بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 18 ستمبر 2019 ء

بینات

 
 

مکاتیب علامہ محمد زاہد کوثری رحمۃ اللہ علیہ ۔۔۔۔ بنام ۔۔۔۔ مولانا سیدمحمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ

مکاتیب علامہ محمد زاہد کوثری v  ۔۔۔۔  بنام  ۔۔۔۔

مولانا سیدمحمد یوسف بنوریv

            (پانچویں قسط)

{  مکتوب :…۱۰  } اپنے دوست مولانا سید محمد یوسف بنوری حفظہ اللّٰہ ونفع بعلومہ المسلمین کی جانب  السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بعد سلام! آپ کا والانامہ موصول ہوا تو بہت مسرت وشادمانی ہوئی، اللہ تعالیٰ آپ کو علم (کی خدمت) کے لیے کامل عافیت کے ساتھ طویل زندگی عطا فرمائے۔ اُمید ہے کہ آپ بھائیوں خصوصاً مولانا عبدالحق نافع دیوبندی(۱) کو میرا پرخلوص سلام پہنچائیں گے۔ ان کی کریمانہ شفقت اور اس سلسلہ میں آپ کی گراںباری پر شکرگزار ہوں، لیکن الحمدللہ میں معاشی پہلو سے اچھی حالت میں ہوں اور اللہ سبحانہٗ کے فضل سے کسی نوع کے اخراجاتِ زندگی کا محتاج نہیں ، امید ہے کہ کوئی بھی رقم حوالہ کرنے سے گریز کریں گے اور اس ناتواں کو بھیجنے کے لیے جن احباب نے رقوم دی ہیں، اس کریمانہ مہربانی پر ان کے انتہائی شکرئیے کے ساتھ اُنہیں لوٹادیں گے۔ اس خط کے آپ تک پہنچنے سے قبل جو کچھ بھیجا گیا ہے اُسے آپ کے لیے دعائے خیر کرتے ہوئے اپنی ضروریات میں صرف کروں گا۔ میں کس قدر متمنی ہوں کہ (سننِ)ترمذی وغیرہ پر آپ کی مفید تحریروں سے آگاہ ہوں، زندگی نے اگر فرصت عطا کی تو ان شاء اللہ تعالیٰ! جنگ کے بخیریت اختتام پر ملاقات کریں گے اور آپ کی قیمتی تحریرات سے استفادہ کریں گے۔ مولانا شیخ الاسلام مصطفی صبری کو آپ کا سلام پہنچادیا، وہ بھی آپ کو ہدیۂ سلام پیش کر رہے ہیں۔ استاذ ابراہیم سلیم بھی پرخلوص سلام کہہ رہے ہیں، اور استاذ حمامی بخیر ہیں۔ ان شاء اللہ تعالی! رابطے کی صورت میں انہیں آپ کا سلام پہنچاؤں گا، وہ رواں سال حج بھی کریں گے۔ باقی آپ کے ہاں اخبارات میں ذکرکردہ طوفانی ہوائوں اور ان کے نتیجے میں بڑے مالی وجانی نقصانات کی خبر محض افواہ ہے، بحمداللہ سبحانہ شہر میں ہر پہلو سے خیریت ہے۔ امیدوار ہوں کہ مولانا استاذ ابوالوفاء (افغانی)(۲)ا ور مولانا عثمانی کو میرا خالص سلام واحترام پہنچائیں گے۔ شاید’’فتح الملہم‘‘ کی طباعت اب مکمل ہوچکی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ خیروعافیت کے ساتھ آپ کو طویل زندگی سے نوازے۔                                                   مخلص محمد زاہد کوثری                                        ۲۲؍جمادیٰ الاولی ۱۳۶۳ھ، شارع عباسیہ نمبر ۶۳ حواشی ۱:…مولانا عبدالحق نافع v: دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور اسی عظیم ادارے وجامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے سابق استاذ، حضرت شیخ الہند v کے معتمد شاگرد، تحریک آزادی ہند کے عظیم سرخیل مولانا عزیر گل v کے برادرِ صغیر اور حضرت مولانا محمد یوسف بنوری v کے ابتدائی رفیق کار، حضرت بنوری نے ان کی وفات پر اپنے تعزیتی شذرے کے آغاز میں لکھا تھا: ’’دورِ حاضر کے ایک گمنام’’محقق‘‘ حضرت مولانا عبدالحق نافع ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا ہوگئے، إنا للّٰہ وإنا إلیہ راجعون۔ علوم عقلیہ کے ماہر ہی نہیں بلکہ ناقد، علوم نقلیہ کے صاحب بصیرت فاضل، عصر حاضر کے ذکی ترین عالم، نکتہ سنج، دقیقہ رس، شعروادب کے صاحبِ ذوق، ہیئت وریاضی کے امام ہم سے جدا ہوگئے، إنا للّٰہ، علمی مشکلات کے صاحبِ فہم وبصیرت، مسائل دقیقہ علمیہ کی سہل تعبیر پر قادر ترین فاضل، یگانہ روزگار ہم سے رخصت ہوگئے، إنا للّٰہ ۔‘‘ (بصائر وعبر جلد دوم، ص:۶۵۳،طبع قدیم) بروز جمعہ۴؍ذوالحجہ۱۳۹۳ھ کو انتقال ہوا، حضرت بنوریؒ نے ان کے مرثیہ میں جو قصیدہ لکھاتھا، وہ ’’القصائد البنوریۃ‘‘ (ص:۲۷۰طبع قدیم)کا جزو ہے، علامہ کوثریؒ سے انہیں اجازتِ حدیث حاصل تھی ، جس کا ذکر آگے مکتوب نمبر۳۶میں آرہا ہے۔ ۲:…مولانا ابوالوفاء محمود شاہ بن مبارک شاہ قادری، قندہاری، ثم ہندی حیدرآبادی، حنفی المعروف ابوالوفاء افغانی v: ماہرِ فنون عالم، قاری، محدث وفقیہ، اصولی ومحقق، اور ادارہ’’احیاء المعارف النعمانیہ‘‘کے بانی وناشر کتب۔ ۱۳۱۰ھ میں ولادت ہوئی اور۱۳۹۵ھ میں سفر آخرت پر روانہ ہوگئے، ان پر حضرت بنوری v کا تعزیتی شذرہ بصائر وعبر (جلد دوم ص۶۸۳تا۶۸۸)میں درج ہے۔ مزید دیکھیے:’’العلماء العزاب الذین آثروا العلم علی الزواج‘‘شیخ عبدالفتاح ابوغدہ(ص:۲۷۰تا۲۷۴)اور علامہ کوثری کے رسالہ’’فقہ أھل العراق وحدیثہم‘‘ پر شیخ کا حاشیہ (ص:۹۹) ان کے اور علامہ کوثری کے درمیان علمی مراسلت رہتی تھی، ان رسائل کے ڈاکٹر سعود سرحان کے مطابق مولانا افغانی کے نام علامہ موصوف اور شیخ ابوغدہ کے بعض خطوط نوجوان عرب محقق محمد ابوبکر باذیب کے ذخیرہ میں موجود ہیں۔                             {  مکتوب :…۱۱  }       (۲۸؍رمضان ۱۳۶۳ھ) جناب استاذ جلیل مولانا سید محمد یوسف بنوری حفظہ اللہ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بعد سلام! آپ کا گرامی نامہ موصول ہوا تو مجھے بہت خوشی ہوئی۔ اس ناتواں کو اہمیت دینے پر آپ کا بے حد شکر گزار ہوں۔ ’’مقالات‘‘ ان شاء اللہ تعالیٰ! جنگ ختم ہونے کے بعد احباب کی مشاورت کے مطابق (طبع) ہوںگے، لیکن میں اپنی ان تحریروں کو اس قدر توجہات کا مستحق نہیں سمجھتا۔ بعض احباب‘ مصر میںان مقالات کو چھاپنے کے لیے فکرمند ہیں، جن کی تعداد ۷۸؍ مقالات تک پہنچ چکی ہے، لیکن جنگ کی بنا پر کاغذ کی گرانی اس میں حائل ہے۔ (۱) لگ بھگ چار ماہ قبل مجھے ڈاک کے ذریعہ تین گنیوں کے قریب رقم ملی تھی، جس میں سے حسب ضابطہ منی آرڈر (کے چارجز) کی رقم کٹوتی کی گئی ہوگی ،شاید منی آرڈر کے ذریعے اتنی مقدار بھیجنے کی ہی اجازت ہے، باقی رقم کے بارے میں اپنے ہاں کے شعبۂ ڈاک سے تحقیق کریں۔ اس مہربانی پر دل کی گہرائیوں سے آپ کا شکر گزار ہوں، اگرچہ ذکر کرچکا کہ اس تکلف کا کوئی داعیہ نہ تھا، اللہ سبحانہ آپ کو ہر خیر کی توفیق بخشے۔ رہے وہ مغولی (تاتاری)شخص (۲) جنہیں آپ نے ایک لفظ میں خود ساختہ عالم سے موصوف کیا ہے، انہوں نے شاہانِ (روس) کے دور میںاپنی قوم کو کتنا نقصان پہنچایا ہے اور وہاں کتنے فتنے برپا کیے ہیں!! اللہ نے ان کے دل اور آنکھوں کو مہر زد کردیا ہے، وہ عوام کو تشویش میں ڈالنے کے لیے ہی کوشاں رہتے ہیں ،ان کی (ایک کتاب) ’’براہین الرحمۃ الإلٰہیۃ‘‘ (۳)(ہے، جس) میں ابن عربی، صاحب مثنوی (مولانا روم) اور ابن قیم (w) وغیرہ کی کتابوں کی شطحیات جمع کردی ہیں، جو عوام کو عذابِ آخرت سے پرواہ بنادیتی ہیں۔ اس پر قبل ازیں شیخ الاسلام مصطفی صبری ترکی زبان میں رد کرچکے ہیں، (۴) اسی طرح ان کی ’’الصیام فی الأیام الطویلۃ‘‘ نے لوگوں کوروزے کے معاملے میں لا ابالی بنا ڈالا ہے۔(۵) اور ’’القواعد الفقہیۃ‘‘ نے فقہ کی اہمیت گھٹادی ہے، البتہ ’’علم قراء ت‘‘ میں انہیں (کسی قدر) مہارت حاصل ہے اور اس(فن) میں بعض مفید کتابیں بھی ہیں اور ’’الوشیعۃ‘‘ (۶)کے نام سے شیعوں پر رد لکھا ہے، جو مصر سے چھپا  اور بعض پہلوؤں سے مفید ہے۔  لوگ ان پر شاہانِ (روس) کے عہد میں شہر میں منعقد ہونے والی (عیسائی) تبلیغی محفلوں کے ساتھ ربط کا الزام لگاتے ہیں، اس لیے کہ دیگر علماء کی قربانیوں کے برعکس وہ (ان اندوہناک حالات میں) آزادی اور اپنی کتابوں میں تائید کا لطف اٹھا رہے تھے۔ ان کی شخصیت میں تمام پہلوؤں سے ’’شذوذ‘‘ فطری طور پر پایا جاتا ہے اور ان کے نزدیک سب سے محبوب عمل اسی کا اہتمام اور اس کی تردید ہے، اس لیے کہ یہ (طرز) ان کی شہرت کا باعث ہے۔ انہوں نے امام ابوحنیفہؒ کے مزار پر معتکف رہ کر ’’مبسوط سرخسی‘‘ کا ختم کیا ہے۔ ’’کوہِ طور‘‘ کے ’’دیر سینائ‘‘ میں خلوت گزینی کی ہے، اور یہی عمل ہندوستان میں ہندوؤں کے ’’کعبہ‘‘ میں سرانجام دیا ہے۔ کوئی بعید نہیں کہ فرصت ملنے پر قریبی زمانے میں آپ کے ہاں کے مغولی (تاتاری) قادیانی (۷) کی طرح نبوت اور وحی کا دعویٰ بھی کر بیٹھیں۔ اب گرمی نے دودھ کو ضائع کر ڈالا ہے، (۸) اس لیے ’’اِلحادی طاغوت‘‘ کی چاپلوسی کا انہیں کوئی فائدہ نہ ہوگا، بلکہ اپنے دامن میں سمٹی کھلی کجروی کا ہی انکشاف ہوگا۔ (۹)  آپ کے لیے اللہ تعالیٰ سے ہرحال میں انتہائی بیدار مغزی کے ساتھ علمی خدمت کی توفیق مانگتا ہوں، بشرطیکہ یہ سعی پیہم آپ کی جان پر قوت وطاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالے۔ یہ حقیقت ہے کہ علمی نشاط‘معتدل موسم رکھنے والے علاقے کے انتخاب پر موقوف ہے اور اللہ کے لیے یہ مشکل نہیں۔ امیدہے کہ اپنے علماء بھائیوں کو میرا مہکتا سلام پہنچائیںگے۔ اللہ تعالیٰ خیر وعافیت کے ساتھ آپ کو طویل زندگی عطا فرمائے اور آپ کے علوم سے مسلمانوں کو فائدہ پہنچائے۔ شیخ الاسلام مصطفی صبری، استاذ حمامی اور ابراہیم سلیم آپ کو سلام کہہ رہے ہیں۔                                                                            مخلص                                                                         محمد زاہد کوثری                                                                      شارع عباسیہ نمبر ۶۳ (پس نوشت:تاکیداً امیدوار ہوں کہ قبولیتِ دعاء کے مواقع میں مجھے اپنی مبارک دعاؤں کا شرف بخشیں، اور علامہ اکبر (مولانا شبیر احمد عثمانیؒ) ودیگر اساتذہ کو میرا سلام پہنچادیں)۔ حواشی ۱:…یہ علامہ کوثری v کی دوکتابوں ’’مقالات الکوثری‘‘ اور ’’مقدمات الکوثری‘‘ کے جمع وترتیب اور اشاعت کے مراحل کی جانب اجمالی اشارہ ہے۔ ’’مقالات الکوثری‘‘ پر حضرت بنوری vکے مقدمے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت بنوریؒ نے علامہ کوثریؒ کے مقالات کے جمع وترتیب کی رغبت ظاہر کی تھی، تو علامہ کوثریؒ نے اس سلسلے میں اپنے بعض شاگردوں کے عملی اقدام کے بارے میں بتایا۔ یہ کام موصوف کی حیات میں تو پایۂ تکمیل تک نہ پہنچ سکا، تاہم ان کی وفات کے بعدان کے شاگردوں رضوان محمد رضوان، عبد اللہ عثمان حمصی اور حسام الدین قدسی نے لگ بھگ ۱۳۷؍ مقالات جمع کرکے چھپوائے ہیں۔ علامہ موصوف کے مقالات بھی شیخ محمد بن عبد اللہ آل رشید نے طبع کروائے ہیں، یاد رہے کہ استاذ ایادغوج کے استدراک کے مطابق اب بھی بعض مقالات طبع ہونے سے رہ گئے ہیں، جن پر انہوں نے ایک مستقل مقالہ ترتیب دیا ہے۔ ’’مقالات الکوثری‘‘ اور ’’مقدمات الکوثری‘‘ کے عرب وعجم میں کئی ایڈیشن منظر عام پر آچکے ہیں۔  عالم عرب میں ’’دار السلام، قاہرہ‘‘ اور پاکستان میں ’’المکتبۃ الغفوریۃ العاصمیۃ‘‘ کے طبعات عمدہ ہیں۔ ۲:… علامہ موسی جار اللہ روسی: ماہر فنون عالم، صحافی ، سیاستدان اور سیاح، عربی، روسی، فارسی، ترکی اور سنسکرت زبانوں پر دسترس رکھتے تھے۔ ۱۲۹۵ء میں روس کے ایک متدین گھرانے میںپیدا ہوئے، چھے برس کی عمر میں والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا، پھر ان کی والدہ نے تعلیم وتربیت کا بیڑا اٹھایا، ابتدائی تعلیم روسی مدارس میں حاصل کی، ۱۳۰۵ھ؍۱۸۸۸ء میں والدہ نے قازان بھیج دیا، بعد ازاں وسطی ایشیاء کی ریاستوں میں بخارا وسمرقند کے مدارس میں پڑھا۔ دس سال بعد استنبول گئے اور پھر قاہرہ میں شیخ بخیت مطیعی اور شیخ محمد عبدہٗ کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیے۔ مصر سے حجاز کا سفر کرکے دوسال وہاں گزارے، پھر اترپردیش، ہندوستان آکر سنسکرت زبان سیکھی، تاکہ ہندومت کے بنیادی مآخذ کو براہ راست سمجھ سکیں۔ ۱۳۲۱ھ؍۱۹۰۴ء میں واپس روس لوٹ کر رشتۂ ازدواج سے منسلک ہوئے اور قانون کی تعلیم حاصل کرنے میں مشغول ہوگئے۔ ۱۳۲۲ھ؍۱۹۰۵ء میں برپا ہونے والے روسی انقلاب کے موقع پر تالیفی ، صحافتی اور سیاسی سرگرمیاں شروع کیں۔ ۱۳۲۳ھ تا ۱۳۳۵ھ؍۱۹۰۵ء تا ۱۹۱۷ء کے دورانیے میں روسی مسلمانوں کی وحدت کے لیے کوشاں رہے۔ اسی دوران مولانا جلال الدین رومی اور ابن عربی E کے بعض افکار سے متاثر ہوئے، مثلاً یہ کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت غیرمسلموں کو بھی شامل ہے۔ مزید براں تقلید اور علم کلام پر تنقیدی تحریریں لکھ ڈالیں، جن پر ترکستان، روس اور ترکی کے معاصر علماء نے رد کیا اور دسیوں تردیدی کتب ومقالات لکھے گئے۔ اس دوران ترکی زبان میں ان کی کئی کتابیں طبع ہوئیں، جنہوں نے روسی وترکی مسلمانوں پر گہرے اثرات مرتب کیے اور خلافتِ عثمانیہ کے وزیر داخلہ نے ان پر پابندی لگادی۔ رہی سیاسی سرگرمیاں تو ابتدا میں روسی مسلمانوں کے اتحاد کے لیے کوشش کرتے رہے۔ ۱۹۱۷ء میں روسی انقلاب آیا تو آغاز میں وہ اس کے بڑے مؤید تھے، ان کا خیال تھا کہ مسلمانوں کو روس کا ساتھ دینا چاہیے، تاکہ برطانوی استعمار کا زور ٹوٹے، اور بوقتِ فرصت روسی مسلمان خلافتِ عثمانیہ کے ساتھ ضم ہوجائیں، اسی بنا پر برطانیہ کے خلاف جدوجہد کرنے والے ہندوستانی علماء مولانا برکت اللہ اور مولانا عبید اللہ سندھی E کے ساتھ بھی ان کا تعلق مضبوط ہوا، لیکن انقلابِ روس کے متعلق ان کی یہ خوش فہمی جلد ہی ختم ہوگئی۔ ۱۹۲۱ء کی روسی جنگ کے ساتھ سوشلسٹوں نے غلبہ حاصل کرلیا۔ ستمبر ۱۹۲۰ء میں شیخ موسیٰ نے اعلان کیا کہ روسی مسلمانوں نے عثمانی خلیفہ کی بیعت لی ہوئی ہے، ترکی افواج کے سپہ سالار مصطفی کمال اتاترک کو اس حوالے سے ایک خط بھی ارسال کیا، اور ’’الف باء الاسلام‘‘ کے نام سے انقلاب پر تردید ی کتاب بھی لکھی، جس پر روسی ایجنسیوں نے انہیں گرفتار کرلیا، بعد ازاں روس کی مسلم جماعتوں کے دباؤ پر انہیں خلاصی ملی۔ اس کے بعد انہوں نے حجاز، مصر، مشرقی ترکستان(چین) اور افغانستان کے اسفار کیے، نادرشاہ نے ان کا شاندار استقبال کیا اور پاسپورٹ بھی جاری کردیا، وہاں سے ہندوستان اور پھر دوبارہ مصر ، بیت المقدس، ایران اور عراق کے سفر کیے۔ آخر الذکر دو ملکوں میں ایک سال گزارا، شیعہ علماء سے ملاقاتیں کیںاور ان کے مذہب کے مآخذ کا مطالعہ کیا اور ۱۳۵۴ھ؍۱۹۳۵ء میں مصر جاکر ’’الوشیعۃ فی نقد عقائد الشیعۃ‘‘ سمیت کئی کتابیں شائع کیں۔ ۱۳۵۶ھ؍۱۹۳۷ء میں مکہ مکرمہ کا سفر کیا اور وہاں اپنے قدیم استاذ مولانا عبید اللہ سندھیv سے ملاقات ہوئی، ان سے شاہ ولی اللہ v کی بعض کتب اور شاہ اسماعیل شہید v کی ’’العبقات‘‘ پڑھیں۔ تفسیر قرآن میں شاہ صاحب کے وضع کردہ اصول کے موافق امالی ترتیب دی، اس عرصے میں وہ ’’مدرسہ صولتیہ‘‘ میں مدرس رہے۔ مولانا سندھی سے تفسیر مکمل کرنے کے بعدہندوستان آکر ایک ہندو عالم سے ان کی مذہبی کتابیں پڑھیں۔۱۳۵۷ھ؍۱۹۳۸ء میں جاپان، ہندوستان، انڈونیشیا اور سنگارپور کی سیاحت کی۔ ۱۳۵۸ھ؍۱۹۳۹ء میں دوسری عالمی جنگ کے بادل منڈلانے پر جاپان چھوڑ کر ہندوستان آگئے۔ یہاں ان کی سرگرمیاں برطانوی سامراج کو کھٹکنے لگیں اور انہیں پشاور میں قید کردیا، جس سے نواب بھوپال محمد حمید اللہ خان کی سفارش پر نجات ملی، لیکن نظر بندی برقرار رہی۔ اس دوران انہوں نے تالیفی کام جاری رکھتے ہوئے کئی کتابیں ترتیب دیں۔ ۱۳۶۵ھ؍۱۹۴۶ء میں بیمار ہوئے اور علاج کرنے کی خاطر ترکی کا سفر اختیار کیا، پھر قاہرہ پہنچے، بیماری کی وجہ سے سفرمیں حالت نازک ہوئی تو انہیں ’’ملجأ ام المحسنین‘‘ منتقل کردیاگیا، وہیں بروز پیر ۳؍محرم ۱۳۶۹ء مطابق ۲۵ ؍کتوبر ۱۹۴۹ء کو راہیِ ملک بقا ہوئے۔علامہ موسیٰ جار اللہ اپنے مختلف افکار وخیالات کی بنا پر متنازع رہے ہیں اور ان کی شخصیت وکردار کے بہت سے گوشے مخفی ہیں، جن پر تحقیقی مقالات کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، تاکہ شخصیت وافکار کی حقیقی تصویر سامنے آسکے۔مزید حالات کے لیے ملاحظہ کیجئے: مقدمۃ ’’الوشیعۃ‘‘ (ص:۲۲تا ۲۷)، ’’الاعلام‘‘ زرکلی (۷؍۳۲۰،۳۲۱)، ’’مذکرات محمد کرد علی‘‘ (۴؍۱۲۳۳)، ’’مجلۃ المجمع العلمی العربی‘‘ جلد:۴،جزئ:۶، حزیران ۱۹۲۴ئ؍شوال وذوقعدہ ۱۳۴۳ھ (ص:۲۶۶تا ۲۶۷) ۳:…یہ کتاب ترکی زبان میں چھپی ہے، روس میں اس کی بناپر بحث ومباحثہ کا میدان گرم رہا، بہت سے علماء نے اس پر نقد کیا اور بعض نے اسی کتاب کی بنا پر مؤلف کی تکفیر کی ہے۔ ۴:…علامہ مصطفی صبری کی کتاب کا نام ’’القیمۃ العلمیۃ للمجتہدین المسلمین العصریین‘‘ ہے، انہوں نے ۱۳۳۴ھ؍۱۹۱۶ھ میں رومانیا میں قید کے دوران یہ کتاب لکھی تھی، جو ۱۳۳۷ھ؍۱۹۱۹ء میں استنبول میں چھپی۔ ۵:… علامہ موسیٰ جار اللہ نے اس کتاب میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ جن شدید سرد وگرم علاقوں کے لوگوں کے لیے روزہ رکھنا دشوار ہو تو ان سے روزہ کی فرضیت ساقط ہوجاتی ہے۔ نیز قطب شمالی پر رہنے والوں پر بھی روزہ فرض نہیں، اس لیے کہ روزہ ان لوگوں پر فرض ہوتا ہے جن کے دن اور رات تقریباً برابر ہوں، اور شمالی ممالک میں دن کا طول، معتدل ممالک کے ایک ہفتے اور کبھی ایک ماہ کے برابر ہوجاتاہے، اس لیے ان علاقوں کے لوگ روزے کی فرضیت سے مستثنا ہیں۔ اسی طرح ان کا کہنا تھا کہ جن شدید سرد وگرم یا طویل ایام والے علاقوں کے باسیوں سے روزے کی فرضیت ساقط ہے، ان سے ان روزوں کافدیہ بھی ساقط ہوجاتاہے۔موصوف کی اس کتاب کی تردید میں علامہ مصطفی صبری v نے ’’صوم رمضان‘‘ کے نام سے کتاب لکھی، اور ۴۶-۱۳۴۷ھ/۲۸-۱۹۲۷ء کے دوسالوں کے دوران یونان سے شائع ہونے والے رسالے ’’یارین‘‘ میں سلسلہ وار طبع کی ہے، دیکھئے! ’’الشیخ مصطفی صبری‘‘ قوسی (ص:۲۱۴تا۲۱۶) ۶:… ’’الوشیعۃ فی نقد عقائد الشیعۃ‘‘ یہ مؤلف موصوف کی شہرت یافتہ کتابوں میں سے ہے، موصوف نے ممالک اسلامیہ کی سیاحت کے دوران شیعہ مذہب کے متعلق کئی سوالات لکھ کر ایران، نجف، کاظمیہ اور جبل عامل کے علمائے شیعہ کے سامنے پیش کیے اور ان سے جوابات کا مطالبہ کیا، اور اس کے بعد یہ کتاب تالیف کی۔ ۷:… قادیانی جماعت کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کی جانب اشارہ ہے، قادیانیت کی تردید میں لکھنے والے کئی اہل قلم وعلم نے مرزا کو ’’مغولی‘‘ (تاتاری) کہا ہے، ذہن میں پہلے پہل یہ خیال ابھرتا ہے کہ شاید محض تنقیص کے لیے یوں تذکرہ کیا جاتاہے، لیکن اہل علم حقیقی مفہوم ہی مرد لیتے ہیں، مرزا قادیانی اپنا تذکرہ کرتے ہوئے خود کو مغولی اور یاجوج کی نسل میں سے قرار دیا ہے، مولانامحمد انور شاہ کشمیری v نے لکھا ہے: ’’شقی غلام احمد قادیانی (ولادت ۱۲۵۲ھ) کا سلسلۂ نسب تاتاری مغولیوں تک اور بقول اس کے یاجوج ماجوج تک پہنچتا ہے‘‘۔ دیکھئے: ’’التصریح بما تواتر فی نزول المسیح‘‘ (ص:۳۸،حاشیہ:۱) ۸:… ایک عربی کہاوت ہے جو ایسے موقع پر بولی جاتی ہے جب کوئی شخص کسی حاصل ہونے والی خیر، بھلائی اور نعمت کو حرص وطمع اور ناخوشی کی بناپر ضائع کردے۔  ۹:… علامہ موسیٰ جار اللہ کی طرف سے کمال اتاترک کے لیے تعریفی کلمات کی جانب اشارہ ہے، شیخ تقی الدین ہلالی کے شائع کردہ انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا: ’’مصطفی کمال ہرپہلو سے عظیم انسان ہیں، میں نے علم اور عقل وذکاوت میں ان جیسا شخص نہیں دیکھا، ان کا اتنا ہی کارنامہ کافی ہے کہ انہوں نے اپنی قوم کو یورپی اقوام کے جبروں سے چھڑایاہے۔‘‘ مزید کہا: ’’وہ مخلص مومن ہے اور قوی ترین ایمان والے ہیں۔‘‘ نیز عربی میں ایک رسالہ ان علمائے عرب کی تردید میںلکھا، جنہوں نے اتاترک حکومت کی تکفیر کی ہے، اور بدست خود مصطفی کما اتاترک کو پیش کیا تھا، دیکھئے: ’’مجلۃ الفتح‘‘ (سال ششم، شمار نمبر: ۲۶۷، بروز جمعرات ۲۷؍ربیع الثانی ۱۳۵۰ھ) علامہ کوثریؒ، اتاترک کو ’’طاغیۃ الإلحاد‘‘ (الحادی طاغوت) کا لقب دیا کرتے تھے۔ (دیکھئے: ’’صفحات البرہان‘‘، ص:۳۴تا۴۳) (جاری ہے)

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے