بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 اکتوبر 2019 ء

بینات

 
 

علومِ حدیث میں اختصاص . . . اہمیت وضرورت

علومِ حدیث میں اختصاص اہمیت وضرورت 

علومِ حدیث ، اِک بحر بیکراں تاریخ اسلام کے قرونِ اولیٰ میںعلمائے حق نے دین کے بنیادی مآخذ کی حفاظت وصیانت کی خاطر جن نئے علوم وفنون کی داغ بیل ڈالی ہے، ان کا ایک معتدبہ حصہ مختلف جہات اور متنوع عنوانات سے معنون ہوکر ’’علوم حدیث‘‘ کی صورت زندہ وتابندہ ہے، عنوان کی سادگی کی بنا پر ظاہربینوں کو پہاڑ، رائی کی مانند دکھنے لگتا ہے، لیکن حقیقت سے آشنا طبائع اس بحربیکراں میں غوطہ زن ہوکر انگشت بدنداں رہ جاتی ہیں، علم کا جوشیدائی بھی اس سفر پر روانہ ہوا تو متاعِ حیات تسلیم کرکے بھی تشنہ لبی پرشکوہ کناں نظر آیا،ان علوم کی وسعت کے اجمالی تعارف کے لیے چھٹی صدی ہجری کے معروف محدث وفقیہ، امام ابوبکر زین الدین حازمی v (۵۴۸ھ - ۵۸۴ھ) کے اس فرمان پر نگاہ ڈالیے : ’’علم الحدیث یشتمل علٰی أنواعٍ کثیرۃ، تقرب من مائۃ نوع، ذکر منھا طائفۃ أبوعبداللّٰہ الحافظ رحمۃ اللّٰہ علیہ فی’’معرفۃ  علوم الحدیث‘‘، وکل نوع منہا علم مستقل لوأنفق الطالب فیہ عمرہٗ لما أدرک نہایتہٗ، لکن المبتدیٔ یحتاج أن یستطرف من کل نوع؛ لأنہا أصول الحدیث، ومتٰی جھل الطالب الأصول تعذر علیہ طریق الوصول۔‘‘ (۱) ’’علم حدیث کی سو کے لگ بھگ انواع ہیں، حافظ ابوعبداللہ (حاکم ) v نے اپنی کتاب ’’معرفۃ علوم الحدیث‘‘ میں ان انواع میں سے معتدبہ تعداد ذکر کی ہے، اور ہر نوع مستقل علم کی حیثیت رکھتی ہے،(بعض انواع ایسی ہیں کہ) اگر طالب علم پوری حیاتِ مستعار انہیں میں صرف کرڈالے تب بھی انتہا کو نہ پا سکے گا، لیکن مبتدی کو چاہیے کہ ہر نوع سے معتدبہ استفادہ کرے؛ اس لیے کہ یہ حدیثی اصول ہیں، اور طالب علم اصول سے ہی نابلد ہو تو مقصود تک پہنچنا دشوار ہوجاتا ہے۔ ‘‘ کچھ احوالِ واقعی مرورِ زمانہ کے ساتھ اب یہ سمجھانا بھی دشوار ہوچلاہے کہ ان علوم میں زندگیاں کھپانے کی ضرورت ہی آخر کیا ہے؟ بہتیرے طلبائے علم، درسِ نظامی کی تکمیل کے بعد یہ سوال پوچھتے نظرآتے ہیں کہ محدثین نے جب بازی جیت لی ہے تو پھر ’’تخصص فی علوم الحدیث‘‘ کی بھلا کیا ضرورت ہے؟ اس صحرانوردی سے ہمیں کیا فوائدحاصل ہو سکتے ہیں؟ اور یہ اختصاص ہمیںمستقبل میں کس جہت سے نمایاں مقام دلاسکتا ہے؟ علم کے تنزل کے دور میں اس نوع کے سوالات تعجب خیز نہیں ہواکرتے، ایسے وقت بدیہی امور‘ نظری بن ہی جایا کرتے ہیں، کچھ قصور اُن نادان دوستوں کا بھی ضرور ہے جو سفر سے واپسی پرراہ کی حسین وادیوں کی واقعی وحقیقی منظر کشی نہ کرسکے، یا طبعی کسل کی بنا پر خرگوش کی مانند آخری گھڑیوں کے انتظار میں فرصتِ زریں کھوبیٹھے اور اقبال کے الفاظ میں’’ چند کلیوں پر ہی قناعت کر آئے‘‘، ایسے میں کسی نوخیز نے کارگزاری پوچھی توچندنابینائوں کی طرح قوتِ لامسہ کے ذریعے ہاتھی کی دم ، پیر اور شکم، جسے چھوکر محسوس کیا، اسی کا دم بھرتے نظر آئے، اور علم کی متلاشی پیاسی طبیعتیں اس ’’جہت‘‘کو تھوڑا خیال کرکے قدم بڑھاگئیں، یوں ذہانتوں کی بے توجہی سے میدانِ علم میں آیا خلا وسیع ہوتا چلا گیا۔ منظر کی دھندلاہٹ میں کچھ دخل رویوں کے افراط وتفریط کا بھی ہے، بعضے ان علوم کی عظمت تلے دب کر یوں مغلوب ہوئے کہ دیگر میادینِ علم سے مستغنی دکھائی دئیے، غلبۂ حال میں یہ مسلمہ حقیقت نگاہ سے اوجھل ہوگئی کہ علوم اسلامیہ سبھی اپنا سرمایہ ہیں ، جو باہم مربوط ہونے کی بنا پر ایک دوسرے کے محتاج ہیں، اور طبعی رجحانات کی تقسیم تو تکوین کا کرشمہ ہے، جس سے ہر میدان کی رکھوالی مقصود ہے، ایک جماعت اس راہ سے خوابیدہ یا نیم چشیدہ ہی گزری اور جولوٹی تو اپنی ’’پھوٹی کوڑی‘‘ کو یواقیت وجواہر جان کر سلف کی جاں گسل جدوجہد پر ’’دوحرف ‘‘ پڑھتے سنائی دی۔  ’’اپنوں‘‘ کی اس بے اعتنائی میں ’’غیروں‘‘ کی اُڑائی ’’گرد‘‘ کا کردار بھی بھولنے جیسا نہیں، کچھ خالی ذہن تھے ،سو جو جام تھمائے گئے، مخمور ہوکر انہیں کے گن گاتے نظر آئے، بعض عقلیت پسند تھے توانہیں من بھاتی عقلی موشگافیاں ’’خوابیدہ ضمیر‘‘ کی آواز لگیں، بھول گئے کہ واردانِ خوان نبوت، علم وتقویٰ کے شناور ہونے کے ساتھ’’روایت ودرایت‘‘ اور’’ عقل ونقل‘‘ کے اسلحے سے بھی لیس تھے، وہ کھرا کھوٹا جانتے تھے اور انسانی وسعت کے دائرے میں اپنا فرض نبھاگئے ہیں، شکووں کی یہ داستاں طویل ہے اور درازگوئی کا یہ موقع نہیں، مدعا صرف یہ ہے کہ ’’علومِ حدیث‘‘ کے اس میدان پر راہ گیروں کی قلت کے کچھ داخلی وخارجی اسباب وعوامل بھی ہیں۔      اختصاص کیوں ضروری ہے؟  علوم اسلامیہ کی دنیا وسیع وعریض ہے، دورِ قدیم میں طبائع باہمت، حوصلے بلندوبالا، صحتیںتنومند و توانا اور حافظے مضبوط ہواکرتے تھے تو بیک وقت علوم عقلیہ ونقلیہ کی جامع شخصیات بھی موجود رہتی تھیں، عہد رفتہ کے ساتھ صلاحیتیں دیمک زدہ ہوتی گئیں تو جامعیت کی شان بھی ندرت کا شکار ہونے لگی، یوں اختصاصی مہارتوں کی ضرورت بڑھتی چلی گئی، اختصاصی مہارتوں کی اہمیت بتلانے کو زبانِ رسالتl سے نکلے ان الہامی جملوں میں پنہاں اشارے قابل غور ہیں: ’’ عن أنس بن مالکؓ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم:’’ أرحم أمتی بأمتی أبوبکرؓ، وأشدھم فی أمر اللّٰہ عمرؓ، وأصدقہم حیاء عثمان بن عفانؓ، وأعلمھم بالحلال والحرام معاذ بن جبلؓ، وأفرضھم زیدبن ثابتؓ، وأقرؤھم أبی بن کعبؓ، ولکل أمۃ أمین، وأمین ھذہ الأمۃ أبوعبیدۃ بن الجراحؓ۔‘‘  (۲) ’’حضرت انس بن مالک q راوی ہیں کہ رسول خدا a نے فرمایا:’’میری امت کے سب سے رحم دل انسان ابوبکرؓ، حکمِ خداوندی کے معاملے میں سب سے سخت عمرؓ، سب سے باحیا عثمان بن عفانؓ، سب سے زیادہ حلال وحرام کے مسائل جاننے والے معاذ بن جبلؓ ، علم فرائض کے سب سے بڑے عالم زید بن ثابتؓ، اور سب سے بڑے قاری ابی بن کعبؓ ہیں، اور ہر امت کا ایک امین ہواکرتا ہے، میری امت کے امین ابوعبیدہ بن جراحؓ ہیں،s۔‘‘ محدثین اس حدیث کو عام طور پر ’’مناقب صحابہ رضی اللہ عنہم‘‘ کے ذیل میں ذکر کرتے ہیں، اس لیے کہ اس میں یکجا کئی کبار صحابہؓ کے مقام ومرتبہ اور ان کے امتیازی اوصاف وخصوصیات کابیان ہے، ’’اشارۃ النص‘‘ کے طورپر اس حدیث سے یہ استنباط کیا جاسکتاہے کہ ’’اختصاص‘‘ کی بنیاد‘ عہدِ نبوت میں ہی ڈال دی گئی تھی، چنانچہ مذکورہ روایت میں حضرت معاذ بن جبلؓ، حضرت زیدبن ثابتؓ اور حضرت ابی بن کعب s کے اختصاصی علوم کی جانب واضح اشارہ ملتا ہے۔ یوں بھی دورِ حاضر کو اختصاص (اسپیشلائزیشن Specialization) کا عہد کہا جاتا ہے، بلکہ اب نوبت اس سے بڑھ کر ذیلی اختصاص (سب اسپیشلائزیشن Sub Specialization) تک جاپہنچی ہے، چنانچہ آج علاج کے سلسلے میں بھی جنرل ڈاکٹر کے بجائے متخصص (اسپیشلسٹ  Specializatist) سے ہی رجوع کیا جاتا ہے، اس بنا پر علوم دنیویہ کی مانند علوم اسلامیہ میں بھی یہی رویہ عین فطرت کے مطابق ہے کہ ضروری علوم میں کلی وبنیادی معلومات کے حصول کے بعد کسی ایک علم وفن میں کمال حاصل کیا جائے، کیونکہ ہر ایک علم وفن میں دقت رسی دشوار ہی نہیں، کہا جاسکتا ہے کہ آج کے دور میں ناممکن ہے، فقہ ظاہری کے امام اور پانچویں صدی کے نامور عالم ،حافظ ابومحمد علی بن حزم اندلسی v (۳۸۴ھ-۴۵۶ھ) اپنی کتاب ’’مراتب العلوم‘‘ میں اس پہلو پر بحث کرتے ہوئے کچھ یوں رقم طراز ہیں: ’’من طلب الاحتواء علی کل علم أوشک أن ینقطع وینحسر، ولایحصل علی شیئی۔ وکان کالمحضر إلٰی غیرغایۃ، إذ العمریقصر عن ذلک۔ ولیأخذ من کل علم بنصیب، ومقدار ذلک: معرفتہٗ بأعراض ذلک العلم فقط، ثم یأخذ مما بہٖ ضرورۃ إلٰی مالابد لہٗ منہ ، کماوصفنا، ثم یعتمد العلم الذی یسبق فیہ بطبعہٖ وبقلبہٖ وبحیلتہٖ، فیستکثر منہ ماأمکنہٗ، فربما کان ذٰلک منہ فی علمین أو ثلاثۃ أو أکثر، علٰی قدر ذکاء فہمہٖ، وقوۃ طبعہٖ، وحضورخاطرہٖ، و إکبابہٖ علٰی الطلب۔‘‘  (۳) ’’جس کسی نے بھی ہر علم میں مہارت حاصل کرنے کا ارادہ کیا وہ ختم ہوکر رہ گیا اور کچھ حاصل نہ کرپایا، اس کی مثال اس تیزرفتار شخص کی مانند ہے جس کی کوئی منزل نہ ہو؛ اس لیے کہ متاعِ حیات بہت تھوڑی ہے، لہٰذا ہر علم میں سے کچھ حصہ حاصل کرنا چاہیے، یعنی اس کے بنیادی مقاصد کی معرفت کے بعد ضروری مباحث کو حاصل کرے، بعد ازاں جس علم کی جانب طبعی و قلبی میلان اور رجحان ہواس میں حتیٰ الامکان مزید محنت وکوشش سے کام لے، یوں فہم وذکاوت، طبعی قوت، جمعیتِ خاطر اور یکسوئی کے بقدر کم وبیش دو تین علوم میں ہی مہارت حاصل کرسکے گا۔‘‘  ذرا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو ہمارے سلف میں یہی رجحان پایا جاتا تھا، امامِ لغت وجلیل القدر امام ابوعبید قاسم بن سلام v (۱۵۷ھ- ۲۲۴ھ) کا کہنا ہے: ’’ماناظرنی رجلٌ قط وکان مفنّنا فی العلوم إلا غلبتُہٗ، ولاناظرنی رجل ذوفن واحد من العلوم إلا غلبنی فیہ۔‘‘(۴)  ’’جب بھی کسی متعدد علوم پر نگاہ رکھنے والے عالم سے مناظرے کی نوبت آئی تو میں غالب رہا، لیکن ایک فن کے ماہر کو ہمیشہ اس فن میں مجھ پر غلبہ حاصل رہا ہے۔‘‘ چنانچہ متقدمین کے دور سے ہی حدیث کے سلسلے میں محدث کی اور فقہ واستنباط کے پہلو سے فقیہ کی رائے ہی معتبر قرار پاتی تھی، کوئی بعید نہیں کہ علوم اسلامیہ کی تدوین کے ابتدائی ادوار میں ’’فقہ‘‘ کی وسعت کے تین مختلف زاویوں(عقائدوکلام، فقہ اصطلاحی اور تزکیہ واحسان) میں پھیلاؤ کے پس پشت یہی فکر کارفرما رہی ہو، اس پہلو سے علامہ ابن حجر ہیتمی مکی v(۹۰۹ھ- ۹۷۳ھ) کا یہ جملہ ان گنت پیچیدہ گتھیاں سلجھا سکتا ہے: ’’من غلب علیہ فن یرجع إلیہ فیہ دون غیرہٖ۔‘‘(۵)  ’’جس عالم پر کوئی ایک فن غالب ہو تو اسی فن سے متعلق ان سے رجوع کیا جائے گا، دیگر علوم میں ان سے رہنمائی نہیں لی جائے گی۔‘‘ برصغیر کے نامور محقق عالم مولانا عبدالحی لکھنوی v(۱۲۶۴ھ-۱۳۰۴ھ) رقم طراز ہیں: ’’إن اللّٰہ تعالٰی جعل لکل مقام مقالًا ولکل فن رجالًا، وخص طائفۃ من مخلوقاتہٖ بنوع فضیلۃ لاتجد فی غیرہٖ، فمن المحدثین من لیس لھم حظ إلا روایۃ الأحادیث ونقلھا من دون التفقہ والوصول إلٰی سرھا، ومن الفقہاء من لیس لھم حظ إلا ضبط للمسائل الفقہیۃ من دون المھارۃ فی الروایات الحدیثیۃ، فالواجب أن ننزل کُلًّا منھم فی منازلھم، ونقف عندمراتبھم۔‘‘  (۶)  ’’اللہ تعالیٰ نے ہر موقع کے مناسب کلام اور ہر فن کے لائق مردانِ کار پیدا کیے ہیں، اپنی مخلوقات میں سے بعض کو خاص نوع کی فضیلت بخشی ہے، جو باقی مخلوق میں نہیں، بعض محدثین کو محض احادیث کی روایت ونقل کا مشغلہ نصیب ہواہے، حدیث کی فقہ اور اسرار تک ان کی رسائی نہیں، یونہی فقہاء کی ایک جماعت مسائل فقہیہ کے ضبط میں مصروف رہی ہے، انہیں حدیثی روایات میں دست گاہ حاصل نہ تھی، لہٰذا ہر ایک طبقہ کو اس کا جائز مقام دینا اور ان کے مراتب کی حدود پر قائم رہنا ضروری ہے۔‘‘   جب ہر فن میں صاحبِ فن کا قول ہی معتبر ٹھہرا تو ہر دور میں ہر فن کے متخصصین کا وجود بھی ناگزیر قرار پاتا ہے، پھر جبکہ علوم آلیہ بلکہ علوم عقلیہ محضہ کے شناور ان پر زندگیاں نچھاور کررہے ہوں تو علوم عالیہ اور خصوصاً علوم حدیث پر جان کاری کی اہمیت اہل دانش سے مخفی نہ رہنی چاہیے، بلاشبہ کسی بھی علم وفن کی اہمیت سے انکار نہیں، لیکن ’’أعط کلَّ ذی حقٍ حقہٗ‘‘(۷) (ہر حق دار کو اس کا جائز حق دو) کے مخاطبین سے واجب حق کی ادائیگی کا سوال بھی اہل عقل کے ہاں یقینا غیردانشمندانہ شمار نہ ہوگا، تعلیم کے انتہائی مرحلے میں طبعی رجحانات ومیلانات کو پیش نظر رکھ کر صلاحیتوں کی تقسیم کے لمحات میںہر میدان کی علمی ضروریات کو دیکھتے ہوئے منصفانہ تقسیم کا مطالبہ عین فطرت ہے اور یہی ا ن گزارشات کا مقصود ہے۔  ’’تخصصات‘‘ کے سلسلے میں ایک عمومی اشکال سننے میں آتا ہے کہ قدماء میں تو یہ طریقہ رائج نہیں رہا،آخر اس کی ضرورت کیا ہے؟ عرض یہ ہے کہ بلاشبہ قدماء کے ہاں مروجہ طرز پر’’ تخصصات‘‘ کا رواج نہ تھا، لیکن امتِ مسلمہ کی علمی و تعلیمی تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں بھی رسمی طالب علمی سے فراغت کے بعد طلباء کو جس فن سے قلبی وابستگی ہوتی تواس فن کے ماہر کے ہاں جاکر مزید رسوخ حاصل کیا کرتے تھے، عصرحاضر میں چونکہ انفردای تعلیم کا یہ سلسلہ دشوار ہوچلا ہے، اس بنا پر مدارس وجامعات میں انتظامی طور پر اصحابِ فن کی نگرانی میں شعبے کھول کر طلبائے علم کو استفادے کی دعوت دی جاتی ہے، گویا زمانے کے چلن کی بنا پر اسلوب ومنہج کا فرق ہے، حقیقت وہی ہے جو قدماء سے چلی آرہی ہے۔  علومِ حدیث میں اختصاص کی ضرورت مندرجہ بالا تفصیل سے اجمالی طور پر دیگر علوم کی طرح علومِ حدیث میں اختصاص کی اہمیت وضرورت بھی واضح ہوگئی، اس سلسلے میں چند مزید گزارشات نکات کی صورت میں پیش کی جاتی ہیں: 1۔۔۔۔۔ قرآن کریم کے بعد دین کا دوسرا بنیادی ماخذ ’’حدیث وسنت‘‘ ہے، اس لیے حفظِ مراتب کے پہلو سے بھی قرآن و علوم قرآن کے بعد علوم حدیث زیادہ توجہات کے مستحق ہیں،شاید اسی بنا پر مولانا محمد انور شاہ کشمیری v (۱۲۹۲ھ-۱۳۵۲ھ) کے فرزندِ نسبتی اور ان کے افادات پر مشتمل علمی سرمائے ’’انوار الباری شرح صحیح بخاری‘‘ کے مرتب مولانا احمد رضا بجنوری v کا تجزیہ ہے: ’’میرے نزدیک علومِ اسلامیہ میں سب سے زیادہ اہم اور مشکل‘ حدیث ہی کا تخصص ہے۔‘‘ (۸) درسِ نظامی کے مختلف درجات میں کتبِ ستّہ سمیت دیگر کتبِ حدیث و اُصول ِحدیث شامل نصاب ہیں، جن سے علومِ حدیث سے بنیادی شناسائی تو ضرور پیدا ہوجاتی ہے، لیکن دیگر علوم کی طرح اختصاصی مہارت تک رسائی حاصل نہیں ہوتی، لہٰذا جیسے ’’تخصص فی التفسیر واصولہ‘‘، ’’تخصص فی الفقہ والافتائ‘‘، ’’تخصص فی الادب العربی‘‘، ’’تخصص فی الدعوۃ والارشاد‘‘ اور ’’تخصص فی العلوم العقلیۃ‘‘ کی ضرورت بجا طور پر محسوس کی جاتی ہے، وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ ذہین فضلاء کی ایک جماعت ’’تخصص فی علوم الحدیث‘‘ کی جانب متوجہ ہو، اور اس جہاں میں زندگی کھپا کر اُمتِ مسلمہ کی طرف سے فرضِ کفایہ کی ادائیگی کا ذریعہ ثابت ہو، اس نکتے کو پیش نظر رکھتے ہوئے گردوپیش پر نگاہ ڈالی جائے تو افراد کی جتنی تعداد دیگر میدانوں میں نظر آتی ہے، علومِ حدیث میں اختصاصی مہارتوں کی جانب ویسی توجہات نہیں۔ 2:۔۔۔۔۔ عصر حاضر میں علوم حدیث کے بہت سے پہلو بے اعتنائی کا شکار ہیں، مثلا: رجال احادیث، جرح وتعدیل، ضبط اسمائے روات، غریب الحدیث، اسباب ورود احادیث، ناسخ ومنسوخ، اور احادیث الاحکام وغیرہ،پہلے گذرچکا کہ علوم حدیث ایک وسیع میدان ہے، علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے ان علوم کی چورانوے(۹۴) انواع ذکر کی ہیں، ان میں سے ہر نوع پر مستقل کتب کی تالیف سے اسلامی کتب خانے میں ایک بہت بڑا ذخیرہ وجودمیں آیا ہے، اور روز بروز اس میں مختلف جہات سے ترتیب وتدوین، تلخیص و اختصار اور مختلف مباحث کے حوالے سے اٹھنے والے نئے اشکالات وسوالات کا جواب دینے کے لیے لکھا جانے والا لٹریچر بڑھ رہا ہے، جس کے تعارف، مناہج کی پہچان اور استفادہ کے طریقہ کار کی معرفت کارے دارد، ’’علوم حدیث میں اختصاص‘‘ کا ایک اہم مقصداس قیمتی ذخیرے کا تعارف اور ہر علم وفن میں لکھی گئی کتب کے مناہج کی معرفت بھی ہے، تاکہ اس قیمتی ذخیرے سے واقفیت حاصل کرنے کے نئے مباحث میں امت مسلمہ کی رہنمائی کی جاسکے۔   3… ہر دور کی طرح دور حاضر میں بھی عوام اور خواص کے مختلف حلقوں میںشدید ضعیف اور موضوع احادیث کاچلن ہے، موضوعات کے اس شیوعمیں کھرے کھوٹے کی تمیز کرکے عوام وخواص میں اس کا شعور بیدار کرنا بھی ایک اہم عمل ہے، نیز فتن ودیگر موضوعات کی بے شمار روایات کا صحیح فہم نہ ہونے کی بنا پر غلط فہمیوں کا ایک طوفان برپا ہے، محتمل روایات کے مصداقات کی تعیین کے ذریعے بھی فتنہ وفساد کی راہیں‘ وا کی جارہی ہیں، اس صورت حال کی بناپر عوام میں جو بے چینی اور ہیجان کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے، اصحاب فہم ودانش اس کا ادراک بھی کررہے ہیں، لیکن اس پہلو پر علمی وتحقیقی کام کرکے ’’تشکیک‘‘ کی اس فضا کو ختم کرنے والے مردانِ جفاکار کو اَکھیاں ترس رہی ہیںاور انتظار کی یہ طویل شب عرصے سے صبح کی نویدِ مسرت سننے کو بے تاب ہے۔ 4…اصول حدیث کی متداول کتب، محدثین اور خصوصاً فقہ شافعی کی نمائندہ شمار کی جاتی ہیں، جن کے بہت سے مباحث میں فقہائے حنفیہ کی آراء محدثین سے مختلف ہیں، اور درسِ نظامی کا عام فاضل محض حافظ ابن حجرعسقلانی v (۷۷۳ھ- ۸۵۲ھ) کی’’ نزہۃ النظرشرح نخبۃ الفکر‘‘یاعلامہ جلال الدین سیوطی v(۸۴۹ھ-۹۱۱ھ) کی ’’تدریب الراوی فی تقریب النواوي‘‘ پڑھ کر حدیثی مباحث میں محدثین وشافعیہ کی آراء کو پیش نظر رکھتے ہوئے بہت سی الجھنوں کا شکار رہتا ہے۔ امرواقعہ یہ ہے کہ فقہائے احناف کی اصولی آراء ہماری اصول فقہ کی ’’کتب السنۃ‘‘ کے ضمن میں زیربحث آتی ہیں، وہاں اس جانب توجہات مبذول نہیں رہتیں، نیز احناف کے ہاں اس پہلو سے مستقل کام بھی کم ہے،ان اسباب کی بنا پر نصابی تعلیم کے دوران اصولِ حدیث کے پہلو سے خلا باقی رہ جاتا ہے، اور اختصاصی شعبوں میں اس کمی کی تلافی کی کوشش کی جاتی ہے، علومِ حدیث کے نامور عالم ومحقق مولانا محمد عبدالرشید نعمانی v(۱۴۲۰ھ) کا درج ذیل بیان پڑھیے: ’’حنفی عالم کو محدثین کی مصطلح کے علاوہ اصولِ فقہ کی کتابوں میں جوسنت کی بحث ہے، اس کو خاص طور پر پیش نظر رکھنا چاہیے، خصوصاً جصاصؒ کی اصولِ فقہ، سرخسیؒ اور بزدوی ؒ کی کتابوں میں جو سنت کی بحث ہے، وہ پیش نظر رہے کہ ہمارے ہاں نقد حدیث کے وہی اصول ہیں جو ان کتابوں میں مذکو ر ہیں، وہ نہیں جو ابن صلاحؒ اور بعد کے لوگوں نے بنائے ہیں، اس سلسلے میں ’’کشف بزدوی‘‘ اور ’’اصول سرخسی‘‘ کا مطالعہ بہت ضروری ہے۔‘‘ (۹) 5…’’تخصص فی علوم الحدیث‘‘ کے ان شعبوں کا ایک بنیادی مقصدعلم حدیث کی تدریسی استعداد کے ساتھ تالیفی صلاحیت پیدا کرنا بھی ہے، اصحابِ نظر جانتے ہیں کہ مسلمانوں کا موجود مطبوعہ کتب سے کئی گنا بڑاذخیرہ مخطوطات کی صورت میںمسلم وغیرمسلم دنیا کے مختلف سرکاری ، ادارتی اور نجی کتب خانوں میں پردۂ خفا کی نذر ہے، ایسے میں پختہ وذی استعداد مدرسین کے ساتھ تحقیقِ مخطوطات کے ماہر اورعمدہ تالیفی صلاحیتوں کے حامل فضلاء بھی علمی میدان کی ضروت ہیں، مولانا محمد عبدالرشید نعمانیv نے ایک موقع پر لکھا تھا:  ’’تخصص کی دو شکلیں ہیں: ۱:۔۔۔۔۔ ایک یہ کہ طالب علم درس کے سلسلے میں استعداد پیدا کرسکے، اور وہ ’’التخصص فی درس الحدیث‘‘ کا اہل ہو۔ ۲:۔۔۔۔۔ دوسرے یہ کہ جب لوگوں میں تصنیف وتالیف کی اہلیت ہو، ان کے تخصص کا مطلب یہ ہے کہ وہ کسی خاص موضوع پر کسی کتاب کی تالیف کرسکیں، یا حدیث کے کسی مخطوطے کی تصحیح کرسکیں، اس پر تعلیقات و حواشی لکھ سکیں۔‘‘(۱۰) 6:… سابقہ نکات کے ضمن میں یہ پہلو بھی اہم ہے کہ حدیث کی حجیت اور شرح وبیان کے حوالے سے مختلف طبقات کی جانب سے اشکالات وجوابات کا سلسلہ ایک عرصہ سے جاری ہے، منکرین حدیث بھی اپنی مردہ اسکیم میں جان ڈالنے کی خاطر آئے روز نت نئے مباحث چھیڑ کر سادہ لوح مسلمانوں میں تشکیکی جراثیم پیدا کرنے کے لیے کوشا ں رہتے ہیں، اس پر مستزاد بعض مسلم دانشور بھی اپنی کم فہمی کی بنا پر شبہات میں مبتلا ہو کر دانستہ ونادانستہ طور پر عوام میں ان کی اشاعت کی سرگرمیوں میں مصروف عمل ہیں، اس صورت حال نے آج پرانی بحثوں کو دوبارہ زندہ کردیا ہے اور اس وقت عرب وعجم میں متنوع حدیثی موضوعات پر کتب ومقالات لکھے جارہے ہیں، سیمینار اور کانفرنسیں ہورہی ہیں، برصغیر بھی اس صورت حال کی لپیٹ میں ہے، اور کسی درجے میں یہاں بھی اس پہلو پر کام کیا جارہا ہے، لیکن جدید چیلنجز کی بنا پر بہت سے تشنہ پہلؤوں پر قدیم ذخیرے کی روشنی میں عوام اور عصری تعلیم یافتہ طبقوں کی ذہنی سطح کو سامنے رکھتے ہوئے علمی و تحقیقی لٹریچر کی ضرورت دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔     برصغیر کے چندمعروف شعبہائے تخصص فی علوم الحدیث کا ایک تعارف  جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹائون یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ برصغیر میں علوم حدیث میں اختصاص  کے لیے مستقل شعبہ کی بنیاد ڈالنے میں پہل کا اعزاز جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹائون کوحاصل ہے، محدث العصر مولانا سید محمد یوسف بنوریv (۱۳۹۷ھ) نے شوال ۱۳۸۳ھ بمطابق نومبر۱۹۶۳ء میں اس شعبے کی بنیاد ڈالی،اور علامہ انور شاہ کشمیریv کے شاگردرشید مولانا محمد ادریس میرٹھی v(۱۴۰۹ھ) کو نگران مقرر فرمایا، بعد ازاں مولانا محمد عبدالرشید نعمانی v اور ان کے بعد استاذ محترم مولانا محمد عبدالحلیم چشتی مدظلہٗ(فاضل دارالعلوم دیوبند ) تاحال مشرف کے منصب پر فائز ہیں۔ اس شعبے کی پچاس سالہ تاریخ میں بیسیوں تحقیقی مقالات لکھے گئے، جن کی ایک فہرست مولانا علی احمد ومولانا صہیب ضیاء (متخصصین فی علوم الحدیث جامعہ) کی محنت و کوشش سے سہماہی ’’تحقیقاتِ حدیث‘‘ (۱۱) میں چھپ چکی ہے، جس میں ۸۸ مقالات کا ذکر ہے،ان کے علاوہ بھی بہت سے مقالات کی فہرست جامعہ کے ریکارڈ میں موجود ہے۔ حضرت بنوری v کی خواہش تھی کہ یہاں تحقیقی مقالات لکھے جائیں اور طبع ہوکر علمی ذخیرے میں موجود خلا کو پر کریں،چنانچہ جامعہ کے اس شعبے میں لکھے جانے والے بہت سے مقالات ملک وبیرون ملک کے مختلف اشاعتی اداروں سے طبع ہوکر عام ہوچکے ہیں، جن میں سے چند معروف مقالات کا تعارف درج ذیل ہے: 1:۔۔۔۔۔’’السنۃ ومکانتھا فی ضوء القرأٰنِ الکریم‘‘ از مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختار شہید v (متوفی:۱۹۹۷ئ)، یہ مقالہ حضرت مولانا محمد ادریس میرٹھی v کی نگرانی میں لکھا گیا ہے، اس دور میں انکارِ حدیث کے فتنے نے سر اٹھایا، جس میں قرآن کریم کی آڑ میں ذخیرۂ حدیث کو بے وقعت بنانے کے مذموم مقاصد کارفرما تھے، اس لیے اس مقالے میں قرآن کریم کی روشنی میں سنتِ نبویہ کی حیثیت ومرتبہ متعین کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے، اصل عربی مقالہ ’’مکتبہ بنوریہ‘‘ سے اور اردو ترجمہ ۱۴۰۰ھ میں جامعہ کے اشاعتی شعبے ’’مجلس دعوت وتحقیق اسلامی ‘‘سے طبع ہوچکا ہے۔ 2:۔۔۔۔۔’’مسانید الإمام أبي حنیفۃؒ وعدد مرویاتہٖ من المرفوعات والآثار‘‘  از مولانا محمد امین اورکزئی شہید v (۲۰۰۹ئ): یہ مقالہ بھی حضرت مولانا محمد ادریس میرٹھی v کے اشراف میں لکھا گیا ہے، اس میں امام ابوحنیفہ v کا حدیثی مقام، ان کی بیس سے زائد ’’مسانید‘‘ کا تعارف و تجزیہ اور ان میں جمع شدہ روایات کی تعداد بیان کی گئی ہے، ۱۳۹۸ھ میں ’’مجلس دعوت وتحقیق اسلامی‘‘ سے اور بارِ دگر مولانا شہید کے ادارے ’’جامعہ یوسفیہ شاہووام ہنگو ‘‘ سے اشاعت پذیر ہوچکا ہے۔ 3:۔۔۔۔’’الکتب المدونۃ فی الحدیث وأصنافہا  وخصائصہا‘‘ از مولانا محمد زمان کلاچوی: مقالے کا موضوع عنوان سے ظاہر ہے، حضرت بنوری v کی خواہش تھی کہ کتب حدیث کے تفصیلی تعارف پر مشتمل کتاب ترتیب دی جائے، یہ مقالہ اسی خواہش کی ایک تکمیلی کوشش ہے، ’’المصنفات في الحدیث‘‘ کا اردو ترجمہ نوشہرہ کی ’’القاسم اکیڈمی‘‘ نے نہایت اہتمام سے شائع کیا ہے۔  4:۔۔۔۔۔’’ الکلام المفید في تحریر الأسانید‘‘ از مولانا روح الامین بنگلہ دیشی: مولانا محمد عبدالرشید نعمانیv کی زیرنگرانی لکھے گئے اس مقالے میں بنیادی طور پر مولانا نعمانیؒ کی اور اس ضمن میں اکابرعلمائے دیوبند کی اسانید کو یکجا کرنے کی سعی کی گئی ہے، علمائے دیوبند کے ’’اثبات‘‘ (ثبت کی جمع، حدیثی اصطلاح کے مطابق کسی ایک شیخ یا چند مشائخ کی اسانیدِ حدیث کا مجموعہ)میں اس کتاب کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ پہلے پہل ۱۴۲۵ھ میں’’ مکتبہ حجاز دیوبند‘‘ سے اور دوسری بارکچھ عرصہ قبل ’’زمزم پبلشرز‘‘ کراچی سے طبع ہوچکا ہے۔   5:۔۔۔۔۔۔ ’’أحادیث تلامیذ الإمام وأحادیث العلماء الأحناف في صحیح البخاری‘‘ از مولانا مفیض الرحمن چاٹگامی: فقہائے احناف پر حدیث سے دوری کا ایک بے بنیاد اتہام باندھا جاتا ہے، استاذِ محترم مولانا ڈاکٹر محمدعبدالحلیم چشتی مدظلہٗ کے اشراف میں لکھے گئے اس مقالے میں ذخیرۂ حدیث کی معتبر ترین کتاب ’’صحیح بخاری‘‘ میں امام ابوحنیفہ v کے تلامذہ اور دیگر حنفی فقہاء کی سند سے مذکو روایات کو جمع کیا گیا ہے، ’’الوردۃ الحاضرۃ‘‘ کے نام سے ’’زمزم پبلشرز‘‘ سے شائع ہوچکا ہے۔ 6:۔۔۔۔۔ ’’ثنائیات الإمام الأعظم أبي حنیفۃؒ‘‘ از مولانا عبدالعزیز یحییٰ سعدی: امام بخاریv کی ’’صحیح‘‘ میں بائیس ’’ثلاثیات‘‘(جن روایات میں امام بخاری v اور نبی اکرم a کے درمیان محض تین واسطے ہیں) ہیں، اور محدثین کے ہاں ایسی روایات کی زیادہ اہمیت ہوتی ہے، جن کی سند میں واسطے کم ہوں، استاذ محترم مولانا چشتی مدظلہٗ کی نگرانی میں تحریر کیے گئے پیش نظر مقالے میں امام ابوحنیفہ v کی ۲۱۹؍ ’’ثنائیات‘‘ (جن روایات میں امام عالی مقام اور رسالت مآب a میں محض دو واسطے ہیں) جمع کی گئی ہیں، پہلی بار کراچی سے اور بعدازاں  ۱۴۲۶ھ میں’’الإمام أبوحنیفۃ وثنائیاتہٗ‘‘ کے نام سے بیروت کے معروف اشاعتی ادارے ’’ دار الکتب العلمیۃ‘‘ سے عالم عرب کے محقق عالم ڈاکٹر نور الدین عتر I کی گراں قدر تقریظ کے ساتھ طبع ہوکر عام دستیاب ہے۔  7:۔۔۔۔۔’’ الجمع بین الآثار‘‘ از مولانا ایوب رشیدی: یہ مقالہ بھی استاذ محترم مولانا چشتی مدظلہٗ کے دورِ اشراف میں لکھا گیا ہے، اس میں امام ابوایوسف اور امام محمد E کی’’کتاب الآثار‘‘ کی روایات کو جمع کرکے ان کے رجال پر کلام کیا گیا ہے، ابتدا میں استاذ محترم کے قلم سے لکھا گیا مقدمہ ایک تحقیقی مقالے کی شکل اختیار کرگیا ہے، اس مقدمے کے اردو ترجمے کا ایک حصہ سیرتِ طیبہ کے متعلق مولانا ڈاکٹر عزیز الرحمن کی ادارت میں شائع ہونے والے ششماہی ’’السیرۃ‘‘ (۱۲)میں قسط وار چھپ چکا ہے، امید ہے کہ ا ن شاء اللہ! جلد ہی مستقل کتابی صورت میں طبع ہوگا،جبکہ اصل عربی مقالہ حال ہی میں ’’لمحات من التربیۃ الفقہیۃ في خیر القرون‘‘ کے نام سے اردن کے اشاعتی ادارے ’’دارالفتح ‘‘ سے چھپا ہے، مولانا رشیدی کا مقالہ ۱۴۲۶ھ  میں’’زمزم پبلشرز‘‘ سے چھپ کر عام ہوچکا ہے۔  8:۔۔۔۔۔’’الفقہ فی السند‘‘از مولانا اللہ بخش ایاز ملکانوی: وادئِ مہران میں فقہ اسلامی کے نمو وارتقا اور یہاں کے اہل علم کی فقہی خدمات کے جائزہ، تعارف وتبصرہ کے حوالے سے لکھے گئے اس مقالے کا اردو ترجمہ ’’القاسم اکیڈمی‘‘ نوشہرہ سے شائع ہوا ہے۔   9:۔۔۔۔۔’’دراسات في أصول الحدیث علی منھج الحنفیۃ‘‘ از مولانا عبدالمجید ترکمانی:  احناف کے اصولِ حدیث پر اپنی نوعیت کا یہ منفرد کام استاذ محترم مولانا محمد عبدالحلیم چشتی مدظلہٗ کی نگرانی میں انجام پایا تھا، مزید اضافات اور فنی ترتیب وتدوین کے بعد ابتدا میں’’ مکتبۃ السعادۃ‘‘ کراچی سے  اور پھر بیروت کے معروف اشاعتی ادارے ’’دارابن کثیر‘‘سے یکے بعد دیگرے دو بار طبع ہوچکا ہے، حال ہی میں مزید اضافات کے ساتھ ’’مکتبۃ الکوثر‘‘ سے اس کتاب کا چوتھا ایڈیشن شائع ہواہے۔ کتاب کے طبع ہونے اور علمی حلقوں میں عام ہونے کے بعد عرب وعجم کے کبار اہل علم نے نوجوان مقالہ نگار کی اس کاوش کوبنظر تحسین دیکھا اور مؤلف کو بلندپایہ تعریفی کلمات سے نوازاہے،مقام شکر ہے کہ احناف کے اصولِ حدیث کے حوالے سے اُسے اب مرجعیت کا مقام مل چکا ہے، چنانچہ موضوع سے متعلق بیشتر علمی وتحقیقی مقالات میں اس کے حوالے دئیے گئے ہیں، بلاشبہ یہ مقالہ جامعہ کے’’ شعبہ تخصص فی علوم الحدیث‘‘ میں ہونے والے تحقیقی کام کی ایک عمدہ مثال ہے۔ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹائون کے اس شعبے نے علوم حدیث کے میدان میں پیش رفت کے سلسلے میں نمایاں کردار کیا، معاشرے کوماہرین علوم حدیث کی ایک کھیپ فراہم کی،ملک وبیرون ملک کے کئی جامعات کے شعبہائے تخصص فی علوم الحدیث میں مصروفِ عمل بہتیرے اہل علم جامعہ کے اس شعبے سے ہی فیض یاب ہوکر مرجعیت کے مقام پر پہنچے، والحمد للّٰہ علی ذلک ۔  جامعہ فاروقیہ کراچی جامعہ فاروقیہ میں حضرت مولانا سلیم اللہ خان مدظلہٗ نے ۱۴۲۵ھ میں اس شعبہ کی بنیاد ڈالی، اور مولانا نور البشر نور الحق مدظلہٗ و مولانا ساجد صدوی حفظہٗ اللہ (متخصص فی علوم الحدیث جامعہ بنوری ٹائون) کے اشراف میں ’’تخصص فی علوم الحدیث‘‘ کا شعبہ قائم کیا، اس شعبے میں لکھے گئے مقالات کی ایک فہرست ۲۰۱۰ء میںسہماہی تحقیقاتِ حدیث کے ایک شمارہ میںمیں شائع ہوچکی ہے،(۱۳) اس کے بعد بھی کافی مقالے لکھے گئے ہیں، جن کی تفصیلات سردست سامنے نہیں، بلاشبہ جامعہ کے اس شعبے نے قلیل مدت میں نہایت قیمتی اور قابل قدر کام سامنے لائے ہیں، جن میں سے دو نمایاں مطبوعہ مقالات درج ذیل ہیں: ۱:۔۔۔۔۔ ’’غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ‘‘ از مولانا طارق امیر خان: محدثین کی متنوع خدمات میں سے ایک اہم خدمت موضوع روایات کو ذخیرۂ حدیث سے ممتاز کرنا ہے، اس موضوع پر بھی معتدبہ موادحدیثی کتب خانے کی زینت ہے، پیش نظر مقالہ اسی جدوجہد کا تسلسل ہے، جس میں پاک وہند میں زبان زد عوام وخواص اٹھائیس ۲۸؍ روایات کی تحقیق کی گئی ہے، ابتدا میں موضوع روایات و کتبِ موضوعات سے متعلق وقیع مقدمہ ہے، یہ مقالہ مولانا نور البشر مدظلہٗ کی زیرنگرانی لکھا گیا اور ’’زمزم پبلشرز‘‘ سے طبع ہوچکا ہے، مؤلف نے تخصص سے فراغت کے بعد بھی اس نوع پر کام جاری رکھا ،ان شاء اللہ! جلد ہی اس سلسلے کی دوسری جلد منظر عام پر آرہی ہے۔ ۲:۔۔۔۔۔ ’’الجزء فی فضائل القرآن‘‘ از مولانا طارق امیر خان: یہ مقالہ بھی مؤلف نے جامعہ فاروقیہ میںتخصص کے دوران ترتیب دیا ہے،جس میں شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا v (۱۸۹۸ئ-۱۹۸۳ئ) کی ’’فضائل قرآن‘‘ کے حدیثی فوائد کے ضمن میں آنے والی روایات کی تخریج و تحقیق کی گئی ہے، اور اب یہ کام کتابی صورت میں ’’زمزم پبلشرز‘‘ سے چھپ چکا ہے۔ دیگرمقالات میں سے چنداہم عنوانات ملاحظہ فرمائیں: ۱:۔۔۔۔۔’’تحقیق ودراسۃ کتاب’’إمعان النظر في توضیح شرح نخبۃ الفکر‘‘  للعلامۃ محمد إکرام السندي النصربوري‘‘ مولوی کفایت اللہ بن محمد زکریا۔ ۲:۔۔۔۔۔’’تحقیق ودراسۃ کتاب ’’بھجۃ النظر شرح شرح نخبۃ الفکر‘‘ لأبی الحسن الصغیر السندي ‘‘ مولوی محمد کاشف بن محمد یونس۔ ۳:۔۔۔۔۔ ’’الإمام ابن ھمام وآراؤہ الأصولیۃ في ’’فتح القدیر‘‘ مولوی حسین احمد۔ ۴:۔۔۔۔۔’’الحدیث الضعیف ومدی الاستدلال بہٖ في الفضائل والأحکام‘‘ مولوی محمد عمران  جامعہ بنوریہ کراچی جامعہ بنوریہ میں یہ شعبہ قائم ہوئے کچھ عرصہ گزرا ہے، اور مولانا آصف اخترحفظہٗ اللہ اس کے مشرف ہیں، مولانا بھی استاذ محترم مولانا چشتی مدظلہٗ کے فیض یافتہ ہیں۔ جامعہ اشرف المدارس کراچی جامعہ اشرف المدارس میں قائم شعبہ ’’تخصص فی علوم الحدیث‘‘ مولانا مفیض الرحمن چاٹگامی کے اشراف میں قائم ہے، مولاناچاٹگامی جامعہ بنوری ٹائون کے متخصص اور کئی کتب کے مؤلف ہیں۔ معہدعثمان بن عفان کراچی مولانا نور البشر نور الحق مدظلہٗ(استاذ جامعہ فاروقیہ کراچی) کے اس ادارے میں ’’تخصص فی الفقہ والحدیث‘‘ کا دوسالہ منفرد کورس چند سال سے جاری ہے، جس میں اصول افتاء وعلوم حدیث کی منتخب کتب کی تدریس ومطالعہ کے ساتھ افتاء وتخریج کی تمرین بھی کرائی جاتی ہے، مولانا مدظلہٗ تحقیقی مزاج ومذاق رکھنے والے پختہ عالم ومدرس اورتحقیق وتخریج کے میدان میں طویل تجربہ رکھتے ہیں، اس لیے مختصر دورانیے میںدونوں مہارتیں حاصل کرنے کے خواہش مند ذی استعداد طلبہ اس ادارے سے منسلک ہوکر فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔  مجلس البحوث الاسلامیۃ راولپنڈی مسجد الہلال اصغر مال اسکیم میں استاذ محترم مولانا محمد عبدالحلیم چشتی مدظلہٗ کی سرپرستی اور جامعہ بنوری ٹائون کے متخصصین مولانا محمد عاصم انعام ،مولانا ایوب رشیدی اور مولانا وصی اللہ حفظہم اللہ ودیگر علماء کی نگرانی میں ’’مجلس البحوث الاسلامیۃ‘‘ اور اس کے ذیلی شعبے ’’تخصص فی علوم الحدیث والسنۃ‘‘کو قائم ہوئے کچھ عرصہ گزرا ہے، اس دوران یہاں دیگر مقالات کے علاوہ ایک نمایاں کام شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا v کی شہرہ آفاق کتاب’’فضائل اعمال‘‘ کی تخریج کا ہوا، جو اب چھپ کر عام ہوچکا ہے۔ جامعہ دارالعلوم دیوبند،ہندوستان  برصغیر کی عظیم دینی درس گاہ ازہرِہند دارالعلوم دیوبند میں یہ شعبہ۱۴۲۰ھ میں قائم ہوا اور مولانا نعمت اللہ اعظمی مدظلہٗ اس کے نگران مقرر ہوئے، جو تاحال اشراف کے فرائض انجام دے رہے ہیں، بعدازاں مولانا عبداللہ معروفی حفظہٗ اللہ بھی بحیثیت معاون مشرف اس شعبے سے منسلک ہوئے، اس شعبے کے شائع شدہ چند اہم تحقیقی مقالات درج ذیل ہیں: 1:۔۔۔۔’’الحدیث الحسن في جامع الترمذي‘‘ 2:۔۔۔۔۔’’الحدیث الحسن الصحیح‘‘ 3:۔۔۔۔۔ ’’الحدیث الحسن الغریب‘‘ 4:۔۔۔۔۔’’ الحدیث الغریب‘‘: یہ مقالہ مولانا نعمت اللہ ا عظمی مدظلہٗ، ہندوستان کے نامور محقق مولانا حبیب الرحمن اعظمی v(۱۹۰۱ئ- ۱۹۹۲ئ) اور مولانا عبداللہ معروفی مدظلہٗ کی نگرانی میں شعبے کے پانچ طلبہ نے لکھا ہے، جس میں’’جامع الترمذي‘‘ کی ان احادیث کی تحقیق کی گئی ہے، جن کو امام ترمذیv (۲۷۹ھ) نے ’’حسن‘‘ لکھاہے، ابتدا میں انہی روایات پر کام ہوا، بعد ازاں امام موصوف کی دیگر اصطلاحات پر بھی تحقیقی کام ہوا، چنانچہ ’’حسن غریب‘‘ پر دو جلدیں، ’’حدیث غریب‘‘ پر ایک جلد اور ’’حسن غریب‘‘ پر تین جلدیں چھپ چکی ہیں، ہر جلد کی ضخامت چھے سو صفحات سے زائد ہے، یہ مکمل کام اسی شعبے میں ہوا۔  5:۔۔۔۔۔’’حقیقۃ الزیادۃ علی القرأٰن بخبر الواحد واستعراض علمی لإیرادات ابن القیم علٰی الحنفیۃ بنائً علی ھذا الأصل‘‘:مقالے کے عنوان سے اس کے مباحث کی وضاحت ہوجاتی ہے، یہ کام مولانا نعمت اللہ اعظمی مدظلہٗ کے اشراف میں تین طلبہ  نے کیا اورمولانا عبداللہ معروفی حفظہٗ اللہ نے ترمیم وتہذیب فرمائی ، ’’المکتبۃ العثمانیۃ‘‘ دیوبند سے چھپ چکا ہے۔(۱۴) جامعہ مظاہر العلوم سہارن پور،ہندوستان جامعہ کی مجلس شوریٰ کی تجویز سے سنہ۱۴۱۵ھ میں اس شعبے کا قیام عمل میں آیا، اور حضرت مولانا زین العابدین اعظمی v (۱۳۵۱ھ-۱۴۳۴ھ) نگران مقرر ہوئے، دوسرے ہی سال طلبہ کی تعداد میں اضافہ کی بنا پر ان کی معاونت کے لیے مولانا عبداللہ معروفی حفظہٗ اللہ کا تقرر کیا گیا، (کچھ عرصے بعد مولانا معروفی حفظہٗ اللہ کو دارالعلوم دیوبند میں طلب کرلیا گیا)۱۴۲۱ھ میں شائع شدہ شعبے کی پانچ سالہ کارکردگی کی روداد کے مطابق اس قلیل مدت کے دوران  شعبے میںانجام پانے والے نمایاں تحقیقی کام درج ذیل ہیں:  1:۔۔۔۔۔ ’’المؤتلف والمختلف فی أسماء نقلۃ الحدیث‘‘ اور’’مشتبۃ النسبۃ‘‘ کی تحقیق وتعلیق، یہ دونوں اہم کام تخصص کے طلبا کے ہاتھوں تکمیل کو پہنچے۔ 2:۔۔۔۔۔علامہ محمد بن محمد بن سلیمان مغربی v کی شہرہ آفاق کتاب ’’جمع الفوائد من جامع الأصول ومجمع الزوائد‘‘ کی تحقیق ، یہ کام بھی مولانا زین العابدین اعظمی v کے اشراف میں شعبے کے متخصصین کے ذریعے انجام پایا ہے، جو اَب چھپ کر عام ہوچکا ہے۔  ان دو اہم علمی کاوشوں کے علاوہ بھی دسیوں مقالات لکھے گئے ہیں، جن میں سے بعض زیورِ طبع سے آراستہ ہوچکے ہیں، سردست تفصیلات دستیاب نہ ہونے کی بنا پر ان کا تعارف پیش نہیں جاسکتا۔(۱۵) مرکز الدعوۃ الاسلامیۃڈھاکہ بنگلہ دیش یہ ادارہ بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں قائم ہے، جس کے شعبہ ’’تخصص فی علوم الحدیث‘‘ کے مشرف مفتی عبدالمالک (متخصص جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹائون) ہیں، مولانا حدیث وفقہ کے پختہ ومحقق عالم ہیں،جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹائون میں تخصص کے بعد جامعہ دارالعلوم کراچی میں’’تخصص فی الافتائ‘‘ کیا،بعد ازاں اپنے استاذ مولانا محمد عبدالرشید نعمانی رحمہ اللہ کے ایما پر عالم عرب کے محقق ومحدث شیخ عبدالفتاح ابوغدہ v(۱۴۱۷ھ) کی خدمت میں بھی کافی عرصہ رہے ، یوں مولانا نے عرب وعجم کے جہابذہ سے خوب استفادہ کیا، علوم حدیث کے مبتدئین کے لیے انہوں نے ’’المدخل إلی علوم الحدیث الشریف ‘‘ کے نام سے ایک مفید کتاب ترتیب دی ہے، اور عرصہ سے حافظ ابن حجرv کی ’’نزہۃ النظر شرح نخبہ الفکر‘‘ کی شرح وتعلیق میں مشغول ہیں، بنگلہ دیش میں مولانا جیسی محدثانہ وفقیہانہ مزاج کی حامل شخصیت کا وجود نعمت سے کم نہیں۔ یہاں علوم حدیث میں اختصاص سے متعلق چند شعبوں کا ذکر کیا گیاہے، جن کے بارے میںکسی قدر معلومات مہیا ہوسکی ہیں، استیعاب ممکن تھا نہ مقصود، بلاشبہ ان کے علاوہ بھی اندرون وبیرون ملک کئی اداروں میں ’’تخصص فی علوم الحدیث‘‘ کے شعبے قائم ہیں، جن سے فضلائے کرام حسب مناسبت استفادہ کرسکتے ہیں۔   ایک گزارش علوم حدیث کے متخصصین سے اس مقام کی مناسبت سے ’’متخصصین فی علوم الحدیث‘‘ سے خصوصاً اور دیگر اہل اختصاص کی خدمت میں عموماً ایک برادرانہ وخیرخواہانہ گزارش پیش کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ کسی بھی علم وفن کے ساتھ مناسبت کی بقا کے لیے اس کا دائمی ومربوط مطالعہ ضروری ہوتا ہے، اختصاصی مہارت حاصل کرلینے کے باوجود ربط وتسلسل نہ رہنے کی بنا پر برسوں کی محنت (اکارت کہنا تو مناسب نہ ہوگا کہ فی الجملہ افادیت سے انکار بھی نہیں، کہاجاسکتا ہے کہ اختصاصی صلاحیت) ہوا ہوجاتی ہے، اس رویے سے بعض اوقات جزئیات تو درکنار ، فن کے بنیادی اصول وکلیات بھی ذہن سے اوجھل ہوجاتے ہیںاور عمومی مشاہدے کی رو سے بھی یہ عین فطری معاملہ ہے، امام فن جرح وتعدیل و محدث جلیل القدرامام عبدالرحمن مہدی v(۱۹۸ھ) کامقولہ ہے: ’’إنما مثل صاحب الحدیث بمنزلۃ السمسار، إذا غاب عن السوق خمسۃ أیام تغیَّر بصرُہٗ۔‘‘(۱۶) ’’حدیث کا طالب علم دلال (ہمارے عرف میں بجائے اس کے ’’منی چینجر‘‘ کہہ لیجیے) کی مانند ہوتا ہے، چند روز بھی مارکیٹ سے دور رہے تو فنی بصیرت (اور پیشہ ورانہ مہارت) میں فرق آجاتا ہے۔‘‘ چند روز کی غیبوبت سے اتنا تغیر آجاتا ہے تو فنی مطالعہ کے بالکلیہ ترک کی صورت میں اختصاصی استعداد کا کیا حشر ہوگا؟! ایسے میں مسلسل مطالعہ وتحقیق کے عمل سے جڑے بنا خودکو متخصص باور کراتے رہنا خام خیالی ہی کہی جاسکتی ہے، یوں ہم عوام کو تو مطمئن کرسکتے ہیں، لیکن ضمیر کی عدالت میںجواب دہی سے عاجز رہیں گے۔امام احمدبن حنبل شیبانی v (۲۴۱ھ) سے ایک موقع پر دریافت کیا گیا: حدیث کی طلب کب تک جاری رکھنی چاہیے؟ فرمایا: ’’موت تک۔‘‘  (۱۷)  گویا حقیقی متخصص وہی ہے جو تحقیق ومطالعہ کے سفر میں کسی مقام پر قناعت کے بجائے فن کے ساتھ دائمی ربط قائم رکھے ۔ مآخذومراجع ۱… عجالۃ المبتدي وفضالۃ المنتھي في النسب، ص: ۳، المطبعۃ الأمیریۃ بالقاھرۃ ، امام ابن صلاح v نے ’’مقدمہ‘‘ میں پینسٹھ (۶۵) انواع ذکر کی ہیں،جبکہ علامہ سیوطی v نے دیگر کتب سے جمع کرکے اپنے اضافات کے ساتھ ’’تدریب الراوي‘‘ میں چورانوے (۹۴) انواع ذکرکی ہیں۔  ۲…سنن الترمذي، أبواب المناقب، باب مناقب معاذ بن جبلؓ،ج: ۲،ص: ۶۹۹، رحمانیہ۔ ۳…مراتب العلوم لابن حزمؒ ضمن مجموع رسالاتہٖ،ج:۴،ص:۷۷، ۷۸۔ ۴…جامع بیان العلم وفضلہ لابن عبدالبرؒ ،باب إثبات المناظرۃ والمجادلۃ وإقامۃ الحجۃ، ص: ۳۳۵، رقم: ۹۴۳، دارابن حزم ۱۴۲۷ھ- ۲۰۰۶ئ۔  ۵… الفتاوٰی الحدیثیۃ، ص: ۳۲۸، قدیمی کتب خانہ کراتشی۔ ۶…التعلیقات الحافلۃ علی الأجوبۃ الفاضلۃ، ص:۳۱، مکتب المطبوعات الاسلامیۃ حلب سوریا، ۱۴۳۶ھ- ۲۰۰۵ئ۔ ۷…صحیح البخاری، کتاب الصوم، باب من أقسم علی أخیہ لیفطر فی التطوع، ۱: ۲۶۴، قدیمی۔ ۸…تخصص حدیث شریف، تعارف ، اصول وضوابط، ص:۲۷، جامعہ مظاہر علوم سہارن پور، انڈیا۔ ۹…ایضا، ص: ۲۵۔                ۱۰…ایضا، ص:۲۳۔ ۱۱…تحقیقات حدیث، شمارہ : ۲، بابت محرم الحرام ۱۴۳۱ھ بمطابق جنوری ۲۰۱۰ء ۔ ۱۲…ششماہی السیرۃ شمارہ: بابت۶و۷، رمضان ۱۴۲۲ھ اور ربیع الاول ۱۴۲۳ھ۔ ۱۳…تحقیقاتِ حدیث، شمارہ: بابت رمضان المبارک ۱۴۲۹ھ، ستمبر ۲۰۰۸ئ۔ ۱۴… یہ مقالات تاحال ہمارے ملک میں عام نہیں ہوئے، دارالعلوم دیوبند کے شعبہ ’’تخصص فی علوم الحدیث‘‘ اور مذکورہ مقالات کے متعلق یہ معلومات مولانا عبید انور بن مولانا نسیم اختر شاہ قیصر (متخصص فی علوم الحدیث دارالعلوم دیوبند) نے عنایت فرمائیں، جزاہ اللّٰہ خیرًا۔ ۱۵… مذکورہ معلومات رسالہ’’تخصص حدیث شریف، تعارف ، اصول وضوابط، مطبوعہ :جامعہ مظاہر علوم سہارن پور، انڈیا‘‘ سے حاصل کی گئی ہیں۔ ۱۶…الجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع للخطیب، باب دوام المراعاۃ للحدیث والمذاکرۃ بہ واتقاء الفتورعنہ ،ص:۴۱۳، رقم: ۱۹۰۹، دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان ۱۴۱۷ھ ، ۱۹۹۶ء  ۔ ۱۷…شرف أصحاب الحدیث للخطیب،ج:۲،ص: ۱۲۸، رقم: ۱۳۵،مکتبۃ ابن تیمیۃ القاھرۃ۔

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے