بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1440ھ- 21 اگست 2019 ء

بینات

 
 

مناجاتِ انبیاء ؑ قرآن کریم میں مذکور انبیاء علیہم السلام کی مقبول دعائیں(دوسری قسط)

مناجاتِ انبیاء ؑ

قرآن کریم میں مذکور انبیاء  علیہم السلام کی مقبول دعائیں                                          (دوسری قسط)

حضرت نوح m کی دُعائیں سواری پر سوار ہوتے وقت کی دعا ’’ بِسْمِ اللّٰہِ مَجْــرٖیہَا وَمُرْسٰیہَا إِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔‘‘(ھود:۴۱) ترجمہ :’’اس کا چلنا بھی اللہ کے نام سے ہے اور لنگر ڈالنا بھی۔‘‘ تشریح:۔۔۔۔۔۔طوفان کے وقت حضرت نوح m نے ایمان والوں کو اپنے ساتھ کشتی میں سوار ہونے کا حکم دیا اور سوار ہوتے ہوئے یہ دعا پڑھی، چنانچہ آپ کی کشتی جودی پہاڑ کی چوٹی پر لنگر انداز ہوئی، نبی کریم aفرماتے تھے کہ یہ دعا میری امت کے لیے غرق ہونے سے اَمان کا موجب ہے۔ (تفسیر قرطبی) معنی یہ ہیں کہ اس کشتی اور سواری کا چلنا بھی اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت اور اس کے نام سے ہے اور رُکنا اور ٹھہرنا بھی اسی کی قدرت کے تابع ہے،اگر انسان ذرا بھی عقل سے کام لے تو اس کو سائنس کی اعجوبہ کاری اور عروج کے اس زمانہ میں بھی اپنی بے بسی اور عاجزی ہی کا مشاہدہ ہوگا، اور اس اقرار کے بغیر نہ رہ سکے گا کہ ہر سواری کا چلنا اور رُکنا سب خالق کائنات حق تعالیٰ ہی کے قبضہ میں ہے۔ دیکھنے میں تو یہ ایک دو لفظی فقرہ ہے، مگر غور کیجئے تو یہ کلید اور کنجی ہے‘ ایک ایسے دروازہ کی جہاں سے انسان اس مادی دنیا میں رہتے ہوئے روحانی عالم کا باشندہ بن جاتا ہے، اور کائنات کے ذرہ ذرہ میں جمالِ حق تعالیٰ کا مشاہدہ کرنے لگتا ہے،یہیں سے مومن کی دنیا اور کافر کی دنیا میں فرق نمایاں ہوجاتا ہے، سواری پر دونوں سوار ہوتے ہیں، لیکن مومن کا قدم جو سواری پر آتا ہے وہ اس کو صرف زمین کی مسافت قطع نہیں کراتا، بلکہ عالم بالا سے بھی روشناس کردیتا ہے۔ (معارف القرآن) لا علمی کی حالت میں سوال سے بچنے کی دعائے مغفرت ورحمت ’’رَبِّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ أَنْ أَسْئَلَکَ مَا لَیْسَ لِیْ بِہٖ عِلْمٌ وَإِلَّا تَغْفِرْ لِیْ وَتَرْحَمْنِیْ أَکُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ۔‘‘                                                         (ہود:۴۷) ’’ میرے پروردگار!میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ آپ سے وہ چیز مانگوں جس کا مجھے علم نہیں، اور اگر آپ نے میری مغفرت نہ فرمائی اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں بھی ان لوگوں میں شامل ہوجاؤں گا جو برباد ہوگئے ہیں۔‘‘ تشریح:۔۔۔۔۔۔حضرت نوح m کو اپنے بیٹے کے کفر کا پورا حال معلوم نہ تھا، اس کے نفاق کی وجہ سے وہ اس کو مسلمان ہی جانتے تھے، اسی لیے اس کو اپنے اہل کا ایک فرد سمجھ کر طوفان سے بچانے کی دعا کر بیٹھے، ورنہ اگر ان کو حقیقت حال معلوم ہوتی تو ایسی دعا نہ کرتے۔ اصل حقیقت معلوم ہوجانے کے بعد حضرت نوح (m)نے اپنے سوال پر اللہ تعالیٰ سے عاجزانہ انداز میں استغفار اورطلب رحمت کی درخواست کی۔سلسلۂ بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح m کی دعا قبول کی گئی ،اللہ نے اس دعا کے نتیجے میں بطور قبولیت نزولِ برکت اور سلامتی کی بشارت دی، تاکہ ان کو تسلی ہوجائے ۔ اس سے ایک مسئلہ یہ بھی معلوم ہوا کہ دعا کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ دعا کرنے والا پہلے یہ معلوم کرلے کہ جس کام کی دعا کر رہا ہے، وہ جائز و حلال ہے یا نہیں؟ مشتبہ حالت میں دعا کرنے سے منع فرمایا گیا ہے۔ تفسیر روح المعانی میں بحوالہ قاضی بیضاویv نقل کیا ہے کہ جب اس آیت سے مشتبہ الحال کے لیے دعا کرنے کی ممانعت معلوم ہوئی تو جس معاملہ کا ناجائز و حرام ہونا معلوم ہو، اس کے لیے دعا کا ناجائز ہونا بدرجہ اولیٰ ثابت ہوگیا۔ اور یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ انسان سے اگر کوئی خطا سرزد ہوجائے تو آئندہ اس سے بچنے کے لیے تنہا اپنے عزم و ارادہ پر بھروسہ نہ کرے، بلکہ اللہ تعالیٰ سے پناہ اور یہ دعا مانگے کہ یا اللہ! آپ ہی مجھے خطاؤں اور گناہوں سے بچا سکتے ہیں۔ آج کل کے مشائخ میں جو یہ عام رواج ہوگیا ہے کہ جو شخص کسی دعا کے لیے آیا اس کے واسطے ہاتھ اٹھا دیئے اور دعا کردی ،حالانکہ اکثر اُن کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس مقدمہ کے لیے یہ دعا کرا رہا ہے اس میں یہ خود ناحق پر ہے یا ظالم ہے، یا کسی ایسے مقصد کے لیے دعا کرا رہا ہے جو اس کے لیے حلال نہیں، کوئی ایسی ملازمت اور منصب ہے جس میں یہ حرام میں مبتلا ہوگا ،یا کسی کی حق تلفی کر کے اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکے گا،ایسی دعائیں حالت معلوم ہونے کی صورت میں تو حرام و ناجائز ہیں ہی، اگر اشتباہ کی حالت بھی ہو تو حقیقتِ حال اور معاملہ کے جائز ہونے کا علم حاصل کیے بغیر دعا کے لیے اقدام کرنا بھی مناسب نہیں۔ (معارف القرآن) حقیقت بیانی پرجھٹلائے جانے کی صورت میں نصرتِ الٰہی کی دعا ’’رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا کَذَّبُوْنِ۔‘‘                                      (المومنون:۲۶) ترجمہ: ’’یا رب!ان لوگوں نے مجھے جس طرح جھوٹا بنایا ہے، اس پر تو ہی میری مدد فرما۔‘‘ تشریح:۔۔۔۔۔۔حضرت نوح m کی قوم نے آپ کی نبوت ورسالت کو تسلیم کرنے کے بجائے آپ کو اور آپ کی دعوتِ توحید کو جھٹلایا تواس وقت حضرت نوح m نے اللہ سے مدداور نصرت کی دعا مانگی،حضرت نوح m کی اس دعا کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے انہیں کشتی بنانے کا حکم دیا اوراس کے ذریعہ طوفان سے نجات عطا فرمائی۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب کوئی سچا ہو اور لوگ اُسے جھٹلا رہے ہوں یا جھوٹا سمجھ رہے ہوں تو اُسے یہ دعا کثرت سے مانگنی چاہیے ۔ فتح ، فیصلہ طلبی اور دشمنوں سے نجات کی دعا ’’رَبِّ إِنَّ قَوْمِیْ کَذَّبُوْنِ فَافْتَحْ بَیْنِیْ وَبَیْنَہُمْ فَتْحًا وَّنَجِّـنِیْ وَمَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۔‘‘                                                         (الشعراء :۱۱۷،۱۱۸) ترجمہ: ’’میرے پروردگار !میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا ہے، اب آپ میرے اور ان کے درمیان دو ٹوک فیصلہ کردیجیے، اور مجھے اور میرے مومن ساتھیوں کو بچا لیجیے۔‘‘ تشریح:۔۔۔۔۔۔حضرت نوح m ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کے لوگوں کو حق کی طرف بلاتے رہے، مگر انہوں نے آپ کی بات نہ مانی،آپ کو جھٹلاتے رہے، حتیٰ کہ قوم والوں نے فیصلہ کیا کہ سب لوگ مل کر نوح کو پتھر ماریں، یہاں تک کہ وہ ہلاک ہوجائیں ، ساڑھے نو سو برس سختیاں جھیل کر بھی قوم والے راہ راست پر نہ آئے توحضرت نوح m نے خدا سے فریاد کی کہ اب ان بدبختوں کے مقابلہ میں میری مدد فرمایئے، کیونکہ بظاہر یہ لوگ میری تکذیب سے باز آنے والے نہیں ،چنانچہ حضرت نوح m کی دعا قبول ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے قوم کو طوفان سے ہلاک کرنے کا فیصلہ فرمایا اور مومنوں کے بچاؤ کی تدبیر ارشاد فرمائی ۔ حضرت نوح m کی مذکورہ دونوں دعاؤں سے پتہ چلتا ہے کہ انبیاء کرامB کو حق پر ہونے کے باوجود جب جھٹلایا گیا تو وہ مایوس نہیںہوئے، بلکہ تکذیب کے باوجود اللہ کے حضور مدد اور نصرت کی دعائیں مانگتے رہے، نیز جب انسان سچا ہو اور صراطِ مستقیم پر ہو اور لوگ اُسے جھٹلارہے ہوں، تو اُسے گھبرانا نہیں چاہیے، انجام کار اللہ کی مدد اور نصرت ان شاء اللہ! شاملِ حال ہوگی۔ سفر ، سواری اور نئے شہر میں حفاظت وبرکت کے لیے دعا ’’رَبِّ أَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَکًا وَّأَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ۔‘‘                   (المومنون:۲۹) ترجمہ:’’رب !مجھے ایسا اترنا نصیب کر جو برکت والا ہو، اور تو بہترین اُتارنے والا ہے۔‘‘ تشریح:۔۔۔۔۔۔حضرت نوح m کو اللہ تعالیٰ نے یہ ہدایت فرمائی کہ جب کشتی میں سوار ہوجائیں تو پہلے ظالموں سے نجات ملنے پر اللہ کاشکر ان الفاظ سے ادا کریں: ’’الْـحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ نَجّٰانَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ۔‘‘              (المومنون:۲۸) ’’تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں ظالم قوم سے نجات دی۔‘‘ پھر حضرت نوحm کو حکم ہوا یہ دعا پڑھیں: ’’رَبِّ أَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَکًا وَّأَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ۔‘‘(المومنون:۲۹) یعنی کشتی میں اچھی آرام کی جگہ دے اور کشتی سے جہاں اتارے جائیں ،وہاں بھی کوئی تکلیف نہ ہو، ہر طرح اور ہر جگہ تیری رحمت و برکت شامل حال رہے۔ (تفسیر عثمانی) حضرت علیq مسجد میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔(تفسیر قرطبی) اس کو پڑھنے سے سواری تمام آفات سے محفوظ رہتی ہے اور نیز گھر میں پڑھنے سے چور، دشمن اور جن وغیرہ سے حفاظت رہتی ہے ،جب کسی شہر میں داخل ہونے لگے تو اس آیت کو پڑھ لے، ان شاء اللہ تعالیٰ! وہاں خیر خوبی سے بسر ہوگی۔ (حضرت تھانویؒ) غلبہ ونصرت کے حصول کی دعا ’’فَدَعَا رَبَّہٗ أَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ۔‘‘  (القمر:۱۰) ترجمہ:’’اس پر انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ میں بے بس ہوچکا ہوں، اب آپ ہی بدلہ لیجیے۔‘‘ تشریح:۔۔۔۔۔۔حضرت نوحm کی قوم نے جب ان کی تکذیب میں حد کردی اور جھوٹا اور مجنون کہا تو حضرت نوح m نے اپنے رب سے یہ دعا کی کہ :’’أَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ‘‘(القمر:۱۰) ۔۔۔۔ ’’میں بے بس ہوچکا ہوں، اب آپ ہی بدلہ لیجیے۔‘‘ چنانچہ اس دعا کی برکت سے حضرت نوح m اور ایمان والوں کو ان پر غلبہ نصیب ہوا،اور وہ لوگ طوفان میں غرق ہوکر تباہ وبرباد ہوئے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کرامB کو بھی ایسے سنگین حالات سے گزرنا پڑا ہے کہ وہ خود کو مغلوب محسوس کرتے رہے ہیں، لیکن اس سے نہ ان کی استقامت میں کوئی فرق آیا اور نہ ان کے حوصلے پست ہوئے، بلکہ اللہ پر توکل کرتے ہوئے اس سے نصرت کی دعا کی، اس دعامیں ان مسلمانوں کے لیے رہنمائی کا سامان ہے جوحق پر ہونے کے باوجود اپنے آپ کو مغلوب پا رہے ہوں، بہرحال مغلوب ہونے کی حالت میں اس دعا کو کثرت سے مانگنا چاہیے۔ اپنی اور اپنے والدین نیز تمام مسلمانوں کے لیے مغفرت کی دعا ’’رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا وَّلِلْمُوْمِنِیْنَ وَالْمُوْمِنٰتِ۔‘‘(نوح:۲۸) ’’میرے پروردگار! میری بھی بخشش فرمادیجیے، میرے والدین کی بھی، اور ہر اس شخص کی بھی جو میرے گھر میں ایمان کی حالت میںداخل ہوا ہے اور تمام مومن مردوں اور مومن عورتوں کی بھی۔‘‘ تشریح:۔۔۔۔۔۔ یہ حضرت نوحm کی دعا ہے، جو انہوں نے اپنے، اپنے والدین اور تمام مومنین ومومنات کے لیے مانگی تھی، سب سے پہلے اپنے لیے دعا کی، تاکہ یہ ظاہر ہو کہ انسان سب سے زیادہ خود اللہ تعالیٰ کی مغفرت کا محتاج ہے، پھر اپنے والدین کے لیے دعا کی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے بعد انسان پر سب سے زیادہ احسان اس کے والدین کا ہے، والدین کی وفات کے بعد ان کے لیے مغفرت کی دعا کرنا، ان کے ساتھ احسان کرنا ہے، اسلام کی یہی تعلیم ہے، اس کے بعد تمام مومنین کے لیے دعا کی، حضرت نوح m نے اس صراحت کے ساتھ دعا کی کہ جو شخص بھی میرے گھر میں مومن بن کر داخل ہوا اُس کی مغفرت فرما، ساتھ ہی انہوں نے عمومیت کے ساتھ تمام مومن مردوں اور عورتوں کے لیے بھی دعائے مغفرت کی۔     گویا دعا مانگنے کا طریقہ بھی سکھا دیا کہ مغفرت کی دعا کن الفاظ سے مانگی جائے، اور یہ بھی بتادیا کہ دعا میں خود غرضی یعنی صرف اپنی ذات کے لیے دعا نہ ہو، بلکہ اپنے ساتھ ساتھ اپنے والدین اور پوری امت کے لیے بھی اللہ سے دعا کی جائے۔                                          (جاری ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ژ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ژ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ژ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

 

 

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے