بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 ستمبر 2019 ء

بینات

 
 

پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش!

پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش!

 

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَسَلاَمٌ عَلٰی عِبَادِہٖ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی

صحافت ایک مقدس پیشہ اورفریضہ ہے۔ اگر اس کے تقدس اور حرمت کا ہرلحاظ سے پاس رکھا جائے تو اس سے ملک وقوم کی تعمیروترقی ہوتی ہے۔ اس سے حق دار کو حق ملنے میںمددملتی ہے۔ اسی کے ذریعہ ملک کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کا کام لیا جاتا ہے۔ قوموں میں انقلاب کی اُمنگ اور جذبۂ حریت کی بیداری اسی سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک کے لٹیروں،چوروں، ڈاکؤں اور غاصبوں کی اسی کے ذریعہ حوصلہ شکنی کی جا سکتی ہے۔  اور اگر اس کی حرمت اور تقدس کو پامال کیا جائے اور ’’چلو اُدھر کو ہوا ہو جدھر کی‘‘کے مفروضوں پر عمل کرنا شروع کردیا جائے تو اس سے ملک وقوم غیرمحفوظ ہوجاتی ہیں، ملک کی اساس اور بنیاد بے مقصد وبے معنی ہوکر رہ جاتی ہے۔ پھر دھوکاباز، دجال، کذاب،عیار،غیرملکی جاسوس، فراڈی، ملک کے لٹیرے اور باغی اپنی دھونس ،دھاندلی، دغابازی اورفریب کاری سے ملک وقوم پر اپنا قبضہ اور تسلط جمانے کی سعی اور کوشش کرتے ہیں،جنہیں روکنے اور ٹوکنے والا پھر کوئی نہیں ہوتا۔ اسی لئے صحافت سے منسلک سلیم الفطرت اورمخلص حضرات میں ہمیشہ قلم کی حرمت اور تقدس کا پاس رہا ہے۔ لیکن کچھ ہی عرصہ سے اس صحافت کے میدان میں بعض ایسے افراد گھس گئے ہیں، جنہیں نہ قلم کی حرمت کا پاس ہے اورنہ ملکی آئین کی پرواہ، نہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کا احساس ہے اور نہ ہی اُنہیں صحیح اور غلط میں کچھ امتیاز ۔ اسی مؤخر الذکر گروہ میں سے روزنامہ ایکسپریس لاہور انگلش ایڈیشن کے ایڈیٹر صاحب بھی ہیں، جنہوں نے ۱۳؍ جمادیٰ الأخریٰ ۱۴۳۴ھ مطابق ۲۴؍اپریل ۲۰۱۳ء کو ایڈیٹوریل بنام ’’احمدیوں کے لئے ممانعت‘‘ لکھا ہے اور قادیانی نبی اور اس کی امت کی سنت پر عمل کرتے ہوئے سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکا اور فریب دینے کے لئے اپنے اس اداریہ میں کئی خلافِ حقیقت باتیں اور جھوٹ تحریر کئے ہیں، اُن کاانگلش میں تحریر کردہ اصل اداریہ اور اس کاترجمہ ملاحظہ فرمائیں: " As has been the case since 1985, the country’s 200,000 Ahmadis will not be casting their ballots on May 11. They remain a community without representation and voice, marginalised within a society where they have been subjected to ceaseless discrimination, denied jobs and education, ostracised, beaten and sometimes subjected to brutal terrorist attacks. The Ahmadis, many of whom have fled the country in droves, were officially declared “non-Muslim” in the 1970s, the state determining their faith. Since then, the state has adopted increasingly vicious policies. In 1985, under the late General Ziaul Haq, a new form was introduced in which voters who declared themselves Muslim had to denounce the Ahmadi faith. As the Ahmadis refused to do so, they were placed on separate rolls as “non-Muslims” under the separate electorate system. While the joint electorate was revived in 2002, as a result of extremist protests, a separate roll was created for Ahmadis. This policy has since been retained, with the Election Commission of Pakistan using NADRA data to create a separate list for Ahmadis. A community spokesman has made it clear they will not vote as non-Muslims. The group thus remains disenfranchised, while, as the spokesman has said, the appearance of their addresses on the NADRA list opens up new dangers for them. The situation cannot be allowed to continue. The Ahmadis need to be mainstreamed; no organ or individual has the right to determine the faith of a citizen. Legislative measures are required to undo legal discrimination, backed by a programme to eradicate hate directed against them. The task will not be an easy one, but justice needs to be done without further delay, so the long suffering of a badly wronged community can be ended and their most basic rights — including that to vote — restored to them without further delay, so that all citizens can truly be equals in our society." Published in The Express Tribune, April 24th, 2013. ’’۱۹۸۵ء کے کیس کے بعد سے ملک کے دولاکھ احمدی اپنا ووٹ استعمال نہیں کریں گے۔ یہ ایک ایسی کمیونٹی ہے کہ جس کی کوئی آواز ہے اور نہ کوئی نمائندگی۔ ان کو مسلسل امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ملازمتوں میں اور حصولِ تعلیم میں ان کو جلاوطن کیا گیا، مارا گیا اور کبھی کبھی سفاکانہ دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا۔ کافی احمدی ملک سے فرار ہوگئے، ان کو سرکاری طور پر غیر مسلم قرار دیا گیا ۱۹۷۰ء میں اور ریاست نے ان کے عقیدے کا تعین کیا۔اور اس وقت سے ریاست نے تیزی کے ساتھ شیطانی پالیسیوں کو اپنایا ہے۔۱۹۸۵ء میں مرحوم ضیاء الحق کے زمانہ میں ایک نیا فارم متعارف کرایا گیا، جس میں ووٹرز اپنے آپ کو مسلمان ڈیکلیر کرتے تھے اور یہ فارم احمدی عقیدے کی مذمت کے لئے تھا۔چونکہ احمدیوں نے اس کوماننے سے انکار کردیا، اس لئے ان کو الگ سے غیر مسلم رائے دہندگان کے طور پر جگہ دی گئی اور ۲۰۰۲ء میں اس کی دوبارہ تجدید کی گئی انتہاء پسندوں کے احتجاج کی وجہ سے۔یہ پالیسی ابھی تک باقی ہے اور الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اُسے باقی رکھا ہے اور نادرا کے ڈیٹا کو استعمال کرکے احمدیوں کی ایک الگ لسٹ تیار کی گئی ہے۔احمدیوں کی کمیونٹی کے ترجمان نے اس کو واضح کیا ہے کہ یہ غیر مسلم کی حیثیت سے ووٹ نہیں ڈالیں گے، جبکہ ان کے ترجمان نے کہا ہے کہ نادرا کی اس لسٹ کی وجہ سے ان کے لئے مزید خطرات بڑھ جائیں گے۔ یہ صورتحال اس طرح برقرار نہیں رکھی جاسکتی۔احمدی کمیونٹی کو مرکزی دھارے میں لانے کی ضرورت ہے۔کسی ادارے یا فرد کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی شہری کے عقیدے کا تعین کرسکے۔قانون سازی کے اقدامات کی ضرورت ہے، تاکہ اس تعصب وامتیازکو ختم کیا جاسکے اور احمدیوں کے خلاف نفرت کو جڑ سے اکھیڑ دیا جائے، یہ کام اتنا آسان نہیں ہوگا، لیکن اب بغیر کسی دیر کے انصاف کی ضرورت ہے۔لمبے عرصہ سے تکلیفیں اٹھانے والی اس مظلوم کمیونٹی پر ظلم کا اختتام ہونا چاہئے۔ اُن کے بنیادی حقوق کے ساتھ جس میںووٹ دینا بھی شامل ہے، ان باتوں کو بحال ہونا چاہئے بغیر کسی تاخیر کے، تاکہ پاکستان کے ہر شہری کو معاشرہ میں صحیح اور برابر کا مقام حاصل ہو۔‘‘ نہیں معلوم کہ یہ تحریرکسی قادیانی مربی کی ہے جس نے قادیانیت کا حق نمک ادا کرتے ہوئے پاکستان کو بدنام کرنے کی پوری کوشش کی ہے یاایڈیٹرکی اپنی تحریر کردہ ہے، جس نے قادیانی لب ولہجہ اپناتے ہوئے آئین پاکستان کی پرواہ کیے بغیر بڑی ڈھٹائی اور دیدہ دلیری کے ساتھ کہا ہے کہ’’ ریاست نے تیزی کے ساتھ شیطانی پالیسیوں کو اپنایا ہے‘‘۔اور اس کے ساتھ اس کی جہالت اورلاعلمی کی انتہأیہ ہے کہ اُسے یہ بھی معلوم نہیں کہ پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوںکو غیرمسلم اقلیت ۱۹۷۰ء میں نہیں، بلکہ ۷؍ستمبر۱۹۷۴ء کوقرار دیاتھا۔بہر حال اس مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ : ۱ـ:۔۔۔ریاست نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا۔ ۲ـ:۔۔۔ریاست نے ان کے عقیدے کا تعین کیا۔ ۳ـ:۔۔۔ریاست نے تیزی کے ساتھ شیطانی پالیسیوں کو اپنایا ہے۔ ۴ـ:۔۔۔ قادیانی غیر مسلم ہونے کی حیثیت سے ووٹ نہیں دیں گے۔ ۵ـ:۔۔۔نادرا کی اس لسٹ کی وجہ سے ان کے لئے مزید خطرات بڑھ گئے ہیں۔ ۶ـ:۔۔۔قادیانیوں سے امتیازی سلوک ہورہا ہے، ملازمتوں اور ملک سے ان کو نکالاجارہا ہے۔ ۷ـ:۔۔۔قادیانیوں کو قومی دھارے میں لانے کی ضرورت ہے۔ ۸ـ:۔۔۔احمدیوں کے خلاف نفرت کو جڑ سے اکھیڑ دیاجائے۔ ۹ـ:۔۔۔قانون سازی کے اقدامات کی ضرورت ہے۔ دیکھنے میں تو یہ نو نکات ہیں، لیکن درحقیقت ان سب کا مدار صرف ایک بات پر ہی ہے کہ پاکستان کی نیشنل اسمبلی نے ان کو غیر مسلم اقلیت کیوں قرار دیا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اور مسلمانوں سے الگ گروہ صرف نیشنل اسمبلی نے قرار نہیں دیا، بلکہ اس کی بنیاد بھی قادیانیوں کے نبی مرزا غلام احمد قادیانی نے خود رکھی، اس کے بعد اس کی تعمیر اس کے بڑے بیٹے اور مرزائیوں وقادیانیوں کے دوسرے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود اور اس کے بھائی مرزابشیر احمد نے مل کر کی اور اپنی تحریروں میں انہوں نے اپنے متبعین قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ گروہ قرار دیا،جیساکہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنا الہام لکھا کہ: ۱:۔۔۔’’جوشخص تیری پرواہ نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا، وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔‘‘                                    (اشتہار معیار الاخبار مندرجہ تبلیغ رسالت، ج:۹، ص:۲۷) ۲:۔۔ قادیانیوں کے دوسرے خلیفہ مرزابشیر الدین محمودنے کہا: ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام(مرزا غلام احمد قادیانی) کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے ہیں، آپ نے فرمایا کہ یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفاتِ مسیح اورچند مسائل میں ہے۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی ذات ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، نماز،روزہ، حج، زکوٰۃ، غرض کہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ان (مسلمانوں)سے اختلاف ہے‘‘۔                       (خطبہ جمعہ میاںمحمود خلیفہ قادیان، مندرجہ الفضل، ۳۰؍ جولائی ۱۹۳۸ئ) ۳:۔۔۔مرزا غلام احمد قادیانی کے بڑے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود نے لکھا: ’’کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بیعت میںشامل نہیں ہوئے، خواہ انہوںنے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہ سنا،وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں‘‘۔                                                   (آئینہ صداقت،ص:۳۵) ۴:۔۔۔مرزا غلام احمدقادیانی کے منجھلے لڑکے مرزا بشیر احمد نے لکھا: ’’ہر ایک ایسا شخص جوموسیٰ علیہ السلام کو تو مانتا ہے ،مگر عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانتا، یا عیسیٰ کو تو مانتا ہے،مگر محمد کو نہیں مانتا اور یا محمد کو مانتا ہے،پر مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کونہیں مانتا، وہ نہ صرف کافر، بلکہ پکا کافراور دائرہ اسلام سے خارج ہے ‘‘۔                                             (کلمۃ الفصل،ص:۱۱۰) اسی طرح قادیانیوں کو صرف پاکستان کی قومی اسمبلی نے غیر مسلم اقلیت قرار نہیںدیا، بلکہ پاکستان بننے سے پہلے : ۱ـ:۔۔۔۷؍ فروری ۱۹۳۵ء کو جناب منشی محمد اکبر خاں صاحب ڈسٹرکٹ جج ضلع بہاول نگر نے اپنے فیصلے میں قادیانیوں کو دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیا۔ ۲ـ:۔۔۔ ۲۵؍ مارچ ۱۹۵۴ء کو میاں محمد سلیم سینیئر سول جج راولپنڈی نے اپنے فیصلے میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا۔ ۳ـ:۔۔۔ ۳؍ جون۱۹۵۵ء کو جناب شیخ محمد اکبر صاحب ایڈیشنل جج ڈسٹرکٹ راولپنڈی نے اپنے فیصلے میں مرزائیوں کو کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیا۔ ۴ـ:۔۔۔۲۲؍ مارچ ۱۹۶۹ء کو شیخ محمد رفیق گریجہ سول جج اور فیملی کورٹ نے فیصلہ دیا کہ مرزائی خواہ قادیانی ہوں یا لاہوری غیر مسلم ہیں۔ ۵ـ:۔۔۔ ۱۳؍ جون ۱۹۷۰ء کو سول جج سماروجیمس آباد ضلع میرپورخاص نے اپنے فیصلے میں مرزائیوں کو دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔ ۶ـ:۔۔۔۱۹۷۲ء میں جناب ملک احمد خاں صاحب کمشنر بہاول پور نے فیصلہ دیا کہ مرزائی مسلم امت سے بالکل الگ گروہ ہے۔ ۷ـ:۔۔۔ ۱۹۷۲ء میں چودھری محمد نسیم صاحب سول جج رحیم یار خان نے فیصلہ دیا کہ مسلمان آبادیوں میں قادیانیوں کو تبلیغ کرنے یا عبادت گاہ بنانے کی اجازت نہیں۔ ۸ـ:۔۔۔۲۸؍ اپریل ۱۹۷۳ء کو آزاد کشمیر کی اسمبلی نے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرار داد پاس کی۔ ۹:۔۔۔۱۰؍اپریل ۱۹۷۴ء کوعالم اسلام کی ایک سو آٹھ (۱۰۸) تنظیموںکے اجتماع میں قرارداد پاس کی گئی کہ قادیانی غیرمسلم ہیں۔ـ ۱۰ـ:۔۔۔۱۹؍ جون ۱۹۷۴ء کو صوبہ سرحد کی اسمبلی نے متفقہ طور پر ایک قرار داد پاس کی کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ تب جاکر۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کو اکیس دن کی بحث وتمحیص اور قادیانیوں اور لاہوریوں کے اس وقت کے پیشواؤں کے مؤقف سننے کے بعد تمام اراکین اسمبلی نے متفقہ طور پر قادیانیوں اور لاہوریوں کو (جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں) غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔اس کے بعد قادیانیوں نے قانون کا مذاق اُڑانے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے کے لئے اسلام کے شعائر کا کثرت سے استعمال شروع کردیا۔ اُن کی انہیں سازشوں اورشرارتوں کی بنا پر مختلف مقامات پر جھگڑے شروع ہوگئے، تب ۲۶؍ اپریل ۱۹۸۴ء کو امتناعِ قادیانیت آرڈی نینس جاری ہوا۔ ان حوالہ جات سے جہاں یہ بات معلوم ہوئی کہ مرزائیوں اورقادیانیوںکے پیشواؤں کے نزدیک قادیانیت کااسلام سے کوئی تعلق نہیں ،اسلام الگ مذہب ہے اورقادیانیت علیحدہ کوئی چیزہے اور یہ کہ صرف پاکستان کی قومی اسمبلی نے ان کو کافر اور غیر مسلم قرار نہیں دیا، بلکہ اس سے پہلے مختلف عدالتوں اور پورے عالم اسلام نے ان کو کافر،غیرمسلم اور مسلمانوں سے الگ گروہ قراردیا،وہاں یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ قادیانیوں کے نزدیک مرزا غلا م احمد قادیانی کو نہ ماننے والے نعوذباللہ! خدا اور رسول ا کے نافرمان، جہنمی، کافر،بلکہ پکے کافراوردائرۂ اسلام سے خارج ہیںاوریہ کہ قادیانیوں کا مسلمانوں سے ہر ایک چیز میں اختلاف ہے۔ واضح رہے کہ قادیانیت ایک سیاسی تحریک اور انگریزی بیج ہے، جسے انگریز نے اپنے مقاصد کے لئے کھڑا کیااور کاشت کیا، جب تک وہ ہندوستان پر مسلط رہا، ان سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کام لیتا رہا، جیساکہ مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا : ’’میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید وحمایت میں گزرا ہے اور میں نے مخالفت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھیں ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں ۔‘‘                        (تریاق القلوب،ص:۱۵۔خزائن:۱۵،ص:۱۵۵) مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی خاندانی روایات کے مطابق انگریز کی اطاعت کو فرض اور ان کی خوشنودی کی خاطر ان کے خلاف جہادیعنی آزادیٔ وطن کی کوششوںکو حرام قرار دیا۔ مرزا صاحب نے انگریز کے اشارہ پر پہلے مبلغ اسلام، مجدد، مہدی، مسیح موعود، ظلی نبی، بروزی نبی، تشریعی نبی ، خود محمد رسول اللہ ا  ہونے، بلکہ تمام انبیاء علیہم السلام، حتیٰ کہ محمد مصطفی اسے بھی افضل ہونے اور خاتم الانبیاء ہونے کا دعویٰ کیا۔ اپنے نہ ماننے والوں کو کافر وجہنمی، بلکہ کنجریوں کی اولادقرار دیا۔ اپنے مخالف مَردوں کو خنزیر اورعورتوں کو کتیوں جیسے القابات سے نوازا۔ خلاصہ یہ کہ قادیانیت کسی دین اور مذہب کا نام نہیں، بلکہ یہ اسلام کے متوازی ایک نیا دین ہے، حضورا کی ختم نبوت کے مقابل ایک نئی نبوت ہے، قرآن کریم کے مقابل ایک نئی وحی ہے، امت مسلمہ کے مقابل ایک نئی امت ہے۔انہوں نے مکۃ المکرمہ کے مقابل مکۃ المسیح،مدینۃ المنورہ کے مقابل مدینۃ المسیح، اسلامی حج کے مقابل ظلی حج، اسلامی خلافت کے مقابلے میں قادیانی خلافت کو متعارف کرایا ۔  قادیانیوں کاکلمہ طیبہ پڑھنا یہ بھی مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لئے ہے، اس لئے کہ قادیانی عقیدے کے مطابق حضور ا کی دو بعثتیں مقدر تھیں۔ پہلی بعثت محمدعربی ا کی شکل میں ہوئی اور دوسری بعثت مرزا غلام احمد قادیانی کی بروزی شکل میں ہوئی، یعنی مرزا قادیانی بروزی طور پر نعوذباللہ! محمد رسول اللہ ہے اورہر قادیانی‘ کلمہ میں موجود لفظ ’’محمد رسول اللہ ‘‘سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی کو لیتا ہے، جیسا کہ مرزا بشیر احمد قادیانی نے کلمۃ الفصل ،صفحہ:۱۵۸ پر لکھا: ’’ہاں! حضرت مسیح موعود ( مرزا غلام احمد قادیانی) کے آنے سے ( کلمے کے مفہوم میں) ایک فرق ضرورپیدا ہوگیا ہے اور وہ یہ ہے کہ مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی بعثت سے پہلے تو ’’محمد رسول اللہ‘‘ کے مفہوم میں صرف آپؐ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء شامل تھے، مگر مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی بعثت کے بعد’’محمد رسول اللہ‘‘ کے مفہوم میں ایک اور رسول کی زیادتی ہوگئی، لہٰذا مسیح موعود کے آنے سے نعوذباللہ ’’لاإلٰہ إلا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ‘‘کا کلمہ باطل نہیں ہوتا، بلکہ اور بھی زیادہ شان سے چمکنے لگ جاتا ہے (کیونکہ زیادہ شان والا نبی مرزا غلام احمد قادیانی اس کے مفہوم میں داخل ہوگیا، ہاں! مرزا کے بغیر یہ کلمہ مہمل، بے کار اور باطل رہا، اسی وجہ سے مرزا کے بغیر اس کلمے کو پڑھنے والے کافر، بلکہ پکے کافر ٹھہرے … ناقل) غرض اب بھی اسلام میں داخل ہونے کے لئے یہی کلمہ ہے، صرف فرق اتنا ہے کہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی آمد نے ’’محمدرسول اللہ‘‘ کے مفہوم میں ایک رسول کی زیادتی کردی ہے‘‘۔(کلمۃ الفصل، ص:۱۵۸، مؤلفہ:مرزا بشیر احمد قادیانی) اسی لئے علامہ اقبال رحمہ اللہ جیسے مفکر اورجہاںدیدہ آدمی نے مسلمانوں کو قادیانیت سے ہوشیار اور خبردار کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی استعجاب کیا کہ جب قادیانی، مذہبی اور معاشرتی معاملات میں علیحدگی کی پالیسی اختیار کرتے ہیں تو پھر سیاسی طور پر مسلمانوں میں شامل رہنے کے لئے کیوں مضطرب ہیں؟ علامہ فرماتے ہیں: ’’ہمیں قادیانیوں کی حکمت عملی اوردنیائے اسلام سے متعلق ان کے رویہ کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔ بانی تحریک (مرزا قادیانی) نے ملت اسلامیہ کو سڑے ہوئے دودھ سے تشبیہ دی تھی، ان لوگوں کو (مسلمانوں کو) ان کی ایسی حالت کے ساتھ اپنی جماعت کے ساتھ ملانا یا ان سے تعلق رکھنا ایساہی ہے، جیسا کہ عمدہ اور تازہ دودھ میںبگڑا ہوا دودھ ڈال دیں جو سڑ گیا ہے اور اس میں کیڑے پڑے ہوئے ہیں۔ اس وجہ سے ہماری جماعت کو تازہ دودھ سے اور اپنے مقلدین کو ملتِ اسلامیہ سے میل جول رکھنے سے اجتناب کا حکم دیا تھا۔ علاوہ بریں ان کا بنیادی اصولوں سے انکار، اپنی جماعت کا نیانام (احمدی) ،مسلمانوں کے صیام نماز سے قطع تعلق، نکاح وغیرہ کے معاملات میں مسلمانوں سے بائیکاٹ اور ان سب سے بڑھ کر یہ اعلان کہ دنیائے اسلام کافر ہے، یہ تمام امور قادیانیوں کی علیحدگی پر دال ہیں۔ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ وہ اسلام سے اس سے کہیں دور ہیں، جتنے سکھ ہندوؤں سے، کیونکہ سکھ ہندؤوں سے باہمی شادیاں کرتے ہیں، اگرچہ وہ ہندو مندروں میں پوجا نہیں کرتے، اس امر کو سمجھنے کے لئے کسی خاص ذہانت یا غوروفکر کی ضرورت نہیں ہے کہ جب قادیانی مذہبی اور معاشرتی معاملات میں علیحدگی کی پالیسی اختیار کرتے ہیں، پھر وہ سیاسی طور پر مسلمانوں میں شامل رہنے کے لئے کیوں مضطرب ہیں؟‘‘                                       (حرفِ اقبال،ص:۱۳۸،۱۳۷) اسی طرح علامہ اقبال رحمہ اللہ دوسری جگہ مسلم اورغیر مسلم میں وجہ امتیاز کو بیان کرتے ہوئے قادیانیوں کی تاویلوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ان کی جدید تاویلیں محض اس غرض سے ہیں کہ ان کاشمار حلقۂ اسلام میں ہو، تاکہ انہیں سیاسی فوائد پہنچ سکیں، جیسا کہ ’’حرفِ اقبال‘‘ کے صفحہ:۱۳۶،۱۳۷ پر ہے کہ: ’’اسلام لازماً ایک دینی جماعت ہے جس کے حدود مقرر ہیں، یعنی وحدتِ الوہیت پر ایمان، انبیاء علیہم السلام پر ایمان اور رسول کریم ا کی ختم رسالت پر ایمان۔دراصل یہ آخری یقین ہی وہ حقیقت ہے جو مسلم اور غیر مسلم کے درمیان وجہ امتیاز ہے اور اس امر کے لئے فیصلہ کن ہے کہ فرد یا گروہ ملتِ اسلامیہ میں شامل ہے یا نہیں؟ مثلاً برہموخدا پر یقین رکھتے ہیں اور رسول کریم ا کو خدا کا پیغمبر مانتے ہیں، لیکن اُنہیں ملتِ اسلامیہ میں شمار نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ قادیانیوں کی طرح وہ انبیاء کے ذریعہ وحی کے تسلسل پر ایمان رکھتے ہیں اوررسول کریم اکی ختم نبوت کو نہیں مانتے۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے کوئی اسلامی فرقہ اس حدفاصل کو عبور کرنے کی جسارت نہیں کرسکا، ایران میں بہائیوں نے ختم نبوت کے اصول کو صریحاً جھٹلایا، لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ الگ جماعت ہیں اورمسلمانوںمیں شامل نہیںہیں۔ میری رائے میں قادیانیوں کے سامنے صرف دو راہیں ہیں: یا وہ بہائیوں کی تقلید کریں یا پھر ختم نبوت کی تاویلوں کو چھوڑ کر اس اصول کو اس کے پورے مفہوم کے ساتھ قبول کرلیں۔ ان کی جدید تاویلیں محض اس غرض سے ہیں کہ ان کا شمار حلقۂ اسلام میں ہو، تاکہ اُنہیں سیاسی فوائد پہنچ سکیں ‘‘۔ ۱:۔۔۔ان دلائل کو ملاحظہ کرلینے کے بعد اب یہ ایڈیٹر صاحب خود فیصلہ کریں کہ قادیانی غیر مسلم اور الگ گروہ ہے کہ نہیں؟ ۲:۔۔۔ یہ کہ پاکستان کی قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر وہی کچھ کیا جو قادیانی چاہتے تھے یا کچھ اور؟ ۳:۔۔۔جب قومی اسمبلی نے ان کی چاہت کے مطابق فیصلہ کیا تو پھردنیا بھر میں شور مچانے اور واویلا کرنے کی کیا ضرورت؟ ۴:۔۔۔یہ کہ ۱۹۴۷ء میں تقسیم کے وقت پنجاب کی تقسیم کایہ فارمولا طے ہوا کہ جس ضلع میں۵۱ فیصد سے زائد آبادی مسلمانوں کی ہوگی تو وہ ضلع پاکستان میں شامل ہوگا اور جس میں غیر مسلم آبادی اکیاون فیصد سے زائد ہوگی وہ ہندوستان کاحصہ بنے گا۔ ضلع گورداسپور میں مسلم اکثریت تھی اور یہ ابتدا میں پاکستان کے نقشے میں تھا۔ قادیانیوں نے اس کمیشن کو درخواست دی کہ ہمیں مسلمانوں سے الگ شمار کیا جائے، اس کمیشن نے عذر بھی کیا کہ ہمارے پاس دو ہی خانے ہیں: ایک مسلم اورایک غیر مسلم، تیسرا خانہ نہیں۔ بہرحال ان کی درخواست قبول کی گئی اورسازش کے تحت اس ضلع گورداسپور کی مسلم آبادی کم دکھائی گئی اوراس طرح یہ ضلع ہندوستان میں چلا گیا۔ ۵:۔۔۔اسی طرح قادیانیوںکے راہنما سر ظفراللہ خان جو اس وقت وزیر خارجہ تھے، قائد اعظم کے جنازہ میں یہ کہتے ہوئے شرکت نہ کی کہ مجھے مسلمانوں کے ملک میں کافر وزیر سمجھا جائے یا کافروں کے ملک میں ایک مسلمان وزیر۔تو یہ واقعات بھی اس پر شاہد ہیں کہ قادیانی اپنے آپ کو مسلمانوں سے الگ گروسمجھتے ہیں۔ اور یہ بات بھی ذہن میںرہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی کے اس فیصلے سے پہلے ان کی حیثیت شرعی طور پر محارب کفار کی تھی، پاکستان کی قومی اسمبلی نے ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر ان کو ذمیوں کی صف میں شمار کرکے ان کے ساتھ بہت بڑا احسان کیا ہے۔ اب یہ پاکستان کے آئین کو مانتے ہیں تو ان کے وہی حقوق ہوںگے جو دوسری اقلیتوں کے ہیں اور اگر یہ آئین پاکستان کو نہیں مانتے تو ان کی حیثیت پھرملک کے باغی کی ہوگی اور ہر مہذب ملک  میںباغیوں کے کوئی حقوق نہیں ہوا کرتے، بلکہ انہیں بغاوت کی سزا دی جاتی ہے۔  اب یہ قادیانی‘ بقول ایڈیٹر صاحب موصوف کے ۱۹۸۵ سے اس آئین کو نہ مانتے ہوئے ووٹ دینے سے بائیکاٹ کیے ہوئے ہیں تو یہ باغی ہوئے ۔اس صورت میں کیا پھر اُنہیں پاکستان میںرہنے کا کوئی حق ہے؟ کیااس ملک کے اعلیٰ عہدوں پر رہنے کا کوئی جواز ہے؟لیکن اس کے باوجود یہ پاکستان میں رہتے ہیں، اعلیٰ عہدوں پر انہیں ملازمتیں حاصل ہیں،اور مسلمانوں کی اکثریت کے حقوق سلب کیے ہوئے ہیں۔ آپ کایہ کہنا کہ قادیانیوں سے امتیازی سلوک کیا جاتا ہے، ملازمتوں اور ملک سے ان کو نکالا جارہا ہے۔ یہ باتیں محض ہوا میں تیر چلانے اورپاکستان کو بدنام کرنے کے مترادف ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو آپ اپنے اس دعویٰ کی صداقت کے لئے کوئی ٹھوس شواہد پیش کرتے۔حالانکہ اس کے برعکس ہوتا یہ ہے کہ قادیانی یورپ وغیرہ میں نیشنلٹی کے حصول کے لئے پاکستان میںجھوٹی ایف آئی آر کٹواکر ایک تو پاکستان کو بدنام کرتے ہیں اور اس کے علاوہ اس جھوٹی ایف آئی آر کولے کر مغربی ممالک میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس پر ایک نہیں، کئی واقعات پیش کیے جاسکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ قادیانیوں کے لئے نادرا کی ان علیحدہ لسٹوں سے ان کو خطرہ محسوس ہونے لگا  ہے کہ اگر ہم نے نادرا کی ان ووٹرلسٹوں کومان لیا تو اس سے ہمارے ان جھوٹے دعووں کی نفی ہوجائے گی اور ان کی اصلیت کھل کر سامنے آجائے گی، جو ہم اپنے لوگوں کو مطمئن کرنے کے لئے وقتاً فوقتاً قادیانیت قبول کرنے والوں کی تعداد بڑھا چڑھا کرپیش کرتے رہتے ہیں۔ رہی قادیانیوں کو قومی دھارے میں لانے کی ضرورت تو کوئی مسلمان اس کا مخالف نہیں، جی بسم اللہ !ہاں اس کی صورت یہ ہے کہ یہ قادیانی اخلاصِ نیت اور سچے دل سے قادیانیت سے توبہ تائب ہوں، مرزا غلام احمد قادیانی کے ان گندے ، غلیظ اور باطل عقائد پر دو حرف بھیج کر سچے مذہب اسلام کو قبول کرلیں، حضور اکرم اکو اللہ کا آخری نبی مان کر اپنے آپ کو حضور اکرم اکے دامن سے وابستہ کرلیں تو یہ ہمارے بھائی ہوں گے اور ہم انہیں اپنے گلے لگانے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ اگروہ ایسا نہیں کرتے تو خود کو پاکستان کے آئین کاپابند بنائیں اور غیرمسلموں میں اپنا ووٹ بنوائیں۔اپنی تعداد کے مطابق قومی وصوبائی اسمبلیوں میں اپنے نمائندے بھیجیں۔اگروہ ان دونوں صورتوں میں کسی ایک کو اختیار نہیں کرتے اور چاہتے ہیںکہ غیر مسلم ہونے کے باوجودمسلمانوں میں اپناشمار کرائیں اور دنیا کودھوکادہی سے باور کرائیںکہ وہ مرزا غلام احمدقادیانی کو نبی ماننے کے باوجود مسلمان ہیں تو مسلمانانِ عالم کبھی بھی انہیں اپنی صفوں میں گھسنے نہیں دیں گے اورنہ ہی مسلمانوں کے دل سے ان کی نفرت کبھی ختم ہوگی۔ اس لئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے دشمن، رسول اللہا کے دشمن، انبیاء کرام علیھم السلام کے دشمن، صحابہ کرامؓ اور اہل بیت عظامؓ کے دشمن بھی رہیں اور مسلمان ان سے دلی تعلق اور محبت بھی رکھیں :ایں خیال است ومحال است وجنوں۔ رہا ان قادیانیوں کے لئے قانون سازی کے اقدامات کی ضرورت تو ان شاء اللہ! جب تک پاکستان کے غیور، باشعور مسلمان دین سے اور حضور اکرم اسے محبت کرنے والے موجود ہیں، اس وقت تک یہ ان کی حسرت ہی رہے گی۔

وصلی اللّٰہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہٖ سیدنامحمدوعلیٰ آلہٖ وصحبہٖ أجمعین

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے