زبان

اردو
English

مذید دیکھیں

خصوصی مضمون

اسلامی بینکاری اور تصویر کا شرعی حکم

۲۰١۲ ماہنامہ بینات

بہترین دیکھنے کے لیے

بسم الله الرحمٰن الرحیم

حضرت عباس اور حضرت علی مرتضی کے بارے میں چند شبہات کا ازالہ (مطبوعہ)

Question

محترم مفتی صاحب
! السلام علیکم ورحمةالله وبرکاتہ
قاضی ابوبکر ابن العربی ۴۶۸ھ تا ۵۴۳ھ اپنی کتاب ”العواصم من القواصم“ کے ایک باب میں رقم طرازہیں۔
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ایک کمر توڑ حادثہ تھا۔ اور عمر بھر کی مصیبت۔ کیونکہ حضرت علی حضرت فاطمہ کے گھر میں چھپ کر بیٹھ گئے“،
”اور حضرت علی اور حضرت عباس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے دوران اپنی الجھن میں پڑگئے۔ حضرت عباس نے حضرت علی سے کہا کہ موت کے وقت بنی عبد المطلب کے چہروں کی جو کیفیت ہوتی ہے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کی دیکھ رہا ہوں۔ سو آؤ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لیں اور معاملہ ہمارے سپرد ہوتو ہمیں معلوم ہوجائے گا“۔
”پھراس کے بعد حضرت عباس اور حضرت علی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ترکہ میں اُلجھ گئے وہ فدک، بنی نضیر اورخیبر کے ترکہ میں میراث چاہتے تھے“۔
ائمہ حدیث کی روایت کے مطابق حضرت عباس رضی الله عنہ نے حضرت علی(رضی الله عنہ)کے متعلق کہا تھا کہ جب حضرت عباس رضی الله عنہ اور علی رضی الله عنہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوقاف کے بارے میں حضرت عمررضی الله عنہ کے پاس اپنا جھگڑا لے کر آئے تو حضرت عباس رضی الله عنہ نے حضرت عمر رضی الله عنہ سے کہا: ”اے امیر المومنین میرے اور اس………… کے درمیان فیصلہ کرادیں“۔
دیگر جگہ پر ہے کہ آپس میں گالی گلوچ کی……“۔(ابن حجر،فتح الباری)
”حضرت علی بن ابی طالب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آخری بیماری میں مبتلا تھے لوگوں نے آپ سے پوچھا کہ اے ابوالحسن!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت کیسی ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ اب آپ پہلے سے اچھی حالت میں ہیں۔ تو حضرت عباس نے حضرت علی کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا:”خدا کی قسم تین روز کے بعد آپ پر لاٹھی کی حکومت ہوگی۔ مجھے معلوم ہورہاہے کہ اس بیماری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات عنقریب ہونے والی ہے۔ کیونکہ بنی عبد المطلب کے چہروں کی جو کیفیت موت کے وقت ہوتی ہے وہ مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی معلوم ہورہی ہے۔ آؤ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلیں اور آپ سے پوچھ لیں کہ آپ کے بعد خلیفہ کون ہوگا؟ آپ ہمیں خلافت دے جائیں توبھی ہمیں معلوم ہوجائے اور اگر آپ کسی اور کو خلافت دے دیں تو پھر ہمارے متعلق اس کو وصیت کرجائیں“توحضرت علی نے کہا ”خدا کی قسم اگر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کریں اور آپ ہم کو نہ دیں تو پھر لوگ ہم کو کبھی نہ دیں گے اور میں تو خدا کی قسم اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہرگز سوال نہ کروں گایہ حدیث صحیح بخاری کتاب المغازی اور” البدایہ والنہایہ“ میں ابن عباس سے مروی ہے اور امام احمد نے اپنی مسند میں روایت کیاہے۔
سوالات:
۱…حضرت علی(رضی الله عنہ)چھپ کر کیوں بیٹھ گئے تھے؟
۲…کیا ان دونوں کو مال و دولت کی اس قدر حرص تھی کہ بار بار ترکہ مانگتے تھے جبکہ ان کو حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے علم کرادیا تھا کہ اس مال کی حیثیت ترکے کی نہیں۔ تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔
۳…یہ جھگڑا ان دونوں کو نہ صرف مال ودولت کا حریص ثابت کرتاہے بلکہ اخلاقی پستی کی طرف بھی اشارہ ملتاہے کیونکہ گالی گلوچ شرفاء کا وطیرہ نہیں……………“۔
۴…”تین روز کے بعد آپ پر لاٹھی کی حکومت ہوگی“۔ اس عبارت کو واضح کریں۔
۵…حضرت عباس کو کیسی فکر پڑی ہے کہ خلافت ملے، نہ ملے تو وصیت ہی ہوجائے کہ ان کے مفادات محفوظ ہوجائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری اور وفات کا صدمہ اگر غالب ہوتا تو یہ خیالات اور یہ کاروائیاں کہاں ہوتیں؟
۶…خط کشیدہ الفاظ سے تو حضرت علی کاارادہ یہی ظاہر ہوتاہے کہ خواہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انکار ہی کیوں نہ کردیں ،انہیں خلافت درکار ہے اور یہ بھی کہ انہیں احتمال یہی تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منع فرمادیں گے اسی لئے کہتے ہیں کہ میں نہ سوال کروں گا(اور بعد میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے بعد اس خلافت کو حاصل کرونگا) خط کشیدہ الفاظ اگر یہ مفہوم ظاہر نہیں کرتے تو پھر کیا ظاہر کرتے ہیں؟ امید ہے کہ جواب جلد ارسال فرمائیں گے .

فقط والسلام

محمد ظہور الاسلام

Answer

سوالات پر غور کرنے سے پہلے چند امور بطور تمہید عرض کردینا مناسب ہے۔
اول: اہل حق کے نزدیک صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی کی تحقیر وتنقیص جائز نہیں۔ بلکہ تمام صحابہ کرام رضوان الله علیہم اجمعین کو عظمت ومحبت سے یاد کرنا لازم ہے۔ کیونکہ یہی اکابر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور امت کے درمیان واسطہ ہیں۔امام اعظم اپنے رسالہ ”فقہ اکبر“میں فرماتے ہیں:
”ولانذکر الصحابة(وفی نسخة ولا نذکر احدا من اصحاب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ) الابخیر“۔ (۱)
”اور ہم صحابہ کرام کو (…اور ایک نسخہ میں ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کسی کو)خیر کے سوایاد نہیں کرتے“۔
امام طحاوی اپنے”عقیدہ“میں فرماتے ہیں:
”ونحب اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ولا نفرط فی حب احد منھم ولا نتبرأ من أحد منھم ونبغض من یبغضھم وبغیر الخیر یذکرھم ولانذکرھم إلا بخیر وحبھم دین وایمان واحسان۔ وبغضھم کفر ونفاق وطغیان“۔ (۲)
”اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے محبت رکھتے ہیں۔ ان میں سے کسی کی محبت میں افراط و تفریط نہیں کرتے۔ اور نہ کسی سے برأت کا اظہار کرتے ہیں۔ اور ہم ایسے شخص سے بغض رکھتے ہیں جو ان میں سے کسی سے بغض رکھے یا ان کو نارواالفاظ سے یاد کرے۔اور ہم ان کا ذکر بھلائی کے ساتھ ہی کرتے ہیں ان سے محبت رکھنا دین وایمان اور احسان ہے۔ اور ان سے بغض رکھنا کفرونفاق اور طغیان ہے“۔
امام ابوزرعہ عبید اللہ بن عبد الکریم الرازی (المتوفی ۲۶۴ھ)کا یہ ارشاد بہت سے اکابر نے نقل کیاہے کہ:
”اذارأیت الرجل ینتقص احدا من اصحاب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فاعلم انہ زندیق۔ لان الرسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم عندنا حق۔ والقرآن حق ،وانما ادی الینا ھذا القراٰن والسنن، اصحابُ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وانما یریدون ان یجرحوا
شھودنا لیبطلوا الکتاب والسنة والجرح بھم اولیٰ، وھم زنادقة“۔ (۳)
”جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی کی تنقیص کرتاہے تو سمجھ لوکہ وہ زندیق ہے۔ اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے نزدیک حق ہیں۔ اور قرآن کریم حق ہے۔ اور قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات ہمیں صحابہ کرام نے ہی پہنچائے ہیں،یہ لوگ صحابہ کرام پر جرح کرکے ہمارے دین کے گواہوں کو مجروح کرنا چاہتے ہیں تاکہ کتاب و سنت کو باطل کر دیں۔ حالانکہ یہ لوگ خود جرح کے مستحق ہیں۔ کیونکہ وہ خود زندیق ہیں“۔
یہ تو عام صحابہ کرام علیہم الرضوان کے بارے میں اہل حق کا عقیدہ ہے جبکہ حضرت عباس اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کا شمار خواص صحابہ میں ہوتاہے۔ حضرت عباس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ”عمی وصنوابی“ فرمایا کرتے تھے۔ یعنی ”میرے چچا اور میرے باپ کی جگہ“ ۔ اور ان کا بے حد اکرام فرماتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے وسیلہ سے استسقاء(بارش کی دعاء)کرتے تھے۔ ان کے علاوہ حدیث کی کتابوں میں ان کے بہت سے فضائل ومناقب وارد ہیں۔اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے فضائل و مناقب تو حد شمار سے خارج ہیں۔ ان کے دیگر فضائل سے قطع نظر وہ اہل حق کے نزدیک خلیفہٴ راشد ہیں۔
قاضی ابوبکر بن العربی”العواصم من القواصم“میں جس کے حوالے آپ نے سوال میں درج کئے ہیں لکھتے ہیں:
”وقُتل عثمان، فلم یبق علی الأرض احق بھا من علی۔فجاء تہ علی قدر فی وقتھا ومحلھا۔ وبیَّن اللہ علی یدیہ من الاحکام والعلوم ما شاء اللہ ان یبین۔ وقد قال عمر:”لو لا علی لھلک عمر“۔ وظھر من فقھہ وعلمہ فی قتال اھل القبلة من استد عائھم ومناظرتھم۔وترک مبادرتھم والتقدم الیھم قبل نصب الحرب معھم۔ وندائہ: لانبدأ بالحرب۔ ولا یتبع مولّ ولا یجھز علی جریح ولا تھاج امراة ولا نغنم لھم مالاً وامرہ بقبول شھادتھم والصلوة خلفھم حتی قال اھل العلم: لو لا ماجری ما عرفنا قتال اھل البغي“۔ (۴)
”اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو روئے زمین پر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر کوئی خلافت کا مستحق نہیں تھا، چنانچہ نوشتہٴ الہٰی کے مطابق خلافت انہیں اپنے ٹھیک وقت میں ملی۔ اور برمحل ملی۔ اور ان کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ نے ان احکام وعلوم کا اظہار فرمایا جو اللہ تعالیٰ کو منظور تھا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا“۔ ”اگر علی نہ ہوتے توعمر ہلاک ہوجاتا“۔اور اہل قبلہ سے قتال میں ان کے علم وتفقہ میں سے بہت سے امور ظاہر ہوئے۔ مثلاً انہیں دعوت دینا۔ ان سے بحث ومناظرہ کرنا، ان سے لڑائی میں پہل نہ کرنا۔ اور ان سے جنگ کرنے سے قبل یہ اعلان کرنا کہ ہم جنگ میں ابتداء نہیں کریں گے، بھاگنے والے کا تعاقب نہیں کیا جائے گا، کسی زخمی کو قتل نہیں کیاجائے گا، کسی خاتون سے تعرض نہیں کیاجائے گا، اور ہم ان کے مال کو غنیمت نہیں بنائیں گے۔ اور آپ کا یہ حکم فرمانا کہ اہل قبلہ کی شہادت مقبول ہوگی۔ اور ان کی اقتداء میں نماز جائز ہے وغیرہ، حتی کہ اہل علم کا قول ہے کہ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اہل قبلہ سے قتال کے یہ واقعات پیش نہ آتے تو ہمیں اہل بغی کے ساتھ قتال کی صورت ہی معلوم نہ ہوسکتی“۔
پس جس طرح ایک نبی کی تکذیب پوری جماعت انبیاء کرام علیہم السلام کی تکذیب ہے۔ کیونکہ یہ دراصل وحی الہٰی کی تکذیب ہے۔ ٹھیک اسی طرح کسی ایک خلیفہٴ راشد کی تنقیص خلفائے راشدین کی پوری جماعت کی تنقیص ہے۔ کیونکہ یہ دراصل خلافت نبوت کی تنقیص ہے۔اسی طرح جماعت صحابہ میں سے کسی ایک کی تنقیص وتحقیر پوری جماعت صحابہ کی تنقیص ہے کیونکہ یہ دراصل صحبت نبوت کی تنقیص ہے۔ اسی بناء پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اللّٰہ اللّٰہ فی اصحابی لا تتخذوھم غرضا بعدی فمن احبھم فبحبی احبھم ومن ابغضھم فببغضی ابغضھم“۔ (۵)
”میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو۔ ان کو میرے بعد ہدف ملامت نہ بنالینا پس جس نے ان سے محبت کی تو میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی۔ اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض کی وجہ سے اُن سے بغض رکھا“۔
خلاصہ یہ ہے کہ ایک مسلمان کے لئے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت رکھنااورانہیں خیر کے ساتھ یاد کرنا لازم ہے۔ خصوصًاحضرات خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم جنہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نیابتِ نبوت کا منصب حاصل ہوا۔ اسی طرح وہ صحابہ کرام جن کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ عالی میں مُحب ومحبوب ہونا ثابت ہے، ان سے محبت رکھنا حب نبوی کی علامت ہے۔ اس لئے امام طحاوی اس کو دین وایمان اور احسان سے تعبیر فرماتے ہیں۔ اور ان کی تنقیص وتحقیر کو کفر ونفاق اور طغیان فرماتے ہیں۔
دوم: ایک واقعہ کے متعدد اسباب وعلل ہوسکتے ہیں۔ اور ایک قول کی متعدد توجیہات ہوسکتی ہیں۔ اس لئے ہمیں کسی واقعہ پر گفتگو کرتے ہوئے یا کسی کے قول کی توجیہہ کرتے ہوئے صاحب واقعہ کی حیثیت ومرتبہ کو ملحوظ رکھنا لازم ہوگا۔مثلاً ایک مسلمان یہ فقرہ کہتا ہے کہ مجھے فلاں ڈاکٹر سے شفا ہوئی تو قائل کے عقیدہ کے پیش نظر اس کو کلمہٴ کفر نہیں کہاجائے گا۔ لیکن یہ فقرہ اگر کوئی دہریہ کہتا ہے تو یہ کلمہ کفر ہوگا۔ یا مثلاً کسی پیغمبر کی توہین وتذلیل اور اس کی ڈاڑھی نوچنا کفر ہے لیکن جب ہم یہی واقعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں پڑھتے ہیں تو ان کی شان وحیثیت کے پیش نظر کسی کو اس کا وسوسہ بھی نہیں آتا۔
سوم: جس چیز کو آدمی اپنا حق سمجھتا ہے اس کا مطالبہ کرنا، نہ کمال کے منافی ہے اور نہ اسے حرص پر محمول کرنا صحیح ہے۔ انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بڑھ کر کون کامل ومخلص ہوگا۔ لیکن حقوق میں بعض اوقات ان کے درمیان بھی منازعت کی نوبت آتی تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان فیصلے فرماتے تھے۔ مگرنہ اس پر نکیر فرماتے تھے کہ یہ منازعت کیوں ہے؟ اور نہ حق طلبی کو حرص کہاجاتاہے۔
چہارم: اجتہادی رائے کی وجہ سے فہم میں خطا ہوجانا لائق مواخذہ نہیں۔ اور نہ یہ کمال واخلاص کے منافی ہے۔ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام باجماع اہل حق معصوم ہیں مگر اجتہادی خطا کا صدور ان سے بھی ممکن ہے، لیکن ان پر چونکہ وحی الہٰی اور عصمت کا پہرہ رہتاہے اس لئے انہیں خطاء اجتہادی پر قائم نہیں رہنے دیاجاتا۔ بلکہ وحی الہٰی فوراً انہیں متنبہ کردیتی ہے۔ انبیاء کرام علیہم السلام کے علاوہ دیگر کاملین معصوم نہیں۔ان سے خطائے اجتہادی سرزد ہوسکتی ہے۔ اور ان کا اس پر برقراررہنا بھی ممکن ہے۔ البتہ حق واضح ہوجانے کے بعد وہ حضرات بھی اپنی خطائے اجتہادی پر اصرار نہیں فرماتے بلکہ بغیر جھجھک کے اس سے رجوع فرمالیتے ہیں۔
پنجم: رائے کا اختلاف ایک فطری امر ہے اور کاملین ومخلصین کے درمیان اختلاف رائے کی وجہ سے کشاکشی اور شکر رنجی پیداہوجانا بھی کوئی مستبعد امر نہیں بلکہ روز مرہ کا مشاہدہ ہے، قیدیان بدر کے قتل یا فدیہ کے بارے میں حضرت ابوبکروحضرت عمر( رضی اللہ عنہما)کے درمیان شرعًا وعقلاً جو اختلاف رائے ہوا وہ کس کو معلوم نہیں‘ لیکن محض اس اختلاف رائے کی وجہ سے کسی کا نام دفتر اخلاص وکمال سے نہیں کاٹاگیا‘ باوجودیکہ وحی الہٰی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تائید کی اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی رائے پر…جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید حاصل تھی…رحیمانہ عتاب بھی ہوا مگر کون کہہ سکتاہے کہ اس کی وجہ سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے فضل وکمال اور صدیقیت کبریٰ میں کوئی ادنیٰ فرق بھی آیا اسی طرح بنوتمیم کا وفد جب بارگاہِ نبوی میں حاضر ہوا تو اس مسئلہ پر کہ ان کا رئیس کس کو بنایا جائے، حضرات شیخین رضی اللہ عنہما کے درمیان اختلاف رائے ہوا، جس کی بناء پر دونوں کے درمیان تلخ کلامی تک نوبت پہنچی، اور سورة حجرات کی ابتدائی آیات اس سلسلہ میں نازل ہوئیں اس کے باوجود ان دونوں بزرگوں کے قرب ومنزلت اور محبوبیت میں کوئی فرق نہیں آیا۔
الغرض اس کی بیسیوں نظیریں مل سکتی ہیں کہ انتظامی امور میں اختلاف رائے کی بناء پر کشاکشی اور تلخی تک نوبت آسکتی ہے مگر چونکہ ہر شخص اپنی جگہ مخلص ہے اس لئے یہ کشاکشی ان کے فضل وکمال میں رخنہ انداز نہیں سمجھی جاتی۔
ششم: حکومت وامارت ایک بھاری ذمہ داری ہے اور اس سے عہدہ برآ ہونا بہت ہی مشکل اور دشوار ہے اس لئے جو شخص اپنے بارے میں پورا اطمینان نہ رکھتا ہوکہ وہ اس عظیم ترین ذمہ داری سے عہدہ برآ ہوسکے گا یا نہیں اس کے لئے حکومت وامارت کی طلب شرعاً وعرفاً مذموم ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
”انکم ستحرصون علی الأمارة وستکون ندامة یوم القیامة فنعم المرضعة وبئست الفاطمة “۔ (۶)
”بے شک تم امارت کی حرص کرو گے اور عنقریب یہ قیامت کے دن سراپا ندامت ہوگی۔ پس یہ دودھ پلاتی ہے تو خوب پلاتی ہے۔ اور دودھ چھڑاتی ہے تو بری طرح چھڑاتی ہے“۔
لیکن جو شخص اس کے حقوق ادا کرنے کی اہلیت وصلاحیت رکھتا ہو اس کے لئے اس کا مطالبہ شرعاً وعقلاً جائز ہے۔ اور اگر وہ کسی خیر کا ذریعہ ہوتو مستحسن ہے۔ سیدنایوسف علیہ السلام کا ارشاد قرآن کریم میں نقل کیا ہے کہ انہوں نے شاہ مصر سے فرمایا تھا:
”اجعلنی علی خزائن الأرض انی حفیظ علیم“۔(یوسف:۵۵)
”ملکی خزانوں پر مجھ کو مامور کردو۔ میں ان کی حفاظت رکھوں گا۔ اور خوب واقف ہوں“۔
اور قرآن کریم ہی میں سید نا سلیمان علیہ الصلوٰة والسلام کی یہ دعا بھی نقل کی گئی ہے:
”رب اغفرلی وھب لی ملکا لا ینبغی لاحد من بعدی انک انت الوھاب“۔ (صٓ:۳۵)
”اے میرے رب میرا(پچھلا) قصور معاف کر اور (آئندہ کے لئے)مجھ کو ایسی سلطنت دے کہ میرے سوا(میرے زمانہ میں)کسی کو میسر نہ ہو“۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خلافت و نیابت‘ جسے اسلام کی اصطلاح میں ”خلافت راشدہ“ کہا جاتاہے۔ ایک عظیم الشان فضیلت ومنقبت اور حسب ذیل وعدہ الہٰی کی مصداق ہے:
”وعد الله الذین اٰمنوامنکم وعملوا الصٰلحٰت لیستخلفنّھم فی الارض کما استخلف الذین من قبلھم ولیمکنّن لھم دینھم الذی ارتضی لھم ولیبدّلنّھم من بعد خوفھم امنا۔ یعبدوننی لا یشرکون بی شیئا“۔(النور:۵۵)
”(اے مجموعہ امت) تم میں جو لوگ ایمان لاویں اور نیک عمل کریں ان سے اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتاہے کہ کہ ان کو (اس اتباع کی برکت سے)زمین میں حکومت عطا فرمائے گا۔ جیساان سے پہلے (اہل ہدایت) لوگوں کو حکومت دی تھی۔ اور جس دین کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے پسند کیا (یعنی اسلام) اس کو ان کے (نفع آخرت)کے لئے قوت دے گا۔ اور ان کے اس خوف کے بعد اس کو مبدل بامن کردے گا۔ بشرطیکہ وہ میری عبادت کرتے رہیں اور میرے ساتھ کسی قسم کا شرک نہ کریں“۔ (بیان القرآن)
جو شخص اس خلافت کی اہلیت رکھتا ہو اس کے لئے اس کے حصول کی خواہش مذموم نہیں۔ بلکہ اعلیٰ درجہ کے فضل وکمال کو حاصل کرنے کی فطری خواہش ہے۔ حدیث میں ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہٴ خیبر میں یہ اعلان فرمایا کہ ”میں یہ جھنڈا کل ایک ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ااس سے محبت رکھتے ہیں” تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ہر شخص اس فضیلت کو حاصل کرنے کا خواہشمند تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”ماأحببت الامارة الا یومئذ۔قال:فتساورت لھارجاء أن أدعیٰ لھا۔ قال: فدعارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی بن أبی طالب فأعطاہ إیاھا “۔ (۷)
”میں نے اس دن کے سوا امارت کو کبھی نہیں چاہا۔ پس میں اپنے آپ کو نمایاں کررہا تھا۔ اس امید پر کہ میں اس کے لئے بلایا جاؤں۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو طلب فرمایا اور وہ جھنڈا ان کو عنایت فرمایا“۔
ظاہر ہے کہ اس موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا یہ خواہش کرنا کہ امارت کا جھنڈا انہیں عنایت کیا جائے اس بشارت اور اس فضیلت کو حاصل کرنے کے لئے تھا۔ شیخ محی الدین نووی اس حدیث کے ذیل میں لکھتے ہیں:
”انما کانت محبتہ لھا لما دل علیہ الامارة من محبتہ للہ ولرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ومحبتھما لہ والفتح علی یدیہ“۔(۸)
”حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اس دن یا رات کی محبت وخواہش کرنا اس وجہ سے تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے محب ومحبوب ہونے کی دلیل تھی۔ اور اس شخص کے ہاتھ پر فتح ہونے والی تھی“۔
الغرض خلافتِ نبوت ایک غیر معمولی شرف، امتیاز اور مجموعہٴ فضائل وخواص ہے۔ جو حضرات اس کے اہل تھے اور انہیں اس کا پورا اطمینا ن تھا کہ وہ اس کے حقوق ان شاء اللہ پورے طور پر ادا کرسکیں گے ان کے دل میں اگر اس شرف وفضیلت کے حاصل کرنے کی خواہش ہو تو اس کو ”خواہش اقتدار“ سے تعبیر کرنا جائز نہیں ہوگا۔ بلکہ یہ کار نبوت میں شرکت اور جارحہ نبوی بننے کی حرص کہلائے گی۔ مسند الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں:
”ایام خلافت بقیہ ایام نبوت بودہ است۔ گویا در ایام نبوت حضرت پیغامبر صلی اللہ علیہ وسلم تصریحاً بزبان مے فرمود۔ ودرایام خلافت ساکت نشستہ بدست وسر اشارہ مے فرماید“۔ (۹)
”خلافت راشدہ کا دور دور نبوت کا بقیہ تھا۔ گویا دور نبوت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صراحتاً ارشادات فرماتے تھے۔ اور دور خلافت میں خاموش بیٹھے ہاتھ اور سر کے اشارے سے سمجھاتے تھے“۔
ان مقدمات کو اچھی طرح ذہن نشین کرلینے کے بعد اب اپنے سوالات پر غور فرمائیے:
۱-حضرت علی رضی اللہ عنہ کا گھر میں بیٹھ جانا:
قاضی ابوبکر بن العربی نے پہلا قاصمہ (کمر توڑحادثہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کو قرار دیا ہے۔ اور اس سلسلہ میں لکھا ہے کہ اس ہوش ربا سانحہ کی وجہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ گھر میں چھپ کر بیٹھ گئے تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر سکتہ طاری ہوگیا تھا۔اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر وارفتگی کی سی کیفیت طاری ہوگئی تھی۔وغیرہ وغیرہ۔
اس پوری عبارت سے واضح ہوجاتاہے کہ اس قیامت خیز سانحہ کے جواثرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر مرتب ہوئے قاضی ابوبکر بن العربی ان اثرات کو ذکر کرہے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر اس حادثہ کا یہ اثر ہوا تھا کہ وہ گھر میں عزلت نشین ہوگئے تھے۔
آپ نے بہت سے لوگوں کو دیکھا ہوگا کہ کسی محبوب ترین شخصیت کی رحلت کے بعد جہان ان کے لئے تیرہ وتار ہوجاتاہے۔ان کی طبیعت پرانقباض وافسردگی طاری ہوجاتی ہے۔ اور دل پر ایک ایسی گرہ بیٹھ جاتی ہے جو کسی طرح نہیں کھلتی۔ ان کی طبیعت کسی سے ملنے یا بات کرنے پر کسی طرح آمادہ نہیں ہوتی۔ وہ کسی قسم کے جزع فزع یا بے صبری کا اظہار نہیں کرتے لیکن طبیعت ایسی بجھ جاتی ہے کہ مدتوں تک معمول پر نہیں آتی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی محبوب اس خطہٴ ارضی پرنہیں ہوا اور صحابہ کرام رضوان الله علیھم اجمعین سے بڑھ کرکوئی عاشقِ زار اس چشم فلک نے نہیں دیکھا ہمیں تو ان اکابر کے صبر وتحمل پر تعجب ہے کہ انہوں نے اس عشق ومحبت کے باوجود یہ حادثہ عظیمہ کیسے برداشت کرلیا، لیکن آپ اُنہیں عُشاق کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ وہ گھر میں چھپ کرکیوں بیٹھ گئے تھے؟
راقم الحروف نے اپنے اکابر کودیکھاہے کہ جب درسِ حدیث کے دوران آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے سانحہ کبریٰ کاباب شروع ہوتا تو آنکھوں سے اشکہائے غم کی جھڑی لگ جاتی، آواز گلوگیر ہوجاتی اور بسا اوقات رونے کی ہچکیوں سے گھگھی بندھ جاتی ……جب چودہ سو سال بعد اس حادثہ جانکاہ کا یہ اثر ہے تو جن عُشاق کی آنکھوں کے سامنے یہ سب کچھ بیت گیا، سوچنا چاہئے کہ ان کا کیا حال ہوا ہوگا۔
رفتم وازرفتن من عالمے ویران شد من مگر شمعم چوں رفتم بزم برہم ساختم
خاتون جنت، جگر گوشہٴ رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)حضرت فاطمة الزہراء رضی اللہ عنہا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خادمِ خاص حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتی تھیں”انس تم نے کیسے گوارا کرلیا کہ تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر مٹی ڈالو“ (۱۰)
اور مسند احمد کی روایت میں ہے تم نے کیسے گوارا کرلیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کرکے خود لوٹ آؤ(حیاة الصحابہ،ص۳۲۸) (۱۱)
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کی خبر ہوئی تو فرمایا آہ! میری کمر ٹوٹ گئی۔ صحابہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر مسجد میں پہنچے مگر کسی کو توقع نہ تھی کہ وہ مسجد تک آسکیں گے(حیاة الصحابہ،ج۔۲،ص۔۳۲۳)(۱۲)
اگر ہم درد کی اس لذّت اور محبت کی اس کسک سے ناآشنا ہیں تو کیا ہم سے یہ بھی نہیں ہوسکتا کہجن حضرات پر یہ قیامت گذر گئی تو ہم ان کو معذور ہی سمجھ لیں۔
اور پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے گھر میں بیٹھ جانے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ جمعہ، جماعت اور دینی ومعاشرتی حقوق وفرائض ہی کو چھوڑ بیٹھے تھے۔ شیخ محب الدین الخطیب”حاشیہ العواصم“میں لکھتے ہیں:
”واضاف الحافظ ابن کثیر فی البدایة والنھایة(۵:۲۴۹)أن علیا لم ینقطع عن صلاة من الصلوات خلف الصدیق وخرج معہ الی ذی القصة لما خرج الصدیق شاھرا سیفہ یرید قتال اھل الردة“۔ (۱۳)
”اور حافظ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں اس پر اتنا اضافہ کیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نماز پڑھنے کا سلسلہ ترک نہیں فرمایا تھا، نیز جب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مرتدّین سے قتال کرنے کے لئے تلوار سونت کر ”ذی القصہ“تشریف لے گئے تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ بھی ان کے ساتھ نکلے تھے“۔
پس جب آپ سے نہ دین و معاشرتی فرائض میں کوتاہی ہوئی اور نہ نصرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ میں ان سے کوئی ادنیٰ تخلف ہوا تو کیا اس بناء پر کہ شدت غم کی وجہ سے ان پر خلوت نشینی کا ذوق غالب آگیاتھا، آپ انہیں مورد الزام ٹھہرائیں گے؟
۲-طلب میراث:
جہاں تک بار بار ترکہ مانگنے کا تعلق ہے، یہ محض غلط فہمی ہے۔ ایک بار صدیقی دور میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ترکہ ضرور مانگا تھا۔ اور بلاشبہ یہ ان کی اجتہادی رائے تھی جس میں وہ معذور تھے اسے اپنا حق سمجھ کر مانگ رہے تھے، اس وقت نص نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ”لا نورث ما ترکناہ صدقة“ ”ہماری وراثت جاری نہیں ہوتی جو کچھ ہم چھوڑ کر جائیں وہ صدقہ ہے“ کا یا تو انکو علم نہیں ہوگا۔ یا ممکن ہے کہ حادثہ وصال نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے انکو ذہول ہوگیا ہو جس طرح اس موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو آیت ”وما محمد الا رسول“ سے ذہول ہوگیا تھا۔ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب یہ آیت(دیگر آیات کے ساتھ)برسرمنبرتلاوت فرمائی تو انہیں ایسا محسوس ہوا گویا یہ آیت آج ہی نازل ہوئی تھی۔ الغرض ان اکابر کا ترکہ طلب کرنا، نہ مال کی حرص کی بناء پر تھا۔ اور نہ یہ ثابت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اس ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سننے کے بعد انہوں نے دوبارہ کبھی مطالبہ دہرایا ہو، یا انہوں نے اس حدیث میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ سے کوئی منازعت فرمائی ہو۔ قاضی ابوبکر بن العربی لکھتے ہیں:
”وقال لفاطمة وعلی والعباس: ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:لا نورث۔ ماترکنا صدقة۔ فذکر الصحابة ذالک“۔ (۱۴)
”اور حضرت صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرات فاطمہ،علی اور عباس رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”ہماری وراثت جاری نہیں ہوتی۔ ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔ تب دیگر صحابہ نے بھی یہ حدیث ذکر کی“۔
اس کے حاشیہ میں شیخ محب الدین الخطیب لکھتے ہیں:
”قال شیخ الاسلام ابن تیمیة فی منھاج السنة (۲/۱۵۸)قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم: لا نورث۔ ماترکنا صدقة“ رواہ عنہ ابوبکر وعمر وعثمان، وعلی،وطلحة والزبیر،وسعد وعبد الرحمن بن عوف،و العباس بن عبد المطلب ، وازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم وابوھریرة۔ والروایة عن ھٰولاء ثابتة فی الصحاح والمسانید“۔ (۱۵)
”شیخ الاسلام ابن تیمیہ منہاج السنة میں لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ ”ہماری وراثت جاری نہیں ہوتی۔ ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے“ ۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مندرجہ ذیل حضرات روایت کرتے ہیں۔ حضرت ابوبکر ،عمر، عثمان،علی ،طلحہ،زبیر،سعد،عبدالرحمن بن عوف،عباس بن عبدالمطلب، ازواج مطہرات،اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم اجمعین اور ان حضرات کی احادیث صحاح و مسانید میں ثابت ہیں“۔
اس سے واضح ہے کہ حدیث: ”لانورث، ماترکناہ صدقة“ کو خود حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما بھی روایت کرتے ہیں اس لئے یا تو ان کو اس سے پہلے اس حدیث کا علم نہیں ہوگا۔ یا وقتی طور پر ذہول ہوگیا ہوگا۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس حدیث کے مفہوم میں کچھ اشتباہ ہوا ہو اور وہ اسکو صرف منقولات کے بارے میں سمجھتے ہوں۔
بہر حال حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے متنبہ کردینے کے بعد انہوں نے نہ اس حدیث میں کوئی جرح وقدح فرمائی۔ نہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے منازعت کی۔ بلکہ اپنے موٴقف سے دستبردار ہوگئے۔ اور یہ ان موٴمنین قانتین کی شان ہے جن میں نفسانیت کا کوئی شائبہ نہیں ہوتا۔
الغرض ”بار بار ترکہ مانگنے“ کی جو نسبت ان اکابر کی طرف سوال میں کی گئی ہے وہ صحیح نہیں‘ ایک بار انہوں نے مطالبہ ضرور کیا تھا جس میں وہ معذور تھے۔ مگر وضوح دلیل کے بعد انہوں نے حق کے آگے سر تسلیم خم کردیا۔ البتہ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دورخلافت میں یہ درخواست ضرور کی تھی کہ ان اوقاف نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تولیت ان کے سپرد کردی جائے۔حضرت عمررضی الله عنہ کو اولاًاس میں کچھ تأمل ہوا لیکن بعد میں ان کی رائے بھی یہی ہوئی اور یہ اوقاف ان کی تحویل میں دیدئیے گئے، بعد میں ان اوقاف کے انتظامی امور میں ان کے درمیان منازعت کی نوبت آئی تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت علی کی شکایت کی(جس کاتذکرہ سوال سوم میں کیا گیا ہے)اور حضرت عمررضی اللہ عنہ سے درخواست کی کہ یہ اوقاف تقسیم کرکے دونوں کی الگ الگ تولیت میں دے دیئے جائیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ درخواست مسترد فرمادی۔ صحیح بخاری میں مالک بن اوس بن حدثان رضی اللہ عنہ کی طویل روایت کئی جگہ ذکر کی گئی ہے“۔
”باب فرض الخمس“میں ان کی روایت کے متعلقہ الفاظ یہ ہیں:
”ثم جئتمانی تکلمانی وکلمتکما واحدة وأمرکما واحد جئتنی یا عباس تسئالنی نصیبک من ابن اخیک وجاء نی ھذا(یرید علیا)یریدنصیب امرأتہ من ابیھا۔ فقلت لکما: ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:”لانورث، ماترکنا صدقة“ فلما بدالی ان ادفعہ الیکما قلت: ان شئتما دفعتھا الیکما علی ان علیکما عھد اللہ ومیثاقہ لتعملان فیھا بما عمل فیھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وبما عمل فیھا ابوبکر وبما عملت فیھا منذ ولیتھا، فقلتما: ادفعھا الینا، فبذالک دفعتھا الیکما۔ فانشدکم باللہ ھل دفعتھا الیھما بذالک؟ قال الرھط:نعم ۔ ثم اقبل علیٰ علی وعباس فقال: انشد کما باللہ ھل دفعتھا الیکما بذالک، قالا:نعم۔ قال:فتلتمسان منی قضاءً غیرذالک؟ فو اللہ الذی باذنہ تقوم السماء والارض لا اقضی فیھا قضاءً غیر ذالک، فان عجزتما عنھا فادفعاھا الیّ فانی اکفیکماھا“۔ (۱۶)
”حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا‘ پھر تم دونوں میرے پاس آئے درآنحالیکہ تمہاری بات ایک تھی۔ اور تمہارامعاملہ ایک تھا۔ اے عباس! تم میرے پاس آئے تم مجھ سے اپنے بھتیجے (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم)سے حصہ مانگ رہے تھے اور یہ صاحب یعنی حضرت علیاپنی بیوی کا حصہ ان کے والد سے مانگ رہے تھے۔ پس میں نے تم سے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ”ہماری وراثت جاری نہیں ہوتی۔ ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے“۔ پھر میری رائے ہوئی کہ یہ اوقاف تمہارے سپرد کردیئے جائیں۔ چنانچہ میں نے تم سے کہا کہ اگر تم چاہو تو میں تمہارے سپرد کئے دیتا ہوں مگرتم پر اللہ تعالیٰ کا عہد ومیثاق ہوگا کہ تم ان میں وہی معاملہ کروگے جورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے۔ اور جو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا۔ اور جو میں نے کیا جب سے یہ میری تولیت میں آئے ہیں۔ تم نے کہا کہ ٹھیک ہے یہ آپ ہمارے سپرد کردیجئے چنانچہ اسی شرط پر میں نے یہ اوقاف تمہارے سپرد کئے۔ پھر حاضرین سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا میں نے اسی شرط پر ان کے سپرد کئے تھے یا نہیں”سب نے کہا جی ہاں! پھر حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا‘ میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا میں نے یہ اوقاف اسی شرط پر تمہاری تحویل میں دیئے تھے یا نہیں؟ دونوں نے کہا جی ہاں! اسی شرط پر دیئے تھے۔ فرمایا‘ اب تم مجھ سے اور فیصلہ چاہتے ہو(کہ دونوں کو الگ الگ حصہ تقسیم کرکے دے دوں)پس قسم ہے اس اللہ تعالیٰ کی جس کے حکم سے زمین وآسمان قائم ہیں میں اس کے سوا تمہارے درمیان کوئی فیصلہ نہیں کروں گا۔اب اگر تم ان اوقاف کی تولیت سے عاجز آگئے ہو تو میرے سپرد کردو۔ میں ان کے معاملہ میں تمہاری کفایت کروں گا۔
اس روایت کے ابتدائی الفاظ سے یہ وہم ہوتاہے کہ ان دونوں اکابر نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پھر میراث کا مطالبہ کیا تھا۔مگر سوال و جواب اور اس روایت کے مختلف ٹکڑوں کو جمع کرنے کے بعد مراد واضح ہوجاتی ہے کہ اس مرتبہ ان کا مطالبہ تکہ نہیں تھابلکہ ان کے نزدیک یہ حقیقت مسلم تھی کہ ان اراضی کی حیثیت وقف کی ہے۔ اور وقف میں میراث جاری نہیں ہوتی۔ اس بار ان کا مطالبہ ترکہ کانہیں تھا۔ بلکہ وہ یہ چاہتے تھے کہ اس کی تولیت ان کے سپرد کردی جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اولاً اس میں تامل ہوا کہ کہیں یہ تولیت بھی میراث ہی نہ سمجھ لی جائے ۔ لیکن غوروفکر کے بعد ان حضرات کی درخواست کو آپ نے قبول فرمالیا اور یہ اوقاف ان دونوں حضرات کے سپرد کردیئے گئے پھر جس طرح انتظامی امور میں متولیان وقف میں اختلاف رائے ہوجاتاہے ان کے درمیان بھی ہونے لگا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ علم وفقاہت میں چونکہ فائق تھے اس لئے وہ اپنی رائے کو ترجیح دیتے تھے گویا عملی طور پر بیشتر تصرف ان اوقاف میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا چلتا تھااور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے تصرفات مغلوب تھے اس سے ان کو شکایت پیدا ہوئی اور انہوں نے دوبارہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مطالبہ کیا کہ ان اوقاف کو تقسیم کرکے ہر ایک کا زیر تصرف حصہ الگ کردیا جائے۔ مگر حضرت عمر نے یہ مطالبہ تسلیم نہیں کیا بلکہ یہ فرمایا کہ یا تو اتفاق رائے سے دونوں اس کا انتظام چلاؤ۔ ورنہ مجھے واپس کردو میں خود ہی اس کا انتظام کرلوں گا۔
اور علی سبیل التنزل یہ فرض کرلیا جائے کہ یہ حضرات، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھی پہلی بار طلب ترکہ ہی کے لئے آئے تھے تب بھی ان کے موٴقف پر کوئی علمی اشکال نہیں۔اور نہ ان پر مال ودولت کی حرص کا الزام عائد کرنادرست ہے بلکہ یوں کہا جائے گا کہ ان کو حدیث کی تاویل میں اختلاف تھا۔ جیسا کہ”بخاری شریف“کے حاشیہ میں اس کی تفصیل ذکر کی گئی ہے۔
شرح اس کی یہ ہے کہ حدیث: ”لانورث، ماترکناہ صدقة“۔ تو ان کے نزدیک بھی مسلم تھی، مگر وہ اس کو صرف منقولات کے حق میں سمجھتے تھے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کو منقولات وغیر منقولات سب کے حق میں عام قراردیا۔بلا شبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے حدیث کا جو مطلب سمجھا وہی صحیح تھا۔لیکن جب تک ان حضرات کو اس مفہوم پر شرح صدر نہ ہوجاتا ان کو اختلاف کرنے کا حق حاصل تھا۔ اس کی نظیر مانعینِ زکوٰة کے بارے میں حضرات شیخین کا مشہور مناظرہ ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے بار بار کہتے تھے:
”کیف تقاتل الناس؟ وقد قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: امرت ان اقاتل الناس حتی یقولوا لا الٰہ الا الله۔ فمن قالھا فقد عصم منی مالہ ونفسہ الا بحقہ وحسابہ علی الله‘۔ (۱۷)
”آپ ان لوگوں سے کیسے قتال کرسکتے ہیں جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ مجھے حکم ہواہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک وہ ”لا الٰہ الا اللہ“ کے قائل ہوجائیں پس جو شخص اس کلمہ کا قائل ہوگیا اس نے مجھ سے اپنا مال اور اپنی جان محفوظ کرلی۔ مگر حق کے ساتھ اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ کا ذمہ ہے“۔
یہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ایک حدیث کا مفہو م سمجھنے میں دقت پیش آرہی ہے۔ اور وہ حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کے موٴقف کو خلاف حدیث سمجھ کر ان سے بحث واختلاف کرتے ہیں تاآنکہ الله تعالیٰ نے ان پر بھی ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ مفہوم کھول دیا جو حضرت صدیق اکبر پر کھلا تھا۔ جب تک انہیں شرح صدر نہیں ہوا انہوں نے حضرت صدیق رضی اللہ عنہ سے نہ صرف اختلاف کیا۔ بلکہ بحث ومناظرہ تک نوبت پہنچی۔
ٹھیک اسی طرح ان حضرات کو بھی حدیث ”لانورث، ما ترکناہ صدقة“۔ میں جب تک شرح صدر نہیں ہوا کہ اس کا مفہوم وہی ہے جو حضرت صدیق رضی اللہ عنہ نے سمجھا تب تک ان کو اختلاف تھا۔ اور ان کامطالبہ ان کے اپنے اجتہاد کے مطابق بجا اور درست تھا۔ لیکن بعد میں ان کو بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرح شرح صدر ہوگیا۔ اور انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے موٴقف کو صحیح اور درست تسلیم کرلیا۔ جس کی واضح دلیل یہ ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اپنے دور خلافت میں ان اوقاف کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں فرمائی۔ بلکہ ان کی جو حیثیت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ متعین کرگئے تھے اسی کو برقرار رکھا۔ اگر ان کو حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کے موٴقف پر شرح صدر نہ ہوا ہوتا تو ان اوقاف کی حیثیت تبدیل کرنے سے انہیں کوئی چیز مانع نہ ہوتی۔
خلاصہ یہ کہ مطالبہٴ ترکہ ان حضرات کی طرف سے ایک بار ہوا بار بارنہیں، اور اس کو مال و دولت کی حرص سے تعبیر کرنا کسی طرح بھی زیبانہیں۔ اس کو اجتہادی رائے کہہ سکتے ہیں اور اگر وہ اس سے رجوع نہ بھی کرتے تب بھی لائقِ ملامت نہ تھے۔ اب جبکہ انہوں نے اس سے رجوع بھی کرلیا تو یہ ان کی بے نفسی وللّٰہیت کی ایک اعلیٰ ترین مثال ہے۔ اس کے بعد بھی ان حضرات پر لب کشائی کرنا نقص علم کے علاوہ نقص ایمان کی بھی دلیل ہے۔
۳-حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما کی منازعت:
اس منازعت کا منشاء اوپر ذکر کیا جاچکاہے۔ اور اسی سے یہ بھی معلوم ہوچکاہے کہ یہ منازعت کسی نفسانیت کی وجہ سے نہیں تھی۔ نہ مال ودولت کی حرص سے اس کا تعلق ہے۔ بلکہ اوقاف کے انتظام وانصرام میں رائے کے اختلاف کی بناء پر حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے وقتی طور پر شکایت پیدا ہوگئی تھی۔ اور جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکاہے ایسا اختلاف رائے نہ مذموم ہے نہ فضل وکمال کے منافی ہے۔جہاں تک حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے ان الفاظ کا تعلق ہے جو سوال میں نقل کئے گئے ہیں۔ اور جن کے حوالے سے نعوذ باللہ ان پر اخلاقی پستی کا فتویٰ صادر کیا گیاہے۔ تو سائل نے یہ الفاظ تو دیکھ لئے مگر یہ نہیں سوچا کہ یہ الفاظ کس نے کہے تھے۔ کس کو کہے تھے۔ اور ان دونوں کے درمیان خوردی وبزرگی کا رشتہ کیا تھا۔اور عجیب تر یہ کہ قاضی ابوبکر بن العربی کی جس کتاب کے حوالے سے یہ الفاظ نقل کئے گئے ہیں اسی کتاب میں خود موصوف نے جو جواب دیاہے اسے بھی نظر انداز کردیا گیا۔ ابوبکر بن العربی ”العواصم“ میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے ان الفاظ کو نقل کرکے لکھتے ہیں:
”قلنا: اما قول العباس لعلی فقول الأب للابن، وذلک علی الرأس محمول۔ وفی سبیل المغفرة مبذول۔ وبین الکبار والصغار… فکیف الاٰباء والابناء مغفور موصول“۔ (۱۸)
”ہم کہتے ہیں کہ حضرت علی کے بارے میں حضرت عباس کے الفاظ بیٹے کے حق میں باپ کے الفاظ ہیں، جو سر آنکھوں پر رکھے جاتے ہیں، اور سبیل مغفرت میں صرف کئے جاتے ہیں، بڑے اگر چھوٹوں کے حق میں ایسے الفاظ استعمال کریں تو انہیں لائق مغفرت اور صلہ رحمی پر محمول کیا جاتاہے چہ جائیکہ باپ کے الفاظ بیٹے کے حق میں “۔
اور ”العواصم“ ہی کے حاشیہ میں”فتح الباری“کے حوالے سے لکھا ہے:
”قال الحافظ: ولم ارفی شیئی من الطرق انہ صدر من علی فی حق العباس شیئی۔ بخلاف مایفھم من قولہ فی روایة عقیل ”استبَّا“ واستصوب المازری صنیع من حذف ھذہ الألفاظ من ھذا الحدیث۔ وقال: لعل بعض الرواة وھم فیھا۔ وان کانت محفوظة فاجود ما تحمل علیہ ان العباس قالھا دلالا علیٰ علی لانہ کان عندہ بمنزلة الولد، فاراد ردعہ عما یعتقد انہ مخطئی فیہ“۔ (۱۹)
”حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ کسی روایت میں میری نظر سے نہیں گذرا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جانب سے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے حق میں کچھ کہا گیا ہو۔ بخلاف اس کے جو عقیل کی روایت میں”استبَّا“کے لفظ سے سمجھا جاتاہے۔ اور مازری نے ان راویوں کے طرز عمل کو درست قرار دیاہے جنہوں نے اس حدیث میں ان الفاظ کے ذکر کو حذف کردیاہے۔ مازری کہتے ہیں غالباً کسی راوی کووہم ہواہے اور اس نے غلطی سے یہ الفاظ نقل کردیئے ہیں۔ اور اگر یہ الفاظ محفوظ ہوں تو ان کا عمدہ ترین محمل یہ ہے کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے یہ الفاظ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر ناز کی بناء پرکہے۔ کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حیثیت ان کے نزدیک اولاد کی تھی۔ اس لئے پر زور الفاظ میں ان کو ایسی چیز سے روکنا چاہاجس کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ غلطی پر ہیں“۔
حافظ کی اس عبارت سے مندرجہ ذیل امور منقح ہوگئے:
اوّل: حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جانب سے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے حق میں کوئی نامناسب لفظ سرزد نہیں ہوا۔ اور عقیل کی روایت میں ”استبّا“کے لفظ سے جو اس کا وہم ہوتاہے وہ صحیح نہیں۔
دوم: حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے جو الفاظ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حق میں نقل کئے گئے ہیں۔ ان میں بھی راویوں کا اختلاف ہے۔ بعض ان کو نقل کرتے ہیں۔ اور بعض نقل نہیں کرتے۔ حافظ ، مازری کے حوالے سے ان راویوں کی تصویب کرتے ہیں جنہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کئے۔ اور جن راویوں نے نقل کئے ہیں ان کا تخطیہ کرتے ہیں اور اسے کسی راوی کا وہم قرار دیتے ہیں۔
سوم: بالفرض یہ الفاظ محفوظ بھی ہوں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حیثیت چونکہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے سامنے بیٹے کی ہے…اور والدین، اولاد کے حق میں اگر ازراہ عتاب ایسے الفاظ استعمال کریں تو ان کو بزرگانہ ناز پر محمول کیا جاتاہے۔ نہ کوئی عقلمند ان الفاظ کو ان کی حقیقت پر محمول کیا کرتاہے اور نہ والدین سے ایسے الفاظ کے صدور کو لائقِ ملامت تصور کیا جاتاہے۔ اس لئے حضرت عباس کے یہ الفاظ بزرگانہ نازپر محمول ہیں۔
تمہیدی نکات میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ کی طرف اشارہ کرچکا ہوں۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے اس واقعہ کو موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ سے ملا کر دیکھئے۔ کیا یہ واقعہ اس واقعہ سے بھی زیادہ سنگین ہے؟ اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس عتاب وغضب سے ان کے مقام ومرتبہ پر کوئی حرف نہیں آتاتو اگر حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کے حق میں اپنے مقام ومرتبہ کے لحاظ سے کچھ الفاظ استعمال کرلئے تو ان پر (نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ)اخلاقی پستی کا فتویٰ صادر کرڈالنا میں نہیں سمجھتا کہ دین و ایمان یا عقل ودانش کا کونسا تقاضہ ہے؟ بلا شبہ گالی گلوچ شرفاء کاوطیرہ نہیں، مگر یہاں نہ تو بازاری گالیاں دی گئیں تھیں۔ اور نہ کسی غیر کے ساتھ سخت کلامی کی گئی تھی کیا اپنی اولاد کو سخت الفاظ میں عتاب کرنا بھی وطیرہ شرفاء سے خارج ہے؟ اور پھر حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا وارد ہے:
”اللّٰھم انی اتخذ عندک عھداً لن تخلفنیہ۔ فانما انا بشرفأیّ الموٴمنین اٰذیتہ شتمتہ لعنتہ جلدتہ فاجعلھا لہ صلوٰة وزکوٰة وقربة تقربہ بھا الیک یوم القیامة“۔ (۲۰)
”اے اللہ! میں آپ سے ایک عہد لینا چاہتاہوں۔ آپ میرے حق میں اس کو ضرور پورا کردیجئے۔ کیونکہ میں بھی انسان ہی ہوں۔ پس جس مومن کو میں نے ستایا ہو، اسے کوئی نامناسب لفظ کہا ہو۔ اس پر لعنت کی ہو۔ اس کو مارا ہو، آپ اس کو اس شخص کے حق میں رحمت وپاکیزگی اور قربت بنادیجئے۔ کہ اس کی بدولت اس کو قیامت کے دن اپنا قرب عطا فرمائیں“۔
اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف ”سب وشتم“ کی نسبت فرمائی ہے جس سے مراد یہ ہے کہ اگر کسی مسلمان کے حق میں میری زبان سے ایسا لفظ نکل گیا ہو جس کا وہ مستحق نہیں تو آپ اس کو اس کے لئے رحمت وقربت کاذریعہ بنادیجئے۔ کیا اس کا ترجمہ گالی گلوچ کرکے نعوذ باللہ آپ پر بھی اخلاقی پستی کی تہمت دھری جائے گی اور اسے وطیرہ شرفاء کے خلاف کہا جائے گا؟ حق تعالیٰ شانہ سخن فہمی اور مرتبہ شناسی کی دولت سے کسی مسلمان کو محروم نہ فرمائے۔
۴- لاٹھی کی حکومت:
حدیث کے اصل الفاظ یہ ہیں:
”انت والله بعد ثلث عبد العصا“
(بخدا تم تین دن بعد محکوم ہوگے)”صحیح بخاری“ کے حاشیہ میں ”عبد العصا“ کے تحت لکھا ہے:
”کنایة عن صیرورتہ تابعا لغیرہ۔ کذا فی التوشیح قال فی الفتح والمعنی :انہ یموت بعد ثلث وتصیر انت مامورا علیک۔ وھذا من قوة فراسة العباس“۔ (۲۱)
”یہ اس سے کنایہ ہے کہ وہ دوسروں کے تابع ہوں گے۔” توشیح“میں اسی طرح ہے حافظ فتح الباری میں لکھتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ تین دن بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوجائے گا۔ اور تم پر دوسروں کی امارت ہوگی۔ اور یہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی قوت فراست تھی“۔
خلاصہ یہ ہے کہ ”عبد العصا“ جس کا ترجمہ‘ ترجمہ نگار نے ”لاٹھی کی حکومت“ کیاہے۔ مراد اس سے یہ ہے کہ تم محکوم ہوگے اورتمہاری حیثیت عام رعایا کی سی ہوگی۔ یہاں یہ عرض کردینا ضروری ہے کہ کنائی الفاظ میں لفظی ترجمہ مراد نہیں ہوتا اور اگر کہیں لفظی ترجمہ گھسیٹ دیا جائے تو مضمون بھونڈا بن جاتاہے، اور قائل کی اصل مراد نظروں سے اوجھل ہوجاتی ہے۔مثلاً عربوں میں ”فلان کثیر الرماد“ کا لفظ سخاوت سے کنایہ ہے۔ اگر اس کا لفظی ترجمہ گھسیٹ دیا جائے کہ ”فلاں کے گھر راکھ کے ڈھیر ہیں“ تو جو شخص اصل مراد سے واقف نہیں وہ راکھ کے ڈھیر تلے دب کر رہ جائے گا اور اسے یہ فقرہ مدح کے بجائے مذمت کا آئینہ دار نظر آئے گا…یہی حال ”عبد العصا“ کا بھی سمجھنا چاہئے۔ ترجمہ کرنے والے نے اس کا لفظی ترجمہ کرڈالا۔ اور عام قارئین چونکہ عربوں کے محاورات اور لفظ کی اس” کنائی مراد“سے واقف نہیں اس لئے انہیں لاٹھیوں کی بارش کے سواکچھ نظر نہیں آئے گا۔ ایک حدیث میں آتاہے:
”لا ترفع عنھم عصاک ادباً “(۲۲)
(اپنے گھر والوں سے کبھی لاٹھی ہٹاکر نہ رکھو) صاحب مجمع البحار اس کی شرح میں لکھتے ہیں:
”ای: لا تدع تادیبھم وجمعھم علی طاعة اللہ تعالیٰ، یقال: شق العصا‘ ای: فارق الجماعة، ولم یرد الضرب بالعصا، ولکنہ مثل…لیس المراد بالعصا المعروفة بل اراد الادب وذا حاصل بغیر الضرب“۔ (۲۳)
”یعنی ان کی تادیب اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طاعت پر جمع کرنے کا کام کبھی نہ چھوڑو، محاورے میں کہا جاتاہے کہ فلاں نے ”لاٹھی چیرڈالی“ یعنی جماعت سے الگ ہوگیا۔ یہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد لاٹھی سے مراد مارنا نہیں، بلکہ یہ ایک ضرب المثل ہے…یہاں”عصا“سے معروف لاٹھی مراد نہیں۔ بلکہ ادب سکھانا مراد ہے۔ اور یہ مارنے پیٹنے کے بغیر بھی ہوسکتاہے“۔
اسی طرح ”عبد العصا“ میں بھی معروف معنوں میں لاٹھی مراد نہیں۔ نہ لاٹھی کی حکومت کا یہ مطلب ہے کہ وہ حکومت لاٹھیوں سے قائم ہوگی یا قائم رکھی جائے گی۔ بلکہ خود حکومت واقتدار ہی کو ”لاٹھی“ سے تعبیر کیا گیاہے، اور مطلب یہ ہے کہ تم دوسروں کی حکومت کے ماتحت ہوگے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عزیز وخویش اور آپ کے پروردہ تھے، اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر سایہ ان کی حیثیت گویا ایک طرح سے شہزادے کی تھی (اگر یہ تعبیر سوء ادب نہ ہو)حضرت عباس انکو جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ تین دن بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہٴ عاطفت اُٹھتا محسوس ہورہاہے۔ اس کے بعد تمہاری حیثیت …ملت اسلامیہ کے عام افراد کی سی ہوگی۔
۵-حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا مشورہ:
# قاضی ابوبکرکی کتاب ”العواصم من القواصم“ میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے الفاظ اس طرح نقل کئے گئے ہیں:
”اذھب بنا الی رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم فلنسألہ فیمن یکون ھذا الامر بعدہ۔ فان کان فینا علمنا ذلک۔ وان کان فی غیرنا علمنا، فاوصیٰ بنا“۔ (۲۴)
”چلو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں چلیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کریں کہ آپ کے بعد یہ امر خلافت کس کے پاس ہوگا؟ پس اگر ہمارے پاس ہو تو ہمیں معلوم ہوجائے گا۔ اور اگر کسی دوسرے کے پاس ہوا تب بھی ہمیں معلوم ہوجائے گا۔ اس صورت میں آپ ہمارے حق میں وصیت فرمائیں گے“۔
اور یہ بعینہ صحیح بخاری کے الفاظ ہیں۔(۲۵) آپ نے اول تو خط کشیدہ الفاظ کا ترجمہ ہی صحیح نہیں کیا۔ معلوم نہیں کہ یہ ترجمہ جناب نے خود کیا ہے۔ یا کسی اور کا ترجمہ نقل کیاہے۔
دوم : یہ ہے کہ اہل علم آج تک صحیح بخاری پڑھتے پڑھاتے آئے ہیں مگر حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے ان الفاظ میں ان کو کبھی اشکال پیش نہیں آیا۔ خود قاضی ابوبکر بن العربی اس روایت کو نقل کر کے لکھتے ہیں:
”رأی العباس عندی اصح۔ واقرب الی الاٰخرة۔ والتصریح بالتحقیق۔ وھذا یبطل قول مدعی الاشارة: باستخلاف علی، فکیف ان یدعی فیہ نص“؟(۲۶)
”حضرت عباس کی رائے میرے نزدیک زیادہ صحیح اور آخرت کے زیادہ قریب ہے۔ اور اس میں تحقیق کی تصریح ہے اور اس سے ان لوگوں کا قول باطل ہوجاتاہے جو دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلیفہ بنائے جانے کا اشارہ فرمایا تھا۔ چہ جائیکہ اس باب میں نص کا دعویٰ کیا جائے“۔
انصاف فرمائیے کہ جس رائے کو ابوبکر بن العربی زیادہ صحیح اور” اقرب الی الاخرة“فرمارہے ہیں، آپ انہی کی کتاب کے حوالے سے اسے ”خلافت کی فکر پکڑنے“ سے تعبیر کرکے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ اور آپ کا یہ خیال بھی آپ کاسوء ظن ہے کہ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری اور وفات کا صدمہ اگر غالب ہوتا تو یہ خیالات اور یہ کاروائیاں کہاں ہوتیں“…خود آپ نے جو روایت نقل کی ہے اس میں تصریح ہے کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے یہ اندازہ لگایا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحت مایوسی کی حد میں داخل ہوچکی ہے۔ اور آپ اپنے خدام کو داغ مفارقت دینے والے ہیں‘ عین اس حالت میں اگر کوئی شخص یہ چاہتاہے کہ جو امور اختلاف ونزاع اور امت کے شقاق وافتراق کاموجب ہوسکتے ہیں۔ ان کا تصفیہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے کرالینا مناسب ہے۔ تاکہ بعد میں شورش وفتنہ نہ ہو تو آپ کا خیال ہے کہ وہ بڑا ہی سنگ دل ہے، اس کو ذرابھی نہ آنحضرت ص