بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 اکتوبر 2019 ء

بینات

 
 

علم ، عمل اور احسان ۔۔ لازم وملزوم ۔۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔ نظریۂ پاکستان کے خلاف سازش !

علم،عمل اور احسان ۔۔۔۔۔ لازم وملزوم!  

الحمد للّٰہ وسلام علٰی عبادہٖ الذین اصطفٰی

گزشتہ ماہ ۲۱؍جمادیٰ الاخریٰ ۱۴۳۶ھ مطابق ۱۱؍ اپریل ۲۰۱۵ء بروز ہفتہ گلشن ِزکریاؒ کے چار پھول جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں تشریف لائے تو اساتذہ وطلبہ کے چہروں پر خوشی کے آثار اور مدرسہ کی فضا مزید انوارات سے منور ہوگئی۔ میری مراد شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجرمدنی نور اللہ مرقدہٗ کے اکلوتے صاحبزادے اور آپؒ کے خلیفہ مجاز حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلوی دامت برکاتہم العالیہ انڈیا سے، آپ کے دوسرے خلیفہ مجاز اور پیر طریقت حضرت مولانا عبدالحفیظ مکی دامت برکاتہم العالیہ مکۃ المکرمہ سے ، آپ کے تیسرے خلیفہ مجاز حضرت مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی دامت برکاتہم راولپنڈی سے اور چوتھے خلیفہ مجاز حضرت مولانا مختار الدین شاہ صاحب دامت برکاتہم کربوغہ شریف کوہاٹ سے تشریف لائے۔ ان چاروں اہل اللہ کا بیک وقت اور ایک ساتھ تشریف لانا جامعہ اور اہل کراچی کے لیے کسی رحمت اور نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں۔ اس لیے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو رات دن امت مسلمہ کی اصلاح وفکر میں تڑپتے، کڑھتے، روتے اور بلبلاتے ہیں۔ اپنی مناجاتِ سحر گاہی میں امت ہی کے لیے مانگتے ہیں۔ ان کی تمام عمر دین کی تبلیغ واشاعت، طلبہ کی خدمت وتربیت، مواعظ ونصیحت اور اصلاح وارشاد میں گزررہی ہے۔ ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے طور پر اور اپنے حلقۂ احباب میں اپنے اہداف ومقاصد کی تحصیل اور خالص تزکیہ واحسان میں اس قدر مصروف، منہمک، والہیت اور جذب وکیف کے ساتھ مشغول ہے کہ الفاظ میں ان کی تعبیر کرنا میرے جیسے ہیچ مداں کے لیے بہت مشکل ہے۔ تھکادینے والے اسفار اور ہمہ وقت مصروفیات کے باوجود ہر ایک سے ملنا، اس کے احوال لینا، اس کو ہدایات دینا اور ہر ایک پر نظر رکھنا، ہر ایک کو اتباعِ سنت کی تلقین اور اتباعِ شریعت کا اہتمام، عشق الٰہی اور نصرتِ غیبی کے سوا کوئی دوسری توجیہ ممکن نظر نہیں آتی۔ حضرت شیخ الحدیث نور اللہ مرقدہٗ کی صحبت اور تربیت ہی کا اثر ہے کہ حضرت کے خلفائے کرام جہاں سلوک واحسان کی تعلیم وتلقین کے لیے خانقاہیں آباد کرتے ہیں، وہاں مدارس میں پڑھنے اور پڑھانے والے طلبہ اور علماء کی سرپرستی کے ساتھ ساتھ عوام کے قلوب واذہان میں مدارس اور اہل مدارس کی اہمیت وضرورت بھی بٹھلاتے ہیں اور اس کے علاوہ اپنے مریدین ومعتقدین کو دعوت وتبلیغ کے لیے وقت لگانے کی طرف بھی ترغیب وتحریص دلاتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان برگزیدہ شخصیات سے تعلق رکھنے والا جہاں شریعت کا پابند، متبع سنت ہونے کے باوصف قرآن کریم کی تلاوت، درود شریف اور معمولات کی پابندی کرنے والا ہوتا ہے، وہاں وہ ایک کامیاب مدرس، کامیاب طالب علم اور فارغ اوقات میں تبلیغ میں وقت لگانے والا بھی ہوتا ہے۔ ان حضرات کے بیانات میں اکثر وبیشتر یہی تین چیزیں موضوعِ بحث رہتی ہیں اور یہ حضرات فرماتے ہیں کہ: مدارس کے طلبہ جہاں علومِ دینیہ کی تحصیل اور تعلیم میں لگے ہوئے ہیں، اس سے فراغت کے بعد تزکیہ واحسان کا سیکھنا بھی ان کے لیے ضروری ہے۔ ’’حضرت شیخ الحدیثؒ اور ان کے خلفائے کرام‘‘ نامی کتاب میں حضرت مولانا عبدالحفیظ مکی دامت برکاتہم کے احوال میں لکھا ہے کہ: میں نے حضرت شیخ الحدیث نور اللہ مرقدہٗ سے عرض کیا: حضرت! کیا بیعت کے بغیر کوئی کمال تک نہیں پہنچ سکتا؟ حضرتؒ جو ٹیک لگائے ہوئے تھے، ٹیک چھوڑ کر بہت زور سے فرمایا: پہنچ سکتا ہے، کون کہتا ہے نہیں پہنچ سکتا، لیکن پھر بہت ہی توجہ واہتمام اور شفقت سے فرمایا: ’’پیارے! ایک بات بہت غور سے سنو! اصل مقصد نہ تو یہ بیعت ہے، نہ اس راہ کے ذکر واذکار، اور نہ یہ مدارس اور نہ خانقاہیں اور کہیں تم ناراض نہ ہوجانا، نہ یہ تبلیغ میں وقت لگانا، بلکہ کوئی مفتی مجھ پر فتویٰ نہ لگادے، یہ نماز اصل ہے، نہ روزہ، نہ زکوٰۃ، نہ حج، یہ سب اصل مقصد نہیں ہیں۔۔۔۔۔ پتہ ہے اصل کیا ہے؟ اور پھر سکوت پر مجھے گلے لگاکر فرمایا کہ: ’’بس اصل یہ ہے کہ بندہ خدا سے لپٹ جائے، اُسے راضی کرلے الخ۔‘‘ (حضرت شیخ الحدیثؒ اور ان کے خلفائے کرام، حصہ دوم، ص: ۲۰۴-۲۰۵) اور حاشیہ میں لکھا ہے: ’’اس میں شک نہیں کہ یہ سب چیزیں جن کا مقصود بالذات نہ ہونا بتایا گیا ہے، یہ سب کی سب اصل مقصود کے حصول کے لیے وسائل وذرائع عظیمہ ولابدیہ ہیں اور شریعت ِمطہرہ نے ان میں سے ہر ایک کا درجہ متعین کردیا ہے کہ بعض ان میں سے فرض ہیں، بعض واجب، بعض مستحب اور اس میں بھی شک نہیں کہ اگر کوئی زندیق نماز، روزہ، زکوٰۃ وحج جیسے ارکانِ مفروضہ کا انکار کرے تو وہ قطعاً کافر ہے۔ یہاں حضرت قدس سرہٗ کا مطلب یہ تھا کہ یہ سب فرائض واعمال وغیرہ فی نفسہٖ ان کے شریعت میں جو درجے متعین ہیں ان کو تسلیم کرتے ہوئے بھی فی الاصل یہ مقصود بالذات نہیں ہیں، بلکہ اصل مقصود ان سب میں بھی رضائے باری تعالیٰ ہے، اسی لیے بعض اوقات میں نماز پڑھنا گناہ ہے، بعض اوقات واحوال میں روزے رکھنا گناہ وہٰکذا الخ سب ہی اعمال ومذکورہ اشیاء کا حال ہے، لہٰذا ثابت ہوا کہ اصل مقصود ان سب کا وہی حبّی تعلق ورضائے باری کا حصول ہے، جس کو تصوف کی اصطلاح میں حصولِ نسبت کہتے ہیں اور اسی کے بارے میں امام ربانی حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی قدس سرہٗ نے حکیم الامت حضرت تھانویv کو اپنے مکتوب مبارک میں تحریر فرمایا ہے:’’اگر آپ غور فرمائیں گے تو آیت اور حدیث سے اسی کا مطلوب ہونا ثابت ہوگا، اگرچہ یہ کلی مشکک ہے۔اور اس میں بھی شک نہیں کہ ہمارے اکابر اور تمام محققین صوفیہ وعارفین کے نزدیک کسی قسم کی نسبت اور تعلق اور حال معتبر نہیں جو کہ شرعی احکام کی بجاآوری کے بغیر ہو! اور نہ ہی اس سے رضائے باری حاصل ہوسکتی ہے،کیونکہ رضائے باری کی میزان شریعت ِ مطہرہ ہے اور جو حال یا وارد یا کشف وکرامت یا تصوف کا کوئی بھی جزئیہ شریعت کی پابندی کے بغیر یا شریعت ِمحمدیہ کے خلاف ہو تو وہ قطعاً مردود اور ناقابل التفات ہے، لہٰذا حضرت کے ارشاد کا مطلب تھا کہ یہ بیعت اور اس کے لوازمات ذکر واشغال وغیرہ بھی اسی مقصودِ اصلی یعنی رضائے باری والی کیفیت- جسے نسبت کہتے ہیں- کے حصول کا ذریعہ ہے۔‘‘               (حضرت شیخ الحدیثؒ اور ان کے خلفائے کرام،حصہ دوم، ص:۲۰۵- ۲۰۶) مسلمان کا ہر معاملہ دینی ہو یا دنیوی صرف اور صرف اللہ تبارک وتعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے ہونا چاہیے۔ اہل اللہ اور عارفین ہر کام میں اپنی نیت کی تصحیح کرتے اور اسے خوب ٹٹولتے ہیں کہ یہ کام میں اپنے خالق، مالک اور رزاق کی خوشنودی کے لیے کررہا ہوں یا اس میں میری چاہت اور نفسانی خواہشات کا دخل ہے۔ جب وہ یقین کرلیتے ہیں کہ میں یہ کام اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے کررہا ہوں، تو پھر کوئی کام ان کے لیے مشکل اور ناممکن نہیں ہوتااور وہی کام خواہ دین کا ہو یا دنیا کا، وہ ان کے لیے عبادت بن جاتا ہے، اس لیے کہاجاتا ہے : ’’نیۃ المؤمن خیرٌ من عملہ‘‘۔ ہر انسان ظاہر وباطن سے مرکب ہے۔ جس طرح ظاہری جسم کی طہارت یعنی آنکھ، زبان، ہاتھ، پاؤں، فرج اور شکم کو اغلاط وانجاس سے پاک کرنا لازمی اور ضروری ہے اور ہر صاحب عقل وصاحب شعور اپنے جسم کو ان آلودگیوں سے بچاتا بھی ہے، اسی طرح باطن کی طہارت یعنی قلبی امراض مثلاً: حسد، کینہ، کبر، بغض، غفلت، غرور اور ضلال وغیر سے مُبرّا اور پاک وصاف ہونا بھی فرض اور ضروری ہے۔ شریعت:۔۔۔۔۔۔ اوامر ونواہی سے عبارت ہے، جن کی صراحت قرآن کریم اور سنت نبویہ میں آئی ہے، یعنی یہ ایک ایسی شاہراہ اور صراطِ مستقیم ہے جو رب تعالیٰ تک پہنچاتی ہے، جس پر چلنے سے اللہ تعالیٰ کی رضا وخوشنودی اور جس کے ترک پر قہر وسزا مرتب ہوتی ہے۔ طریقت:۔۔۔۔۔۔ تہذیب ِاخلاق یعنی اوصافِ ذمیمہ اور رذیلہ کو اوصافِ حمیدہ وفضیلہ میں بدلنے اور تبدیل کرنے کا نام طریقت ہے۔ شامی جلد اول کتاب العلم میں آیا ہے کہ: رذائل کا دفعیہ اور اخلاقِ حمیدہ مثلاً: اخلاص وشکر کا حاصل کرنا فرضِ عین ہے۔(شامی، کتاب العلم،جلد:۱، ص:۴۳) اور چونکہ مریض کی رائے بھی مریض ہوتی ہے، اس لیے اپنا علاج خود نہیں کرسکتا، کسی اللہ والے سے اصلاحی تعلق قائم کرنا فرض ہے، جب اصلاحِ نفس فرض ہے تو جس کے تعلق اور صحبت پر اصلاحِ نفس موقوف ہے وہ بھی فرض ہے، البتہ مرید ہونا سنت ہے، جس کا جی چاہے سنت کی برکت کے لیے مرید بھی ہوجائے۔ حقیقت یا احسان :۔۔۔۔۔۔  ظہورِ توحید ِحقیقی یعنی توحید ِ ذاتِ حق بلاحجابِ تعینات کو کہتے ہیں، جس کا ذکر حدیث جبرئیل ؑ میں ہے، ان تینوں کی ضرورت کو اس مثال سے خوب سمجھا جاسکتا ہے کہ: نماز کو فرائض، واجبات، سنن اور مستحبات سے ادا کرنا شریعت ہے، اس میں خشوع کرنا طریقت ہے اور اس طور پر نماز ادا کرنا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کو دیکھ رہا ہے یا اللہ تعالیٰ اُسے دیکھ رہے ہیں، یہ حقیقت اور احسان ہے۔ احکامِ الٰہی کا جب تک علم نہ ہو‘ عمل ممکن نہیں اور عمل کے بغیر علم بے سود ہے اور علم وعمل دونوں بلااحسان ناقص ہیں، جیسا کہ شیخ عبدالحق محدث دہلویv نے اشعۃ اللمعات میں امام مالکv سے منسوب یہ مقولہ نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: ’’مَنْ تَصَوَّفَ وَلَمْ یَتَفَقَّہْ فَقَدْ تَزَنْدَقَ، وَمَنْ تَفَقَّہَ وَلَمْ یَتَصَوَّفْ فَقَدْ تَفَسَّقَ وَمَنْ جَمَعَ بَیْنَہُمَا فَقَدْ تَحَقَّقَ۔‘‘ ’’ جس نے تزکیہ واحسان کی راہ اختیار کی اور علم شریعت سے بے بہرہ رہا، وہ زندیق ہوا۔ جس نے علم دین حاصل کیا اور تزکیہ واحسان کی راہ اختیار نہ کی، وہ فاسق ہوا ۔ جس نے دونوں کو حاصل کیا، وہ محقق بنا۔‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے دین کی فہم کو خیر کثیر سے تعبیر فرمایا ہے: ’’وَمَنْ یُّؤْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ أُوْتِیَ خَیْرًا کَثِیْرًا۔‘‘ (البقرۃ:۲۶۹)۔۔۔۔۔۔’’ جس کو دین کی سمجھ دی گئی، اس کو خیر کثیر دی گئی۔‘‘ صحیح علم کی تعریف ہی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ تک پہنچادے۔ صحیح علم کے حامل کی قرآن کریم نے یوں تعریف فرمائی ہے: ’’إِنَّمَا یَخْشٰی اللہَ مِنْ عِبَادِہٖ الْعُلَمَاءُ‘‘ (الفاطر:۲۸) ۔۔۔۔۔۔۔ یعنی’’ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے عالم ہی کو خشیت اور خوف ہوتا ہے‘‘ جس سے وہ گناہوں اور نافرمانیوں سے بچتا ہے اور تعمیل فرمان پر کمر باندھتا ہے۔ عالم اللہ تعالیٰ کا وہ مقرب بندہ ہوتا ہے کہ اس کا حوصلہ ایسا پست اور ذلیل نہیں ہوتا کہ دنیا مردار کو علم کی نعمت پر ترجیح دے، وہ منعم حقیقی کا ایسا متوالا ہوتا ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی طرف بلاضرورت التفات اور توجہ نہیں رہتی۔ تمام علوم ومعارف، حقائق ودقائق اور ریاضت ومجاہدات کا حاصل اور خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی رضا مل جائے اور آخرت کی زندگی درست ہوجائے، یعنی صحیح عالم یہ چاہتا ہے کہ میں اللہ تبارک وتعالیٰ کا مقرب اور محب بن جاؤں، کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ محبت کے لائق صرف اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی، نہ اس کی ذات کو فنا ہے، نہ اس کی صفات کو اور نہ ہی اس کے احکام کو فنا ہے۔ ایسی محبت کی علامت یہ ہے کہ وہ ہر وقت اللہ تبارک وتعالیٰ کی عظمت وکبریائی اور اپنی بندگی وذلت کا بصیرتِ قلب سے مشاہدہ کرتا ہے۔ اعمالِ حسنہ کے صدور کو من جانب اللہ انعام سمجھتا ہے۔ اپنی ہستی اور ہستی کے آثار وصفات کی طرف التفات کرنے سے شرماتا ہے۔ علماء نے لکھا ہے کہ: دین دو اجزاء کا مجموعہ ہے: ۱:… علم نبوت، ۲:… نورِ نبوت۔ علم نبوت:۔۔۔۔۔ جس کو مدارس میں علماء پڑھاتے ہیں اور طلبہ پڑھتے ہیں۔ نورنبوت: ۔۔۔۔۔ وہ فیضِ صحبت سے نصیب ہوتا ہے۔ علومِ نبوت کے نقوش تو کتابوں سے لیے جاسکتے ہیں، لیکن انوارِ نبوت کا محل کاغذ نہیں، بلکہ قلب مؤمن ہے۔ علوم نبوت کتابوں سے منتقل ہوتے آرہے ہیں اور انوارِ نبوت سینوں سے سینوں میں منتقل ہوتے آرہے ہیں، گویا دل دلائل سے نہیں بدلتے، بلکہ دل دلوں سے تبدیل ہوتے ہیں: جو آگ کی خاصیت وہ عشق کی خاصیت اِک خانہ بہ خانہ ہے اِک سینہ بہ سینہ ہے حضرت تھانوی v ایک جگہ لکھتے ہیں: ’’طلبہ کو چاہیے کہ جب مدارس سے فارغ ہوں تو کم از کم چھ ماہ کسی اللہ والے کی صحبت میں رہ پڑیں، تاکہ جو کچھ مدرسے میں حاصل کیا ہے، اس پر عمل کرنے کی ہمت وقوت قلب میں پیدا ہوجائے۔ دین فقط کتابوں کے نقوش کا نام نہیں۔‘‘      (معارف بہلوی،ج:۳،ص:۱۴۸) حضرت تھانویv نے ایک بزرگ مولانا محمد شیر خان صاحبv سے پوچھا کہ: ’’حضرت! حق تعالیٰ کی محبت کیسے پیدا ہوتی ہے؟ فرمایا کہ: اپنے دونوں ہاتھوں کو ملو! کچھ دیر کے بعد فرمایا: ابھی اور ملو! پھر دریافت فرمایا کہ: اس رگڑ سے کچھ گرمی پیدا ہوئی؟ حضرتؒ نے فرمایا: جی ہاں! تو ارشاد فرمایا: اسی طرح کثرت سے ذکر اور تکرارِ ذکر کی رگڑ سے قلب میں حق تعالیٰ کی محبت پیدا ہوجاتی ہے۔‘‘            (معارف بہلوی،ج:۳،ص:۱۴۹) اہل ایمان کے لیے ذکر ہی سفر آخرت کا زادِ راہ ہے۔ ذکر دلوں کی زندگی ہے، دشمنوں اور راہزنوں کے لیے ہتھیار ہے ، امراضِ باطنی کے لیے دوا ہے، ترقیِ درجات کی سند ہے۔ إذا مرضنا تداوینا بذکرکم فنترک الذکر أحیانا فننکس یعنی ’’جب ہم بیمار ہوجاتے ہیںتو تیرے ذکر کو دوا بناتے ہیں، سو کبھی کبھی ذکر چھوٹ جاتا ہے تو ہم منہ کے بل گرپڑتے ہیں۔‘‘ قرآن کریم میں بارہا کثرتِ ذکر کی تاکید کی گئی ہے۔ نمازوں کے بعد، جمعہ سے فراغت کے بعد، حج کے دوران، منیٰ میں، حتیٰ کہ حالتِ جنگ میں بھی کثرتِ ذکر کا حکم ہے۔ ۱:۔۔۔۔۔’’یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ أٰمَنُوْا اذْکُرُوْا اللّٰہَ ذِکْرًا کَثِیْرًا۔‘‘(الاحزاب:۴۱) ’’اے ایمان والو! یاد کرو اللہ کی بہت سی یاد۔‘‘ اور ذکر نہ کرنے پر قرآن کریم میں وعید آئی ہے: ۲:۔۔۔۔۔ ’’یَاأَیُّہَا الَّذِیْنَ أٰمَنُوْا لَاتُلْہِکُمْ أَمْوَالُکُمْ وَلَا أَوْلَادُکُمْ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَأُوْلٓئِکَ ھُمُ الْخَاسِرُوْنَ۔‘‘                                     (المنافقون:۹) ’’ اے ایمان والو! غافل نہ کردیں تم کو تمہارے مال اور تمہاری اولاد اللہ کی یاد سے اورجوکوئی یہ کام کرے تو وہی لوگ ہیں ٹوٹے میں۔‘‘ ۳:۔۔۔۔۔’’ وَلَاتَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ نَسُوْا اللّٰہَ فَأَنْسَاہُمْ أَنْفُسَہُمْ، أُوْلٓئِکَ ھُمُ الْفَاسِقُوْنَ۔‘‘ (الحشر:۱۹) ’’ اور مت ہو ان جیسے جنہوں نے بھلادیا اللہ کو، پھر اللہ نے بھلادیے ان کو ان کے جی ، وہ لوگ وہی ہیں نافرمان۔‘‘ ۱:۔۔۔۔۔ حضرت ابوالدرداء q سے مسند ِ احمد بن حنبل میں روایت ہے کہ: ’’عن أبی الدردائؓ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ألا أنبّئکم بخیر أعمالکم وأزکاھا عند ملیککم وأرفعہا فی درجاتکم وخیر لکم من إنفاق الذھب والوَرِق وخیر لکم من أن تُلقوا عدوَّکم فتضربوا أعناقہم ویضربوا أعناقکم؟ قالوا: بلٰی، قال: ذکر اللّٰہ ۔‘‘       (مشکوٰۃ، ص:۱۹۸، بحوالہ مسند احمد، ترمذی وغیرہ) ’’نبی کریم a نے فرمایا: کیا میں تم کو اس سے آگاہ نہ کردوں کہ تمہارے اعمال میں بہتر کیا ہے؟ اور تمہارے مالک کے نزدیک سب سے پاکیزہ کیا ہے؟ اور تمہارے درجات میں سب سے بلند تر کیا ہے؟ اور جو سونے چاندی کے خرچ سے بھی بہتر ہے اور جو اس سے بھی بہتر ہے کہ دشمنوں کو ملو (سامنا ہو) اور ان کی گردنیں کاٹو یا وہ تمہاری گردنیں کاٹیں؟ صحابہ رضوان اللہ علیہم نے عرض کیا: اے رسول اللہ! ضرور ارشاد فرمائیے! وہ کیا ہے؟ فرمایا: اللہ عزوجل کا ذکر۔‘‘ ۲:۔۔۔۔۔صحیح مسلم(ج:۲،ص:۳۴۶) کی دوسری حدیث میں حضرت معاویہ q سے یہ الفاظ بھی مروی ہیں:’’إن اللّٰہ عزوجل یُباہی بکم الملائکۃَ۔‘‘ ۔۔۔۔۔۔یعنی’’ اللہ تعالیٰ تمہاری وجہ سے فرشتوں پر فخر کرتا ہے۔‘‘ ۳:۔۔۔۔۔صحیحین میں حضرت ابوموسیٰ q سے روایت ہے: ’’قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم : مثل الذی یذکر ربہ والذی لایذکر مثل الحی والمیّت ۔‘‘                                 (مشکوٰۃ، ص:۱۹۶، بحوالہ بخاری ومسلم) ترجمہ:’’رسول اللہ a نے فرمایا:اس شخص کی مثال جو اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے (یعنی ہمیشہ یا کبھی کبھی) اور اس شخص کی جو اپنے پروردگار کو یاد نہیں کرتا، زندہ اور مردہ کی مانند ہے۔‘‘ یعنی ذکر کرنے والا زندہ ہے، کیونکہ اس کو حیاتِ روحانی یعنی قربِ بارگاہِ خداوندی عز اسمہ حاصل ہے، جو اصل حیات ہے اور ذکر نہ کرنے والا مردہ ہے۔ اگر یاد سے بالکل خالی ہے تو مکمل طور پر دور از درگاہ، محروم اور مطرود ہے، اور اگر کبھی کبھی یاد کرتا ہے تو بقدرِ غفلت حیات سے خالی ہے۔ ۴:۔۔۔۔۔صحیحین میں حضرت ابوہریرہ q حضور پرنور a سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’ من ذکرنی فی نفسہ ذکرتہٗ فی نفسی، ومن ذکرنی فی ملأذکرتہٗ فی ملأ خیر منہم۔‘‘ ترجمہ:’’جو شخص اپنے جی میں میرا ذکر کرے تو میں اپنے جی میں اس کا ذکر کرتا ہوں، اگر وہ مجمع میں میرا ذکر کرے تو میں ایسے مجمع میں اس کا ذکر کرتا ہوں جو اس مجمع سے بہتر ہوتا ہے(یعنی فرشتوں اور پیغمبروں کے مجمع میں)۔‘‘                                (متفق علیہ) حضرت مجدد الف ثانی v کے مکتوبات (جلددوم، نمبر:۴۱ کے مکتوب: ۲۵) میں ہے، جس کا اردو ترجمہ یہ ہے: ’’ اپنے اوقات کو ہمیشہ ذکر الٰہی جل شانہٗ میں مصروف رکھنا چاہیے، ہر وہ عمل جو روشن شریعت کے مطابق کیا جائے ذکر میں داخل ہے، اگرچہ وہ خرید وفروخت ہی کیوں نہ ہو، لہٰذا تمام حرکات وسکنات میں احکام شرعیہ کی رعایت کرنی چاہیے، تاکہ سب کام ذکر (کے حکم میں) ہوجائیں، کیونکہ ذکر سے مراد غفلت کا دور ہونا ہے اور جب تمام افعال میں اَوامر ونواہی کو مدِ نظر رکھا جائے تو ان اَوامر ونواہی کا حکم دینے والے (حق تعالیٰ) کی (یاد کی) غفلت سے نجات حاصل ہوجاتی ہے اور اس سے ذکر پر دوام حاصل ہوجاتا ہے۔‘‘ (معارفِ بہلویؒ، حصہ سوم، ص:۳۶۰) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے رئیس حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر دامت برکاتہم نے ان مہمانانِ گرامی کا جامعہ آمد پر شکریہ بھی ادا کیا اور فرمایا: حضرت مولانا محمد طلحہ صاحب دامت برکاتہم نے اپنے والد شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجرمدنی نور اللہ مرقدہٗ کی یاد تازہ کردی۔ حضرت شیخ الحدیث نور اللہ مرقدہٗ جب کراچی تشریف لاتے تو محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری نور اللہ مرقدہٗ سے ضرور ملنے آتے اور حضرت بنوری v کی وفات کے بعد بھی جامعہ تشریف لاتے۔ وہیل چئیرپر بیٹھے حضرت بنوری v کی قبر پر تشریف لاکر ایصالِ ثواب کرتے اور پھر واپس تشریف لے جاتے۔ ان اکابر کی یہاں تشریف آوری پر وہ پورا منظر میری آنکھوں کے سامنے آگیا ہے۔ آج حضرت شیخ الحدیثv کے صاحبزادہ اپنے رفقاء اور شیوخ کے ساتھ ہمارے درمیان موجود ہیں، یہ ہمارے لیے بہت بڑی سعادت ہے۔ اس موقع پر حضرت مولانا محمد طلحہ صاحب نے چند مختصر مگر پر اثر نصائح بھی فرمائیں، فرمایا: ۱:…تصوف کی مخالفت نہ کریں۔ ہمارے بڑے بڑے بزرگ سب صوفی تھے۔ ۲:…تبلیغ بطرزِ حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی v کی جائے۔اور اس کام میں علماء کو آگے لایا جائے۔ ۳:…حضرت شیخ الحدیث v نے ساری خانقاہیں سنبھالیں۔ اس پر حضرت مولانا محمد طلحہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے دعا کرائی اور یہ روحانی مجلس اختتام پذیر ہوئی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نظریۂ پاکستان کے خلاف سازش!

پاکستان ایسا بد نصیب ملک ہے جوبنا تو اسلام کے نام پر تھا، بانیانِ پاکستان نے اس کی بنیاد تو پاکستان کا مطلب کیا: ’’ لا إلٰہ إلا اللّٰہ‘‘ پر رکھی، لیکن انگریزی سوچ وفکر کے حامل، لادین قوتوں کے آلۂ کار، سرمایہ دار، جاگیر دار اور وڈیرے اس ملک پر مسلط اور برسراقتدار رہے، جنہوں نے اسلام، اسلامی اقدار اور مسلمانوں کو اس قدر نقصان پہنچایا، غالباً برطانوی استعمار نے بھی مسلمانوں کو اتنا نقصان نہیں پہنچایا ہوگا۔ حالیہ انتخابات ۲۰۱۳ء میں نواز شریف صاحب بھاری اکثریت سے کامیاب ہوکر جب تیسری بار ملک کے وزیر اعظم منتخب ہوئے تو عام تأثر یہ تھا کہ انہوں دس سالہ جلاوطنی اور پاکستان سے دور کیے جانے کی بناپر بہت کچھ سیکھ لیا ہوگا اور اب وہ اپنی کابینہ کے افراد اور اپنی حکومتی ٹیم میں ایسے لوگوں کو لیں گے جو اسلام، نظریۂ پاکستان اور مسلمانوں کے حقوق کے محافظ اور آئین پاکستان کی پاسداری کرنے والے ہوں گے، لیکن لگتا ہے کہ اس بار بھی ان کی ٹیم میں ایسے افراد گھس گئے ہیں جنہیں نہ تو نظریۂ پاکستان کی پرواہ ہے، نہ اسلام کے شعائر کے تقدس اورحرمت کی پاسداری ہے، بلکہ یوں لگتا ہے کہ اس حکومت میں شامل ہوکر نظریۂ پاکستان کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے پر وہ مأمور کیے گئے ہیں۔ اس کا واضح ثبوت موجودہ وفاقی وزیر اطلاعات جناب پرویز رشید کی وہ تقریر ہے جو انہوں نے ایک ادبی تقریب میں کی ہے، انہوں نے کہا ہے کہ: ’’بچوں کو بھی علم سے محروم رکھو، بڑوں کو بھی علم سے محروم رکھو۔ اب کتاب تو وجود میں آچکی، جب پاکستان بنتا ہے، اسکول تو وجود میں آچکے ہیں، انگریز کا تحفہ ہے، موجود ہے، اب اس کو بند نہیں کیا جا سکتا،اس سے جان نہیں چھڑائی جا سکتی تو اس کا پھر متبادل تلاش کیا گیا کہ کتاب چھپتی رہے، لیکن وہ کتاب نہ چھپے جو آپ تحریر کرتے ہیں ،وہ فکر عام نہ ہو جس کی شمع آپ جلاتے ہیں۔ لوگوں کو پڑھنے کے لیے کتاب دی جائے تو کون سی دی جائے؟ ’’موت کا منظر عرف مرنے کے بعد کیا ہوگا؟‘‘(قہقہے) تو جہالت کاوہ طریقہ جو پنڈت جواہر لال نہرو کو سمجھ نہیں آیا وہ ہمارے حکمرانوں کو سمجھ آگیا کہ لوگوں کو جاہل کیسے رکھا جا سکتا ہے ! کہ فکر کے متبادل فکر دو، لیکن فکر کے متبادل مردہ فکر دے دو اور پھر منبع جو فکر کو پھیلاتا ہے، کیا ہو سکتا تھا؟ لاؤڈ اسپیکر! لاؤڈ اسپیکر بھی اُس کے قبضے میں دے دو اور دن میں ایک دفعہ کے لیے نہیں پانچ دفعہ کے لیے دے دو۔ اب آپ کے پاس اتنے اسکول اور اتنی یونیورسٹیاں نہیں ہیں جتنی جہالت کی یونیورسٹیاں ان کے پاس ہیں(تالیاں) اور بیس پچیس لاکھ طالب علم.... جن کو وہ طالب علم کہتے ہیں... آپ کو تو یہ شکایت ہے کھوڑو صاحب! کہ سندھی سے سندھ کی زبان چھین لی گئی، پختون سے پختون کی زبان چھین لی گئی، پنجابی سے پنجاب کا ورثہ چھین لیا گیا، بلوچستان سے اس کی تہذیب اور ثقافت جو تھی اس کو چھین لیا گیا۔ لیکن مجھے یہ بتائیے کہ یہ جو یونیورسٹیاں ہیں جن کو ہم سب چندہ بھی دیتے ہیں،عید بقر عید پر فطرانے اور چندے اور کھالیں، اور خود پالتی ہے ہماری سوسائٹی … یہ جو جہالت کی یونیورسٹیاں ہیں … پنجابی سندھی، پٹھان، مہاجر بھئی! ان مسئلوں کا تو حل نکل سکتا ہے، ان مسئلوں کے حل دنیا نے تلاش کیے ہوئے ہیں، پاکستان کے آئین میں بھی ان کا جواب موجود ہے۔ بدقسمتی یہ کہ چونکہ آئین پر عمل نہیں ہوتا تو جھگڑا باقی رہ جاتا ہے، لیکن جو فکر انہوں نے دے دی، جو نفرت، تعصب، تنگ نظری انہوں نے پھیلادی اور جو روز پھیلاتے ہیں اور جو تقسیم انہوں نے ڈال دی .... اسکول میں نصاب میں ایک ہی جماعت میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو تقسیم کر دیا گیا کہ ایک فرقے کا نصاب یہ ہو گا کہ زکوٰۃ کیسے دینی ہے اور دوسرے فرقے کا نصاب یہ ہو گا کہ زکوٰۃ کیسے نہیں دینی؟ــــــ۔‘‘ ہمارے علمائے کرام کو پرویز رشید صاحب کی تقریر پڑھ کر طیش میں نہیں آنا چاہیے، اس لیے کہ برتن سے وہی چھلکتا ہے جو اس کے اندر ہوتا ہے۔ قرآن کریم نے اسی بات کو ان الفاظ میں بیان فرمایا: ’’قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَائُ مِنْ أَفْوَاہِہِمْ وَمَاتُخْفِیْ صُدُوْرُہُمْ أَکْبَرُ۔‘‘ (آل عمران:۱۱۸)۔۔۔۔۔۔ ’’نکلی پڑتی ہے دشمنی ان کی زبان سے اورجو کچھ مخفی ہے ان کے جی میں وہ اس سے بہت زیادہ ہے۔‘‘ اصل میں پرویز رشید جیسے لوگوں کو پریشانی یہ ہورہی ہے کہ پاکستان میں دین کی بات کیوں کی جاتی اور کیوں سنی جاتی ہے اور نوجوان نسل مسجد، مدرسہ، قرآن کریم اور دینی تعلیمات کی طرف کیوں متوجہ ہورہی ہے اور جو مشن ان کے آقاؤں نے ان کے سپرد کیا ہے، یہ مساجد اور مدارس ان کے آڑے کیوں آرہے ہیں؟ پرویز رشید صاحب! اگر آپ نظریۂ پاکستان کے حامی ہیں اور آئین پاکستان کا مطالعہ کیا ہے تو اس میںدستورِ پاکستان کے ’’باب:۱ ، بنیادی حقوق کی شق نمبر:۲۰- قانون، امن عامہ اور اخلاق کے تابع‘‘ کے تحت لکھا ہے: ’’(الف) ہر شہری کو اپنے مذہب کی پیروی کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا حق ہوگا، اور (ب) ہر مذہبی گروہ اور اس کے ہر فرقے کو اپنے مذہبی ادارے قائم کرنے، برقرار اور ان کا انتظام کرنے کا حق ہوگا۔‘‘        (اسلامی جمہوریہ پاکستان کا دستور(اردو)،ص:۱۲، ط: دی آئیڈیل پبلشرزکراچی) اسی طرح شق نمبر:۲۲ ’’(۳)قانون کے تابع‘‘ کے تحت لکھا ہے:’’(الف) کسی مذہبی فرقے یا گروہ کو کسی تعلیمی ادارے میں جو کلی طور پر اس فرقے یا گروہ کے زیر اہتمام چلایا جاتا ہو، اس فرقے یا گروہ کے طلباء کو مذہبی تعلیم دینے کی ممانعت نہ ہوگی۔‘‘ (اسلامی جمہوریہ پاکستان کا دستور،(اردو)ص:۱۲، ط: دی آئیڈیل پبلشرزکراچی) اسی طرح ’’باب:۲، حکمت عملی کے اصول کے نمبر:۳۱ ‘‘کے تحت لکھا ہے: ’’ (۱) پاکستان کے مسلمانوں کو، انفرادی اور اجتماعی طور پر، اپنی زندگی اسلام کے بنیادی اصولوں اور اساسی تصورات کے مطابق مرتب کرنے کے قابل بنانے کے لیے اور انہیں ایسی سہولتیں مہیا کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے جن کی مدد سے وہ قرآن پاک اور سنت کے مطابق زندگی کا مفہوم سمجھ سکیں۔ (۲) پاکستان کے مسلمانوں کے بارے میں مملکت مندرجہ ذیل کے لیے کوشش کرے گی: (الف) قرآن پاک اور اسلامیات کی تعلیم کو لازمی قرار دینا، عربی زبان سیکھنے کی حوصلہ افزائی کرنا اور اس کے لیے سہولت بہم پہنچانا اور قرآن پاک کی صحیح اور من وعن طباعت اور اشاعت کا اہتمام کرنا۔ (ب) اتحاد اور اسلامی اخلاقی معیاروں کی پابندی کو فروغ دینا اور۔۔۔۔(ج)۔۔۔۔ زکوٰۃ (عشر) اوقاف اور مساجد کی باقاعدہ تنظیم کا اہتمام کرنا۔‘‘(اسلامی جمہوریہ پاکستان کا دستور،ص:۱۷، ط: دی آئیڈیل پبلشرزکراچی) اسی طرح دستور کے ’’حصہ نہم (اسلامی احکام) کے نمبر:۲۲۷ ‘‘کے تحت لکھا ہے: ’’ تمام موجودہ قوانین کو قرآن پاک اور سنت میں منضبط اسلامی احکام کے مطابق بنایا جائے گا، جن کا اس حصے میں بطور اسلامی احکام حوالہ دیا گیا ہے اور ایسا کوئی قانون وضع نہیں کیا جائے گا جو مذکورہ احکام کے منافی ہو۔‘‘            (اسلامی جمہوریہ پاکستان کا دستور(اردو)،ص:۱۴۵، ط: دی آئیڈیل پبلشرزکراچی) جب آئین میں یہ بات صراحت اور وضاحت کے ساتھ طے ہوچکی ہے کہ اس ملک میں سپریم لاء قرآن وسنت ہوگا اور کوئی قانون قرآن وسنت کے خلاف نہیں بنے گاتو آپ ہی بتائیے جن اداروں میں قرآن وسنت پڑھایا جاتا ہے، وہ ادارے قرآن وسنت کا نور اور روشنی پھیلانے والے ہوئے یا جہالت کی یونی ورسٹیاں ہوئیں اور جہاں سے دن رات میں پانچ اوقات مسلم معاشرہ کو کامیابی کی طرف بلایا جاتا ہے ، جن کو مساجد کہا جاتا ہے، وہ جہالت کی جگہیں کیسے بن گئیں؟ اور آپ کی مکمل تقریر یہ آئین سے انحراف اور اس کی کھلی خلاف ورزی ہے یا نہیں؟ اور یہ بھی فرمادیں کہ جو آئین پاکستان کے خلاف بات کرے تو اس کو وزارت پر فائز رہنا تو بڑی بات ہے، کیا اسے اس ملک میں رہنے کا کوئی حق ہے؟ آپ ہی بتلائیں! ہم کچھ عرض کریں گے تو شکایت ہوگی۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی صفات یوں بیان فرمائی ہیں: ’’  إِنَّمَا یَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللّٰہِ مَنْ أٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْأٰخِرِ وَأَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَأٰتٰی الزَّکٰوۃَ۔‘‘ (التوبہ:۱۸) ’’وہی آباد کرتا ہے مسجدیں اللہ کی جو یقین لایا اللہ پراور آخرت کے دن پر اور قائم کیا نمازکواور دیتا رہا زکوٰۃ ۔‘‘ اور منافقین وکفار کے بارہ میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ’’وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللّٰہِ أَنْ یُّذْکَرَ فِیْہَا اسْمُہٗ وَسَعٰی فِیْ خَرَابِہَا۔‘‘ (البقرۃ:۱۱۴) ’’اور اس سے بڑاظالم کون جس نے منع کیا اللہ کی مسجدوں میں کہ لیا جاوے وہاں نام اس کا اور کوشش کی ان کی اجاڑنے میں۔‘‘ حضور اکرم a کا تو ارشاد ہے کہ: ۱:۔۔۔۔۔’’ أحب البلاد إلی اللّٰہ مساجدھا وأبغض البلاد إلی اللّٰہ أسواقہا‘‘ ۔ (مشکوٰۃ:۶۸)  ’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ جگہیں مساجد ہیں اور سب سے بری جگہیں بازار ہیں۔‘‘ ۲:۔۔۔۔۔’’ عن أبی ہریرۃؓ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: إذا مررتم بریاض الجنۃ فارتعوا، قیل: یا رسول اللّٰہ! وماریاض الجنۃ؟ قال: المساجد۔ قیل: ومارتعہا؟ یا رسول اللّٰہ! قال: سبحان اللّٰہ والحمد للّٰہ ولاإلٰہ إلا اللّٰہ واللّٰہ أکبر۔‘‘      (مشکوٰۃ:۷۰) ’’رسول اللہ aنے فرمایا:جب تم جنت کے باغوں سے گزرو تو کچھ چرلیاکرو۔ کہا گیا: یارسول اللہ! جنت کے باغات کیا ہیں؟ آپ aنے فرمایا: مساجد۔ پھر عرض کیا گیا: یارسول اللہ! ان کے چرنے کا کیا مطلب ہے؟ آپ a نے فرمایا: سبحان اللہ، الحمد للہ، لاالہ إلااللہ اور اللہ اکبر کہنا ۔‘‘ ۳:۔۔۔۔۔’’ من بنٰی للّٰہ مسجدا بنی اللّٰہ لہٗ بیتًا فی الجنۃ۔‘‘        (مشکوٰۃ:۶۸) ’’ جس نے اللہ کے لیے مسجد بنائی اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا۔‘‘ ۴:۔۔۔۔۔’’من غدا إلٰی المسجد أو راح أعد اللّٰہ لہٗ نزلہٗ من الجنۃ کلما غدا أو راح۔‘‘ (مشکوٰۃ:۶۸) ’’جو صبح کے وقت یا شام کے وقت مسجد کی طرف چلتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا ٹھکانہ تیار کرتا ہے جب بھی وہ صبح یا شام کو چلتا ہے۔‘‘ ۵:۔۔۔۔۔ حضور a کا ارشاد ہے: ’’ وہ سات لوگ جو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عرش کے سایہ میں ہوں گے، ان میں سے ایک وہ آدمی ہے کہ: ’’ قلبہٗ معلقٌ بالمساجد أو کما قال۔‘‘ (مشکوٰۃ:۶۸) ۔۔۔۔۔۔ ’’جس کا دل مساجد کے ساتھ جڑا ہوا ہو۔‘‘ اب پرویز رشید صاحب بتائیں کہ مسلمان اس کی بات مانیں یا اللہ تعالیٰ اور حضور اکرم a کی مانیں؟ پرویز رشید صاحب ’’موت کا منظر عرف مرنے کے بعد کیا ہوگا؟‘‘ کو مردہ فکر قرار دے رہے ہیں، اور اس کا تمسخر اُڑارہے ہیں، حالانکہ تمام انبیاء o کے فرائض میں سے تھا کہ وہ توحیدو رسالت کے اقرار کے ساتھ ساتھ عقیدۂ معاد کی تبلیغ بھی کرتے تھے، لوگوں کو اس کے ماننے کی دعوت دیتے تھے۔قرآن کریم میں ہے: ۱:’’ لَیْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْہَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰکِنَّ الْبِرَّ مَنْ أٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْأٰخِرِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالْکِتَابِ وَالنَّبِیِّیْنَ۔‘‘                           (البقرۃ:۱۷۷) ’’نیکی کچھ یہی نہیں کہ منہ کرو اپنا مشرق کی طرف یا مغرب کی طرف، لیکن بڑی نیکی تو یہ ہے جو کوئی ایمان لائے اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور سب کتابوں پر اور پیغمبروں پر۔‘‘ ۲:’’ وَمَنْ یَّکْفُرْ بِاللّٰہِ وَمَلَائِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ وَالْیَوْمِ الْأٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالاً بَعِیْدًا۔‘‘ (النسائ:۱۳۶) ’’اور جو کوئی یقین نہ رکھے اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور کتابوں پر اور رسولوں پر اور قیامت کے دن پر وہ بہک کر دور جاپڑا۔‘‘ پرویز صاحب! ایک مسلمان کو قرآن کریم کی بھی ضرورت ہے، احادیث رسول اللہؐ کی بھی ضرورت ہے، مساجد ومدارس کی بھی ضرورت ہے۔ اور صرف مسلمان ہی نہیں تمام آسمانی مذاہب پر ایمان رکھنے والوں کا یہ عقیدہ ہے کہ آخرت حق ہے، وہی زندگی اصل میں زندگی ہے، وہیں جزا وسزا ہوگی اور دنیا میں ایک انسان اچھا یا برا جو بھی کرتا ہے، آخرت میں سب کا حساب ہوگا۔ خلاصہ یہ کہ ایک عام آدمی بھی سمجھتا ہے کہ یہ آپ کی باتیں کسی مسلمان کلمہ گو آدمی کی باتیں نہیں ہوسکتیں، اس لیے کہ ایک غیر مسلم بھی مساجد ومعابد کا احترام کرتا ہے، چہ جائیکہ ایک اسلامی ملک کا ’’مسلمان‘‘ وزیر ایسی باتیں کہے۔ بہرحال وزیر اعظم نواز شریف صاحب، موجودہ حکومت، پاکستان مسلم لیگ کی قیادت اور اہم مناصب پر فائز شخصیات کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ پرویز رشید صاحب سے اس کی وضاحت طلب کریں۔ اگر ان کا عقیدہ قرآن وسنت پر نہیں اور مساجد اور ان میں پانچ وقت ہونے والی اذان ان کو پسند نہیں تو پھر وہ اپنی وزارت سے استعفیٰ دیں اور ایسے ملک چلے جائیں جہاں انہیں ایسی چیزوں سے واسطہ نہ ہو۔ اور اگر وہ اس پر نادم ہیں یا ان سے غلطی ہوئی ہے تو وہ اس کی وضاحت کریں۔ ورنہ یہ آئین پاکستان سے غداری، دین اسلام، شعائر اسلام اور مسلماتِ دینیہ کے بارہ میں ایسی ہرزہ سرائی ہے کہ اس کی نحوست سے پوری حکومتی کشتی ڈوبنے کا اندیشہ ہے، إن فی ذٰلک لعبرۃً لأولی الأبصار۔

وصلی اللہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ سیدنا محمد وعلٰی آلہٖ وصحبہٖ أجمعین

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے