس………… کے درمیان فیصلہ کرادیں“۔
دیگر جگہ پر ہے کہ آپس میں گالی گلوچ کی……“۔(ابن حجر،فتح الباری)
”حضرت علی بن ابی طالب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آخری بیماری میں مبتلا تھے لوگوں نے آپ سے پوچھا کہ اے ابوالحسن!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت کیسی ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ اب آپ پہلے سے اچھی حالت میں ہیں۔ تو حضرت عباس نے حضرت علی کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا:”خدا کی قسم تین روز کے بعد آپ پر لاٹھی کی حکومت ہوگی۔ مجھے معلوم ہورہاہے کہ اس بیماری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات عنقریب ہونے والی ہے۔ کیونکہ بنی عبد المطلب کے چہروں کی جو کیفیت موت کے وقت ہوتی ہے وہ مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی معلوم ہورہی ہے۔ آؤ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلیں اور آپ سے پوچھ لیں کہ آپ کے بعد خلیفہ کون ہوگا؟ آپ ہمیں خلافت دے جائیں توبھی ہمیں معلوم ہوجائے اور اگر آپ کسی اور کو خلافت دے دیں تو پھر ہمارے متعلق اس کو وصیت کرجائیں“توحضرت علی نے کہا ”خدا کی قسم اگر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کریں اور آپ ہم کو نہ دیں تو پھر لوگ ہم کو کبھی نہ دیں گے اور میں تو خدا کی قسم اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہرگز سوال نہ کروں گایہ حدیث صحیح بخاری کتاب المغازی اور” البدایہ والنہایہ“ میں ابن عباس سے مروی ہے اور امام احمد نے اپنی مسند میں روایت کیاہے۔
سوالات:
۱…حضرت علی(رضی الله عنہ)چھپ کر کیوں بیٹھ گئے تھے؟
۲…کیا ان دونوں کو مال و دولت کی اس قدر حرص تھی کہ بار بار ترکہ مانگتے تھے جبکہ ان کو حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے علم کرادیا تھا کہ اس مال کی حیثیت ترکے کی نہیں۔ تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔
۳…یہ جھگڑا ان دونوں کو نہ صرف مال ودولت کا حریص ثابت کرتاہے بلکہ اخلاقی پستی کی طرف بھی اشارہ ملتاہے کیونکہ گالی گلوچ شرفاء کا وطیرہ نہیں……………“۔
۴…”تین روز کے بعد آپ پر لاٹھی کی حکومت ہوگی“۔ اس عبارت کو واضح کریں۔
۵…حضرت عباس کو کیسی فکر پڑی ہے کہ خلافت ملے، نہ ملے تو وصیت ہی ہوجائے کہ ان کے مفادات محفوظ ہوجائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری اور وفات کا صدمہ اگر غالب ہوتا تو یہ خیالات اور یہ کاروائیاں کہاں ہوتیں؟
۶…خط کشیدہ الفاظ سے تو حضرت علی کاارادہ یہی ظاہر ہوتاہے کہ خواہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انکار ہی کیوں نہ کردیں ،انہیں خلافت درکار ہے اور یہ بھی کہ انہیں احتمال یہی تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منع فرمادیں گے اسی لئے کہتے ہیں کہ میں نہ سوال کروں گا(اور بعد میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے بعد اس خلافت کو حاصل کرونگا) خط کشیدہ الفاظ اگر یہ مفہوم ظاہر نہیں کرتے تو پھر کیا ظاہر کرتے ہیں؟ امید ہے کہ جواب جلد ارسال فرمائیں گے .
! السلام علیکم ورحمةالله وبرکاتہ
قاضی ابوبکر ابن العربی ۴۶۸ھ تا ۵۴۳ھ اپنی کتاب ”العواصم من القواصم“ کے ایک باب میں رقم طرازہیں۔
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ایک کمر توڑ حادثہ تھا۔ اور عمر بھر کی مصیبت۔ کیونکہ حضرت علی حضرت فاطمہ کے گھر میں چھپ کر بیٹھ گئے“،
”اور حضرت علی اور حضرت عباس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے دوران اپنی الجھن میں پڑگئے۔ حضرت عباس نے حضرت علی سے کہا کہ موت کے وقت بنی عبد المطلب کے چہروں کی جو کیفیت ہوتی ہے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کی دیکھ رہا ہوں۔ سو آؤ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لیں اور معاملہ ہمارے سپرد ہوتو ہمیں معلوم ہوجائے گا“۔
”پھراس کے بعد حضرت عباس اور حضرت علی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ترکہ میں اُلجھ گئے وہ فدک، بنی نضیر اورخیبر کے ترکہ میں میراث چاہتے تھے“۔
ائمہ حدیث کی روایت کے مطابق حضرت عباس رضی الله عنہ نے حضرت علی(رضی الله عنہ)کے متعلق کہا تھا کہ جب حضرت عباس رضی الله عنہ اور علی رضی الله عنہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوقاف کے بارے میں حضرت عمررضی الله عنہ کے پاس اپنا جھگڑا لے کر آئے تو حضرت عباس رضی الله عنہ نے حضرت عمر رضی الله عنہ سے کہا: ”اے امیر المومنین میرے اور اس………… کے درمیان فیصلہ کرادیں“۔
دیگر جگہ پر ہے کہ آپس میں گالی گلوچ کی……“۔(ابن حجر،فتح الباری)
”حضرت علی بن ابی طالب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آخری بیماری میں مبتلا تھے لوگوں نے آپ سے پوچھا کہ اے ابوالحسن!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت کیسی ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ اب آپ پہلے سے اچھی حالت میں ہیں۔ تو حضرت عباس نے حضرت علی کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا:”خدا کی قسم تین روز کے بعد آپ پر لاٹھی کی حکومت ہوگی۔ مجھے معلوم ہورہاہے کہ اس بیماری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات عنقریب ہونے والی ہے۔ کیونکہ بنی عبد المطلب کے چہروں کی جو کیفیت موت کے وقت ہوتی ہے وہ مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی معلوم ہورہی ہے۔ آؤ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلیں اور آپ سے پوچھ لیں کہ آپ کے بعد خلیفہ کون ہوگا؟ آپ ہمیں خلافت دے جائیں توبھی ہمیں معلوم ہوجائے اور اگر آپ کسی اور کو خلافت دے دیں تو پھر ہمارے متعلق اس کو وصیت کرجائیں“توحضرت علی نے کہا ”خدا کی قسم اگر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کریں اور آپ ہم کو نہ دیں تو پھر لوگ ہم کو کبھی نہ دیں گے اور میں تو خدا کی قسم اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہرگز سوال نہ کروں گایہ حدیث صحیح بخاری کتاب المغازی اور” البدایہ والنہایہ“ میں ابن عباس سے مروی ہے اور امام احمد نے اپنی مسند میں روایت کیاہے۔
سوالات:
۱…حضرت علی(رضی الله عنہ)چھپ کر کیوں بیٹھ گئے تھے؟
۲…کیا ان دونوں کو مال و دولت کی اس قدر حرص تھی کہ بار بار ترکہ مانگتے تھے جبکہ ان کو حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے علم کرادیا تھا کہ اس مال کی حیثیت ترکے کی نہیں۔ تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔
۳…یہ جھگڑا ان دونوں کو نہ صرف مال ودولت کا حریص ثابت کرتاہے بلکہ اخلاقی پستی کی طرف بھی اشارہ ملتاہے کیونکہ گالی گلوچ شرفاء کا وطیرہ نہیں……………“۔
۴…”تین روز کے بعد آپ پر لاٹھی کی حکومت ہوگی“۔ اس عبارت کو واضح کریں۔
۵…حضرت عباس کو کیسی فکر پڑی ہے کہ خلافت ملے، نہ ملے تو وصیت ہی ہوجائے کہ ان کے مفادات محفوظ ہوجائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری اور وفات کا صدمہ اگر غالب ہوتا تو یہ خیالات اور یہ کاروائیاں کہاں ہوتیں؟
۶…خط کشیدہ الفاظ سے تو حضرت علی کاارادہ یہی ظاہر ہوتاہے کہ خواہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انکار ہی کیوں نہ کردیں ،انہیں خلافت درکار ہے اور یہ بھی کہ انہیں احتمال یہی تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منع فرمادیں گے اسی لئے کہتے ہیں کہ میں نہ سوال کروں گا(اور بعد میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے بعد اس خلافت کو حاصل کرونگا) خط کشیدہ الفاظ اگر یہ مفہوم ظاہر نہیں کرتے تو پھر کیا ظاہر کرتے ہیں؟ امید ہے کہ جواب جلد ارسال فرمائیں گے .
فقط والسلام
محمد ظہور الاسلام



