بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1440ھ- 19 اگست 2019 ء

بینات

 
 

علم اور اہل علم کی ضرورت واہمیت!

علم اور اہل علم کی ضرورت واہمیت!

    میرے محترم دوستو، عزیزو!زندگی کے ہر شعبے کو حکم پر لاؤ، حکم پر اُس وقت آسکو گے جب ہر شعبہ کا علم حاصل کرو گے، جتنی جہالت ہوگی اُتنا ہر شعبہ غیروں کے طریقوں پر جاوے گا۔ پاکستان‘ علماء اور مدارس کا چمن      اللہ نے تمہیں علم اور علماء کا ملک عطا فرمایا ہے، کیسا مدارس کا چمن یہ ملک ہے، اس پر جتنا شکر کرو کم ہے، کس طرح اللہ نے بڑے بڑے علماء کرام اور مفتیانِ عظام تمہیں دیئے ہیں، خدا نہ کرے، خدا نہ کرے! اگر ان سے اِستفادہ کا عزم نہ کیا اور ان سے تعلق قائم نہ کیا تو یہ بہت بڑی ناشکری ہوگی اور بہت بڑی نعمت کو ٹھکراؤ گے، کیونکہ دُنیا میں ایسے ایسے ممالک بھی ہیں، جہاں پورے ملک میں کوئی کلمہ سکھانے والا اور کوئی مسائل بتانے والا نہیں ہے، اللہ نے تمہیں علماء اور مدارس کا ملک عطا فرمایا ہے۔ علم اور علماء سے نفرت کرنا کفر ہے     اس لیے بار بار عرض کرتا رہتا ہوں کہ علماء کی زیارت کو عبادت یقین کرو، علماء کی صحبت کو اپنی اوّلین ضرورت سمجھو، علماء سے محبت کرنا علم سے محبت کرنا ہے، اور علماء سے نفرت کرنا علم سے نفرت کرنا ہے اور علم سے نفرت کرنا اور نماز سے نفرت کرنا برابر ہے اور نماز سے نفرت کرنا کفر ہے، کفر ہے، کفر ہے۔ علم کی فرضیت     خدا کی قسم! علم اسی طرح فرض ہے جس طرح نماز فرض ہے۔ ہر مؤمن مرد و عورت کے ذمہ علم کا حاصل کرنا اسی طرح فرضِ عین ہے جس طرح نماز کا پڑھنا فرضِ عین ہے۔ مدارس کی طرف رُخ کرو اور اپنے بچوں کو دینی مدارس میں داخل کرو۔     ہر وہ عمل اللہ کے یہاں قبول ہوگا جو علم کے مطابق ہو۔ اتنا ایمان کا سیکھنا ہر مؤمن کے ذمہ فرضِ عین ہے کہ جو اس کو اللہ کی پہچان کرائے۔ اسی طرح اتنا علم سیکھنا ہر مؤمن کے ذمہ فرضِ عین ہے جو اس کو حرام حلال کی تمیز کرادے۔ ہاں! محدث بننا، فقیہ بننا، مفسر بننا یہ فرضِ کفایہ ہے، یہ ہر ایک کے ذمہ فرض نہیں ہے۔ علماء کی مجالس اور علماء کی صحبت سے فائدہ اُٹھاؤ، قدم قدم پر علماء سے پوچھ کر چلو۔ لیکن اس خیال میں رہنا کہ میں تو بظاہر جو کررہا ہوں ٹھیک ہی کر رہا ہوں(یہ غلط فہمی ہے) یاد رکھو کہ اللہ کے یہاں کوئی عمل جہالت کے ساتھ قبول نہیں ہوگا، اور نہ جاننا اللہ کے یہاں عذر نہیں ہے کہ اللہ! مجھے تو معلوم نہیں تھا، جہالت عذر نہیں ہے، چونکہ اللہ نے سکھانے کے لیے رسولؐ کو بھیج دیا:’’ أَوَ لَمْ نُعَمِّرْکُمْ مَّا یَتَذَکَّرُ فِیْہِ مَنْ تَذَکَّرَ وَ جَآئَ کُمُ النَّذِیْرُ۔‘‘ (الفاطر: ۳۷) ۔۔۔۔۔ ’’کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی جس میں وہ شخص سمجھ سکتا تھا جو سمجھنا چاہتا اور تمہارے پاس ڈرانے والا آیا تھا۔‘‘ یہاں تک کہ میرے دوستو! کوئی عمل اخلاص کے ساتھ بھی علم کے بغیر قبول نہیں ہوگا۔ ایک آدمی بڑا مخلص ہے، لیکن جہالت کے ساتھ عمل کر رہا ہے تو اللہ کے یہاں قبول نہیں ہوگا۔ ہر نئی معلومات علم نہیں ہے     سب سے پہلے یہ سمجھو اور اُمت کو سمجھاؤ کہ علم کیا ہے؟ اہل باطل نے دھوکہ دہی سے مسلمانوں کو یہ سمجھایا کہ ’’اگر تم نے صرف قرآن اور حدیث کو علم سمجھا تو تم بہت پیچھے رہ جاؤ گے، تمہیں دنیا میں کوئی پوچھنے والا نہ ہوگا۔ دیکھو! صرف قرآن و حدیث علم نہیں ہے بلکہ سائنس بھی علم ہے، ڈاکٹری بھی علم ہے، انجینئرنگ، تجارت، دنیا کی خاک چھاننا اور اسباب کی تحقیق کرنا یہ بھی علم ہے، تم صرف قرآن و حدیث ہی کو علم نہ سمجھنا، یہ میں وہ بات کہہ رہا ہوں جو غیروں نے ہمیں سکھلائی ہے۔ میرے دوستو! عزیزو! آج اس بات کا سمجھانا بڑا جہاد ہے، بڑا جہاد ہے، بڑا جہاد ہے۔ ورنہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ اس زمانے میں نوجوانوں کے دماغوں میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ صرف قرآن و حدیث علم نہیں، بلکہ دنیوی فنون اور اس کی معلومات کا حاصل کرنا یہ بھی علم کا حصہ ہے، لہٰذا جس علم سے ہمارا معاش متعلق ہے اس علم کو اہم درجہ دینا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ اولادیں سترہ اٹھارہ بیس پچیس سال تک پہنچ جاتی ہیں انہیں کچھ خبر نہیں کہ اللہ ہم سے کیا چاہتا ہے اور کو ن سا علم ہم پر فرض ہے، چونکہ انہیں یہ سمجھا دیا گیا کہ علم معاش کے حصول سے تمہاری زندگی متعلق ہے، اس لیے وہی علم ہے اور وہ یہ نہیں دیکھتے کہ معاش سے متعلق جو نام نہاد علم مجھ پر فرض کیا جارہا ہے، یہ ایسا اندھا کنواں ہے کہ جس میں سمجھ دار بھی ڈوب رہے ہیں اور ناسمجھ بھی، یہاں تک کہ موت آجاتی ہے اور بے دینی کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں، ہائے افسوس!!!!     میرے دوستو! عزیزو! باطل نے اپنے فنون کو علم قرار دے کر اُمت مسلمہ کو علم سے کاٹ دیا ہے اور یہ باور کرادیا کہ جو چاہو سیکھو سب علم ہے، نہیں میرے دوستو! ہرگز نہیں، علم صرف وہ ہے جو اللہ ہم سے چاہتے ہیں اور محمد a کے طریقے سے چاہتے ہیں، صرف وہ علم ہے، سارا علم قبر کے تین سوالات پر محدود ہے: ’’من ربک، من نبیک، ما دینک‘‘ گویا کہ علم نام ہے: ’’ربوبیت کا علم، شریعت کا علم اور سنت کا علم‘‘ جو کچھ اس کے سوا ہے وہ علم نہیں ہے اور اس پر علم کی حدیثوں کو فٹ کرنا بڑی حماقت ہے۔ دنیوی فنون کی رغبت کے لیے احادیث علم کو فٹ کرنا گمراہی ہے     یہ تو گمراہی ہے کہ دنیوی فنون کے لیے علم کی احادیث کو استعمال کرکے دنیوی فنون کی رغبت پیدا کی جائے، میرے دوستو! عزیزو! یہ بڑی گمراہی ہے۔ موجودہ زمانہ کا سب سے بڑا فتنہ     یہ کہنا ہے کہ ’’جدید آلات و اسباب نے علماء سے مستغنی کردیا‘‘ اس لیے میں بار بار کہتا رہتا ہوں کہ علم علماء کی صحبت سے حاصل کرو، آج لوگ کہتے ہیں کہ آلات و اسباب نے علماء سے مستغنی کردیا کہ ہم تو علم خود ہی حاصل کرلیں گے کہ اب تو سارا علم آلات پر آگیا ہے، کیا ضرورت ہے علماء کی؟ یہ اس زمانہ کا سب سے بڑا فتنہ ہے کہ اُمت کو اپنی دینی رہبری کے لیے علماء کی ضرورت نہ رہے، اس لیے میں اہتمام سے کہہ رہا ہوں کہ علماء کی زیارت کو عبادت یقین کرو اور اپنی اولادوں کو دینی مدارس میں داخل کرو، ورنہ میرے دوستو! عزیزو! اُمت اس دھوکہ میں پڑ چکی ہے کہ بھئی سب کچھ علم ہے، جو چاہو سیکھو۔ نہیں میرے دوستو! ہرگز نہیں، علم صرف وہ ہے جو حضرت محمد a کے طریقہ پر اللہ ہم سے چاہتے ہیں، صرف اس کو علم کہتے ہیں۔ غیروں کے تجربات کو علم سمجھنا سب سے بڑی جہالت ہے۔ نئی پود کی جہالت کی وجہ     میرے دوستو! عزیزو! اس بات کو تسلی، سنجیدگی اور بہت ہی ٹھنڈے دماغ سے سمجھنا ہوگا، میں نئی پود کی جہالت کی وجہ بتارہا ہوں کہ اگر ان کو یہ سمجھا دیا جاتا کہ یہ (قرآن و سنت) علم ہے، وہ (عصری ذرائع) فن ہے، تب بھی معاملہ آسان تھا کہ یہ دونوں چیزوں کو حاصل کرلیتے، دنیوی فنون کو اپنی دنیوی ضرورت کے لیے اور علم اِلٰہی کو دنیا اور آخرت میں کامیابی کے لیے، لیکن مشکل یہ ہے کہ ان کو سمجھایا گیا ہے کہ علم یہ نہیں، علم یہ ہے، اور یہاں تک سمجھادیا گیا کہ جو علم اِلٰہی ہے وہ علماء سے متعلق چیز ہے، وہ علماء سمجھتے ہیں سمجھاتے ہیں، ہم سے متعلق جو علم ہے یہ تو دنیا کا علم ہے۔ اپنی جہالت کا احساس کب ہوگا؟     جب تک علم اور فن کے درمیان فرق نہیں کیا جاوے گا اُس وقت تک اپنی جہالت کا احساس نہیں ہوگا اور علم اِلٰہی کے حاصل کرنے کی فکر اور رغبت نہیں پیدا ہوگی، یہ بات اچھی طرح یاد رکھیں کہ علم صرف وہ ہے جو ہم سے ہمارا رب چاہتا ہے۔ حضرت مولانا محمد یوسف صاحب v فرماتے تھے کہ علم میں لگنا اس بات کی توفیق میں لگنے کو کہتے ہیں کہ ہم سے ہمارا رب کیا چاہتا ہے؟ مخلوق ہم سے کیا چاہتی ہے؟ اس میں لگنے کو تو کہیں بھی علم نہیں کہا گیا۔ دنیوی فنون کو علم صرف قارون نے سمجھا ہے     میری بات ذرا غور سے سننا! اگر دُنیو ی فنون کو علم سمجھا ہے تو وہ صرف قارون نے سمجھا تھا، اسی قارونیت پر ہم سب چل رہے ہیں، کیونکہ جب اس سے یہ کہا گیا کہ یہ اللہ نے تجھے جو کچھ دیا ہے اس میں دارِ آخرت کی جستجو کرتا رہ اور دنیا میں سے اپنا حصہ فراموش مت کر اور اس میں اللہ کے حکم کے مطابق چل ’’وَابْتَغِ فِیْمَا أٰتٰکَ اللّٰہُ الدَّارَ الْأٰخِرَۃَ وَلَا تَنْسَ نَصِیْبَکَ مِنَ الدُّنْیَا‘‘ تو اُس نے کہا کہ یہ سب کچھ مجھے میرے علم کی وجہ سے دیا گیا ہے: ’’ قَالَ إِنَّمَا أُوْتِیْتُہٗ عَلٰی عِلْمٍ عِنْدِیْ‘‘ جس علم کو قارون علم کہہ رہا ہو، اس کو ہم بھی علم کہیں؟ یہ ہماری جہالت نہیں ہوگی تو پھر کیا ہوگا؟ قارون کا یہ کہنا کہ ’’ إِنَّمَا أُوْتِیْتُہٗ عَلٰی عِلْمٍ عِنْدِیْ‘‘ یہ بتلارہا ہے کہ یہ قارون کا علم ہے، کسی نبی کا علم نہیں کہ جو کچھ مال میرے پاس ہے یہ میں نے اپنے فن اور علم سے کمایا ہے، یہ اللہ نے نہیں دیا ہے، ہمیں علم اور فن میں فرق کرنا ہوگا، تاکہ ہمارے دلوں میں اس علم کی اہمیت پیدا ہو جس کو اللہ نے ہم پر فرض کیا ہے جس کو علم شریعت کہتے ہیں۔ ہم دنیوی فنون کی تحصیل سے نہیں روکتے     دیکھو! ہم دنیوی فنون سیکھنے سے نہیں روکتے، بالکل نہیں روکتے، یہ ایک ضرورت ہے، جس چیز کی جو اہمیت ہے اس کو اس کے درجہ میں رکھنا چاہیے، لیکن دنیوی فنون کو حاصل کرنے کے لیے ان حدیثوں کا استعمال جو محض علم اِلٰہی کے لیے ہیں، یہ انتہائی بے وقوفی کی بات ہے۔ توریت کے مطالعہ کی خبر پر نبی پاک a کا غصہ     حضرت عمر q کو ایک بار یہ خیال پیدا ہوا کہ ہمیں یہ بھی تو معلوم کرنا چاہیے کہ ہم سے پہلے نبیوں پر کیا احکامات نازل ہوئے تھے؟ حضرت عمرq کو توریت اور انجیل پڑھنے کا شوق پیدا ہوا اور کچھ اوراق ہاتھ میں لیے آپ a کے سامنے حاضر ہوئے، آپ a نے پوچھا: یہ ہاتھ میں کیا ہے؟ (جواب دیاکہ:) یا رسول اللہ! میں نے توریت پڑھی ہے، تاکہ ہماری معلومات میں اضافہ ہو کہ اللہ نے حضرت موسیٰ m پر کیا احکامات نازل کیے تھے؟ آپ a کو حضرت عمر q کے اس عمل پر اتنا غصہ آیا کہ آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور صحابہ s جمع ہوگئے، اتنا آپ کو غصہ تھا کہ انصار تلواریں لے کر آگئے کہ آپ کو کس نے ستایا ہے؟ سارا غصہ حضرت عمر q پر تھا کہ ’’عمر! نے توریت کیوں پڑھی ہے؟ جو قرآن میں لے کر آیا ہوں، جو علم سنت اور طریقت و شریعت میں لایا ہوں، کیا عمر کی نجات کے لیے یہ کافی نہیں ہے؟‘‘ پھر آپ a نے فرمایا: ’’لو کان موسٰی حیاً لما وسعہ إلا اتباعی‘‘۔ (مشکوٰۃ، کتاب الایمان، باب الاعتصام بالکتاب و السنۃ، الفصل الثانی، ج:۱، ص:۳۰،قدیمی) ۔۔۔۔۔ ’’اگر آج موسیٰ زندہ ہوکر آجائیں تو ان کی نجات بھی میرے طریقہ پر ہے۔‘‘ یعنی اگر تم نے اب موسیٰ کا طریقہ اختیار کیا تو گم راہ ہوجاؤ گے۔ بہت خطرے کی بات     آپ غور کریں اور اندازہ کریں کہ ایک اتنا بڑا عالم عمر (q) کہ جن کا مقام یہ ہے کہ ’’لو کان بعدی نبیًا لکان عمرؓ‘‘ کہ ’’میرے بعد اگر نبوت کا دروازہ کھلا ہوتا تو عمرؓ نبوت کی استعداد رکھتے  ہیں۔‘‘ حضرت عمر q سب سے زیادہ اللہ کی کتاب کو سمجھنے والے تھے، اس درجہ کا صحابیؓ سب کچھ سیکھنے کے بعد توریت پڑھ رہا ہے، توریت بھی وہ پڑھی جو پہلے نبی کا علم شریعت تھا، اللہ کی طرف سے ایک نبی پر نازل ہوا تھا، اُس پر بھی آپa کو اتنا غصہ آیا کہ آنکھیں سرخ ہوگئیں، تو آپ اندازہ کریں کہ جو علم‘ علم تھا، لیکن اب منسوخ ہوگیا، اس کی تحصیل کی خواہش پر حضرت عمرq پر آ پ کو اتنا غصہ آیا تو جو علم سرے سے علم ہی نہیں دنیوی فن ہے، اگر مسلمان اس زمانہ میں اسے علم الٰہی سے جاہل ہوکر حاصل کر کے اپنے آپ کو عالم سمجھیں اور علم کی حدیثیں اس پر فٹ کریں تو ایسے لوگوں پر قیامت کے دن آپ a کو کس قدر غصہ آئے گا اندازہ کرلیا جاوے۔ ہمیں دعوت کے ذریعہ ایمان کی طرح علم کی بھی ضرورت ہے     ہمیں جس طرح دعوت سے ایمان کی ضرورت ہے، اسی طرح دعوت کے ذریعہ سے علم کی بھی ضرورت ہے اور علم کو بھی اخلاص چاہیے جو ہمارے دلوں میں اللہ کا خوف پیدا کرے، کیونکہ جس دل میں اللہ کا خوف نہیں ہے وہ عالم نہیں ہوسکتا، اسے اسلام کی معلومات ضرور ہوں گی، لیکن وہ عالم نہیں ہوسکتا۔ عالم وہ ہے جس کے دل میں اللہ کا خوف ہو     عالم کے لیے تو شرط ہے کہ اس کے دل میں اللہ کا خوف ہو، کیونکہ اللہ نے حصر کے ساتھ فرمادیا: ’’إِنَّمَا یَخْشٰی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہٖ الْعُلَمَائُ‘‘ علم تقویٰ کا نام ہے، علم زندگی کے تمام شعبوں میں چوبیس گھنٹے اللہ کے حکموں کا پابند ہوکر چلنے کا نام ہے۔ فرمایا: علم دو قسم کا ہے: ’’العلم علمان : علم فی القلب فذاک علم النافع وعلم اللسان فذاک حجۃ اللّٰہ لابن آدم‘‘ ۔۔۔۔علم دو قسم کا ہے: زبان کا اور دل کا۔ زبان کا علم وہ ہے جس کے بارے میں حدیث میں آتا ہے کہ جو انسان کے لیے قیامت کے دن مصیبت بنے گا، اس کے خلاف حجت بنے گا اور دل کا علم وہ ہے جو ابن آدم کو نفع دے گا۔ علم کا تقاضہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ اللہ کا خوف پیدا ہو، علم کے ذریعہ خشیت پیدا ہو وہ علم الٰہی ہے، سب سے بڑا عالم وہ ہے جو اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہو، اس لیے ایک صحابی q نے عرض کیا: یارسول اللہ! سب سے بڑا عالم بننا چاہتا ہوں، فرمایا: ’’اتق اللّٰہَ تکن أعلم الناس‘‘ کہ ’’تقویٰ اختیار کرو، تم سب سے بڑے عالم ہوجاؤ گے۔‘‘ علم اللہ کی صفت ہے، وہ اللہ سے تعلق کے بقدر حاصل کیا جاتا ہے۔ اللہ والا علم علماء کے پاس امانت ہے     اللہ والا علم ہر عالم کے پاس امانت ہے، امانت پہنچانے والا معاوضہ نہیں لیا کرتا، یہ تو اس کے ذمہ ہے، جس طرح ڈاکیہ ڈاک پہنچاتا ہے، اس کی تنخواہ حکومت کے ذمہ ہوتی ہے، اسی طرح میرے دوستو! عالم کا معاوضہ اللہ کے ذمہ ہے۔     جب اُمت میں دین سیکھنے کے لیے خرچ کرنے کا جذبہ نہ رہے تو اب علماء پر ذمہ داری ہے کہ اُمت کو ہر حال میں دین سکھلایا جائے اور اس کا معاوضہ نہ لیا جائے: ’’ َلاأَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مَالًا، لَاأَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ أَجْرًا‘‘ علم کو پہنچاؤ اُمت کی امانت سمجھ کر۔ لیکن کسی غلط فہمی میں نہ رہیے کہ اگر کسی کو دین پھیلانے، قرآن سکھلانے اور علم سکھلانے کی تنخواہ ملتی ہے تو یہ اس کے پڑھانے کا ہرگز بدل نہیں ہے، بلکہ یہ اس مشغلہ کا بدل ہے جس مشغلہ کو چھوڑ کر یہ عالم دین کی خدمت میں لگا ہوا ہے اور وہ عالم بھی اس کو دینی خدمت کا بدل کبھی نہ سمجھے۔ علم سکھلانے کا کوئی بدل نہیں سوائے جنت کے۔ ظاہر بات ہے یہ ایک انسان ہے، اس کے ساتھ ضروریات لگی ہوئی ہیں، اس کو دنیا میں کوئی مشغلہ بھی کرنا تھا، تجارت بھی کرنی تھی، لیکن اس نے تجارت اور دیگر معاشی کاموں کو چھوڑ کر بچوں کو پڑھانے میں اپنا وقت لگایا تو یہ اُس مشغلہ کا بدل ہے جس کو چھوڑا گیا ہے۔ اگر علم اسباب پر موقوف ہوگیا تو امت کا بڑا طبقہ جاہل رہے گا     آج کتنا پیسہ شادیوں پر خرچ ہورہا ہے، لیکن علم کے حصول پر خرچ کے لیے ہم تیار نہیں، تو کیسے جہالت ختم ہوگی؟ اور بغیر جہالت کے ختم ہوئے عبادت قبول ہے نہ اعمال، کچھ نہیں، علم حاصل کرو، تاکہ عبادتیں کامل ہوجائیں۔ عبادت کا کمال علم سے ہے، عبادت پر استقامت یقین سے ہے اور عبادت کی قبولیت اخلاص سے ہے۔     اگر علم اسباب پر موقوف ہوگیا تو امت کا بڑا طبقہ جاہل رہے گا، کیونکہ وہ بھی جاہل رہیں گے جن کے پاس سیکھنے کے اسباب نہیں اور وہ بھی نہیں سکھلائیں گے جن کو معاوضہ نہ ملے، اجرت تو اس وقت کی ہے جو وقت تعلیم کے لیے فارغ کیا گیا ہے۔ علماء کی ذمہ داری     علماء کی ذمہ داری بھی بتلادی، علماء کیا کہتے ہیں کہ: ’’جی جاہل تو سیکھتے ہی نہیں، آتے ہی نہیں ہمارے پاس کہ ہم سکھلاویں!‘‘ نہیں میرے دوستو! حضور a نے فرمایا کہ: علماء جاہلوں کو دین سکھلاویں، علماء جاہلوں کی تربیت کریں اور اُن کو دین پر آمادہ کریں اور علماء عوام کو دین کی تعلیم دیں۔ صحابہ s کے لیے تو یہ بہت بڑی بات تھی، چونکہ جس بات کو محمد a نے اپنی زبان مبارک سے فرمادیا ہے اس کا جو اثر اس وقت تھا، قیامت تک کے لیے اس کا وہی اثر ہے، یہ بات نہیں ہے کہ وہ سیکھنے آئیں تو سکھلادیں گے۔ عرض کیا: یارسول اللہ! وہ ہم سے سیکھتے ہی نہیں، ہم کیا کریں؟ آپ a نے کوئی جواب نہیں دیا، بلکہ اپنی بات کو دہرایا، مطلب یہ تھا کہ اگر وہ سیکھنے نہیں آتے تو میرے تمہارے ذمہ ہے کہ ان کو جاکر سکھلاویں۔ تبلیغ اور تعلیم میں کوئی فرق نہیں ہے     اس لیے تبلیغ اور تعلیم میں کوئی فرق نہیں ہے، آنے والوں کو سکھلانا بھی شعبہ ہے اور جاکر سکھلانا بھی شعبہ ہے، آپ a نے تو ایک آیت کی تبلیغ کا بھی حکم دیا ہے۔ جاکر تعلیم دو، یہ تبلیغ ہے۔ آنے والوں کو تعلیم دو، یہ تعلیم ہے۔ حضرات صحابہ s دونوں کاموں میں برابر لگے رہتے تھے۔ علماء انبیاء oکے وارث کیوں ہیں؟     یاد رکھنا کہ علماء کو انبیائo کا وارث اُس طریقۂ تعلیم کے ساتھ قرار دیا گیا ہے جو طریقۂ تعلیم حضرت محمد a اور آپ کے صحابہ s کا تھا کہ وہ تعلیم نقل و حرکت کے ساتھ ہے، ہم یہ نہیں کہتے کہ علماء اپنے کام چھوڑ کر نکلیں، امامت، خطابت، درس و تدریس، تصنیف و تالیف اور شعبہ افتاء چھوڑ کر نکلیں، نہیں! ہم یہ نہیں کہتے، کیونکہ اللہ تعالیٰ بھی یہی فرمارہے ہیں، اللہ نے یہ فرمایا ہے کہ ایمان والوں کو چاہیے کہ سب یک بارگی نہ نکلیں: ’’مَاکَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَافَّۃً‘‘ کہ ایمان والوں کے لیے مناسب نہیں ہے کہ سب یک بارگی نکل جاویں: ’’فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْھُمْ طَآئِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّھُوْا فِیْ الدِّیْنِ وَلِیُنْذِرُوْا قَوْمَھُمْ إِذَا رَجَعُوْا إِلَیْھِمْ لَعَلَّھُمْ یَحْذَرُوْنَ‘‘ ایسا کیوں نہیں کرتے کہ ایمان والوں کی جماعت کا ایک حصہ اللہ کے راستہ میں نکلے۔ کیوں نکلیں؟ دیکھو عجیب بات ہے، اس آیت میں فرمایا ہے: ’’لِیَتَفَقَّہُوْا فِیْ الدِّیْنِ‘‘ دین کے اندر کمال اور سمجھ پیدا کرنے کے لیے نکلیں، لازم ہے کہ واپس آکر مقام پر علم کو پھیلاویں۔ آپ a نے ’’علمائِ صحابہ s‘‘ کو حرکت پر رکھا تھا، تاکہ اُمت میں کہیں بھی جہالت پیدا نہ ہو، اور علم صرف طلب والوں کے اندر محدود نہ ہوجاوے کہ یہ پڑھنے کے لیے آئے ہیں، پڑھ لیویں، آپ a نے اپنے علم کی مثال بادل سے دی ہے اور بادل میں حرکت ہے۔ آپ علماء کرام تو ہلکی بات کرنے لگے ہیں کہ بھئی ہم تو کنواں ہیں، پیاسا کنویں کے پاس آتا ہے، کنواں پیاسے کے پاس نہیں جایا کرتا، نہیں! ہرگز نہیں، ایسی بات نہیں ہے، علماء کو انبیاء oکا وارث قرار دیا گیا ہے اور انبیاء o نے نقل و حرکت کے ذریعے علم کو پھیلایا ہے۔ اور علم کی مثال بادل سے دی ہے، جو زمین کسی قابل نہیں، جس زمین میں اگانے کی صلاحیت نہیں اس پر بھی بادل برستا ہے، اپنے علم کو لے کر حرکت میں آؤ کہ اُمت کو علم پہنچانا ہے اور دعوت سے اپنے علم کے اندر رسوخ پیدا کرنا ہے۔ حضرت مولانا محمد یوسف صاحب v کے نزدیک علماء کا مرتبہ ایک بار حضرت مولانا محمد یوسف صاحب v نے مفتی زین العابدین صاحب v سے فرمایا کہ: ’’مفتی صاحب! ایک جماعت ہے، میرا دل چاہتا ہے کہ اُس جماعت کو لے کر آپ جائیں، کیوں کہ اُس میں بڑے بڑے علماء اور بڑے بڑے اہل کمال آئے ہیں۔‘‘ آج ہمارا حال یہ ہے کہ انگریزی دان دیکھ کر جماعت کو اُن کے حوالہ کردیتے ہیں۔ خط بھی آتا ہے کہ یہ پروفیسر صاحب ہیں، انگریزی جانتے ہیں، یہ جماعت چلالیں گے۔ معیار گھٹتے گھٹتے اعدائِ دین کی زبان پر آگیا۔ کہاں معیار تھا صحابہ s کا کہ حضور a نے اَمیر طے کرنے کے لیے مشورہ نہیں کیا، بلکہ آپ a بلا تفریق ہر ایک کے پاس الگ الگ بیٹھے اور ہر ایک سے الگ الگ قرآن سنا، جس کا قرآن سب سے اَچھا تھا فرمایا کہ: ’’تم ہی ان سب کے امیر ہو، اس لیے کہ امام ہی امیر ہوتا ہے‘‘ فرمایا: ’’تمہاری امامت وہ کرے جو زیادہ علم رکھنے والا ہو، شریعت کو جو زیادہ جاننے والا ہو‘‘ یہ نہیں کہا کہ تم میں تجربہ زیادہ کس کا ہے؟ تم میں سے انگریزی کس کو زیادہ اچھی آتی ہے؟ سنت طریقہ یہ تھا کہ تم میں سے اچھا قرآن کون پڑھ سکتا ہے؟ پہلے اس بات کا اہتمام ہوتا تھا اور ایسے ساتھی جماعت کے ساتھ لگائے جاتے تھے جو اُن کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کریں۔ تو حضرت مولانا محمد یوسف صاحب v نے مفتی زین العابدین صاحب v سے فرمایا کہ: ’’میرا دل چاہتا ہے کہ تم جماعت لے کر جاؤ!‘‘ پھر فرمایا کہ ’’تین دن بعد جماعت آئے گی‘‘ جواباً مفتی صاحب v نے عرض کیا کہ: ’’تین دن کے لیے خانقاہِ رائے پور حضرت رائے پوریv کے پاس جانا چاہتا ہوں‘‘، حضرت v نے فرمایا: ’’ضرور جاؤ!‘‘ علماء اور مشائخ کی خدمت میں دُعا اور اِستفادہ کی غرض سے حضرتv ساتھیوں کو بھیجا کرتے تھے، لیکن فرمایا کہ: ’’دیکھو! ٹھیک تین دن کے بعد آجانا‘‘، مفتی صاحبv چلے گئے، تین کے بجائے پانچ دن گزرگئے۔ حضرت مولانا محمد یوسف صاحب v نے حضرت شیخ v کو خط لکھا کہ: ’’مفتی زین العابدین صاحب تین دن کے لیے رائے پور گئے تھے، پانچ دن گزر گئے، اَب تک نہیں آئے، اِدھر جماعت اُن کا انتظار کر رہی ہے۔‘‘ حضرت شیخ v سہارن پور سے رائے پور تشریف لے گئے اور جاتے ہی مفتی صاحب v سے پوچھا کہ :’’تین دن کے بعد اب یہاں کیا کر رہے ہو؟‘‘، مفتی صاحبv نے عرض کیا کہ: ’’حضرت! مجھے تو نظام الدین ہی جانا ہے، لیکن مجھے یہاں کے قیام میں کچھ ایسی کیفیت اور ذکر کے ایسے انوار حاصل ہورہے ہیں کہ مجھے خیال ہوا کہ ایسی کیفیت اور ایسا موقع پھر حاصل ہو نہ ہو، اس لیے میں نے یہاں کا وقت بڑھا لیا، مجھے یہاں کی خلوت میں جو کیفیت حاصل ہورہی ہے اُس کیفیت نے یہاں روکے رکھا‘‘ بہرحال پھر تشریف لے گئے۔ دعوت کی محنت کا مقصد اُمت سے جہالت کو ختم کرنا ہے     علم کی دعوت کے ذریعے جہالتیں ختم ہوں گی اور اُمت علماء سے جڑے گی۔ اس محنت کا مقصد جہالت کو ختم کرنا ہے، یہ محنت تو اُمت میں علم کے حصول کی طلب پیدا کرتی ہے، جب یہ محنت ہوگی تو یہ احساس ہوگا کہ ہمیں علماء کی ضرورت ہے، علماء کی صحبت و مجالست اختیار کرنے کی ضرورت ہے اور یہی اس دعوت کا مقصود و مطلوب ہے۔ تمام دنیوی شعبوں میں دین کیسے زندہ ہوگا؟     میرا تو بہت جی چاہتا ہے کہ علماء آدھے دن دینی کاموں میں لگیں اور آدھے دن تجارت بھی کریں، حضرت ابو بکرq و حضرت عمرq دینی کاموں کے ساتھ ساتھ تجارت بھی کیا کرتے تھے۔     ساری دنیا ہوگی جاہلوں کے ہاتھ میں اور ہم یہ سمجھیں گے کہ ہمارا کام صرف پڑھانا ہے، آج ہم نے سارا بازار اور ساری تجارت جاہلوں کے حوالہ کردی ہے، جب تک ہم تجارتوں، زراعتوں، حکومتوں کو اور دنیا جہان کے تمام سرمایہ داری کے نقشوں کو یہ سمجھ کر چھوڑے رکھیں گے کہ یہ ہمارے کرنے کے کام نہیں ہیں، تو خدا کی قسم! اس میں کبھی دین نہیں آسکتا، کیسا مزا آوے کہ ایک عالم آدھے دن پڑھاتا ہو اور آدھے دن خود عملی طور پر بازار جاکر دیکھے کہ جو علم میں پڑھا رہا ہوں اس کے مطابق تجارت ہورہی ہے یا نہیں؟ یہ کتنے بڑے نقصان کی بات ہے کہ ایک آدمی تجارت کا علم حاصل کرے اور اس کے محلہ کا بازار علم کے مطابق نہ ہو، اگر ایسا نہ کیا گیا تو جو حرام راستہ کی کمائیاں ہیں وہ سب علم و عمل کو لے ڈوبیں گی۔ حضرت مولانا محمد الیاس صاحب v فرماتے تھے کہ: ’’ہم تجارت چھڑوانا نہیں چاہتے بلکہ تجارت کو حکم پر لانا چاہتے ہیں، ورنہ وہ ہوگا جو قوم شعیب کے ساتھ ہوا۔‘‘ حکم پر لانے کا مطلب یہ ہے کہ آپ عملی طور پر ان شعبوں کا علم لے کر ان میں داخل ہوں۔ دین کے کسی شعبہ کا انکار محمد a کے لائے ہوئے احکامات کا انکار ہے     اللہ نہ کرے، اللہ نہ کرے، دین کے کسی شعبے کا انکار یا اس کا استخفاف یا اس کی افادیت سے انکار کہ مثلاً: مدارس سے کیا ہوگا؟ یہ بھی ایک مرض اور بیماری پیدا ہوگئی ہے لوگوں میں، میرے دوستو! عزیزو! غور سے سن لو! جو اس کام میں رہتے ہوئے دین کے کسی شعبے کا انکار کرے خدا قسم! وہ محمد a کے لائے ہوئے دو کاموں میں سے ایک کا انکار کر رہا ہے، پکی بات ہے، بالکل سچی بات ہے،کیونکہ اس کام کو کسی خیر کے کام کے معارض سمجھنا یہ محمد a کے لائے کاموں میں سے ایک کام کو دوسرے کے معارض سمجھنا ہے۔ آپ a کی سب سے بڑی صفت ’’صفتِ جامعیت‘‘ ہے، یہ جامعیت اپنے اندر پیدا کرو، کیونکہ اس محنت سے پورا دین وجود میں آنا ہے، اس لیے حرام ہے ہمارے لیے یہ سوچنا کہ ’’اس شعبے سے کیا ہوگا؟ اُس شعبہ سے کیا ہوگا؟‘‘ جتنے دین کے شعبے ہیں یہ دعوت کی آمدنی ہے، لوگ اپنی آمدنی کو سنبھال کر رکھتے ہیں کہ دعوت کی محنت سے لوگوں میں علم کی طلب پیدا ہو، مساجد قائم ہوں، مدارس قائم ہوں، تربیت گاہیں قائم ہوں، دین کے شعبے وجود میں آنے ہیں دعوت کے کام سے، یہ تو ہو نہیں سکتا کہ دعوت کے کام ہوں اور دین کے شعبے مقصود نہ ہوں، یہ ایسا ہے کہ کوئی آدمی تجارت کرے اور کہے کہ مجھے آمدنی مقصود نہیں ہے یا آمدنی کو ضائع کردے، وہ کیسا بے وقوف آدمی ہوگا؟ لوگوں کو اپنی آمدنیوں سے ایسی محبت ہوتی ہے کہ وہ اس کو خون پسینہ کہتے ہیں کہ یہ میرا خون پسینہ ہے۔     دعوت سے دین کے سارے شعبے زندہ ہونے ہیں اور یہ میری بات یاد رکھنا کہ یہ شعبے اس وقت تک قائم رہیں گے جب تک دعوت کی نقل و حرکت قائم رہے گی۔ آپ ذرا پچھلا زمانہ اُٹھاکر دیکھیں ساری تاریخ اس کی گواہ ہے، حضور a نے ہر صحابیؓ کو معلم بنایا تھا: ’’ بلغوا عنی ولو آیۃ‘‘ جب علم‘ نقل و حرکت سے الگ ہوجاوے گا تو عام اُمت میں جہالت پھیل جاوے گی اور علم اُمت کے ایک محدود طبقہ کی چیز بن کر رہ جاوے گا، اگر علم کے بغیر نقل و حرکت ہے تو جاہلانہ نقل و حرکت ہوگی۔ حضرت مولانا محمد الیاس صاحب v فرماتے تھے کہ: میرا دل یہ چاہتا ہے کہ جتنی جماعتیں نکلیں ان میں ایک عالم ہو اور ایک قاری ہو، تاکہ نکلنے والے قرآن سیکھ کر آویں۔ شاید کہ اُتر جائے ترے دل میں مری بات

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے