بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 رجب 1440ھ- 19 مارچ 2019 ء

بینات

 
 

نقدونظر، ربیع الثانی 1440ھ

نقدونظر


اسلامی تصوف، میڈیکل سائنس اور نفسیات

 

ڈاکٹر فدا محمد صاحب خلیفہ مجاز حضرت مولانا محمد اشرف سلیمانی  ؒ۔ صفحات: ۱۰۲۔ قیمت: درج نہیں۔ ناشر: ادارہ اشرفیہ عزیزیہ، کوہاٹ۔
حضرت ڈاکٹر فدامحمد صاحب مدظلہٗ خیبر میڈیکل کالج کے گریجویٹ اور اس کے مدرس ہیں۔ اپنی تعلیمی زندگی میں حضرت مولانا پروفیسر محمد اشرف صاحب سلیمانیv صدر شعبہ عربی پشاور یونیورسٹی سے بیعت کی سعادت حاصل کی اوراب ان کے جانشین ہیں۔ آپ کئی کتابوں کے مصنف ہیں ۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’اسلامی تصوف، میڈیکل سائنس اور نفسیات‘‘ ایک نئی کاوش ہے۔ اس میں موصوف نے روح، قلب، نفس اور حبِ مال وجاہ کو طبی، سائنسی اور صوفیانہ انداز میں لکھنے کی کوشش کی ہے۔ نئی نسل کی عفت وپاکبازی اور اصلاح وتزکیہ کے لیے بہت عمدہ اور مفید کتاب ہے۔ برگیڈئیر حضرت مولانا قاری فیوض الرحمن مدظلہٗ کے بقول: 
’’یہ کتاب اگرچہ ہرعمر کے حضرات کے لیے پڑھنا ضروری ہے، مگر وہ طلبہ وطالبات جو مخلوط ذریعۂ تعلیم سے وابستہ ہیں، ان کے لیے تو بہت ہی اکسیر ہے۔ کتاب معلوماتی اور دل چسپ ہے، جگہ جگہ نہایت مناسب اور عمدہ مثالوں سے متعلقہ مضمون کی مؤثر تشریح کی گئی ہے۔‘‘
کلیاتِ انوری (رسائل وتصنیفات حضرت مولانا محمد انوری لائل پوری رحمۃ اللہ علیہ)

ترتیب وحواشی: صاحبزادہ راشد انوری نبیرہ حضرت مولانا محمد انوری v وابوحذیفہ عمران فاروق صاحب۔ صفحات:۶۲۴۔ قیمت: درج نہیں۔ ملنے کا پتا: صاحبزادہ محمد راشد انوری، بلال انٹرپرائزز ، ۱-ایس ،جامع مسجد ناظم آباد نمبر:۲، کراچی۔
اس کتاب میں حضرت مولانا محمد انوری لائل پوری v کے مندرجہ ذیل رسائل: ’’سیرتِ خاتم الانبیاء‘‘، ’’العجالہ (داڑھی کے متعلق شرعی مسئلہ)‘‘، ’’احادیث الحبیب المتبرکہ‘‘، ’’متبرکہ چہل حدیث‘‘، ’’اربعین (حنفی مسلک کی احادیث)‘‘‘‘، ’’الصلوۃ یعنی نماز مترجم‘‘، ’’فضائل مکہ مکرمہ‘‘، ’’ملفوظات حضرت رائے پوریؒ‘‘، ’’مکتوباتِ بزرگان‘‘، ’’میری پہلی حاضری‘‘ جیسے دس رسائل کو نئی کمپوزنگ، عمدہ طباعت اور اعلیٰ کاغذ پر شائع کیاگیاہے، گویا ان رسائل کو نئی زندگی اور نئی رہنمائی عطا کی گئی ہے۔ امید ہے کہ مرتب کی اس کاوش کی قدر افزائی کی جائے گی۔

تاریخِ طب عہد بہ عہد

ڈاکٹر زاہداشرف صاحب(تمغۂ امتیاز) ۔ صفحات: ۲۷۱۔ قیمت: درج نہیں۔ ناشر: اشرف اکادمی، شارع اشرف، ۶ کلو میٹر، سرگودھا روڈ ، فیصل آباد۔
حکیم زاہد اشرف صاحب کو اللہ تعالیٰ نے تصنیف وتالیف کا بہت عمدہ ذوق عطا فرمایا ہے، جنہوں نے قانون پر پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔ ’’القانون فی الطب لابن سینا دراسۃ وتحلیل‘‘ کے نام سے عربی مقالہ تحریر کیا تھا۔
زیر تبصرہ کتاب اردو میں اس کا ترجمہ ہے، جو پہلے ان کے رسالہ ’’ماہنامہ صحت‘‘ فیصل آباد میں چھپتا رہا ہے۔ اس کتاب کو انہوں نے آغازِ طب، طب اور اس کی شاخیں مختلف ادوار میں، طب عربی واسلامی، بعثتِ محمدیہ (l) سے عصر حاضر تک، عربی واسلامی ادوار میں طبی کارہائے نمایاں جیسے عنوانات کے تحت تقسیم کیا ہے۔ طب سے تعلق رکھنے والے اور کتب کا ذوقِ مطالعہ رکھنے والے حضرات کے لیے یہ عمدہ سوغات ہے۔

دعائے محرومی

ڈاکٹر زاہد اشرف صاحب(تمغۂ امتیاز)۔ صفحات: ۱۷۶۔ قیمت: درج نہیں۔ ناشر: مکتبۃ المنیر، زیر انتظام: عبد الرحیم اشرف ٹرسٹ،جامعہ اسٹریٹ بالمقابل ستارہ ٹیکسٹائل ملز، سرگودھاروڈ، فیصل آباد۔
بندہ کو دعا کرنے کا حکم خود اللہ تعالیٰ نے دیا اور نبی کریم a نے اس کے آداب، طریقہ، شرائط اور کیفیت کو بیان فرمایاہے۔ اور یہ فرمایا ہے کہ دعا کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ خوش اور دعا نہ کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے۔ مؤلف نے اپنی تحریر کردہ ادعیہ کو جو مختلف اوقات میں مختلف مضامین میں شائع کی جاتی رہیں اس رسالہ میں ان سب کو یکجا کردیا ہے، تاکہ قارئین کو سب دعائیں یکجا مل سکیں۔

سہ ماہی ’’الزیتون‘‘ کی خصوصی اشاعت: ’’شرح صحیح مسلم‘‘

باہتمام ونگرانی: شیخ الحدیث مولانا عبد القیوم حقانی مدظلہ۔ ضبط وترتیب: مولانا محمد قاسم حقانی۔ صفحات: ۴۲۲۔ قیمت: درج نہیں۔ ناشر: القاسم اکیڈمی، جامعہ ابوہریرہؓ، خالق آباد، نوشہرہ۔
زیرِ تبصرہ کتاب میں شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد القیوم حقانی دامت برکاتہم کی تحقیق وتصنیف ’’شرح صحیح مسلم‘‘ پر ملک وبیرونِ ملک کے علماء کرام، مشائخ، محدثین، اربابِ علم وفضل، اُدباء، دانشور اور اہلِ نقد ونظر کے آراء وافکار، تبصرے، تجزیئے، مفصل جائزے اور تأثرات کو جمع کیاگیاہے۔ حضرت کی تازہ تالیف ’’شرح صحیح مسلم‘‘ کے تعارف کے بارہ میں گویا یہ ایک انسائیکلوپیڈیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ مؤلف، مرتب، ناشر اور جملہ معاونین کی اس جہدِ بلیغ کو قبول فرمائے۔آمین!

فیضانِ حقانی

مولانا محمود الرشید حدوٹی۔ صفحات: ۱۶۴۔ قیمت: درج نہیں۔ ناشر: القاسم اکیڈمی، جامعہ ابوہریرہؓ، خالق آباد، نوشہرہ، کے پی کے ۔
حضرت مولانا عبد القیوم حقانی زید مجدہٗ جہاں اُردو ادب کے بہت بڑے ادیب ہیں، وہاں کتبِ کثیرہ کے مؤلف بھی ہیں۔ آپ کے فیضِ قلم سے درجنوں کتب وجود میں آچکی ہیں۔ اسی طرح مولانا محمود الرشید حدوٹی بھی صاحبِ قلم، ادبی شخصیت ہیں، ان کے قلم سے سترہ سالوں میں القاسم اکیڈمی سے شائع ہونے والی ۱۰۵کتب پر تبصرہ کیاگیاہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’فیضانِ حقانی‘‘ میں ان سب کو جمع کردیا ہے۔ ان تبصرہ شدہ کتب کی ترتیب حروفی تہجی کے اعتبار سے قائم کی گئی ہے اور ان تبصروں کے لیے یا تبصروں پر شکریہ کے خطوط جو آپ کو لکھے گئے ان کو بھی اس کتاب میں شاملِ اشاعت کیا گیا ہے۔ اب یہ کتاب گویا القاسم اکیڈمی سے شائع شدہ کتب کی مختصر اور متحرک لائبریری بن چکی ہے۔ اُمید ہے باذوق حضرات اس کتاب کی قدر افزائی فرمائیںگے۔

مسنون لباس
 

   مولانا حافظ لیاقت علی شاہ نقشبندی غفوری۔ صفحات: ۴۶۴۔ قیمت: درج نہیں۔ ناشر: مکتبہ غفوریہ، نزد جامعہ اسلامیہ درویشیہ، بی بلاک، سندھی مسلم سوسائٹی ۔
    ایک مسلمان کے لیے ہر چیزمیں حضور اکرم a کا اتباع اور آپ کے اسوۂ حسنہ کو سامنے رکھنا بھی ضروری ہے۔ یہ ہمارے نبی aکی اُمت پر شفقت ہے کہ آپa نے پیدائش سے موت تک تمام معاملات کی راہنمائی اپنے قول، عمل اور تقریر سے کردی ہے، جس کو سنت کہتے ہیں۔ آپa کی سنتوں میں سے ایک سنت لباس میں بھی ہے، ایک اُمتی کا لباس کیا ہونا چاہیے؟! اس بارہ میں زیرِ تبصرہ کتاب: ’’مسنون لباس‘‘ گویا لباس کا ایک انسائیکلوپیڈیا ہے، جیساکہ اس کے ابواب سے اندازہ ہوتا ہے۔ مؤلف نے اس کتاب کو ۹؍ابواب پر تقسیم کیا ہے:
بابِ اول: لباس قرآن مجید کی روشنی میں۔        بابِ دوم: لباس احادیث مبارکہ کی روشنی میں۔
بابِ سوم:اقسام لباس۔            بابِ چہارم: رسول اللہa کا زیادہ پسندیدہ لباس۔
بابِ پنجم:کپڑا پہننے کے آداب اور دعائیں۔        بابِ ششم: ٹوپی شریعت مطہرہ کی روشنی میں۔
بابِ ہفتم:عمامہ (پگڑی) شریعت کی روشنی میں۔    بابِ ہشتم:دور حاضر کے لباس کے متعلق بعض اہم فتاویٰ۔
بابِ نہم: چند فقہی مسائل۔
کتاب کی کمپوزنگ اور طباعت عمدہ ہے، لیکن کاغذ اور جلد اس معیار کی نہیں۔ کتاب اس لائق ہے کہ ہرمسلمان مرد اور عورت اس کتاب کو سامنے رکھ کر اپنے لباس کا جائزہ لے کر اُسے درست کرسکتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے مؤلف اور ناشر کو جزائے خیر عطا فرمائے اور قارئین کو اس سے استفادہ کی توفیق مرحمت فرمائے۔
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے