بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 18 جولائی 2019 ء

بینات

 
 

علماء ، طلبہ اور عوام کی شہادتیں کب تک ؟

علماء وطلبہ اورعوام کی شہادتیں کب تک؟

 

ؑ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَسَلاَمٌ عَلٰی عِبَادِہٖ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی

ملکِ پاکستان کے طول وعرض اوربیرونی ممالک میں یہ غمناک ، اندوہناک اور وحشتناک خبر بڑے دُکھ، درد اور کرب والم سے سنی جاچکی ہے کہ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے دارالافتاء کے ذمہ دار اور مسؤل اوراستاذ حدیث حضرت مولانا مفتی عبدالمجید دین پوریؒ، ان کے نائب حضرت مولانا مفتی صالح محمد کاروڑیؒ اور ان دونوں حضرات کو لے جانے والے طالب علم حسان علی شاہ ؒکو ۱۸؍ ربیع الاول ۱۴۳۴ھ، مطابق ۳۱؍جنوری ۲۰۱۳ء بروز جمعرات، تقریباً ساڑھے بارہ بجے کراچی کی معروف شاہراہ‘ شاہراہِ فیصل پر نرسری پل کے قریب دن دیہاڑے دہشت گردوں نے فائرنگ کرکے شہید کردیا۔ إنا للّٰہ وإنا إلیہ راجعون،إن ﷲ ماأخذ ولہ ماأعطی وکل شیء عندہٗ بأجل مسمی۔ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے علماء کرام کو شہید کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں، بلکہ اس سے پہلے تواتر کے ساتھ کئی شہادتوں کے واقعات رونما ہوچکے ہیں۔پہلا واقعہ اس وقت ہوا جب جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے مدیر اساتذہ کی معیت میں جامعہ کی ایک شاخ سے واپس آرہے تھے کہ بزنس ریکارڈر روڈپر ان کی گاڑی پر فائرنگ کرکے جامعہ کے رئیس حضرت مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختارؒ، جامعہ کے ناظم اور استاذ حضرت مولانا مفتی عبدالسمیعؒ اور ڈرائیور محمد طاہرؒ کو شہید کیا گیا اور اس حادثہ میں دو اساتذہ زخمی بھی ہوئے۔ اس کے بعد ۱۳؍صفر المظفر ۱۴۲۱ھ مطابق ۱۸؍مئی ۲۰۰۰ء صبح دس بجے جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے استاذِ حدیث، مرشد العلمائ،عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کو ڈرائیور الحاج عبدالرحمنؒ سمیت فیڈرل بی ایریا میں فائرنگ کرکے شہید کیا گیا۔ اس کے بعد۳۰؍ مئی ۲۰۰۴ء بروز اتوارجامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹائون کے شیخ الحدیث ، شعبہ تخصص فی الفقہ کے نگران ومشرف حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی نظام الدین شامزئی ؒ کو گھر سے جامعہ علوم اسلامیہ کی طرف جاتے ہوئے فائرنگ کرکے شہید کردیا گیا۔اس کے بعد جامعہ کے فاضل، ہمدرد، اورعالمی مجلس تحفظِ ختم نبوت شوریٰ کے رکن حضرت مولانا مفتی محمدجمیل خانؒ اور ان کے ساتھی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے مبلغ حضرت مولانا نذیر احمد تونسویؒ کو شہیدکیاگیا۔ اس کے بعد ۲۵؍ ربیع الاول ۱۴۳۱ھ مطابق مارچ ۲۰۱۰ء بروز جمعرات جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے ترجمان ’’ماہنامہ بینات‘‘ کے مدیر اورعالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے امیر حضرت مولانا سعید احمد جلال پوریؒ، ان کے بیٹے حافظ محمد حذیفہؒ، ان کے خادم حضرت مولانا فخر الزمانؒ اور ڈرائیور بھائی عبدالرحمن سری لنکنؒ کو اس وقت بے دردی سے شہید کیا گیا، جب آپ مسجد خاتم النبیین سے مجلس ذکر سے فارغ ہوکر واپس گھر تشریف لارہے تھے۔ اس کے علاوہ جامعہ کی ملیر شاخ کے ہر دل عزیز استاذ حضرت مولانا سعید احمد اخوندؒ کو شہید کیا گیا۔ اسی طرح جامعہ کی شاخ’’ گلشن عمرؓ‘‘ کے استاذ حضرت مولانا انعام اللہ صاحبؒ کو شہید کیا گیا۔اسی طرح جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے استاذ حضرت مولانا ارشاد اللہ عباسی صاحبؒ کو صبح کی نماز پڑھانے کے لئے جاتے ہوئے دہشت گردوں نے فائرنگ کرکے شہید کردیا۔ اس کے علاوہ مختلف اوقات اور مختلف مقامات پر تقریباً جامعہ کے ۱۱؍ طلبہ کو شہید کیا گیا۔ پورے ملک میں بالعموم اور کراچی میں بالخصوص علمأ، طلبہ، مدارس اور عوام الناس سب دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں۔ ملک کے وزیر داخلہ نے دو روز قبل یہ بیان دیا کہ فروری کے آغاز میں سندھ کے دار الحکومت کراچی میں دہشت گردی اور قتل وغارت کا بازار گرم ہو جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ کراچی میں طالبان دہشت گردی نہیں کر رہے، بلکہ یہ سرحد پار بیٹھے دشمنوں کی منصوبہ بندی ہے، جس میں مقامی لوگوں کو بھی استعمال کیا جائے گا۔ ان کے بیان کی باز گشت ابھی کانوں میں ہی تھی کہ محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوریؒ کی قائم کردہ درس گاہ کے دو اساتذہ کرام کو شہید کردیا گیا۔ کراچی میں جاری قتل وغارت پر پورا ملک افسردہ اور غمگین ہے، مگر سنگ دل اور بے حس حکمران ٹَس سے مَس نہیں ہورہے۔ دن دَہاڑے قتل ہوتے ہیں، لوگ اغوا ہوتے ہیں، ٹارگٹ کلنگ ہوتی ہے، لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے حکمرانوں کو صرف اپنی جانیں اور مال عزیز ہیں، عوام کو وہ بھیڑ بکریاں خیال کرتے ہیں۔ ان سب شہادتوں اور صدمات کے سہنے کے باوجود صبر کے پہاڑ جامعہ کے رئیس حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر دامت برکاتہم وحفظہم اللہ نے حضرت مولانا مفتی عبدالمجید دین پوری شہیدؒ اور مفتی صالح محمد کاروڑیؒ کے جنازہ کے موقع پر فرمایا: ’’ہم پر امن لوگ ہیں، اس عظیم صدمے کے موقع پر تمام ساتھی سیرتِ نبوی کی روشنی میں صبر سے کام لیں۔ ہم ملک عزیز میںقتل وغارت گری اور فتنہ وفساد برپا نہیں کرنا چاہتے۔ مگر اعدائے اسلام سن لیں کہ یہ اللہ کا دین ہے، وہ خود ہی اس کی حفاظت کرنے والا ہے۔ تم خود مٹ جاؤگے، مگر یہ دین قیامت تک باقی رہے گا‘‘۔ حضرت ڈاکٹر صاحب کی تلقین ہی تھی کہ اتنے بڑے سانحے اور حادثے کے باوجود کسی بس کو پتھر نہیں لگا، کسی دکان کا شیشہ نہیں ٹوٹا اور نہ ہی ملکی املاک کو کوئی نقصان پہنچایا گیا۔ اس طرف اتنے صبر کا مظاہرہ اور دوسری طرف حکومتی بے حسی کی انتہا یہ ہے کہ اتنے دن گزرنے کے باوجود ان شہداء کے قاتلوں کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں لگایا گیا اور نہ ہی کسی قسم کی مناسب پیش رفت سے جامعہ کے ذمہ داران کو آگاہ کیا گیا۔ آئیے! دیکھتے ہیں کہ حکومت کی اس سرد مہری اور بے حسی کے بارہ میں ملک کی دینی، مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے اکابرین، ذمہ داران، سرپرست اور عوامی نمائندے کیا کہتے ہیں: ’’اسلام آباد، لاہور، کراچی(نیوز رپورٹر+خبر ایجنسیاں) وفاق المدارس نے مفتی عبدالمجید دین پوریؒ اور ان کے رفقاء کی شہادت کو قومی سانحہ قرار دے دیا۔ مختلف سیاسی ومذہبی رہنماؤں کا اظہار افسوس، قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کردیا۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے رہنماؤں شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان، مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مولانا محمد حنیف جالندھری اور مولانا انوار الحق نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ملک کی معروف دینی درسگاہ جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے رئیس دارالافتاء مفتی عبدالمجید اور ان کے رفقاء کی شہادت قومی سانحہ ہے، اس پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔ انہوںنے کراچی میں علماء کرام کی مسلسل شہادتوںپر حکومتی بے حسی کو افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ جب تک حکومت کی طرف سے قاتلوں کی گرفتاری کی سنجیدہ کوششیں اور علماء کی مظلومانہ شہادت کی آزادانہ اور منصفانہ تحقیقات نہیں کی جاتیں ،اس وقت تک قومی اور صوبائی حکومتیں ان علماء وطلبہ کے قتل کی ذمہ دار ہیں۔ جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمن نے مفتی عبدالمجید دین پوری اور مولانا مفتی صالح محمد، حافظ حسان اور دیگر افراد کے قتل کو بدترین دہشت گردی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت صرف بیانات نہ دے، بلکہ قاتلوں کو بے نقاب کرے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچائے۔ دریں اثناء جے یو آئی کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری اور مرکزی ترجمان مولانا محمد امجد خان اورقاری محمد عثمان، مولانا محمد غیاث ، محمد اسلم غوری نے بھی واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو مستعفی ہوجانا چاہئے۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے علماء اور دیگر کی شہادت کی شدید مذمت کی ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ امن وامان برباد کرنے والے قاتلوں اور جرائم پیشہ افراد کو آہنی ہاتھوں سے کچلنا ہوگا۔ کراچی میںحکومت کی رِٹ ختم ہوچکی ہے۔امیر جماعت اسلامی سید منور حسن، سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے مفتی عبدالمجید دین پوری سمیت علماء اور شہریوں کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہر میںعوام کے خون کی ہولی نام نہاد عوامی حکومت کے منہ پر طمانچہ ہے۔ انہوںنے کہا کہ شہر میں دن دَہاڑے ۳؍ علماء کا قتل ثابت کرتا ہے کہ حکومت امن وامان کے قیام میں مکمل ناکام ہوچکی ہے۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کا کہنا ہے کہ کراچی میںفائرنگ کے واقعات شہر کے امن کو تباہ کرنے کی سازش ہے۔ انہوں نے علماء کرام کے لواحقین سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں علماء کرام کو بے دردی سے قتل کیا جارہاہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کو روکنے میںبے بس ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب اہل سنت والجماعت کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات علامہ اورنگزیب فاروقی نے اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ حکومت ہمیں ہزاروں علماء اور کارکنان کی لاشوں کے تحفوں کے سوا کچھ نہ دے سکی۔ حکومت ہمیں کوئی اور راستہ اختیار کرنے پرمجبور نہ کرے۔ اہل سنت نے کوئی اور راستہ اختیار کیا تو حالات کنٹرول سے باہر ہوجائیں گے‘‘۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حضرت مولانا مفتی عبدالمجید دین پوری شہیدؒ کی ولادت خان پور ضلع رحیم یار خان میں ایک بزرگ عالم دین اور درویش صفت انسان حضرت مولانا محمد عظیم بخشؒ کے ہاں جون ۱۹۵۱ء میںہوئی۔ ابتدائی تعلیم علاقائی مدارس میں ہوئی اور اعلیٰ تعلیم کے لئے آپ نے گلشن بنوری کا انتخاب کیا اور ۱۹۷۱ء میں دورہ حدیث کی تعلیم مکمل کرکے درسِ نظامی سے فاتحہ فراغ پڑھا۔ اس کے بعد اسی مادرِ علمی میں دو سال تخصص فی الفقہ کا نصاب مکمل کیا اور ۱۹۷۳ء میں مفتی کا اعزاز پاکر جامعہ سے سند فراغت حاصل کی۔ کچھ عرصہ آپ نے دار العلوم حسینیہ شہداد پور میں درسِ نظامی کی تدریس کی۔ والد صاحب کے وصال کے بعد آپ نے خان پور کا قصد کیا اور وہاں علاقائی قرب وجوار کے مدارس میں مفت دینی تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ مطب بھی قائم فرمایا۔ جامعہ اشرفیہ سکھرمیں بھی کئی سال تک تدریس فرماتے رہے۔ اور پھر ۱۹۹۶ء میں اپنی مادرِ علمی جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن تشریف لائے اور تا حال جامعہ کے دار الافتاء کی ذمہ داریاں اور جامعہ میں تدریس کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ جامعہ میں دارالافتاء اور تدریس کی ذمہ داریاں نبھانے کے باوجود کراچی کے مختلف مدارس میں آپ نے حدیث کے اسباق پڑھائے، ان مدارس میں مدرسہ الٰہیہ لیاقت آباد اور مدرسہ درویشیہ شامل ہیں۔ مدرسہ درویشیہ میں آپ شیخ الحدیث کے منصب پر فائز رہے۔اسی طرح تقریباً ۱۶؍ سال سے مسجد الحمراء جمشید روڈ نمبر:۱ کے آپ امام وخطیب رہے۔ یوں گویا آپ نے علمی، تدریسی، افتاء اور مختلف دینی امور کی خدمت ۳۸ سال تک کی۔ آپ نے پسماندگان میں بیوہ، ۴؍ بیٹے اور ۲؍ بیٹیاں سوگوار چھوڑی ہیں۔ حضرت مفتی عبدالمجید دین پوریؒ کے ساتھ رتبۂ شہادت پر فائز ہونے والے حضرت مفتی صالح محمد کاروڑیؒ ہیں۔ انہوںنے غالباً ۱۹۹۲ء میں جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن سے فراغت حاصل کی، یہیں سے تخصص فی الفقہ کیا۔ اور اساتذہ نے ان میں مخفی جوہر محسوس کرتے ہوئے دار الافتاء میں ان کا تقرر کیا، جہاں انہوں نے بہت زیادہ محنت، لگن اور صبر آزما مراحل میںثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بہت زیادہ ترقی پالی۔ آپ دارالافتاء میں حاضر دماغ مفتی کے لقب سے مشہور تھے۔ آپ نے سوگواران میں ۲؍ بیوہ، ۳؍ بیٹیاں اور ۴؍ بیٹے سوگوار چھوڑے ہیں۔ اسی طرح تیسرے شہید مولانا حسان علی شاہؒ ہمارے دوست مولانا لیاقت علی شاہ صاحب مہتمم ’’مدرسہ درویشیہ‘‘ کے فرزند تھے، جو ابھی زیر تعلیم تھے اور ان دونوں بزرگوں کو جامعہ سے لانے اور لے جانے پر مأمور تھے۔ اللہ تعالیٰ ان شہداء کے درجات کو بلند فرمائے،ہمیں اللہ پاک صبر کی توفیق عطا فرمائے اور اُمت مسلمہ کو ان مصائب ومشکلات سے نجات عطا فرمائے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جامعہ میں کراچی بھر کے علماء کرام کااہم اجلاس     ۶؍فروری ۲۰۱۳ء بروز بدھ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے رئیس حضرت مولانا ڈاکٹرعبدالرزاق اسکندردامت برکاتہم کی دعوت پر کراچی بھر کے علماء کرام کا ایک اجلاس وفاق المدارس العربیہ کے صدر استاذ العلماء حضرت مولاناسلیم اللہ خان صاحب کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں ملک کے امن و امان کی عمومی صورتحال بطور خاص کراچی کے حالات اور دینی طبقہ ، علماء اور طلباء کے مظلومانہ قتل اورشہادتوںکی روک تھام کے بارے میں مشاورت اور قیمتی آراء کا تبادلہ ہوا، اجلاس کے اختتام پر درج ذیل اعلامیہ جاری کیا گیا: … اعلامیہ … ’’جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی میں جامعہ کے رئیس مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر کی دعوت پر دینی مدارس و جامعات کے اکابرین اور دینی جماعتوں کا نمائندہ اجلاس وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر مولانا سلیم اللہ خان صاحب کی صدارت میںمنعقدہوا،اجلاس میںمفتی محمد تقی عثمانی ،مولانا محمداسفندیارخان ، مفتی محمد زرولی خان ، مولانا حکیم محمد مظہر،مفتی محمد ، قاری محمد عثمان ، مولانا اورنگزیب فاروقی، قاری عبد المنان انور، محمد انور رانا، مولانا محمد یار،مولانا امداد اللہ،مولانا فضل محمد یوسف زئی، مولانا سعید اسکندر، مفتی رفیق احمدبالاکوٹی ،مولانا احمدیوسف بنوری،قاری محمد اقبال، مولانا عبد الکریم عابد،مولانا عمر صادق ،ڈاکٹر فیاض ،مولانا محمد غیاث ، مولانا گل محمد تالونی ، قاری فیض اللہ چترالی ،مولانا تاج محمد حنفی، مولانارفیع اللہ، مفتی عبد الحمید ربانی،مفتی احمد ممتاز،مولانا حق نواز، مولا نا عطاء الرحمن، مولانا لیاقت علی شاہ ،مفتی عثمان یار خان، مولانا اقبال اللہ، مولانا نعمان نعیم ، مولانا عبد الرحمٰن سندھی ،مولانا عباد الرحمن ،اور دیگر درجنوں علماء کرام نے شرکت کی ۔ اجلاس میں شہر کراچی میں بدامنی، قتل وغارت گری، ٹارگٹ کلنگ ،آئے روز بڑھتی ہوئی بدامنی، لوٹ مار، بھتہ خوری ،پرچی سسٹم اور دینی مدارس پر پے درپے حملوں ، طلباء اور علماء کے قتل خصوصاً جامعہ کے دار الافتاء کے صدر مفتی مولانا مفتی محمد عبد المجید دین پوریؒ، ان کے معاون مفتی صالح محمد کاروڑیؒ اور طالب علم حسان علی شاہؒ کے سفاکانہ قتل پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اجلاس کے شرکاء نے یہ محسوس کیا کہ سندھ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عام شہریوں ، دینی مدارس کے طلباء اور علماء کی جان و مال، عزت وآبرو کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہو گئے ہیں۔ شہریوں اور دینی مراکز کو دہشت گردوں اورسفاک قاتلوں کے رحم و کرم پر چھوڑدیا گیا ہے ۔دہشت گردجب چاہیں جسے چاہیں سرعام قتل کر دیتے ہیں،کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ شہر میں جنگل کا قانون ہے۔حکومت اور انصاف نام کی کوئی چیزنظرنہیں آتی۔ دینی مدارس جو مراکز اسلام اور علوم نبوت کی چھاؤنیاں ہیں ،یہ مدارس خالص دینی تعلیم کی سرگرمی رکھتے ہیں، قانون اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے علوم نبوت کی اشاعت کے عظیم کام میں شب روز مصروف عمل ہیں۔ ان مدارس کے اکابرین علمِ نبوت، علومِ قرآن پڑھاتے ہوئے تاریخ ساز خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ آئے روز ایسے عظیم اور بے ضرر انسانوں کا پے درپے قتل‘ اللہ اور اس کے رسول ا کے مہمانوں کاقتل عام ہے جوہر انسان کے لئے ایک تکلیف دہ عمل ہے، جس میں بجا طور پر پوری قوم سوگواراور غم زدہ ہے۔ ہماری اب تک کی امن پسندی کو بزدلی اور کمزوری سمجھاجانے لگا ہے۔جبکہ اب ہمارے مدارس دینیہ کے مخلصین اور عام شہری علماء کو امید کی کرن سمجھتے ہوئے ان کی رائے کا انتظار کر رہے ہیں اور ان کے حکم کے منتظر ہیں۔ ان حالات میں علماء کرام کا یہ نمائندہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ: ۱:… کراچی میں علماء کرام ، طلباء اور عام شہریوں کا قتل عام بند کرتے ہوئے ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ علماء کرام سمیت عام شہریوں کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کرکے عبرت ناک سزا دی جائے۔ بصورتِ دیگر علماء کرام اور اہل مدارس اس امر پر مجبور ہوں گے کہ وہ آئندہ کسی بھی حادثہ کے بعد اپنا تعلیمی نظم ،مدارس کی چاردیواری کی بجائے سڑکوں پر آکر شروع کر دیں گے اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکومت تحفظ کی ضمانت نہیں دے گی۔ ۲:… اسی طرح پہلے مرحلے میں جمعہ ۸؍ فروری کو کراچی میں پر امن ہڑتال کا اعلان کیا جاتا ہے اور اہل کراچی سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ ۸؍فروری کو کراچی کے شہریوں ، ڈاکٹرز، وکلائ، تاجر، علماء ، طلباء اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے بے گناہ افراد کے سفاکانہ قتل ، بدامنی ، بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کے خلاف رضاکارانہ طور پر اپنا ہر قسم کا کاروبار بند رکھ کر حکومت کویہ پیغام دیں کہ اگر شہریوںاور ان کے مقتداء علماء کرام کو امن نہ دیا گیا تو پھر غیر معینہ مدت کے لئے احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا جائے گا۔اور ہر قسم کے امن و امان کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔ ۳:…اجلاس میںسپریم کورٹ سے اپیل کی گئی ہے کہ جس طرح وہ مختلف حساس معاملات پر از خود نوٹس لیتی رہتی ہے، وہاں وہ دینی مدارس کے علماء اور طلباء کے سفاکانہ قتل پر از خود نوٹس لے کر ملک کی بڑی اکثریت  کے جذبات کا احساس کرے، اور مظلوم طبقہ کو انصاف فراہم کرنے کے لئے اپنا فرض منصبی ادا کرے، تاکہ ملک کے لاکھوں علمائ، طلباء اور ان کے کروڑوں لواحقین انصاف کے حصول کے لئے از خود کوئی اقدام کرنے پر مجبور نہ ہوں۔ ۴:…اجلاس میں اس بات کو شدت کے ساتھ محسوس کیا گیا کہ ایک طویل عرصہ سے کراچی میں جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن ، جامعہ فاروقیہ ، دارالعلوم کراچی ، جامعہ احسن العلوم ، جامعہ حمادیہ ، جامعہ اشرف المدارس ، جامعہ اسلامیہ رحمانیہ اورنگی ٹاؤن، جامعہ انوارالعلوم ، جامعہ رحمانیہ بفرزون، جامعۃ الصالحات للبنات ، جامعہ محمودیہ ، جامعہ دار الخیر اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سمیت دیگر دینی مدارس اور دینی تنظیموں کے جید علماء کرام جو صرف درس و تدریس کے عظیم منصب پر فائز تھے ، ان کو کیوں نشانہ بنایا گیا؟۔ اسی طرح آئے روز کراچی میں لسانی اور مذہبی بنیادوں پر مسلمانوں کا قتل عام کیوں کیا جارہا ہے؟ اور کسی بھی حکومت نے قاتلوں کو کیفر کردار تک کیوں نہیں پہنچایا ہے؟ جبکہ پاکستان بھر کے علماء کرام نے ہمیشہ مسلح جدو جہد یا فرقہ واریت سے نہ صرف لاتعلقی کا اظہار کیا ہے، بلکہ اس سے ایک ناپسندیدہ عمل اور ملک کی بقاء و استحکام کے خلاف غیروں کی گہری سازش قرار دے کر اس سے نفرت اور بیزاری کا اعلان کیا گیا ہے۔ لہٰذا دینی مدارس و جامعات کے اکابرین اور دینی جماعتوں کا یہ نمائندہ اجلاس خبردار کرتا ہے کہ اگر حکومت نے فوری طور پر جامعہ علوم اسلامیہ کے شہداء سمیت تمام دینی مدارس کے علماء ، طلباء اور شہریوں کے قاتلوں کو گرفتار کر کے عبرت ناک سزانہ دی تو پھر ۸؍فروری کی ہڑتال کے بعد آئندہ مرحلہ وار تحریک کا آغاز کردیا جائے گا، جس میں دھرنے اور سڑکوں پر غیر معینہ مدت تک درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھنا شامل ہوگا۔ ۵:…اجلاس میں کہا گیا کہ سندھ حکومت علماء کرام ، طلبائ، ڈاکٹرز، وکلائ، تاجروں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے کراچی کے معصوم شہریوںکے جان و مال، عزت و آبرو کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہوگئی ہے، لہٰذا وزیر اعلیٰ اور گورنر سندھ اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری طور پر مستعفی ہوجائیں یا وفاقی حکومت انہیں برطرف کرتے ہوئے غیر سیاسی وابستگی رکھنے والے گورنر کا تقرر کرتے ہوئے بلوچستان کی طرح گورنر راج نافذ کرکے کراچی کی رونقوں، محبتوں اور امن کو بحال کرے۔ ۶:…اجلاس میںمولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کی تجویز پر شرکاء نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ مسلک دیوبند سے تعلق رکھنے والی تمام سیاسی و دینی جماعتیں اور علماء و طلباء اپنے تحفظ و دفاع اور اپنے شہداء کے قاتلوں کے تعاقب اور ان کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے متفقہ دفاعی فورم تشکیل دیں گے، جس کا اعلان اور تشکیل چند روز میں کردی جائے گی۔ اجلاس کے شرکاء نے ہاتھ اٹھا کر صدر مجلس حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب پر اعتماد کا اظہار کیا اور اس اعتماد کو ’’ بیعت‘‘ کا نام دیا گیا ۔ ۷:… اجلاس کے شرکاء نے حکومت سے فوری مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ دینی مدارس کے علماء و مشایخ اور مذہبی رہنماؤں کو اپنے دفاع اور حفاظت کے لئے اسلحہ لائسنس جاری کئے جائیں۔‘‘ وصلی اللّٰہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ سیدنامحمدوعلیٰ آلہ وصحبہ أجمعین

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے