بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1440ھ- 19 اگست 2019 ء

بینات

 
 

میلادُ النبی اور موسیقی!

میلادُ النبی اور موسیقی!

عید میلاد النبی یا جشن میلا دالنبی کے نام سے منعقد ہو نے والے پرو گراموں میں لوگ اس حد تک آگے بڑھ گئے ہیں کہ انہوں نے ساز، باجے اور موسیقی کے ناپاک اور شیطانی عمل کو بھی اس میں شامل کر لیا ہے۔ فحش گانوں کے لہجے اور انداز میں نعت خوانی کے ساتھ قوالی وغیرہ کے عنوان سے موسیقی کے آلات بھی استعمال ہو ناشروع ہو گئے ہیں ۔ان نادانوں کو یہ بھی معلوم نہیں کہ آقا ئے نام دار حضورسرورِ کائناتa توگانے اور موسیقی سے سختی سے منع فرماتے تھے۔ آج نبی کریمa کے نام پر منعقد کی جانے والی مجلسوں میں موسیقی کو جگہ دے کر آپa کے حکم کی کھلی مخالفت بلکہ موسیقی کو روح کی غذا قرار دے کر اللہ تعالیٰ کے عذاب کو کھلی دعوت دی جاتی ہے۔ نعوذ باللّٰہ تعالٰی،اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے:  ’’وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَہْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِغَیْْرِ عِلْمٍ وَّیَتَّخِذَہَا ہُزُواً أُولٰئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ مُّہِیْنٌ۔                                        ( لقمان:۶ ) ’’ بعض ایسے آدمی بھی ہیں جو کھیل کی باتوں کے خریدار ہیں، تاکہ بغیر سمجھے اﷲ کے راستے سے گمراہ کریں اور اس کا مذاق بنائیں ، ایسے لوگوں کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔ ‘‘ اس آیت میں ’’ لہوالحد یث ‘‘ (کھیل کی باتوں ) سے مراد گانا گانے کے آلات ہیں ۔ کئی صحابہ کرام ؓ ، تابعین عظام ؒاور مفسرین کرامؒ سے اس آیت کی یہی تفسیر منقول ہے۔ حضرت عائشہ tسے مروی ہے:  ’’ قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم : إن اللّٰہ عز وجل حرم القینۃ وبیعھا وثمنھا وتعلیمھا والاستماع إلیھا ثم قرأ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَہْوَ الْحَدِیْثِ۔‘‘ ’’ رسول اﷲ  a  نے فرمایا کہ: اﷲ تعالیٰ نے گانے والی ( عورت اور آلات ) کو حرام کیا ہے، اس کے بیچنے کو بھی اور اس کی قیمت کو بھی اور اُسے گانا سکھانے کو بھی اور اس کا گانا سننے کو بھی۔ پھر رسول اکرم a  نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ’’وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَہْوَ الْحَدِیْثِ ۔‘‘  پہلے زمانے میں گانا صرف انسان کی زبان سے ہو تا تھا اور آج گانے کو مختلف چیزوں ( مثلاً کیسٹ ،سی ڈی ،موبائل وغیرہ تمام الیکٹرونک آلات ) میں ریکارڈ کر لیا جاتا ہے۔ جن چیزوں میں گانا ریکارڈ کر لیا جائے، وہ بھی اس حکم میں داخل ہیں ،ان کی خریدوفروخت اور ان سے گانا سننا گناہ ہے ۔  حضرت عبداﷲ بن مسعود qسورۂ لقمان کی مذکورہ آیت کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ ہو واللّٰہ الغناء ۔‘‘( مستدرک حاکم :  ۳۵۴۲) ۔۔۔۔۔۔۔۔’’ قسم اﷲ کی وہ ( یعنی لہو الحدیث ) گانا ہے ۔‘‘  حضرت عبداللہ بن عباس q، حضرت مجاہدؒ اور حضرت عکرمہؒ وغیرہ سے بھی مذکورہ آیت کی یہی تفسیر منقول ہے ۔ ۱:… حضرت عبدالرحمن بن غنمq سے روایت ہے کہ حضور اکرم a نے فرمایا:  ’’ لیکونن من أمتی أقوام یستحلون الحروالحریروالخمروالمعازف۔‘‘ ( بخاری : ۵۵۹۰)  ’’یقینا  میری امت میں سے کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو زنا ، ریشم، شراب اور آلاتِ موسیقی کو ( خوشنما تعبیروں سے ، جیسے: آرٹ کلچر ، ثقافت وغیرہ ) حلال کر لیں گے۔ ‘‘ جو لوگ نعوذ باﷲ موسیقی کو روح کی غذا قرار دیتے ہیں اور نبی اکرم a کی ولادت کے نام پر اس کو کارِ خیر سمجھ کر اختیا ر کر تے ہیں، وہ بھی اس حدیث کی مذکورہ وعید میں داخل ہیں ۔ ۲:… حضرت ابو ہریرہ qسے روایت ہے کہ رسول اﷲ a نے فرمایا: ’’یمسخ قوم من أمتی فی آخر الزمان قردۃ وخنازیر، قیل: یا رسول اللّٰہ! ویشھدون أن لا إلہ إلا اللّٰہ وأنک رسول اللّٰہ ویصومون ؟ قال: نعم ، قیل : فما بالھم یا رسول اللّٰہ؟ قال: یتخذون المعازف والقینات والدفوف ویشربون الأشربۃ فباتوا علی شربھم ولھوھم، فأصبحوا قد مسخوا قردۃ وخنازیر ۔‘‘         ( حلیۃ الاولیا ء لابی نعیم الاصبھانی: ۸)  ’’ آخری زمانے میں میری امت کے کچھ لوگوں کو بندراور خنزیر کی شکل سے مسخ کردیا جائے گا ، کہا گیا کہ: اے اﷲ کے رسول  !وہ لوگ اﷲ کی توحید اور آپ کے رسول ہو نے کی گواہی دیںگے اور روزے رکھیں گے ؟ رسول اﷲ  a  نے فرمایاکہ: جی ہاں! عرض کیاگیاکہ :اﷲ کے رسول ! ان کے کیا اعمال ہو ں گے ؟ رسو ل اﷲ  a  نے فرمایا کہ: وہ گانا گانے کے آلات اختیار کریں گے اور گانے والی ( عورتیں اور چیزیں ) رکھیں گے اور ڈھول اور دف رکھیں گے اور شرابیں پییں گے ،پھر وہ شراب پی کر اور لہو ولعب کی حالت میں رات گزاریں گے ، پھر اس حال میں صبح کریں گے کہ ان کو بندر اور خنزیر کی شکلوں میں مسخ کردیا گیا ہو گا۔‘‘ مقامِ عبرت ہے کہ موسیقی کو جائز بلکہ ثواب سمجھنے والے نادان سوچ لیں کہ وہ کہیں اﷲ کی پکڑ میں آکر بندر اور خنزیر کی شکل میں مسخ نہ کردیے جائیں ۔ اس حدیث سے تمام آلاتِ موسیقی کا حرام ہونا ظاہر ہوا ۔  ۳:…حضرت جابر qکی ایک لمبی حدیث میں ہے کہ رسول اﷲa نے فرمایا : ’’ نھیت عن صوتین أحمقین فاجرین، صوت عند نغمۃ لھو ولعب ومزامیر الشیطان وصوت عند مصیبۃ لطم وجوہ وشق جیوب۔‘‘     ( مستدرک حاکم :  ۶۸۲۵)  ’’میں نے دو احمق اور فاجر ( گناہ والی ) آوازوں سے منع کیا ہے : ایک نغمہ کے وقت لہوو لعب اور شیطانی بانسریوں سے ،اور مصیبت کے وقت آوازسے، اپنے چہرے کو پیٹنے اور اپنے کپڑے پھاڑ نے سے ۔‘‘ ۴:…حضرت نافع ؒکی روایت میں ہے :  ’’إن ابن عمرؓ سمع صوتَ زمارۃ راع فوضع اصبعیہ فی أذ نیہ وعدل راحلتہ عن الطریق وہو یقول یانافع أ تسمع ؟ فأقول: نعم فیمضی حتٰی قلت: لا، فوضع یدیہ وأعاد راحلتہ إلی الطریق وقال: رأیت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وسمع صوت زمارۃ راع فصنع مثل ہذا۔‘‘                      ( مسند احمد :۴۵۳۵)  ’’ حضرت ابن عمر rنے ایک چرواہے کی بانسری کی آواز سنی تو اپنی انگلیوں کو اپنے کانوں میں رکھ لیا اور اپنی سواری کو راستے سے ہٹالیا ( آواز سے دور ہو نے کی غرض سے راستے سے ہٹ کر چلتے رہے ) اور یہ کہتے رہے کہ اے نافع! کیا آپ کو آواز آرہی ہے ؟ میں نے کہا کہ: جی ہا ں ! آپؓ نے یہ عمل برابر جاری رکھا ، یہاں تک کہ میں نے کہا کہ اب آواز نہیں آرہی تو آپ نے اپنے ہاتھ ہٹائے اور اپنی سواری کو راستے پر واپس لے آئے اور فرمایا کہ میں نے رسول اﷲa کو ایک چرواہے کی بانسری کی آواز سننے کے وقت اسی طرح کر تے ہو ئے دیکھا تھا۔ ‘‘ غور فرمائیے ! حضور اکرم a اورآپa کی اتباع میں صحابہ کرام ؓ تو ایک بانسری کی آواز آنے پر بھی کان بند فرمالیا کرتے تھے۔ آج آپa کے نام لیوا آپ a ہی کے میلاد کے نام پر کتنے موسیقی کے آلات استعمال کر تے ہیں ۔ ۵:…حضرت عبداﷲ بن عمر و بن عاص q سے روایت ہے کہ رسول اﷲ a نے فرمایا : ’’ إن ربی حرم علی الخمر والمیسر والکوبۃ والقین والکوبۃ الطبل ۔‘‘( سنن کبریٰ بیہقی :۹۹۴ ۲۰) ’’ بے شک میرے رب نے میرے اوپر شراب، جوئے، کوبہ اور گانا گانے کو حرام کیا ہے اور کو بہ سے مراد طبلہ ہے ۔‘‘ ۶:… حضرت عائشہ tکے بارے میں یہ واقعہ مروی ہے:  ’’إذ دخل علیہا بجاریۃ وعلیہا جلاجل یصوتن فقالت: لا تد خلنھا علی إلا أن تقطعوا جلاجلھا وقالت: سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول: لا تدخل الملائکۃ بیتا فیہ جرس۔‘‘                       ( سنن ابی داؤد : رقم الحدیث ۴۲۳۱) ’’ حضرت عائشہ tکے پاس ایک بچی لا ئی گئی ، جس نے آواز والے گھنگھرو پہنے ہو ئے تھے تو انہوں نے فرمایا کہ: اسے میرے پاس نہ لاؤ ، جب تک کہ اس کے گھنگھرو نہ کا ٹ دو۔ پھر فرمایا :’’ میں نے رسول اﷲ aسے سنا ہے کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہو تے، جس میں گھنٹی ہو ۔‘‘ ۷:… حضرت ابن عباس t فرماتے ہیں :  ’’ الدف حرام والمعازف حرام والکوبۃ حرام والمزمار حرام ۔‘‘ ( السنن الکبریٰ للبیہقی : ۲۱۰۰۰) ’’ دَف حرام ہے اور گانا گانے کے آلات ( موسیقی ) حرام ہیں اور طبلہ حرام ہے اور بانسری حرام ہے ۔‘‘ ۸:… حضرت عائشہ tکے بارے میں ایک تقریب کے حوالے سے یہ قصہ مذکور ہے کہ : ’’ فمرت عائشۃؓ فی البیت فرأتہ یتغنی ویحرک رأسہٗ طربًا وکان ذاشعر کثیر فقالت: أُف شیطان، اخرجوہ اخرجوہ۔‘‘                 ( الادب المفرد للبخاری : ۱۲۴۷)  ’’ پس حضرت عائشہ tاس گھر میں گزریں تو ا س آدمی کو دیکھا کہ وہ گانا گا رہا ہے اور اپنے سر کو مستی کے ساتھ حرکت دے رہا ہے اور اس کے بڑے بڑے بال تھے، تو سیدہ عائشہ t نے فرمایا : اُ ف !یہ شیطان ہے، اسے باہر نکالو ، باہر نکالو ۔‘‘ آج بھی قوال اور گوئیے بڑے بڑے بال رکھتے ہیں، ڈاڑھیاں منڈاتے ہیں، نشہ کے عادی ہوتے ہیں اور دورانِ قوالی اپنے سر مستی سے ہلاتے ہیں جو کہ سیدہ عائشہ tکے فرمان کے مطابق شیطان ہیں ۔ ۹:…حضرت شریح vفرماتے ہیں کہ:  ’’ إن الملائکۃ لاید خلون بیتاً فیہ دف۔ ‘‘ ( مصنف ابن ابی شیبہ:۲۶۹۹۳) ’’ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہو تے جس میں دف ہو۔‘‘ ۱۰:… حضرت ابراہیم نخعی vفرماتے ہیں کہ : ’’ کان أصحاب عبد اللّٰہ یستقبلون الجوار ی فی الأزفۃ ، معھن الدفوف فیشقونھا ۔‘‘                                                  ( مصنف ابن ابی شیبہ : ۲۶۹۹۵)  ’’حضرت عبداﷲ بن مسعود qکے شاگرد وں کو ( آتے جاتے ہو ئے ) راستوں میں (چھوٹی ) بچیوں کا سامنا ہو تا تھا ، جن کے ساتھ دفیں ( طبلے وڈھولکیاں ) ہوا کرتی تھیں ، تو وہ اُن کو پھاڑ دیا کرتے تھے۔‘‘                                (تلک عشرۃ کاملۃ) فائدہ: ’’معازف ‘‘عربی زبان میں گانا گانے کے تمام آلات کو کہا جاتا ہے، جس میں ڈھول ، بانسری وغیرہ سب داخل ہیں۔ ’’دف‘‘اُسے کہا جاتاہے جس کے صرف ایک طرف بجانے کی جگہ ہو تی ہے۔ ’’ ڈھول ‘‘ اُسے کہا جاتا ہے جو دونوں طرف سے بجا یا جاتا ہے اور ’’کوبہ‘‘ طبلے کو کہتے ہیں ۔ ملحوظ رہنا چاہیے کہ مندرجہ بالا احادیث میں صراحتاً گانا گانے کے آلات کا ذکر ہے جس سے واضح ہو تا ہے کہ اگر خالی گانے بجانے کے آلات کو بھی استعمال کیا جائے اور اس کے ساتھ گانے والے کسی انسان کی آواز شامل نہ ہو، تب بھی یہ ناجائز وحرام ہے۔ نیز گانے بجانے کے ناجائز ہونے پر ائمہ اربعہ ( امام ابو حنیفہ ؒ ، امام شافعی ؒ ، امام مالک ؒ ، امام احمد بن حنبل ؒ) کا اجماع ہے ۔ دف سے متعلق ایک اشکال اور اس کا حل  بعض روایات میں نکاح کے موقع پر دف کے ذریعے سے اعلان کی اجازت ملتی ہے، تو بعض لوگو ں کو اس سے شبہ پیدا ہوتا ہے کہ دف بجانا صحیح ہے، مگر یاد رہے کہ گانا گانے کے آلات کے ناجائز ہونے، ڈھول اور دَف کے گانا گانے کے آلات میں داخل ہو نے اور خود دَ ف کے ناجائز ہو نے پر احادیث وروایات موجود ہیں، جو ہم نے نقل کر دی ہیں۔ جا ئز و نا جائز میں تعارض ہو نے کی صورت میں ناجائز کو ترجیح ہو اکر تی ہے ۔ دوسرے دَ ف کے جائز ہو نے کے سلسلہ میں بعض روایات ضعیف بھی ہیں ۔ آخری درجے میں اگر دف کا جائز ہونا بھی تسلیم کر لیا جائے تو وہ بھی کئی شرائط کے ساتھ مقید تھا، مثلاً : ایک شرط یہ تھی کہ دف سادہ ہو ، اس کے ساتھ گھنگھرو اور گانا بجانے کا کوئی دوسرا آلہ استعمال نہ ہو ( جیساکہ پہلے زمانے میں سادہ دفیں ہواکرتی تھیں اور آج کل معاملہ اس کے برعکس ہے )  دوسری شرط یہ تھی کہ دف بجانے کا انداز سادہ ہو، یعنی اس میں کوئی خاص طرز اور دھن نہ لگائی جا ئے ( جیساکہ عشاق لوگ خاص طرز اور دھن کے ساتھ بجاتے ہیں) بلکہ بغیر کسی طرزاور لَے کے اس کو چند مرتبہ بجالیا جائے ، جس کو پیٹنا اور مارنا کہا جاتا ہے۔  تیسری یہ کہ اس کا نکاح وغیرہ کے موقع پر جائز ہو نا بھی خواتین کے ساتھ مخصوص تھا اور اس سے مقصود بھی ( نکاح وغیرہ کا ) اعلان تھا ، نہ کہ بذاتِ خود اس کی آواز کا سننا، سنانا یا لطف اندوز ہو نا ۔ آج کل پہلے زمانے کے مقابلے میں اعلان وشہرت کے دوسرے بے شمار جائز ذرائع موجود ہیں، اس لیے اس دف کی بھی چنداں ضرورت نہیں ۔جہاں اس سے مقصود اعلان تھا، وہاں یہ بھی ضروری تھا کہ جتنی مقدار سے اعلان ہو جائے ، اس پر اکتفا ء کیا جائے ، نہ یہ کہ نکاح وغیرہ کے اعلان وعنوان سے گھنٹو ں تک دف اور ڈھول بجایا جائے۔  چوتھی شرط یہ تھی کہ اس کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت اور ذکر ( حمدونعت وغیرہ ) شامل نہ ہو۔ ایک اہم شرط یہ بھی تھی کہ یہ کسی ناجائز چیز کا ذریعہ نہ بنے ۔ آج کل چونکہ گانا گانے کا استعمال اور جہالت عام ہے، مذکورہ بالا شرائط کی رعایت بھی عام طور پر نہیں ہے ، اس لیے موجودہ حالات میں محققین نے اس کو مطلقاً ممنوع قرار دے دیا ہے ، کیونکہ جب کسی مباح وجائز بلکہ مستحب عمل میں بھی مفاسد پیدا ہو جائیں ، تو وہ عمل جائز ومستحب سے نکل کر ناجائز زمرے میں داخل ہو جاتا ہے۔                     ( امدادالفتاویٰ، ج: ۲، ص:۲۷۹۔ اسلام اور موسیقی،ص:۲۱۵)  بہر حال موسیقی اور گانا گانے کے آلات کا استعمال ویسے ہی گناہ ہے اور میلاد النبی کے نام سے ذکر ونعت کے وقت اس طرح کے آلات کو استعمال کر نا اور بھی سنگین گناہ ہے ۔  مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی v لکھتے ہیں کہ حضرت ابوامامہ q سے روایت ہے کہ رسول اﷲa نے ارشادفرمایا: ’’کہ بلا شبہ اﷲتعالیٰ نے مجھے جہانوں کے لیے رحمت بناکر اورجہانوں کے لیے ہدایت بناکر بھیجا ہے اورمیرے رب نے مجھے حکم دیا کہ گانے بجانے کے آلات کو اور بتوں کو اورصلیب کو (جسے عیسائی پوجتے ہیں) اور جہالت کے کاموں کو مٹادوں۔‘‘          (مشکوۃ المصابیح: ۳۱۸) اسلام کا دم بھرنے والوں کا یہ حال ہے کہ حضور رحمۃ للعالمین a جن چیزوں کو مٹانے کے لیے تشریف لائے، انہیں چیزوں کو آنحضرت a کی نعت سننے میں استعمال کرتے ہیں، پھر اوپر سے ثواب کی امید بھی کرتے ہیں ۔نفس وشیطان نے ایسامزاج بنادیا کہ قرآن وحدیث کا قانون بتانے والوں کی بات ناگوار معلوم ہوتی ہے ۔ رات بھر ہارمونیم اور سارنگی پر اشعارسنتے ہیں اورساری رات اس کام میں مشغول رہتے ہیں جس کے مٹانے کے لیے رسو ل اللہ a تشریف لائے اور یہ ہیں حب نبوی کے متوالے،جنہیں فرض نمازوں کے غارت کرنے پر ذرابھی ملال نہیں ، خدارا انصاف کیجیے! یہ راتوں کو جاگنانبی اکرم a کی نعت سننے کے لیے ہے یا آپ aکا اسم گرامی استعمال کرکے نفس وشیطان کو لذیزگانے کی غذادینے کے لیے ہے؟ ۔‘‘                              (انوارالبیان :۷/۱۴۰) 

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے