بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 مئی 2019 ء

بینات

 
 

ماہِ رمضان اور قرآن کریم  کے درمیان چند مشترک خصوصیات

ماہِ رمضان اور قرآن کریم 
کے درمیان چند مشترک خصوصیات

 

ماہِ رمضان کے روزے رکھنا ہر مسلمان، بالغ، عاقل، صحت مند، مقیم، مردوعورت پر فرض ہے، جس کی ادائیگی کے ذریعہ خواہشات کو قابو میں رکھنے کا ملکہ پیدا ہوتا ہے اور وہی تقویٰ کی بنیاد ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا: 
’’اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم متقی بن جاؤ۔‘‘ (البقرۃ: ۱۸۳) 
’’لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ‘‘ میں اشارہ ہے کہ زندگی میں تقویٰ پیدا کرنے کے لیے روزہ کا بڑا اثر ہے۔ اسی ماہِ مبارک کی ایک بابرکت رات میں قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کی رہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن کریم سماء دنیا پر نازل ہوئی، جس سے استفادہ کی بنیادی شرط بھی تقویٰ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد قرآن کریم میں ہے:
’’ یہ کتاب ایسی ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں، یہ ہدایت ہے متقیوں یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کے لیے۔‘‘
 غرض رمضان اور روزہ کے بنیادی مقاصد میں تقویٰ مشترک ہے۔
قرآن اور رمضان کی پہلی اہم مشترک خصوصیت تقویٰ ہے، جیساکہ قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں ذکر کیا گیا۔ دوسری مشترک خصوصیت شفاعت ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: 
’’روزہ اور قرآن کریم دونوں بندہ کے لیے شفاعت کرتے ہیں۔ روزہ عرض کرتا ہے کہ: یااللہ! میں نے اس کو دن میں کھانے پینے سے روکے رکھا، میری شفاعت قبول کرلیجئے، اور قرآن کہتا ہے کہ: یا اللہ! میں نے رات کو اس کو سونے سے روکا ، میری شفاعت قبول کرلیجئے، پس دونوں کی شفاعت قبول کرلی جائے گی۔‘‘ (رواہ احمد والطبرانی فی الکبیر والحاکم وقال صحیح علی شرط مسلم)
تیسری خصوصیت جو رمضان اور قرآن دونوں میں مشترک طور پر پائی جاتی ہے، وہ قربِ الٰہی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت کے وقت اللہ تعالیٰ سے خاص قرب حاصل ہوتا ہے، ایسے ہی روزہ دار کو بھی اللہ تعالیٰ کا خاص قرب حاصل ہوتا ہے کہ روزہ کے متعلق حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:’’ میں خود ہی روزہ کا بدلہ ہوں۔‘‘ مضمون کی طوالت سے بچنے کے لیے قرآن ورمضان کی صرف تین مشترک خصوصیات کے ذکر پر اکتفاء کرتا ہوں:
قرآن کریم کو رمضان المبارک سے خاص تعلق اور گہری خصوصیت حاصل ہے، چنانچہ رمضان المبارک میں اس کا نازل ہونا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رمضان المبارک میں تلاوتِ قرآن کا شغل نسبتاً زیادہ رکھنا، حضرت جبرئیل علیہ السلام کا رمضان المبارک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کریم کا دور کرانا، تراویح میں ختم قرآن کا اہتمام کرنا، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور بزرگانِ دین کا رمضان میں تلاوت کا خاص اہتمام کرنا، یہ سب امور اس خصوصیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ لہٰذا اس ماہ میں کثرت سے تلاوتِ قرآن میں مشغول رہنا چاہیے۔ ماہِ رمضان کا قرآن کریم سے خاص تعلق ہونے کی سب سے بڑی دلیل قرآن کریم کا ماہِ رمضان میں نازل ہونا ہے۔ اس مبارک ماہ کی ایک بابرکت رات میں اللہ تعالیٰ نے لوحِ محفوظ سے سماء دنیا پر قرآن کریم نازل فرمایا اور اس کے بعد حسبِ ضرورت تھوڑا تھوڑا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوتا رہا اور تقریباً ۲۳؍ سال کے عرصہ میں قرآن مکمل نازل ہوا۔ قرآن کریم کے علاوہ تمام صحیفے بھی رمضان میں نازل ہوئے، جیساکہ مسند احمد میں ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: مصحف ابراہیمی اور تورات وانجیل سب کا نزول رمضان میں ہی ہوا ہے۔ 
سورۃ العلق کی ابتدائی چند آیات ’’اِقْرَأْ بِسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ....‘‘ سے قرآن کریم کے نزول کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد آنے والی سورۃ القدر میں بیان کیا کہ: قرآن کریم رمضان کی بابرکت رات میں اتراہے، جیساکہ سورۃ الدخان میں ہے:’’إِنَّا اَنْزَلْنَاہٗ فِیْ لَیْلَۃٍ مُّبَارَکَۃٍ‘‘ (الدخان:۳)یعنی ’’ہم نے اس کتاب کو ایک مبارک رات میں اتارا ہے۔‘‘ اور سورۃ البقرہ میں ہے:’’شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ أُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْآنُ‘‘ (البقرۃ:۱۸۵)یعنی ’’رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن کریم نازل ہوا۔‘‘ ان آیات میں یہ مضمون صراحت کے ساتھ موجود ہے۔ غرض قرآن وحدیث میں واضح دلائل ہونے کی وجہ سے اُمتِ مسلمہ کا اتفاق ہے کہ قرآن کریم لوحِ محفوظ سے سماء دنیا پر رمضان کی مبارک رات میں ہی نازل ہوا، اس طرح رمضان اور قرآن کریم کا خاص تعلق روزِ روشن کی طرح واضح ہوجاتا ہے۔
رمضان المبارک کا قرآن کریم کے ساتھ خاص تعلق کا مظہر نمازِ تراویح بھی ہے۔ احادیث میں وارد ہے کہ ہر سال ماہِ رمضان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کے نازل شدہ حصوں کا دور کرتے تھے۔ جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبار قرآن کریم کا دور فرمایا۔ (بخاری ومسلم) نمازِ تراویح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع فرمائی اور مسجد میں باجماعت اس کو ادا بھی فرمایا، لیکن اس خیال سے اس کو ترک کردیا کہ کہیں اُمت پر واجب نہ ہوجائے اور پھر اُمت کے لیے اس کو ادا کرنے میں مشقت ہو۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (رمضان کی) ایک رات مسجد میں نمازِ تراویح پڑھی، لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، پھر دوسری رات کی نماز میں شرکاء زیادہ ہوگئے، تیسری یا چوتھی رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ تراویح کے لیے مسجد میں تشریف نہ لائے اور صبح کو فرمایا کہ: میں نے تمہارا شوق دیکھ لیا اور میں اس ڈر سے نہیں آیا کہ کہیں یہ نماز تم پر رمضان میں فرض نہ کردی جائے۔ (مسلم ۔ الترغیب فی صلاۃ التراویح) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: 
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامِ رمضان کی ترغیب تو دیتے تھے، لیکن وجوب کا حکم نہیں دیتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ: جوشخص رمضان کی راتوں میں نماز (تراویح) پڑھے اور وہ ایمان کے دوسرے تقاضوں کو بھی پورا کرے اور ثواب کی نیت سے یہ عمل کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے سابقہ گناہ معاف فرمادیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک یہی عمل رہا، دورِ صدیقی اور ابتداء عہد فاروقی میں بھی یہی عمل رہا۔ (مسلم ۔ الترغیب فی صلاۃ التراویح) 
صحیح مسلم کی اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دورِ خلافت میں نمازِ تراویح جماعت سے پڑھنے کا کوئی اہتمام نہیں تھا، صرف ترغیب دی جاتی تھی اور انفرادی طور پر نمازِ تراویح پڑھی جاتی تھی۔ البتہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں یقینا تبدیلی ہوئی، اس تبدیلی کی وضاحت محدثین، فقہاء اور علماء کرام نے فرمائی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں عشاء کے فرائض کے بعد وتروں سے پہلے پورے رمضان باجماعت نمازِ تراویح شروع ہوئی، نیز قرآن کریم ختم کرنے اور رمضان میں وتر باجماعت پڑھنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ سعودی عرب کے نامور عالم ، مسجدِ نبوی کے مشہور مدرس اور مدینہ منورہ کے (سابق) قاضی شیخ عطیہ محمد سالم ؒ(متوفی: ۱۹۹۹) نے نمازِ تراویح کی چودہ سو سالہ تاریخ پر عربی زبان میں ایک کتاب ’’التراویح أکثر من ألف عام فی المسجد النبوي‘‘ تحریر کی ہے جو اس موضوع کے لیے بے حد مفید ہے۔ 
روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہؓ وتابعینؒ وتبع تابعینؒ رمضان المبارک میں قرآن کریم کے ساتھ خصوصی شغف رکھتے تھے۔ بعض اسلاف واکابرین کے متعلق کتابوں میں تحریر ہے کہ وہ رمضان المبارک میں دیگر مصروفیات چھوڑ کر صرف اور صرف تلاوتِ قرآن میں دن ورات کا وافر حصہ صرف کرتے تھے۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ جنہوں نے حدیث کی مشہور کتاب ’’مؤطا مالک‘‘ تحریر فرمائی ہے، جو مشہور فقیہ ہونے کے ساتھ ایک بڑے محدث بھی ہیں، لیکن رمضان شروع ہونے پر حدیث پڑھنے پڑھانے کے سلسلہ کو بند کرکے دن ورات کا اکثر حصہ تلاوتِ قرآن میں لگاتے تھے۔ اسلاف سے منقول ہے کہ وہ ماہِ رمضان اور خاص کر آخری عشرہ میں تین دن یا ایک دن میں قرآن کریم مکمل فرماتے تھے۔ رمضان کے مبارک مہینہ میں ختم قرآن کریم کے اتنے واقعات کتابوں میں مذکور ہیں کہ ان کااحاطہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ لہٰذا اس مبارک مہینہ میں زیادہ سے زیادہ اپنا وقت قرآن کریم کی تلاوت میں لگائیں۔ نمازِ تراویح کے پڑھنے کا اہتمام کریں اور اگر تراویح میں ختم قرآن کا اہتمام کیا جائے تو بہت بہتر وافضل ہے، کیونکہ حدیث میں وارد ہے کہ ہر سال ماہِ رمضان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کے نازل شدہ حصوں کا دور کرتے تھے۔ جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا، اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبار قرآن کریم کا دور فرمایا۔ ماہِ رمضان کے بعد بھی تلاوتِ قرآن کا روزانہ اہتمام کریں، نیز علماء کرام کی سرپرستی میں قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کریں۔ قرآن کریم میں وارد احکام ومسائل کو سمجھ کر اُن پر عمل کریںاور دوسروں تک پہنچائیں۔ اگر ہم قرآن کریم کے معنی ومفہوم نہیں سمجھ پا رہے ہیں تب بھی ہمیں تلاوت کرنا چاہیے، کیونکہ قرآن کی تلاوت بھی مطلوب ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: جو شخص ایک حرف قرآن کریم کا پڑھے، اس کے لیے اس حرف کے عوض ایک نیکی ہے اور ایک نیکی کا اجردس نیکی کے برابر ملتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ’’الٓمٓ‘‘ ایک حرف ہے، بلکہ الف ایک حرف،لام ایک حرف اور میم ایک حرف۔ (ترمذی)
تلاوتِ قرآن کے کچھ آداب ہیں جن کا تلاوت کے وقت خاص خیال رکھا جائے، تاکہ ہم عند اللہ اجر عظیم کے مستحق بنیں۔ تلاوت چونکہ ایک عبادت ہے، لہٰذا ریا وشہرت کے بجائے اس سے صرف اورصرف اللہ تعالیٰ کی رضا مطلوب ومقصود ہو، نیز وضو وطہارت کی حالت میں ادب واحترام کے ساتھ اللہ کے کلام کی تلاوت کریں۔ تیسرا اہم ادب یہ ہے کہ اطمینان کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر اور اچھی آواز میں تجوید کے قواعد کے مطابق تلاوت کریں۔ تلاوتِ قرآن کے وقت اگر آیتوں کے معانی پر غور وفکر کرکے پڑھیں تو بہت ہی بہتر ہے۔ قرآن کریم کے احکام ومسائل پر خود بھی عمل کریں اور اس کے پیغام کو دوسروںتک پہنچانے کی کوشش کریں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو روزہ اور تلاوتِ قرآن کی برکت سے تقویٰ والی زندگی گزارنے والا بنائے اور ہمیں دونوں جہاںمیں کامیابی وکامرانی عطا فرمائے۔ آمین
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے