بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 اکتوبر 2019 ء

بینات

 
 

مذہبی القابات اور ہماری بے اعتدالیاں

مذہبی القابات اور ہماری بے اعتدالیاں


اسلام جہاں غلو، غلط بیانی اور بے جا مبالغہ سے منع کرتا ہے، وہی ہر معاملے میں راہِ اعتدال اپنانے کی تاکید کرتا ہے۔ یہی دینِ اسلام کی ایک بڑی خوبی ہے کہ اس نے اعتدال، توسط اور میانہ روی کی تلقین کی ہے اور ہمیں اُمتِ وسط بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ اعتدال اپنانے والوں کو کبھی بھی گمراہی اور پچھتاوے کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ اس کے بر عکس وہ لوگ جو اعتدال کے دامن کو چھوڑ کر دوسری راہ اختیار کیے ہوئے ہیں، وہ یا تو افراط کا شکار ہوکر گمراہ ہوجاتے ہیں یا پھر تفریط کی کھائی میں جاگرتے ہیں۔ اسی طرح دینِ اسلام سادگی اور للہیت کو بڑی اہمیت دیتا ہے، جبکہ نام ونمود، دکھاوے اور نمائش کی مذمت کرتا ہے۔ 
آج کل ہمارے معاشرے میں مذہبی القاب کے استعمال کرنے میں جو بے اعتدالیاں پائی جارہی ہیں، وہ کسی پر اوجھل نہیں۔ نام کے آگے القابات پرالقابات جڑ دیے جا تے ہیں، خواہ وہ شخص ان صفات کا حامل ہو یا نہ ہو۔ آئے روز نئے سے نئے اوربڑے سے بڑے القابات سامنے آتے ہیں۔ بعض اوقات تو جلسوں میں اور بعض دیگر مجالس میں امیروں، وزیروں، عہدیداروں، پیروں اور خصوصاً علماء کی تعریفوں میں زمین و آسمان کے قلابے ملادیئے جاتے ہیں، مثلاً کسی کے لیے حجۃ الاسلام، کسی کے لیے شیخ الاسلام، کسی کے لیے شیخ الفقہ، کسی کے لیے شیخ الحدیث، کسی کے لیے مفتی اعظم، کسی کے لیے خطیب بے بدل، خطیبِ زماں، نمونہ ٔاسلاف، محققِ دوراں، محقق العصر، علامۃ العصر، محدث العصر، فقیہِ زماں، جامعِ علوم عقلیہ و نقلیہ، شیخ المشائخ، اعلیٰ حضرت، مفکرِ اسلام، غزالیِ وقت، غزالیِ دوران، شہنشاہِ خطابت، محقق علی الاطلاق، محدثِ اعظم، شیخ الجامعہ، ولیِ کامل، رہبرِ شریعت، ثانیِ جنیدؒ، وغیرہ وغیرہ۔ 
افسوس ناک بات یہ ہے کہ بعض حضرات تو باقاعدہ اپنے حلقۂ احباب کو اس طرح بڑے بڑے القاب اپنے نام کے ساتھ لگانے کی تاکید کرتے ہیں، اور القاب کے بغیر پکارے جانے پر بے التفاتی اور ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں۔ اور اب تو معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ علمائے کرام کی اکثر مجالس اس قسم کے القابات سے گونجتی ہوئی نظر آتی ہے۔ مذہبی القابات کے متعلق یہی بے اعتدالیاں‘ پمفلٹوں اور اشتہارات میں بھی واضح طور پر نظر آتی ہیں۔ اور نہایت بے احتیاطی کے ساتھ شریعت کے تقاضوں کو فراموش کیا جارہا ہے۔ ایک طرف تو یہ معاملہ ہے، جبکہ دوسری طرف کچھ حضرات ایسے بھی ہیں جو اپنے لیے ایسے القاب تجویز کرتے ہیں جس سے گناہ گاری ٹپکتی ہو، جیسے: العبد العاصی، عاصی وغیرہ، حالانکہ یہ بھی درست نہیں۔ یہ ساری باتیں اور احکام سمجھنے کے ہیں۔ ان کے نہ سمجھنے کی وجہ سے لوگ افراط و تفریط اور متضاد پہلوؤں کا شکار ہیں۔ اس موضوع پر انتہائی عمدہ اور تفصیلی گفتگو علامہ ابن الحاج المالکی المصریؒ نے اپنی مشہور کتاب ’’المدخل‘‘ کی پہلی جلد ’’فصل فی ذکر النعوت‘‘ کے تحت فرمائی ہے۔ واضح رہے کہ علامہ ابن الحاجؒ کا شمار مسلک مالکیہ کے مشہور اور بڑے فقہاء میں ہوتا ہے:’’وقد ذکرہ السیوطي ؒ فی من کان بمصر من فقھاء المالکیۃ۔‘‘ (حسن المحاضرۃ، السیوطی، ج:۱،ص:۳۸۲) ان کی وفات مصر کے مشہور شہر قاہرہ میں ہوئی۔ ’’المدخل‘‘ فقہ مالکیہ کی نہایت معتبر اور انفع کتاب ہے۔  

القابات کے ارتقاء کا پسِ منظر

علامہ ابن الحاج المالکی المصریؒ ان القاب کے رائج ہونے کے اسباب بیان کرتے ہیں:
’’ ان کی ترویج میں سب سے بڑا کردار عجمیوں کا رہا ہے، اور وہ اس طرح کہ جب ترک مسندِ خلافت پر غالب آگئے، اور حکومت کی باگ ڈور خود سنبھال لی، تو انہوں نے اپنے لیے مختلف قسم کے القابات اختیار کر لیے، جیسے :شمس الدولۃ، ناصر الدولۃ، نجم الدولۃ وغیرہ، چونکہ ان القابات کا استعمال حکومت کے مناصب پر فائز بڑے بڑے عہدے داروں کے لیے ہوتا تھا، اس لیے لوگ ان القاب کو باعثِ عظمت و فخر سمجھنے لگے، اس وجہ سے عام لوگوں نے ان میں انتہائی دلچسپی ظاہر کی۔ لیکن حکومت میں منصب اور عہدہ نہ ہونے کی بنا پر ان کے لیے اپنے لیے ان القاب کا رکھنا ممکن نہیں تھا، چنانچہ جب انہوں نے اس کے حصول کے لیے کوئی راستہ نہیں پایا تو اب انہوں نے اس کمی کو پورا کرنے کے لیے مذہب کا راستہ اختیار کر لیا: ’’نجم الدولۃ نہ سہی تو نجم الدین ہی سہی۔ ‘‘
اس زمانے میں ان القابات کی انتہائی اہمیت اور وقعت تھی اور بڑی باعثِ عظمت اور قابلِ فخر چیز تھی۔ یہی وجہ تھی کہ حکومت نے ان ناموں اور القاب کے رکھنے پر سخت پابندی عائد کی تھی، لہٰذا جب کوئی اپنی اولاد کے لیے اس قسم کا لقب رکھنا چاہتا تو اسے حکومت کو ایک بھاری رقم ادا کرنی ہوتی، اور حکومت سے باقاعدہ اجازت نامہ لینا ہوتا۔ یوں ہی لوگ حکومت کی مقرر کردہ بھاری رقم ادا کرتے تھے اور اپنی اولاد کے لیے اس قسم کے القاب تجویز کرتے تھے۔ کچھ عرصہ کے بعد خلافتِ عباسیہ پر ترک نے مکمل طور پر قابض ہوکر ہر قسم کا کنٹرول اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ زمانہ گزرنے کے ساتھ ان القابات کی اہمیت باقی نہیں رہی؛ کیونکہ اب حکومت ان کے لیے ایک قسم کی لونڈی بن چکی تھی، اس لیے اب وہ مذہبی القابات میں کشش محسوس کرتے ہوئے ان کی طرف متوجہ ہوگئے اور ان کے لیے نجم الدولۃ کے بجائے نجم الدین جیسے القاب زیادہ باعثِ عظمت و فخر بن گئے۔ اس دوران حکومت نے پابندی ختم کر کے عام لوگوں کو کھلی چھوٹ دے دی۔ یہ القابات اس قدر تیزی کے ساتھ رائج ہوگئے کہ کوئی بھی اس کی زد سے محفوظ نہیں رہا، امیر غریب، چھوٹے بڑے سب اس وبا کی زد میں آگئے، یہ معاملہ اس سطح پر پہنچ گیا کہ علماء نے بھی اس سے مانوس ہو کر ان کے رکھنے میں کوئی برائی محسوس نہیں کی اور لوگوں سے متاثر ہو کر ان کو قبول کرنے لگے۔‘‘ (المدخل ،ج:۱،ص:۱۱۰، فصل فی النعوت) القابات کی اس ترویج کے متعلق علامہ ابن خلدون نے بھی مقدمہ تاریخ ابنِ خلدون میں اس کے قریب قریب گفتگو فرمائی ہے۔ 

مذہبی القابات کی شرعی حیثیت

قرآن کریم اور احادیثِ طیبہ سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہوتی ہے کہ کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے تزکیہ کا اعلان کرے، یا اپنے لیے ایسے القاب اختیار کرے جس میں پاکیزگی اور تقدس کا پہلو پایا جاتا ہو، چنانچہ ذیل میں اس کے متعلق چند آیاتِ کریمہ مفسرین کی تشریح کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیے:
۱:-’’أَلَمْ تَرَ إِلَی الَّذِیْنَ یُزَکُّوْنَ أَنْفُسَھُمْ بَلِ اللّٰہُ یُزَکِّيْ مَنْ یَّشَائُ وَلَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلاً۔‘‘  (النساء :۴۹ )
’’کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنے آپ کو بڑا ہی پاکیزہ بتاتے ہیں ؟ حالانکہ پاکیزگی تو اللہ جس کو چاہتا ہے عطا کر دیتا ہے، اور کسی پر اس عطا میں ایک دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘
 اس آیت کے شانِ نزول میں مفسرین لکھتے ہیں کہ:
’’یہود اپنے آپ کو بڑے پاکیزہ اور مقدس بتلاتے تھے کہ ہم اللہ کے بیٹے اور محبوب ترین لوگ ہیں۔ اس آیتِ کریمہ میں ان کی مذمت کی گئی ہے کہ ذرا ان لوگوں کو دیکھو! جو اپنی پاکی بیان کررہے ہیں، ان پر تعجب کرنا چاہیے۔ ‘‘
اس آیتِ کریمہ کے تحت حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویv لکھتے ہیں:
’’ معلوم ہوا کہ اپنے کو پاک باز کہنا اور تقدس کا دعویٰ کرنا صریح گنا ہ ہے۔‘‘ (معارف القرآن:۲) 
حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ  نے اپنی تفسیر ’’معارف القرآن‘‘ میں اس آیت کے متعلق عنوان باندھا ہے:’’ اپنی مدح سرائی اور عیوب سے پاک ہونے کا دعویٰ جائز نہیں۔‘‘ پھر نیچے لکھتے ہیں: 
’’اس سے معلوم ہوا کہ کسی کو اپنی یا دوسروں کی پاکی بیان کرنا جائز نہیں ہے۔ یہ ممانعت تین وجہ سے ہے:
۱:- اپنی مدح کا سبب اکثر کبر ہوتا ہے، تو حقیقت میں ممانعت کبر سے ہوئی۔ 
۲:- یہ کہ خاتمہ کا حال اللہ کو معلوم ہے کہ تقویٰ وطہارت پر ہوگا یا نہیں، اس لیے اپنے آپ کو مقدس بتلاناخلافِ خوفِ الٰہی ہے۔ 
۳:-ممانعت کی تیسری وجہ یہ ہے کہ اکثر اوقات اس دعوی سے لوگوں کو یہ وہم ہونے لگتا ہے کہ یہ آدمی اللہ کے ہاں اس لیے مقبول ہے کہ یہ تمام نقائص اور عیوب سے پاک ہے، حالانکہ یہ جھوٹ ہے، کیونکہ بہت سے عیوب بندہ میں موجود ہوتے ہیں۔‘‘        (معارف القرآن ،ج:۲،ص:۴۳۰)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ ’’بیان القرآن‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’ اس میں دعوائے تقدس پر ا نکار ہے اور اس میں بجز اہلِ قنا کے بہت مشائخ مبتلا ہیں۔‘‘                 (بیان القرآن، ج:۱، ص:۳۶۱)
۲:-’’فَلَا تُزَکُّوْا أَنْفُسَکُمْ ھُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰی۔‘‘   ( سورۃ النجم :۳۲)
’’تم اپنی پاکیزگی مت بیان کرو، وہ خوب جانتا ہے کہ کون متقی ہے۔‘‘
حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ  ’’بیان القرآن‘‘ میں فرماتے ہیں کہ: 
’’اس آیتِ کریمہ میں دعوائے تقدس سے صریح ممانعت ہے۔‘‘ (بیان القرآن ،ج:۲،ص:۴۷۵ )
حضرت مولاناعاشق الٰہی رحمۃ اللہ علیہ  تفسیر ’’انوار البیان‘‘ میں لکھتے ہیں : 
’’اپنا تزکیہ کرنا اور اپنی تعریف کرنا، یعنی اپنے اعمال کو اچھا بتانا اور اپنے اعمال کو بیان کر کے دوسروں کو معتقد بنانا، یا اپنے اعمال پر اترانا اور فخر کرنا، آیت کریمہ سے ان سب کی ممانعت معلوم ہوگئی۔ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کو ایسا نام رکھنا بھی پسند نہ تھا جس سے اپنی بڑائی اور خوبی کی طرف اشارہ ہوتا ہو۔‘‘                            (انوار البیان ،ج:۵،ص:۲۳۵ )
حضرت مولانا صوفی عبدالحمید سواتی صاحبؒ ’’معالم العرفان‘‘ میں فرماتے ہیں: 
’’ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ امیروں، وزیروں، اور عہدیداروں کی ان کے حاشیہ بردار کتنی تعریفیں کرتے ہیں، ان کو سپاس نامے پیش کیے جاتے ہیں جس میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے جاتے ہیں، آپ نے اس سے منع فرمایا ہے۔ ایسے معاملے میں مبالغہ آرائی سے منع کیا گیا ہے، صرف حقیقت بیان کرنے کی اجازت ہے۔‘‘        (معالم العرفان ،ج:۱۷،ص:۴۱۸)

القابات میں مبالغہ آرائی احادیثِ طیبہ کی روشنی میں

القابات میں مبالغہ آرائی سے ممانعت پر اب چند احادیثِ طیبہ ملاحظہ فرمائیے:
۱:-ایک مرتبہ ایک شخص نے جناب نبی کریم a کے سامنے ایک دوسرے آدمی کی خوب مدح و تعریف کی، اس پر آپ a نے فرمایا :’’وَیْحَکَ، قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِکَ۔‘‘۔۔۔۔۔ ’’افسوس ہے تجھ پر، تو نے تو اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی۔‘‘ پھر فرمایا کہ: اگر تمہیں کسی کی تعریف کرنی ہو تو ان الفاظ سے کرو کہ میرے علم کے مطابق یہ شخص نیک و متقی ہے۔ ’’وَلَا أُزَکِّیْ عَلَی اللّٰہِ أَحَداً‘‘ یعنی ’’میں یہ نہیں کہتا کہ اللہ کے نزدیک بھی وہ ایسا ہی ہے جیسا میں سمجھ رہا ہوں۔ ‘‘ (صحیح بخاری، کتاب الشہادات و الادب۔ مسلم ،کتاب الزہد)
۲:- حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا:
 ’’أَنْ نَّحْثُوَ فِيْ وُجُوْہِ الْمَدَّاحِیْنَ التُّرَابَ۔‘‘ 
’’ہم تعریف کرنے والوں کے چہروں پر مٹی دیں، یعنی ان کو ناکام بنادیں۔‘‘

۳:- ایک روایت میں ہے کہ حضرت زینب بن أبی سلمہt فرماتی ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ: تمہارا نام کیا ہے؟ چونکہ اس وقت میرا نام ’’برّہ‘‘ تھا (جس کے معنی ہیں نیک وگناہوں سے پاک عورت) میں نے وہی بتلایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’لَاتُزَکُّوْا أَنْفُسَکُمْ، اَللّٰہُ أَعْلَمُ بِأَھْلِ الْبِرِّ مِنْکُمْ‘‘ (رواہ مسلم و بخاری ، باب تحویل الاسم) یعنی ’’تم اپنے آپ کی گناہوں سے پاکی بیان نہ کرو، کیونکہ یہ علم صرف اللہ ہی کو ہے کہ تم میں سے نیک اور پاک کون ہے۔‘‘ پھر ’’برہ‘‘ کے بجائے آپ نے زینب نام رکھا۔ مطلب یہ ہے کہ جب کسی کا نام ’’برہ‘‘ (نیک عورت) ہوگا تو اس سے جب دریافت کیا جائے گا کہ تم کون ہو؟ تو ظاہر سی بات ہے کہ وہ یہ کہے گی ’’برّہ‘‘ یعنی میں نیک اور گناہوں سے پاک خاتون ہوں، اس میں چونکہ بظاہر صورتاً خود اپنی زبان سے نیک ہونے کا دعویٰ پایا جاتا ہے، اس لیے آپ a نے اس سے منع فرمایا۔ 

۴:-علامہ ابن الحاج مالکی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’سنن ابوداؤد‘‘ کے حوالے سے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک وفد حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سنا کہ وہ اپنے سردار کو ’’ابو الحکم‘‘ سے پکار رہے تھے، چنانچہ آ پ a نے اس کنیت کو ناپسند فرمایا، ان کے سردار کو بُلایا اور ان سے پوچھا کہ آپ کو ’’ابو الحکم‘‘ کیوں کہتے ہیں؟ اس نے جواب میں کہا کہ: میری قوم میں جب کوئی دو فریق اختلاف کریں تو وہ میرے پاس فیصلہ کرنے کے لیے آتے ہیں، پھر میں ان کے درمیان فیصلہ کرتا ہوں۔ تو دونوں فریق اس فیصلہ کو تسلیم کر لیتے ہیں، آپ a نے اس سے پوچھا: آپ کی اولاد ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں! میرے تین بیٹے ہیں: شریح، عبداللہ، مسلم۔ آپ نے اس سے پوچھا: ان میں بڑا کون ہے؟ انہوں نے کہا: شریح۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ: آپ ابو شریح ہیں نہ کہ ابو الحکم۔ کیونکہ اس میں تقدس اور بڑائی کا پہلو پایا جاتا ہے۔ (المدخل ،ج:۱:،ص:۱۱۰، فصل فی ذکر النعوت)
۵:-خود جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذاتِ اقدس کے متعلق ارشاد فرمایا: ’’لَا تُطْرُوْنِیْ کَمَا أَطْرَتِ النَّصَارٰی عِیْسَی بْنَ مَرْیَمَ۔‘‘ ۔۔۔۔۔ ’’لوگو! میری تعریف میں مبالغہ سے کام نہیں لینا، جیسا کہ نصاریٰ نے حضرت عیسی بن مریمm کے متعلق مبالغہ اختیار کیا ہے۔‘‘ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو الوہیت کا درجہ دے کر خود کافر اور مشرک بن گئے، میرے ساتھ ایسا معاملہ نہ کرنا ’’إِنِّيْ عَبْدُاللّٰہِ وَ رَسُوْلُہٗ‘‘ ۔۔۔ ’’میں تو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔‘‘ لہٰذاتم بھی مجھے اللہ کا بندہ اور رسول ہی کہو۔ (بخاری، باب ’’و اذکر فی الکتاب مریم ‘‘)

ایک اعتراض اور اس کا جواب

یہاں پر یہ سوال ہو سکتا ہے کہ بعض مواقع پر آپ a نے خود بعض صحابہ کرامs کی مدح اور تعریف فرمائی ہے، اور ان کو اچھے اچھے القابات سے نوازا ہے۔ حضرت عثمانq کے بارے میں فرمایا:’’ وَأَصْدَقُھُمْ حَیَائً عُثْمَانُؓ‘‘ حضرت علیؓ کے بارے میں فرمایا :’’وَأَقْضَاھُمْ عَلِيٌّ‘‘ حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ اور بعض دیگر صحابہؓ کے بارے میں فرمایا :’’وَأَمِیْنُ أُمَّتِيْ أَبُوْعُبَیْدَۃُ بْنُ الْجَرَّاحِ، وَ أَعْلَمُ أُمَّتِيْ بِالْحَلَالِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍؓ، وَأَقْرَأُھُمْ أَبُوْ مُوْسٰی، نِعْمَ الْعَبْدُ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ وَ غَیْرُ ذٰلِکَ۔‘‘
جواب :۔۔۔ اس سوال کا جواب امام نوویؒ، حافظ ابن حجرؒ، اور علامہ ابن بطالؒ نے یہ ذکر کیا ہے کہ صرف حقیقتِ حال بیان کرنے کی اجازت ہے کہ میرے علم کے مطابق فلاں آدمی میں یہ خوبی ہے، اس میں مبالغہ سے کام لینا جائز نہیں، جیسا کہ ’’الْمَدَّاحِیْن‘‘ (بہت زیادہ تعریف کرنے والے ) کا لفظ بھی اس پر دلالت کرتا ہے۔ یہ بھی صرف اس شخص کے متعلق کہا جاسکتا ہے جس کے متعلق تکبر اور عجب کے فتنہ کا اندیشہ نہ ہو، جیسا کہ آنحضرت a کو صحابہ کرامs کے بارے میں یقین تھا کہ وہ حضرات اس سے فتنہ میں مبتلا نہیں ہوں گے ؛ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان کی تعریف فرمائی، چونکہ صحابہ کرامؓ کے علاوہ دیگر لوگوں کے متعلق فتنہ میں ابتلا کا اندیشہ غالب ہے، لہٰذا دوسرے لوگوں کی تعریف سے بچنا چاہیے۔ (شرح صحیح البخاری لابن البطالؒ: باب ما یکرہ من التمادح ، ج:۹،ص:۲۵۳۔ فتح الباری : باب ما یکرہ من التمادح ، ج:۱۰، ص:۴۷۶۔ شرح النووی علی صحیح مسلم، باب النہی عن المدح )

فقہائے کرام کے اقوال کی روشنی میں

قرآن وسنت کے ماہرین حضرات فقہائے کرام نے بھی نیکی، تقدس، پاکیزگی، بڑائی اور مدح سرائی میں مبالغہ کا تأثر دینے والے ان القاب کو ناجائز قرار دیا ہے۔ 
چنانچہ مالکیہ کے مشہور فقیہ علامہ ابن الحاج المالکی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: اس بدعت سے بچنا ضروری ہے جو وبا کی طرح پھیل گیا ہے اور شاید ہی اس کی زد سے کوئی بڑا چھوٹا محفوظ رہا ہو، اور وہ یہ نئے اور خود ساختہ القابات ہیں جو شریعت کے سراسر مخالف ہیں، وہ ہیں: ’’فلان الدین و فلان الدین‘‘ عالم کے لیے تو اور زیادہ ضروری ہے کہ وہ اس جیسے القاب سے اپنے آپ کو محفوظ رکھے۔ اس سلسلے میں لوگوں کو بھی سمجھائیں کہ یہ القاب شریعت کے مخالف ہیں، لہٰذا ان کو اس جیسے القاب سے نہ پکاریں۔ ایسے القاب و اسماء کو استعمال کرنا جو تزکیہ اور تعریف پر مشتمل ہو، اس کی ممانعت کتاب اللہ، سنت رسول اور علماء کے اقوال سے ثابت ہوتی ہے۔ نیز یہ غلط بیانی اور جھوٹ میں داخل ہوکر سلفِ صالحین کے عمل کے بالکل مخالف ہے۔ 
 آگے فرماتے ہیں کہ: اگر ان القاب و اسماء کا استعمال جائز ہوتا تو اُمتِ محمدیہ میں اس کے سب سے زیادہ حقدار اور مستحق صحابہ کرامؓ تھے، جو ہدایت کے سورج اور اندھیروں کے چراغ تھے، اور دین کے سب سے پہلے مددگار تھے، جیسا کہ قرآن نے اس کی گواہی دی ہے۔ اسی طرح ازواجِ مطہراتؓ جن کو اللہ تعالیٰ نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم  کے لیے چنا اور جن کی فضیلت کی گواہی اللہ تعالیٰ نے خود دی ہے۔ ام المومنین حضرت زینبt کا پہلے نام ’’برہ‘‘ تھا، آپ نے تبدیل کردیا، حالانکہ وہ اس کی مصداق اور حقدار تھیں، تو پھر ہم کون ہیں کہ اپنے لیے ایسے القاب تجویز کریں، لہٰذا نجات اور کامیابی صحابہؓ کی اتباع میں ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے امام نوویؒ کا مشہور اور معروف واقعہ بھی نقل کیا ہے۔ امام نوویؒ مشہور شافعی عالم دین ہیں جو کئی مفید اور بڑی کتابوں کے مصنف ہیں، جن میں شرح مجموع مہذب، اور شرح مسلم جو کئی جلدوں پر مشتمل ہے اور ریاض الصالحین وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ یہ شافعیہ میں بڑی عبقری شخصیت گزرے ہیں جن کی تصنیفات سے اُمت کا ایک بڑا طبقہ استفادہ کرتا چلا آرہا ہے، دینی و علمی خدمات کی بنیاد پر جب ان کے معاصرین نے ان کو محی الدین کے لقب سے موسوم کیا تو انہوں نے سخت ناراضگی کااظہار کیا، اور فرمایا:’’ إِنِّيْ لَا أَجْعَلُ أَحَداً فِيْ حِلِّ مَنْ یُّسَمِّیْنِيْ بِمُحْيِ الدِّیْنِ۔‘‘ یعنی میں کسی کو بھی محی الدین کے لقب سے پکارنے کی اجازت نہیں دیتا، حالانکہ وہ اس لقب کے حق دار بھی تھے، یہی وجہ ہے کہ امت نے انہیں انتقال کے بعد اس لقب سے موسوم کیا، مگر اپنی زندگی میں انہوں نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور ظاہر ہے کہ ناراضگی کی وجہ صرف یہی تھی کہ اس میں مذہبی تقدس کا پہلو تھا۔ (المدخل،ج :۱،ص:۱۱۱ ، فصل فی النعوت)
مولانا عبدالحئی لکھنویؒ نے ’’فوائدِ بہیہ‘‘ کے آخر میں لکھا ہے کہ عراق کے فقہاء میں عام طور پر القاب میں سادگی تھی، وہ کاروبار، محلہ، قبیلہ یا گاؤں کی طرف نسبت کرنے پر اکتفا کیا کرتے تھے، جیسے جصاص (گچ والا)، قدوری (ہانڈی والا)، طحاوی (طحا گاؤں کا باشندہ)، کرخی (مقام کرخ کا باشندہ)، صیمری (صمیرہ کا باشندہ )، اور خراسان اور ماوراء النہر میں عام طور پر القاب میں مبالغہ کیا جاتا تھا، اور دوسروں پر ترفع ظاہر کیا جاتا تھا، جیسے: شمس الائمہ، فخر الاسلام، صدر الاسلام، صدرِ جہاں، صدر الشریعہ وغیرہ اور یہ صورت زمانۂ ما بعد میں پیدا ہوگئی تھی۔ پہلے زمانے کے لوگ اس قسم کی باتوں سے پاک تھے۔ ابو عبداللہ قرطبیؒ اسماء اللہ الحسنیٰ کی شرح میں لکھتے ہیں کہ:
’’قرآن و حدیث سے اپنا تزکیہ کرنے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے۔ ہمارے علماء نے فرمایا ہے کہ: مصر کے علاقوں میں اور دیگر بلادِ عرب و عجم میں جو رواج ہوگیا ہے کہ اپنے لیے ایسی صفات استعمال کی جاتی ہیں جو تزکیہ اور تعریف پر دلالت کرتی ہیں وہ بھی اس ممانعت میں داخل ہے، جیسے زکی الدین، محی الدین، علم الدین، اور اسی طرح کے دیگر القاب۔ اور محی الدین نحاس کی ’’تنبیہ الغافلین‘‘ میں جہاں منکرات کا تذکرہ ہے، لکھا گیا ہے کہ منکرات میں سے وہ بھی ہے جو وبا کی طرح پھیل گیا ہے، یعنی وہ جھوٹ جو زبانوں پر رائج ہوگیا ہے اور وہ خود ساختہ القاب ہیں: جیسے محی الدین، نور الدین، عضد الدین، غیاث الدین، معین الدین، اور ناصر الدین وغیرہ۔ یہ وہ جھوٹ ہے جو پکارتے وقت اور تعریف کرتے وقت اور حکایت کرتے وقت زبانوں پر بار بار آتا ہے۔ یہ سب دین میں امر منکر اور بدعت ہے۔ ‘‘
مذکورہ بالا اقتباسات نقل کرنے کے بعد مولانا لکھنویؒ نے یہ نوٹ لکھا ہے کہ:
’’ یہ بات یعنی مذکورہ بالا القاب کا منکر و بدعت ہونا اس صورت میں ہے جب کہ صاحبِ لقب اس کا اہل نہ ہو، یا اہل تو ہو مگر اس نے لقب بطور تزکیہ رکھا ہو۔‘‘            (فوائد بہیہ: ۱۰۰، بحوالہ: آپ فتویٰ کیسے دیں ؟ :۵۰) 
حاشیہ میں حضرت مولانا مفتی سعید احمد پالن پوری صاحب لکھتے ہیں:
’’ ہمارے عرف میں یہ القاب بطور اعلام (ناموں کے )مستعمل ہیں، اس لیے ممنوع نہیں ہیں، ہمارے محاورات میں القابِ غالیہ کی مثالیں، مفتی اعظم، محقق بے بدل، خطیبِ عصر، علامۂ زماں وغیرہ ہیں۔‘‘                                              (آپ فتویٰ کیسے دیں؟: ۵۰)
حضرت مولانا اشرف علی تھانویv نے ایک سلسلۂ گفتگو میں بعض مخترع القاب کے متعلق فرمایا: 
’’خبر نہیں لوگ کس عبث اور فضولیات میں مبتلا ہیں، اس سے ان لوگوں کے مذاق کا پتہ چلتا ہے، کوئی شیخ الحدیث ہے، کوئی استاذ الحدیث، کوئی شیخ التفسیر، کوئی شیخ الجامعہ، یہ اس قسم کے جھگڑے ابھی شروع ہوئے ہیں۔ ہمارے بزرگوں میں تو ان چیزوں کا نام و نشان بھی نہ تھا، یہ سب جاہ طلبی ہے۔ اور سب سے زیادہ اچھی اور خوبی کی بات تو وہی ہے جو پہلے اپنے بزرگوں میں تھی: سادگی، اسی میں برکت ہے، ان چیزوں میں برکت کہاں، یہ سب نئی روشنی کا اثر ہے۔‘‘                                       (ملفوظ نمبر:۴۲۷،۲۷۳، ملفوظات حکیم الامت ) 

آپ کو صرف مولانا محمد انور شاہ لکھنے کی اجازت ہے

حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ علم و فضل میں یکتا ئے روزگار تھے۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے اپنی ایک مجلس میں نقل کیا کہ ایک عیسائی فیلسوف نے لکھا ہے کہ: ’’اسلام کی حقانیت کی ایک دلیل یہ ہے کہ امام غزالیؒ جیسا محقق اور مدقق اسلام کو حق سمجھتا ہے۔‘‘ یہ واقعہ بیان کرکے حضرت تھانویؒ نے فرمایا: ’’میں کہتا ہوں کہ میرے زمانے میں مولانا انور شاہ صاحبؒ کا وجود اسلام کی حقانیت کی دلیل ہے کہ ایسا محقق اور مدقق عالم اسلام کو حق سمجھتا ہے اور اس پر ایمان رکھتا ہے۔‘‘
حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوریؒ فرماتے ہیں کہ: طلاق کے ایک مسئلہ میں کشمیر کے علماء میں اختلاف ہو گیا، فریقین نے حضرت شاہ صاحبؒ کو حکم بنایا۔ حضرت شاہ صاحبؒ نے دونوں کے دلائل غور سے سنے، ان میں سے ایک فریق اپنے موقف پر فتاویٰ عمادیہ کی ایک عبارت سے استدلال کر رہا تھا۔ حضرت شاہ صاحبؒ نے فرمایا: میں نے دارالعلوم کے کتب خانے میں فتاویٰ عمادیہ کے ایک صحیح قلمی نسخے کا مطالعہ کیا ہے، اس میں یہ عبارت ہر گز نہیں ہے، لہٰذا یا تو ان کا نسخہ غلط ہے یا یہ لوگ کوئی مغالطہ انگیزی کر رہے ہیں۔ ایسے علم و فضل اور ایسے حافظہ کا شخص اگر بلند و بانگ دعوے کرنے لگے تو کسی درجہ میں اس کو حق پہنچ سکتا ہے، لیکن حضرت شاہ صاحبؒ اس قافلۂ رشد و ہدایت کے فرد تھے جس نے ’’مَنْ تَوَاضَعَ لِلّٰہِ‘‘ کا عملی پیکر بن کر دکھا یا تھا، چنانچہ اسی واقعہ میں انہوں نے حضرت علامہ محمد یوسف بنوریؒ کو اپنا فیصلہ لکھنے کا حکم دیا تو انہوں نے حضرت شاہ صاحبؒ کے نام کے ساتھ ’’الحبرالبحر‘‘ (عالم متبحر) کے دو تعظیمی لفظ لکھ دیئے، حضرت شاہ صاحبؒ نے دیکھا تو قلم ہاتھ سے لے کر زبر دستی خود یہ الفاظ مٹائے، اور غصہ کے لہجے میں مولانا بنوریؒ سے فرمایا: ’’آپ کو صرف مولانا محمد انور شاہ لکھنے کی اجازت ہے۔‘‘ حضرتؒ کا جملہ ملاحظہ فرمائیے کہ وہ تواضع کے کس مقام کی غمازی کر رہا ہے؟ اور یہ محض لفظ ہی نہیں ہیں، بلکہ وہ واقعۃً اپنے تمام کمالات کے باوجود اپنے آپ کو ایک معمولی طالب علم سمجھتے تھے اور اس دعائے نبوی (l) کے مظہر تھے: ’’اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِيْ فِيْ عَیْنِيْ صَغِیْراً وَ فِيْ أَعْیُنِ النَّاسِ کَبِیْراً۔‘‘ (اکابر دیوبند کیا تھے؟ :۹۷،۹۸) 
حقیقت یہ ہے کہ علم و فضل کے سمندر سینے میں جذب کر لینے کے باوجود سلفِ صالحین کی تواضع، سادگی، اور للہیت انتہاء کو پہنچی ہوئی تھی۔ 

تحدیث بالنعمۃ کی اجازت 

اگر اللہ تعالیٰ نے کسی کواچھے اعمال، اچھے اخلاق، اور اچھے اوصاف کی نعمت سے نوازا ہو اور وہ بطور تحدیث بالنعمۃ اپنی اچھی حالت بیان کر دے تو اس کی گنجائش ہے۔ لیکن بیان کرتے وقت اپنے باطن کا جائزہ لے لے کہ نفس کہیں دھوکہ تو نہیں دے رہا ہے۔     (المستفاد: انوار البیان ، ج:۱، ص:۶۰۱۔ معارف القرآن ،ج:۲، ص:۴۳۱) 

 ایسا لقب اختیار کرنا جس سے گناہ گاری ٹپکتی ہو

یاد رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح ام المومنین کا نام زینب رکھ دیا جن کا پہلا نام ’’برہ‘‘ تھا، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لڑکی کا نام ’’جمیلہ‘‘ رکھ دیا جس کاپہلا نام ’’عاصیہ‘‘ (گناہ گار) تھا۔ (رواہ مسلم) معلوم ہوا کہ اپنی نیکی کا ڈھنڈورا بھی نہ پیٹے، اور اپنا نام اور لقب بھی ایسا نہ رکھے جس سے گناہ گاری ٹپکتی ہو، مومن نیک ہوتا ہے، لیکن نیکی کو بگھارتا نہیں پھرتا، اور کبھی گناہ ہو جاتا ہے تو توبہ کر لیتا ہے۔ نیز اپنی ذات کے لیے کوئی ایسا نام و لقب بھی تجویز نہیں کرتا، جو گناہ گاری کی طرف منسوب ہوتا ہو، بہت سے لوگ تواضع میں اپنے نام کے ساتھ العبد العاصی یا عاصی پر معاصی لکھتے ہیں، یہ طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جوڑ نہیں کھاتا۔ (انوار البیان ،ج:۵،ص:۲۳۲ )
ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام کے سامنے یہ بات خوب واضح کر لی جائے، اس طرح بے محل القاب استعمال کرنا ہر گزر درست نہیں، بلکہ یہ غلط بیانی اور جھوٹ میں داخل ہے۔ نیز مدارسِ دینیہ میں طلبہ کرام کی اس طرح تربیت کی جائے کہ وہ اپنے لیے ایسے القاب پسند ہی نہ کریں، بلکہ سادگی کے ساتھ اپنے نام کو ہی پسند کریں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سلسلے میں افراط و تفریط سے بچنے اور راہِ اعتدال پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے